کوہاٹ
Thursday, 02 April, 2020
افغانستان: امریکی سازشوں کا گڑھ

افغانستان: امریکی سازشوں کا گڑھ
جنرل مرزا اسلم بیگ

 


2001 ءمیں جب امریکہ نے افغانستان پرمصائب و الم (Shock and Awe)کے پہاڑ ڈھائے اور قبضہ کرلیا تو اس وقت ملا عمر نے پاکستان کوپیغام بھیجا تھا کہ “آپ نے ہمارے خلاف جنگ میں ہمارے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے لیکن اس کے باوجود ہم پاکستان کو اپنا دوست سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے می مفادات اور منزل مشترک ہیں۔” ان الفاظ کے بہت گہرے معنی ہیں جن کو سمجھنے کیلئے باریک بینی سے تجزیہ کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ بحرانی دور میں ہم کوئی قابل عمل حکمت عملی وضع کر سکیں۔اس تجزیے سے جو پہلا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ “سوویت یونین کی جارحیت کے خلاف افغانیوں کی جنگ آزادی میں بھرپور مدد کے باوجود امریکہ نے افغانیوں سے کیوں پیٹھ پھیر لی تھی جبکہ وہ فاتح تھے اور ان کی خودمختاری کے قیام کی مخالفت کی تھی اور اب بھی شدت کے ساتھ یہ مخالفت جاری ہے۔” اس کی وجوہات یہ ہیں:

 1۔ سی آئی اے(CIA) اور آئی ایس آئی (ISI)نے اس” گوریلا جنگ“کی منصوبہ بندی کی جو کہ دنیا کے ستر (70)ممالک سے آئے ہوئے جہادیوں کی مدد سے لڑی گئی تھی۔ اس کے سبب افغانستان میں ایک “مزاحمتی قوت کا مرکز” وجود میں آیا’ جس نے سپر پاور ’سوویت یونین کو شکست دی جس کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کو بڑے مفادات حاصل ہوئے اوراسے ڈر تھا کہ اگریہ مزاحمتی قوت کا مرکز اگر قائم رہا تواس کے مفادات کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔

2۔ لہذاافغانستان میں جہادی قوت کی ترویج اور اسلامی مملکت کے ممکنہ قیام کومغربی دنیا نے اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اسے محدود کرکے ختم کرنا ضروری سمجھا۔
3۔آئی ایس آئی نے نیا بھر کے جہادیوں کے ساتھ اچھے مراسم قائم کر لئے تھے جس کی وجہ سے اسے“مزاحمت کاطاقت ور ہتھیار” سمجھتے ہوئے ’ اس کی طاقت اور اثرورسوخ کو ختم کرنا ضروری سمجھا گیا تاکہ امریکی مفادات کیلئے وہ خطرہ نہ بن سکے۔

 ان اہداف کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’سوویت یونین کی پسپائی کے بعد امریکہ نے مجاہدین کو افغانستان میں شریک اقتدار ہونے سے محروم کر دیا اور دانستہ خانہ جنگی کرائی اور افغانیوں کے مزاحمتی مرکز کو کمزور کیا لیکن تمام ہتھکنڈے ناکام ہوئے کیونکہ 2001 ءمیں جب امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی تو مزاحمتی قوت پھر سے یکجا ہوگئی جس نے امریکنوں اور نیٹو کوبدترین شکست سے دوچار کیا اور اب صرف12ہزار فوجیوں کی مدد سے ایک بار پھروہ طالبان کواقتدارمیں شرکت کے حق سے محروم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیںجبکہ امریکی ریشہ دوانیوں کے خلاف طالبان متحد ہیں اور مکمل فتح کی خاطر ایک بھرپوراور بامقصد جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔

اپنی سازشوں کی تکمیل کیلئے امریکہ نے پاکستانی حکومت کی مدد سے آئی ایس آئی کو افغان جہاد سے وابستہ تمام اہلکاروں سے پاک کر دیا جس سے “دنیا بھر کے جہادیوں سے اس کے تعلقات ختم ہوگئے’ جو آٹھ سالہ طویل مزاحمتی جنگ میں شامل رہے تھے۔” لیکن ان اقدامات سے امریکہ کو خودبڑا نقصان اٹھانا پڑا۔اس لئے کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو 2001 سے 2016 تک کی جنگ میں مدد کی ضرورت پڑی توآئی ایس آئی معمولی مدد کے قابل رہ گئی تھی۔ امن مذاکرات بھی ناکام ہو گئے اور اب مزاحمتی جنگ کی شدت بڑھتی جا رہی ہے’ جو طالبان کیلئے فتح کی نوید اور منزل کے قریب ہونے کی علامت ہے۔بلا شبہ اس وقت افغانستان کی قابل ذکر قوت طالبان ہیں کیونکہ ان کی“مزاحمتی قوت کامرکزناقابل تسخیرہے” جو افغانستان میں اسلامی مملکت کے قیام کی ضمانت ہے۔

افغان مزاحمتی قوت کا یہ مرکز اپنے اندر ایک مقناطیسی کشش رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پڑوسی ممالک مثلا روس ’ چین’ ایران اور وسطی ایشیائی ممالک اسی کشش سے مرعوب ہو کر طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کررہے ہیں لیکن پاکستان ابھی تک امریکہ کا “اتحادی ہونے کے زعم” میں مبتلا ہے اوراس حوالے سے ہماری پالیسی تذبذب کا شکار ہے لیکن خوش قسمتی سے“امریکہ نے خودپاکستان کے ساتھ اتحادی تعلقات کی بے توقیری کرکے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھائے ہیں” جس کے سبب قدرت نے ہمیں منفرد فیصلہ کرنے کاایک سنہری موقع عطا کیا ہے۔جبکہ بھارت امریکی خواہش پرطالبان کے ساتھ دھوکے اور فریب کا کھیل کھیلنے اورطالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنے کیلئے مکمل طور پر رضا مندہے۔اب ہمارےراستے جدا جدا ہیں۔ ہمارا راستہ حق و صداقت اور ایثار و قربانی کا راستہ ہے جو حصول مقصد کا راستہ ہے۔

پاکستان کیلئے مثبت اور باہمت اقدامات اٹھانے کا یہ فیصلہ کن لمحہ ہے۔آسان سی بات ہے جس پر عمل کرنا بھی نہایت آسان ہے کیونکہ آج پاکستان کونئے مواقع درپیش ہیں’جنہیں نہایت دانشمندی سے استعمال کرتے ہوئے عمل کرنا ضروری ہے’ مثلا:

ضرب عضب کے مقاصد پایہ تکمیل تک پہنچنے کے قریب ہیں’ اس لئے ضروری ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبائلیوں اور اسکاﺅٹس کو سونپ دی جائے اور افغان فوجوں کی جانب سے کسی قسم کی سرحدی خلاف ورزی اور حملے کا سخت اور منہ توڑ جواب دینے کی حکمت عملی تیار کرلی جائے۔

اندرون ملک بے گھر افراد (IDPs)کی بحالی کیلئے حکومت کی مدد کی جائے اور سول انتظامیہ کے ذریعے حکومتی رٹ قائم کرنے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے۔

 امریکہ کی جانب سے افغان حکومت کی 12ہزار فوجیوں کے ذریعے فوجی مدد بڑھانے کا فیصلہ اعتراف شکست ہے’ اس لئے کہ ماضی کی بدترین شکست کی حکمت عملی کو دہرایا جا رہا ہے’ یعنی پہلے والی غلطی کوپھر سے دہرایا جا رہا ہے۔ گذشتہ عشرے میں ڈےڑھ لاکھ امریکی اور نیٹو فوجیوں کے باوجود انہیں طالبان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی ہے اور اب افغانستان کی آزادی کی جنگ اس مقام پر آ پہنچی ہے جہاں دنیا کی ایک بڑی طاقت کا غرور خاک میں ملنے کو ہے۔ یہ منظر ہم دیکھیں گے’ “لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔”امریکہ کے اس فیصلے کا نتیجہ طالبان کے حق میں ہوگا جن کا عزم پختہ ’ ارادے مصمم اور مقصد سے وابستگی لازوال ہے’ یعنی اپنے مادر وطن کی آزادی کی جنگ ان کیلئے ایک مقدس فریضہ ہے۔

 دانشمندی اور بصیرت سے فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو حاصل مواقع کی مناسبت سے اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ افغانیوں کی مزاحمتی قوت کی کشش نشان منزل کی نشاندہی کرتی ہے اور ہمسایہ ممالک کواپنی جانب راغب کرتی ہے’ اسی سوچ کے گرد علاقائی تزویراتی اتحاد بنتا نظر آرہا ہے جو امن و سلامتی کی ضمانت ہوگا اور بیرونی سازشیں دم توڑ جائیں گی۔ 
حرف آخر: دو دن قبل تورخم کے بارڈر پر افغان فوج نے کسی کی شہ پر بلا اشتعال پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستانی فوج نے جوابی کاروائی کر کے اس سازش کو افغان سرزمین ہی پر دفن کر دیا تاکہ پاکستان کے خلاف دوسرا محاذ کھولنے کی کوئی جرات نہ کر سکے۔

مصنف پاک فوج کے سابق سربراہ اور دفاعی وتزویراتی مطالعہ سے متعلق ایک تھنک ٹینک’ فرینڈز“کے چیر مین ہیں۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  13374
کوڈ
 
   
مقبول ترین
کوہاٹ کے علاقے سماری میں پولیس نے خفیہ اطلاع پردہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع پرکارروائی کی، کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے پولیس پردستی بم سے حملہ کردیا جس سے ایس ایچ او افضل خان زخمی ہوگئے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار نے زیر تفتیش گرفتار ملزمان کی ویڈیوز کی تشہیر کو غیرقانونی اور غیراخلاقی قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت سے معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔
دفتر خارجہ پاکستان کی بدحواسی کے باعث ادارہ خفت کاشکار ہوا۔ معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کی وفات پرمشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے تعزیتی بیان جاری کردیا گیا۔ ایدھی صاحب خیریت سے ہیں۔
مصر کی ایک عدالت میں سابق صدر محمد مرسی سمیت دس افراد پر قطر کے لئے جاسوسی کے الزام میں کیس چلایا گیا۔ عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر محمد مرسی کو عمر قید کی سزا، دو قریبی ساتھیوں کو پندرہ پندرہ سال قید کی سزا سنا دی ۔

علاقائی خبریں
کرونا کی وباءکے باعث بچوں کی پڑھائی کیبل چینل تعلیم گھر کے ذریعے شروع کر دی گئی ہے۔اس حوالہ سے ضلع جھنگ میں بھی کیبل چینلز پر صبح 9بجے سے دوپہر 2بجے تک بچوں کو براہ راست تعلیمی لیکچرز دیئے جائینگے۔
آئی ایم پاکستان ورلڈ وائلڈ موومنٹ ضلع جھنگ کی صدر فرحت اقبال کا کہنا ہےکہ غریب نادار کی خدمت اولین ترجیح ہے ،آئی ایم پاکستان ورلڈ وائلڈ موومنٹ کا پلیٹ فارم بلاتفریق عوامی خدمت کے لئے میدان عمل میں موجود ہے اورکروانا ڈیزاسٹر کے موقع پرخدمت کا عمل جاری ہے ۔
دریائے چناب و جہلم میں نچلے درجے کے سیلاب کے باعث تحصیل جھنگ، تحصیل شورکوٹ، تحصیل اٹھارہ ہزاری اور تحصیل احمد پور سیال کے درجنوں دیہات زیر آب آگئے جس کے باعث سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی گندم سمیت دیگر تیار فصلیں متاثرہونے کے خدشات میں اضافہ ہو گیاہے۔
سینئر صحافی وکالم نگار ایس کے ندیم چوہدری کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث عوام تاحال ریلیف سے محروم ہیں ۔حکومت نےعوام کوریلیف فراہم کرنے میں بہت دیر کردی،جو چیزیں پہلےطے ہوجانی چاہیئں تھیں وہ اب طے ہورہی ہیں۔

افغانستان: امریکی سازشوں کا گڑھ
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں