کوہاٹ
Friday, 03 April, 2020
راہداری منصوبہ ایک میجک ہے، پراجیکٹ ڈائریکٹر

راہداری منصوبہ ایک میجک ہے، پراجیکٹ ڈائریکٹر
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر ظاہر شاہ
ناصر احمد مغل

 

پاک چین اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کوآرڈی نیٹرڈاکٹر ظاہر شاہ نے کہا ہے کہ سی پیک درحقیقت گریٹر ایشیا کا راستہ ہے،اس جیسا پوٹینشل دنیامیں کہیں نہیں پایاجاتا،اس کی حیثیت بالکل جادوجیسی ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر ظاہر شاہ کا کہناتھاکہ گوادر اور اس کی بنیادپر تعمیر کی جانے والی راہداری کا مقابلہ کسی اور منصوبے یا بندرگاہ سے نہیں کیا جاسکتا،نہ اسے روایتی پیمانوں سے ماپا جاسکتاہے ،یہ کتنا طویل ہوگا،کہاں سے گزرے گا ،کہاں سے مڑے گا،ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے اقتصادی راہداری کو نہیں سمجھا جاسکتا،اسے بڑے کینوس پر دیکھ کر ہی سمجھا جاسکتاہے ،یہ تو ایک میجک ہے،قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع بہت کم آتے ہیں،پاکستان خوش قسمت ہے کہ اسے گوادرجیسی بندرگاہ اور اقتصادی راہداری جیسا منصوبہ ملاہے۔ 

 پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک نے کہا کہ یہ منصوبہ بنیادی طورپر پاکستان اور چین کے باہمی تعلقات کو سٹرٹیجک اکنامک رخ پر لے کر جارہاہے،دوسری اہم چیز یہ ہے کہ راہداری پورے خطے کو ملائے گی،علاقائی ملکوں کے باہمی روابط گہر ے ہوں گے ،خطہ میںتجارت اور صنعت کو ترقی ملے گی۔پاکستان کو بھی اس منصوبے سے بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر بہتر ہوگا،توانائی کا مسئلہ حل ہوگا،گوادر کو ترقی ملے گی ،صنعتی تعاون ہوگا۔یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے لیے مفید ہے۔چین کے ون بیلٹ ون روڈ تصور کا ایک بڑا حصہ یہ راہداری بھی ہے۔چین اپنے مغربی حصے کو کھولنا چاہتاہے جس کی وجہ سے سوشیو اکنامک ترقی آئے گی۔

اسی بارے میں:پاک چین اقتصادی راہداری :پس منظر اور مستقبل

انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری ایک اوپن اکنامک سسٹم وجود میں لائے گی ،نیا لاجسٹکس سسٹم بنے گا،پاکستانی حکومت کا وژن 2025ء اور چین کا اوبر(ون بیلٹ ،ون روڈ)وژن دونوں ہی ترقی کو ہدف بناتے ہیں۔پاکستان کے لیے راہداری کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس کی بدولت ہماری جی ڈی پی بڑھے گی،ترقی میں حائل بنیادی رکاوٹیں دور ہوں گی،توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی،سڑکیں اور ریل روڈ ز بہترہوجائیں گے۔صنعتی کلسٹرز بنیں گے ،صنعتی پارکس تعمیر کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر ظاہر نے بتایاکہ یہ ایک وسیع اور مجموعی ترقی کا منصوبہ ہے۔پاکستان کے مغرب اور شمال سے جنوب کی طرف جانے والے رستے بہتر ہوں گے ،مشرقی سمت بھی بہتری آئے گی۔یہ ایک جامع فریم ورک ہے۔اس کے اثرات بہت دورتک جاتے ہیں،زراعت ،سیاحت ،آئی ٹی ،ٹیلی کام کو بھی فروغ ملے گا۔تجارتی مراکز اور سروس ایریازبنیں گے۔

اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ راہداری 1کھرب ڈالر کی تجارتی گزرگاہ  ہوگی،اور اس کے بے پناہ فوائد ہوں گے،پوراخطہ فائدہ اٹھائے گا،جنوبی ایشیا کے تمام ممالک اس راہداری سے مستفید ہوں گے ، گریٹر ایشیا وجود میں آئے گا،آخر کار ہرملک اس راہداری کی طرف ہی آئے گا۔

ظاہرشاہ کا کہناتھاکہ پاکستان میں تھر جیسے علاقے بھی اس راہداری کی بدولت بہتری سے بہرہ ورہوجائیں گے۔چینی اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم اسے سائنسی منصوبہ بندی سے مکمل کریں گے،یعنی جو آسان ترین انداز ہوگا وہ اپنایا جائے گا۔

ڈاکٹر ظاہر شاہ نے بتایا کہ یہ منصوبہ مغربی،وسطی اور مشرقی تین راستوں پر مشتمل ہے۔مغربی راستہ گوادرسے،پنجگور،ہوشاب،سوراب،کوئٹہ،ژوب،ڈی آئی خان، برہان اور اسلام آباد سے ہوتاہوا چین تک جائے گا۔یہ راستہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جارہاہے۔پہلے گوادر تک رسائی نہیں تھی۔اب ہوشاب تک سڑک تعمیر ہورہی ہے،وہاں سے سوراب اور پھر ڈیر ہ اسماعیل خان تک سڑک بنی ہوئی ہے۔ڈی آئی خان سے برہان اور اسلام آباد تک راستہ بنایا جائے گا۔جون 2018ء تک اسے مکمل کرنے کا ہدف ہے۔مشرقی روٹ میں ملتان تاسکھر موٹروے بن رہی ہے ،وہ راستہ بھی آہستہ آہستہ بہتر ہوگا۔

ڈاکٹر ظاہر شاہ نے کہا کہ راہداری کے تحفظ کے لیے پاک فوج کا ایک ڈویژن تشکیل دینے کا کام تقریباً مکمل ہے ،جون 2016ء تک یہ ڈویژن تیار ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مستقبل کا منصوبہ ہے اور بہت چیلنجنگ ہے۔لیکن ہرچیلنج کا مقابلہ قومی اتفاق واتحادسے کیا جاسکتاہے۔اس منصوبے پر ملک میں قومی اتفاق رائے ہوناچاہیے جو کہ بہت حدتک ہوبھی چکاہے۔اس منصوبے کے مشکل مقامات یہ ہیں کہ ہر جگہ پیشہ ورانہ انداز میں کام کرناہے،صوبائی سطح پر جو معاملات ہیں ،جو ذمہ داریاں ہیں انہیں احسن انداز میں پوراکیا جاناضروری ہوگا،سیکیورٹی کے معاملات کو بھی دیکھنا اہمیت کا حامل ہوگا۔لیکن ان تمام چیزوں سے بلند امر یہ ہے کہ راہداری منصوبہ پاکستان کے ہرفرد کے لیے مقدس ہے۔اسے تکمیل تک پہنچانا اور اس کی کامیابی کے لیے کام کرنا ہرپاکستانی کافرض ہے۔یہ پوری قوم کا منصوبہ ہے۔قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع بہت کم آتے ہیں۔قدرت کی طرف سے اس موقع کا فائدہ اٹھانے کا وقت ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  53034
کوڈ
 
   
مقبول ترین
کوہاٹ کے علاقے سماری میں پولیس نے خفیہ اطلاع پردہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع پرکارروائی کی، کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے پولیس پردستی بم سے حملہ کردیا جس سے ایس ایچ او افضل خان زخمی ہوگئے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار نے زیر تفتیش گرفتار ملزمان کی ویڈیوز کی تشہیر کو غیرقانونی اور غیراخلاقی قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت سے معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔
دفتر خارجہ پاکستان کی بدحواسی کے باعث ادارہ خفت کاشکار ہوا۔ معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کی وفات پرمشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے تعزیتی بیان جاری کردیا گیا۔ ایدھی صاحب خیریت سے ہیں۔
مصر کی ایک عدالت میں سابق صدر محمد مرسی سمیت دس افراد پر قطر کے لئے جاسوسی کے الزام میں کیس چلایا گیا۔ عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر محمد مرسی کو عمر قید کی سزا، دو قریبی ساتھیوں کو پندرہ پندرہ سال قید کی سزا سنا دی ۔

علاقائی خبریں
کرونا کی وباءکے باعث بچوں کی پڑھائی کیبل چینل تعلیم گھر کے ذریعے شروع کر دی گئی ہے۔اس حوالہ سے ضلع جھنگ میں بھی کیبل چینلز پر صبح 9بجے سے دوپہر 2بجے تک بچوں کو براہ راست تعلیمی لیکچرز دیئے جائینگے۔
آئی ایم پاکستان ورلڈ وائلڈ موومنٹ ضلع جھنگ کی صدر فرحت اقبال کا کہنا ہےکہ غریب نادار کی خدمت اولین ترجیح ہے ،آئی ایم پاکستان ورلڈ وائلڈ موومنٹ کا پلیٹ فارم بلاتفریق عوامی خدمت کے لئے میدان عمل میں موجود ہے اورکروانا ڈیزاسٹر کے موقع پرخدمت کا عمل جاری ہے ۔
دریائے چناب و جہلم میں نچلے درجے کے سیلاب کے باعث تحصیل جھنگ، تحصیل شورکوٹ، تحصیل اٹھارہ ہزاری اور تحصیل احمد پور سیال کے درجنوں دیہات زیر آب آگئے جس کے باعث سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی گندم سمیت دیگر تیار فصلیں متاثرہونے کے خدشات میں اضافہ ہو گیاہے۔
سینئر صحافی وکالم نگار ایس کے ندیم چوہدری کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث عوام تاحال ریلیف سے محروم ہیں ۔حکومت نےعوام کوریلیف فراہم کرنے میں بہت دیر کردی،جو چیزیں پہلےطے ہوجانی چاہیئں تھیں وہ اب طے ہورہی ہیں۔

افغانستان: امریکی سازشوں کا گڑھ
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں