جھنگ
Saturday, 11 July, 2020
حکومت احتجاج نہیں عملی اقدام اٹھائے،جاوید قصوری

حکومت احتجاج نہیں عملی اقدام اٹھائے،جاوید قصوری

 

جھنگ (سید قلب نواز سے ) امیر جماعت اسلامی پنجاب مولانا جاوید احمد قصوری کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پرحکومت احتجاج نہیں عملی اقدام اٹھائے، اورپی ٹی آئی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی،حکومت کی جانب سے میڈیا پر قدغن لگانا میڈیا کو کنٹرول کرنے کی سوچ کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے میڈیا پر قدغن لگانا اورمیڈیا کو کنٹرول کرنے کی سوچ کی مذمت کرتے ہیں اور جماعت اسلامی نے ہمیشہ میڈیا کی آزادی کیلئے جدوجہد کی اورہم میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیاکو بھی اس ملک میں پوری طریقے سے مکمل آزادی ملنی چاہیے اور حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کو کسی طرح درست قرار نہیں دیا جاسکتا،اس لئے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہئے۔ 

ان خیالات کا اظہار مولانا جاوید احمد قصوری نے ضلعی دفتر بمقام جامعہ معارف اسلامیہ یوسف شاہ روڈجھنگ میں ضلعی امیر بہادر خان جھگڑ اور دیگر ضلعی عہدیداران کے ہمراہ جھنگ میں پریس کانفرنس کے موقع پر کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی موجودہ صورتحال ہے سیاسی اور معاشی خاص طور پر انتہائی گھمبیر ہے پوری دنیا سے بھیک مانگنے کے باوجوداور آئی ایم ایف سے بہت ہی کڑی شرائط پر قرضہ لینے کے باوجود پاکستان کی معاشی صورتحال کو یہ کہا جائے کہ یہ ونٹی لیٹر پر ہے آکسیجن کے ساتھ چل رہی ہے یہ بے جا نہیں ہوگا۔مہنگائی، بے روزگاری بد امنی اور ایک لاقانونیت کا سیلاب ہے اور ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ حکومت ابھی تک ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کر پارہی۔

انہوں نے کہا کہ چونیاں کے اند ر بچوں کا جوواقع پیش آیا ہے قابل مذمت ہے۔ لاہور سے صرف 60کلومیٹر کے فاصلے پر ہے شہر اقتدار کے ناک نیچے 6بچے اغوا ہوتے ہیں یہ پہ درپہ واقعات ہوتے ہیں لیکن انتظامیہ اور پولیس اور ادارے ہر کسی نے اس پر بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے حکومت کے بھی علم میں تھا جب تک ان بچوں کے لاشے برآمد نہیں ہوئے اور جب تک عوامی سطح پر احتجاج نہیں ہوا تب تک کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتاہوں کہ موجودہ حکومت نے دعوی کیا تھا کہ اور انہوں نے پولیس کو بہتر کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ابھی تک پولیس کو جیسے ماضی میں پولیس کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ رکھا تھا موجودہ حکومت نے بھی اسی رویہ کو برقرار رکھا ہوا ہے،اور اس وقت بہت بڑا حصہ پولیس کا وی آئی پی لوگوں کی ڈیوٹی پر تعینات ہے اور جو عوام کے حقوق ہیں اس میں وہ ناکام ہے،پولیس اپنی ذمہ داری سے غافل ہے۔حکومت عوام کے جان و مال کاتحفظ میں پوری طرح ناکام ثابت ہورہی ہے۔

 مولانا جاوید احمد قصوری کا مزید کہنا تھاکہ اس وقت کشمیر کی صوررتحال انتہائی گھمبیر ہے، ہندوستانی 9لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہے اور گزشتہ کم وبیش 48دن سے زائدکا عرصہ گذر چکا ہے وہاں کرفیو ہے اور یہ حالیہ انسانی تاریخ میں اتنا لمبا کرفیوکی شائد کوئی مثال نہیں ملتی اگر کہا جائے کہ اس وقت کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے تو یہ بے جانہیں ہوگا 80 لا کھ انسان ہیں اور انڈیا کی 9لاکھ فوج اور آر ایس ایس کے گنڈے ہیں جو ان کے گھروں پر حملہ آور ہوورہے ہیں اب تک 15ہزار افراد ہیں یا تو انہیں غائب کر دیاہے یا انہیں ہندوستا ن کی دور دراز جیلوں میں منقتل کر دیا گیا ہے۔

جب ایک ایسی صورتحال جب ہندوستا ن کی فوج ہمارے بارڈروں پر آکے بیٹھ گئی ہے اور پاکستان شہریوں پر فائرنگ کر رہی ہے سوال یہ پید اہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے اب تک کیا کیا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اب تک کی پالیسی ماسوائے احتجاج کے طفل تسلیوں کے اور زبانی جمع خرچ کے کوئی ایک عملی اقدام موجودہ حکومت نے نہیں کیا اور اس حوالے سے حکومت کی پالیسی کی مدافعانہ ہے بزدلانہ ہے خوف پر مبنی ہے ۔

 جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ انڈیا کے مقابلے میں خوف کی پالیسی پاکستان کو کسی بڑے حادثے سے دوچار کرئے گی اور پاکستان کے حوالے سے ہمیں ایک کسی گھمبیر صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے۔ اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کا کام احتجاج کرنا نہیں ہوتا۔احتجاج کرنا عوام کا کام ہو تا ہے اقدام کرنا حکومتوں کا کام ہوتا ہے۔ 

انڈیا کے اقدامات کے مقابلے میں پاکستان کی حکومت کو اقدامات کرنے چاہیے تھے اور وہ بار بار اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ آپ احتجاج کریں۔۔ مولانا جاوید احمد قصوری کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی یہ ایک ناکام پالیسی ہے ہم اس پالیسی کو مسترد کر تے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ڈیمانڈیہ ہے کہ انڈیا کی طرف سے دفعہ 370اور 35اے کے خاتمے کے بعد پاکستان کی حکومت کو عالمی سطح پر یہ دوٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے کہ اگر انڈیا کو اگر وہاں فوجیں داخل کرنے کا حق حاصل ہے ناجائز طورپر تو پھر پاکستان کو بھی فوجیں داخل کرنے کا حق حاصل ہے پاکستان کو یہ بولڈ نوقف اختیار کر نا چاہیے۔

اگر آج تک ہم کہتے آرہے کہ کشمیریوں کی ہم اخلاقی، سیاسی، سفارتی حمایت جاری رکھیں گے اس موقع پر پاکستان کی پالیسی  میں فرق آنا چاہیے اور انہیں کہنا چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی، سفارتی نہیں بلکہ عملی مدد کریں گے جو کہ اب تک یہ نہیں کررہے ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر خداونخاستہ ہندوستان طاقت کے ذریعے کشمیر کی آزادی کو کچلنے میں کامیاب ہو گیا تو پھر پاکستان کو مودی کا اگلا حدف آزاد کشمیر ہوگااور وہ جنگ پاکستان کے حصے میں لڑنا پڑے گی اس لئے ہمیں آگے بڑھ کر کشمیریوں کی مدد کرنا پڑے گی۔

عمران خان نے تورخم کے بارڈر پر کھڑے ہو کر کہا کہ جو کشمیریوں کی مددکے کیلئے جائے گا وہ پاکستان کا غدار ہوگاہم یہ سمجھتے کہ یہ بیان قابل مذمت ہے اور اس موقع پر اس قسم کا بیان بجائے کشمیر کے لوگوں کو حوصلہ دینے کے ان کے حوصلے توڑنے کے مترادف ہے اس موقع کے اوپر مظفر آباد میں جاکر عمران خان ن جلسہ کیا اور اس جلسے کو بھی وہاں جاکر ایک میوزیکل شو بنا دیا وہاں پر اگر آپ اداکاروں کے ساتھ مل کر کوئی جلسہ کریں گے تو ہمیں نہیں لگتا کہ آپ کشمیر یوں کو تقویت کا پیغام دے رہے ہیں۔

 اس موقع پر پی ٹی آئی حکومت کو جو قومی اتفاق رائے پید ا کرنے کی ضرورت تھی اور مظفر آباد میں جا کر ساری قومی لیڈر کا اکٹھا کرکے انڈیا کو جو پیغام دینا چاہیے تھا یہ والی کاوش بھی عمران خان کی ذاتی عنا کی بھینٹ چڑھ گئی ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے دشمن کو پروپگینڈے کا موقع مل رہاہے اور پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات اور زیادہ انتشار کا پیغام دے رہے ہیں۔

 آخر میں مولانا جاوید احمد قصوری کاکہنا تھا کہ جماعت اسلامی مسلسل عوام کو مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ کررہی ہے، کراچی، پشاوراور اسلام آباد میں لاکھوں لوگوں کااجتماع ہوا کوئٹہ میں ہو ا 6اکتوبر کو اتوار والے دن مال روڈ پر دن دو بجے ایک اعظیم الشان آزادی کشمیر مارچ جماعت اسلامی کرنے جارہی ہے انشاللہ اس مارچ کے نتیجہ میں اہلیان کشمیر کو ایک پیغام محبت، پیغام نصرت اور اظہار یکجہتی کا پیغام دیں گے وہاں ہندوستان کو بھی پیغام دیں گے کہ اہل پاکستان متحد ہیں اور وہ تماری کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بنیں گے۔ایک پیغام عمران خان کو بھی دیں گے کہ حکومت کو صرف احتجاج ہی نہیں اقدامات بھی کیا کرتی ہیں پاکستان کی قوم مطالبہ کرتی ہے کہ تم اقدام کرو۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  52129
کوڈ
 
   
جھنگ کی خبریں
ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر غازی امان اللہ نے کانگو وائرس کی روک تھام کے لئے موثراقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہاکہ سنجیدگی سے بھرپور انسدادی وحفاظتی انتظامات کئے جائیں۔
وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایت پر جناب کرنل محمد ایوب گادھی کوآرڈینیٹر ضلع جھنگ بلدیہ جھنگ اورضلع جھنگ کی مخصوص نشستوں پرالیکشن کے لئے محترمہ راشدہ یعقوب ایم پی اے کے آفس سیشن چوک آمد ۔
چناب کالج جھنگ کے ہزاروں طلباء و طالبات کے والدین کا سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد سے سکیورٹی گارڈز ٹیکس کے نام پر لاکھوں روپیہ ماہانہ وصول کرنے کے باوجود گاڑیوں میں سکیورٹی گارڈز تعینات نہ کرنے پر شدید احتجاج
ضلع بھر میں ووٹوں کے اندراج و اخراج اور ویری فیکیشن کیلئے گھر گھرجاکر 17افسران کی نگرانی میں 404افراد پر مشتمل عملہ کو متحرک کر دیا گیا ہے

مقبول ترین
کسان اتحاد کے عہدیداران نے کہا ہے کہ جھنگ شوگر ملز،مافیا نے سال 2019،2020 کی کسانوں کی خون پسینے کی پیمنٹ ابھی تک ادا نہیں کی اور ضلعی انتظامیہ جھنگ شکر گنج شوگر ملز سے کسانوں کی 60 کڑور روپے کی پیمنٹ لیکر ر دینے میں ناکام ہو گئی ہے ۔
اسسٹنٹ کمشنر قاسم گل کہتے ہیںکہ رمضان المبارک میں گرانفروشی ذخیرہ اندوزی ناپ تول میں کمی اور ناجائز منافع خوری ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی، شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ زخیرہ اندوزی ناپ تول میں کمی اور ناجائز منافع خوری کرنے والے دوکانداروں کی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف بھر پور ایکشن لیا جائے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جھنگ ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کہتے ہیں کہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ اور بر وقت انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اورخطرناک Aکیٹگری کے اشتہاری مجرمان کی گرفتاری کویقینی بنائیں اور زیر تفتیش مقدمات کی تفتیش بالخصوص قتل، ڈکیتی ،اغواءاور رہزنی وغیرہ کی تفتیش میرٹ پر کریں ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے عوام کیلئے تاریخی ریلیف پیکیج دیا ہے۔اور گندم خریداری کا ہدف حاصل کریں گے۔اس ضمن میں ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ہم نے ملکرکورونا کو بھی شکست دینی ہے اوردیگر چیلنجز کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔غیر معمولی حالات میں غیر معمولی محنت کرنے والے افسران کو سلام پیش کرتا ہوں۔

علاقائی خبریں
تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے مرکزی رہنمااور پاکستان مسلم الائنس کے صوبائی صدر صاحبزادہ پیرشبیراحمد صدیقی نقشبندی نے کہاہے کہ کرونا وائرس کو شکست دینے کیلئے احتیاطی تدابیر اور حکومتی ایس او پیز پر عمل پیرا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ماسک کا پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا اس سلسلے میں شہر بھر میں ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔
انقلاب اسلامی ایران کے بانی امام خمینیؒ کی برسی کے موقع پر ادارہ التنزیل پاکستان کی جانب سے "امام خمینیؒ کی قرآنی خدمات" کے موضوع پر آن لائن محفل قرائت قرآن کریم و سیمینار چار جون کو رات نو بجے منعقد ہوگا۔
ہنگو میں لاک ڈاون کے خاتمے کے بعد کاروباری سر گرمیاں عروج پر،عید کی شاپنگ کرنے والوں کا جم غفیر ،کرونہ سے بچاو اور احتیاطی تدابیر کے بغیر معمو لات زندگی بحال، حکومتی ایس و پیز پر عمل نہیں کر سکتے ٹرانسپورٹرز۔

روپے کی قدر میں کمی سے عوام پریشان حال
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں