کوہاٹ
Friday, 18 October, 2019
تعارف

کوہاٹ خیبر پختونخوا کا ایک اہم ضلع ہے۔ ضلع کوہاٹ اپنے ہيڈکوارٹر کوہاٹ کے نام سے پکارا جاتاہے۔يہ برِصغير کا ايک پرانا ضلع ہے۔کوہاٹ کا ذکر بدھ مت کي قديم تاريخ ميں بھي پايا جاتا ہے۔زمانہ حال ميں بھي اس ضلع کو جغرافيائي ، عمومي اور دفاعي اعتبار سے خصوصي اہميت حاصل ہے۔ 

یہاں پر پاکستان کی سب سے پرانی چھاونی موجود ہے۔ 

اس ضلع کي سرحديں اورکزئي ايجنسی، ضلع پشاور ، صوبہ پنجاب، ضلع ھنگو اور ضلع کرک سے ملتي ہيں۔ عجب خان آفریدی اور فوجي چھائوني نے کوہاٹ کو ايک ناقابلِ فراموش داستان بناديا ہے۔کوہاٹ زرعي اعتبار سے اور خصوصاًميو ہ جات کي وجہ سے کافي زرخيزہے۔ امرود کا پھل یہاں کی خصوصی پیدوار میں شامل ہے۔ 

روايتي لحاظ سے يہ ايک تجارتي مرکز ہے۔قبائلي علاقہ جات اور پنجاب کيلئے ايک اہم منڈي کي حيثيت رکھتاہے۔ يہاں کے لوگ بہت ذہين اور محنت کش ہيں۔ ٹرانسپورٹ اورسروسِز ميں يہ لوگ کليدي حيثيت رکھتے ہيں۔ساتھ ساتھ يہاں کے لوگ دفاعي امور ميں بھي کافي مہارت رکھتے ہيں۔ 

ڈيم، اہم فوجي تنصيبات، انڈس ہائي وے اور کوہاٹ سُرنگ کي تعمیر کي بدولت يہ ضلع کافی اہمیت رکھتا ہے۔

ضلع کا کُل رقبہ 2545 مربع کلوميٹر ہے۔
یہاں في مربع کلو میٹر 275 افراد آباد ہيں
سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 700000 تھی
دیہی آبادي کا بڑا ذرہعہ معاش زراعت ہے۔
کُل قابِل کاشت رقبہ 71210 ہيکٹيرزھے

 کوھاٹ میں اکثریت بنگش قوم کی ہے۔ اردو کے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے شاعر احمد فراز کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ کوہاٹ میں ہندکو اور پشتو زبان بولی جاتی ہے۔

شنگھائی میں ’ڈزنی لینڈ‘ کا شاندار افتتاح
افغانستان: امریکی سازشوں کا گڑھ
راہداری منصوبہ ایک میجک: پراجیکٹ ڈائریکٹر
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں