راولپنڈی
Friday, 10 July, 2020
تعارف

راولپنڈی صوبہ پنجاب میں واقع ہے،راولپنڈی برصغیر کا ایک اہم اور تاریخی خطہ ہے ۔پنڈی بلندی پر واقعہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا تیرھویں صدی عیسوی میں ہندو راجہ راول نے یہاں ایک قلعہ تعمیر کروایا جس کے بعد جگہ کا نام راول پنڈی مشہور ہو گیا،راولپنڈی کو عام بول چال میں پنڈی کہاجاتا ہے یہاں قلعہ کی عمارت مسمار ہو چکی ہے اس جگہ کو پرانا قلعہ کہا جاتا ہے اب یہاں تجارتی دوکانیں ہیں ان کے چاروں اطراف متعد د تجارتی بازار اور رہائشی عمارتیں ہیں ۔

یہاں کے مشہور بازاروں میں صرافہ بازار ،اردو بازار ،بازار کالاں ،راجہ بازار اور موتی بازار شامل ہیں ۔راولپنڈی شہر اسی جگہ سے شروع ہوا اور اب وسیع علاقوں پر مشتمل ایک بڑا شہر ہے۔ راولپنڈی ،علاقہ پُٹھوار کا مرکزی شہر ہے یہاں کی مقامی زبان پٹھواری ہے ۔وادی پُٹھوار کو پہلے وادی سوہاں کہا جاتا تھا راولپنڈی میں دریا کے قریب سوہا قبیلہ آباد تھا جس کی مناسبت سے اسے دریائے سواں کہا جاتا ہے اس علاقے کو خطہ پُٹھوار بھی کہا جاتا ہے ۔ 

پُٹھوار کا علاقہ جانوروں کی پیٹھ جیسا ہے کہیں اونچا اور کہیں نیچا۔ پیٹھ یا پشت کو مقامی زبان میں پُٹھ کہاجاتا ہے ۔ وار کے معنی جیسا یا مانند ہے ۔یہ نام اس علاقہ کی زمین کی ظاہری حالت کا آئینہ دار ہے ۔پُٹھوار کا مخالف لفظ ہموار ہے یہ علاقہ ناہموار زمین کی وجہ سے ہی پُٹھوار کہلایا۔ پٹھواری زبان پنجابی ،کشمیری ،پہاڑی ،فارسی،ترکی،سنسکرت اور بہت سی دوسری زبانوں کی آمیزش سے بنی ۔راولپنڈی میں پنڈی وال لہجہ وجودمیں آیا ۔پٹھوار کے علاقوں میں خوشی کے موقع پر دھمال ، لڈی ناچ اور رسمی رقص پیش کئے جاتے ہیں ۔ 

پٹھوار کے دیہی علاقوں میں سیف الملوک اور پٹھواری بیت شوق سے سنے اور سنائے جاتے ہیں۔ ٹپہ پٹھوار کا مخصوص لوک گیت ہے ۔ یہاں سے یہ دوسرے علاقوں میں بھی مقبول ہوا پُٹھوار میں چاروں موسم گرمی ،سردی، خزاں اور بہار اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔یہ خطہ پُٹھوار قدرتی طور پر مختلف قسم کے علاقوں پر مشتمل ہے یہاں پہاڑ ،گھاٹیاں، دریا ،چشمے ، ندی نالے،درخت اور سبزہ،ہموار اور نا ہموار ،بنجر اور ذرخیز زمینیں اور میدانی علاقے سبھی کچھ موجود ہیں ۔

راولپنڈی کی سطع سمندر سے بلندی 1672 فٹ یا 510میٹر ہے ضلع راولپنڈی کے مشرق میں دریائے جہلم ہے جواسے کشمیر سے الگ کرتا ہے مغرب میں اٹک ، شمال میں ہزارہ ، جنوب میں جہلم اور چکوال کے علاقے ہیں، راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع میں ضلع راولپنڈی ، ضلع جہلم ،ضلع چکوال اور ضلع اٹک شامل ہیں۔ 

ضلع راولپنڈی کی تحصیلوں میں راولپنڈی ،مری ،کہوٹہ ،کلر ،گوجرخان، کوٹلی ستیاں اور ٹیکسلا شامل ہیں۔

پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد کا علاقہ تحصیل راولپنڈی کا حصہ تھا اسی لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کو جڑواں شہر بھی کہا جاتا ہے ۔پٹھوار اور ٹیکسلا کی تاریخ مشترکہ ہے ۔ یہ علاقے ایک ہی حکمرانوں کے زیرِ حکومت رہے علاقہ پٹھوار میں حرب و ضرب اور عروج و زوال کے بہت سے ادوار گزرے ہیں ۔ لہذا یہاں کے لوگ فوجی روایات کے عادی ہو گئے، پٹھوار عسکری لحاظ سے مردم خیز علاقہ ہے پٹھوار میں بارانیت کی وجہ سے یہاں کی زرعی پیداوار محدود تھی لہذا یہ فوجی افراد ی قوت مہیا کرنے والا علاقہ بن گیا ۔ 

انگریزوں نے زرعی رقبہ کی ملکیت میں کمی کر کے اور نامناسب مالیہ لگا کر یہاں کے لوگوں کو انگریز فوج میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ انگریز پٹھوار کو مارشل ایریا اور یہاں کے لوگوں کو مارشل ریس کہتے تھے جو شاندار عسکری روایات کے ساتھ فوجی خدمات کے لیے موزوں ہوتے تھے پٹھوار کے فوجیوں نے جنگ عظیم اول اور دوم میں حصہ لیا اور بہادری کے بہت سے تمغے حاصل کیے لیکن ترکی اور عراق کی مسلمان فوج کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا تھا جس کی انہیں انگریزوں نے سزائیں دیں اور ملا زمت سے برطرف بھی کر دیا تھا۔

راولپنڈی کو اس کے جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ، ایک سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے تجارتی منڈی بھی تھا، یہاں سے سامان تجارت لاہور، کشمیر ، ہزارہ ،پشاور ، افغانستان اور وسطی ایشیاء کی ریاستوں کو برآمد اور درآمد کیا جاتا تھاراولپنڈ ی میں مسافروں کے لیے سرائے بنائی گئی تھی جہاں تجارتی قافلے ، مسافر اور سیاح قیام کرتے اور پھر اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتے۔

راولپنڈی افغانستان کی طرف سے آنے والی بیرونی افواج کا ایک روائتی راستہ تھا یہاں صدر کا علاقہ ان افواج کے لیے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ تھی یہ افواج یہاں قیام کرتیں اور پھر اگلے علاقوں کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے روانہ ہو جاتیں ۔ 

یونان کے بادشاہ الیگزینڈر (سکندر) ، سلطان محمود غزنوی ، شہاب الدین محمد غوری، امیر تیمور، شیرشاہ سوری اور مغل بادشاہوں کی افواج راولپنڈی میں قیام کرتی تھیں راولپنڈی کا علاقہ مری، کہوٹہ اور مارگلہ کے پہاڑوں سے گِھرا ہو ا ہے لہذا اے قدرتی دفاعی حصار بھی حاصل ہے دفاعی لحاظ سے محفوظ مقام ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ فوجی حکمت عملی اور کاروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے بھی موزوں تھا ۔ انگریزوں نے 1849ء میں راولپنڈی پر قبضہ کرلیا ۔ انگریز فوج کی کامیابیوں میں جدید اسلحہ اور توپ خانے نے اہم کردا ر ادا کیا۔

انگریزوں نے 1849ء میں ضلع راولپنڈی قائم کیا اور راولپنڈی ڈویژن کا قیا م عمل میں آیا ۔ راولپنڈی کا پہلا انگریز حاکم جان نکلسن تھا۔راولپنڈی کے محل وقوع اور اس کی فوجی اہمیت کی وجہ سے انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں 1851ء میں یہاں ایک بڑی فوجی چھاؤنی قائم کی ۔ 

فوج کے ہیڈ کوارٹرز کے لیے عمارتیں اور بیر یکیں تعمیر کیں اور اس طرح راولپنڈی میں تعمیرات اور ترقیاتی دور کا آغاز ہوا۔1859ء میں چھاؤنی کے علاقہ میں کنٹونمنٹ کمیٹی اور 1867ء میں شہری علاقہ میں میونسپل کمیٹی قائم کی گئیں ۔ 1879ء میں ریلوے کے نظام پر کام شرع کیا گیا ۔ 1886ء میں راولپنڈی کا ریلوے سٹیشن مکمل ہوااور پہلی ریل گاڑی راولپنڈی پہنچی۔ 1890ء میں راولپنڈی ،مری ، سرینگر روڈ کو پختہ کیا گیا۔

1893ء میں مسلمانوں کی انجمن اسلامیہ قائم ہوئی جس نے اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی تعمیر کیا۔ 1902ء میں گورڈن کالج راولپنڈی کی عمارت مکمل ہوئی ۔1907ء میں اس کالج کے طالب علموں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے بی اے کے امتحان میں حصہ لیا۔ راولپنڈی میں اردو کا پہلا چھاپہ خانہ 1904ء میں لگایا گیا۔ 1943ء میں انجمن فیض الا سلام نے یتیم خانہ اور سکول قائم کیے ۔1950ء میں ریڈیو سٹیشن قائم کیا گیا۔ پہلے دن پاکستان کا قومی ترانہ تحریر کرنے والے جناب حفیظ جالندھری نے اپنی ایک نظم پڑھی۔1952ء میں راولپنڈی سے مشہور اخبارات شائع ہونا شروع ہوئے ۔

1958ء سے راولپنڈی میں ایوانِ صدر کی عمارت میں پاکستان کے سربراہان مملکت رہائش پذیر رہے اپنے دورِ حکومت میں فیلڈ مارشل ایوب خان ، جنرل آغا ییحی خان اور ذوالفقار علی بھٹو یہاں مقیم رہے جنرل محمد ضیاء الحق آرمی ہاؤس راولپنڈی میں رہائش پذیر رہے جبکہ اوانِ صدر کی عمارت کو بطور صدارتی دفاتر کے استعمال کیا۔ان کے دورِ حکومت میں ایوانِ صدر اسلام آباد کی عمارت مکمل ہوئی تو صدارتی سیکریڑیٹ کو وہاں منتقل کر دیا گیا تھا ۔ لیکن وہ خود آرمی ہاؤس راولپنڈی میں ہی قیام پذیر رہے ۔ جنرل پرویز مشرف بھی اپنے دورِ حکومت میں آرمی ہاؤ س راولپندی میں مقیم رہے ۔ سابق ایوانِ صدر کی عمارت میں اب خواتین کو یونیورسٹی ہے ۔1966ء میں ٹیلی ویژن سٹیشن قائم کیا گیا جو بعد میں اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
 
راولپنڈی میں انگریزوں کے قائم کردہ ناردرن کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کی عمارتوں کو قیامِ پاکستان کے بعد فوج کا جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ)بنایا گیا ۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا دارالحکومت کراچی تھا جبکہ فوج کا جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ)راولپنڈی قائم کیا گیا تھا۔ 1958ء میں فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کا دارلحکومت اور فوج کا ہیڈ کوارٹرز ایک جگہ ہونا چاہیے اس مقصد کے لیے راولپنڈی کو پاکستان کا دارالحکومت کے لیے انتخاب کیا گیا اور اس کے بعد فوج کے لیے بہت سی نئی عمارتیں بنائی گئیں اور پرانی عمارتوں کی تعمیرنو کی گئی ۔ آرمی لائبریری، آرمی میوزیم اور آرمی سٹیڈیم بنائے گئے۔ ریس کورس گراؤنڈ میں گھوڑ دوڑ اور پولو کے میچ ہوتے ہیں ۔ یہاں سالانہ فوجی پریڈ منعقد ہوتی تھی ۔ اس جگہ ایک پارک بنا یا گیا ہے اور قریب ہی فوجی قبرستان ہے ۔ راولپنڈی کے مال روڈ پر پنڈی کلب تھا ۔ اب اس کلب کو آرٹلری آفیسر ز میس میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو عوام کے لیے بھی کھلا ہے یہاں شادی کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ مال روڈ پر انگریز دور کا فلیشمین ہوٹل ، چرچ اور سول سیکریڑیٹ واقع ہیں۔ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کی بلڈنگ ، سٹیٹ بنک ، کمرشل بنک ، سٹیٹ لائف انشورنس کی عمارتیں ضلع کچہری ، کنٹونمنٹ بورڈ کے دفاترٹیلیفون آفس، آرمی آفیسرز میس ، ملٹری ہسپتال اور بڑی تعداد میں دیگر عمارتیں قائم ہیں ۔ راولپنڈی کینٹ میں چکلالہ ائرپورٹ اور صدر بازار کے علاقہ میں کثیر تعداد میں تجارتی عمارتیں ہیں ۔ راولپنڈی کینٹ میں ہی ایشیاء کا سب سے طویل بازار ٹنچ بھاٹہ واقع ہے راولپنڈی کینٹ میں جہلم روڈ پر ایوب نیشنل پارک ہے یہ ایک وسیع تفریحی پارک ہے جہاں باغ، جھیل، کشتی رانی ، ریسٹورنٹ ، اوپن تھیٹر ، جنگلی جانور اور بچوں کے لیے پلے لینڈ بنائے گئے ہیں ۔ اس پارک کے قریب 1926ء میں قائم کیا گیا راولپنڈ ی گالف کورس ہے جہاں قومی سطح کے گالف ٹورنمنٹ کھیلے جاتے ہیں۔ہائی کورٹ کی عمارت قریب میں واقع ہے۔ 

راولپنڈی کی اہم اور طویل سڑک مری روڈ کہلاتی ہے ۔ اس سڑک پر بھی بہت سی تجارتی عمارتوں کے علاوہ لیاقت باغ اور یادگار ہال واقع ہیں جہاں ثقافتی شو اور نمائش ہوتی ہیں ۔ اس جگہ سیاسی جماعتیں جلسہ عام کرتی ہیں ۔ مری روڈ پر مساجد ، سکول ، کالج۔ زرعی یونیورسٹی ، ہوٹل ، پبلک پارک ، سٹیڈیم ۔ کلچرل کمپلیکس اور بڑی تعداد میں تجارتی مراکز واقع ہیں ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹروبس سروس روڈ 2015ء میں مکمل ہوئی۔ 

ماہرین آثار قدیمہ نے راولپنڈی کے قدیم اور تاریخی دریائے سواں کے آس پاس کے علاقوں میں کھدائی کر کے جو آثار دریافت کئے ہیں وہ دنیا کے قدیم ترین آثار قدیمہ میں شمار ہوتے ہیں یہاں دریافت شدہ انسانی جبڑوں ، کھوپڑیوں ، جانوروں کے ڈھانچوں اور مدفون باقیا ت اور انسانوں کے زیر استعمال پتھر کے بنے ہوئے اوزاروں اور ہتھیاورں پر تحقیق کر کے ان کی قدامت کا اندازہ تین لاکھ سال لگایا ہے راولپنڈی میں اب تک جو آثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں وہ دیہاتی معاشرت اور تمدن کی عکاسی کرتے ہیں راولپنڈی میں دراوڑ قوم آکر آباد ہونے کے حالات معلوم ہوتے ہیں دراوڑ قوم ایشیائے کو چک (موجودہ ترکی) سے عراق منتقل ہوئی اور پھر وہاں سے کوچ کر کے بحیرۂ عرب کے راسے برصغیر آ کر آباد ہوئی ۔ دراوڑ قوم قوم دو ہزار سال قبل از مسیح برصغیر میں داخل ہوئی جبکہ آریہ قوم ایک ہزار سال قبل از مسیح میں وسطی ایشیاء سے بر صغیر پر حملہ آور ہو کر یہاں قابض ہوئے۔

317سال قبل ازمسیح میں راولپنڈی کے چندر گپت موریہ نے ٹیکسلا میں اپنی حکومت قائم کی ۔اسی خاندان کا اشوک 273سال قبل ازمسیح میں ٹیکسلا کا حکمران بنا اشوک نے ہندو مذہب ترک کر کے بدھ مذہب اختیار کر لیا تھااور اس علاقے میں اشوک نے بدھ مذہب پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ اس نے بدھ مذہب کے اسٹوپے تعمیر کروائے جن میں بدھایا اس کے حواریوں کے جسم کے حصے یا راکھ اور مختلف اشیاء رکھی گئیں ۔ٹیکسلا بدھ مت کا مرکز بن گیا۔ راولپنڈی کی تحصیل کلر میں مانکیالہ کے مقام پر بھی بدھ مت کا مشہور سٹوپہ تعمیر کیا گیاتھا۔ اشوک کی موت کے بعد بدھ مت کو زوال آنا شروع ہو گیا اور ہندو دوبارہ پرسر اقتدار آگئے تھے۔

راولپنڈی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں 326سال قبل از مسیح میں یونان کا بادشاہ الیگزینڈر جس کو سکندر بھی کہا جاتا ہے حملہ آور ہوا تھا۔اس وقت ٹیکسلا کے راجہ امبھی چند حکمران تھااس نے الیگزینڈر(سکندر) کا استقبال کیا۔ راجہ امبھی چند ارو جہلم کے راجہ پورس (رائے پورپال)کے تعلقات کشیدہ تھے لہذا امبھی چند نے الیگزینڈر(سکندر) کو راجہ پورس کے ساتھ جنگ کرنے کی ترغیب دی اور جہلم میں دونوں فوجوں کے درمیاں گھمسان کی جنگ ہوئی بعد میں یونانی سپاہیوں نے راجہ پورس اور راجہ امبھی چند کو بھی قتل کردیا تھا۔

1186عیسوی میں شہاب الدین محمد غوری نے براستہ راولپنڈی ،ہندوستان میں پیش قدمی کی تھی راولپنڈی میں گکھڑ قبیلہ نے غوری کی فوج کی مزاحمت کی لیکن شکست کے بعد گکھڑوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔

راولپنڈی کی قدیم مرکزی مسجد 1010عیسوی میں تعمیر کی گئی بعد میں اس مسجد کا نام گولیاں والی مسجد مشہور ہوگیا کیونکہ سکھوں نے اس مسجد پر گولیاں پرسائی تھیں ۔ راولپنڈی کی مرکزی جامع مسجد کی تعمیر 1905ء میں مکمل ہوئی ۔ راولپنڈی سے 40کومیٹر دور کہوٹہ کی جانب قلعہ پھروالہ واقع ہے یہاں راجپوتوں کا ایک قدیم قلعہ تھا جس کو مسمار کر کے گکھڑوں نے نیا قلعہ تعمیر کیا تھا۔ 1524ء میں مغل بادشاہ بابر نے اس قلعہ کو فتح کر کے گکھڑ سردار ہاتھی خان کو فرار ہونے پر مجبور کیا۔ مغل بادشاہ ہمایوں نے اس قلعہ میں قید اپنے بھائی کامران مرزا کو غداری کرنے پر اس کی دونوں آنکھیں نکلوا دیں ۔1825ء میں سکھوں نے گکھڑوں کو اس قلعہ سے بے دخل کر دیا تھا۔ 

ایجوکیٹر سکول خیابان سرسید برانچ کی تصویری جھلکیاں
افغانستان: امریکی سازشوں کا گڑھ
راہداری منصوبہ ایک میجک: پراجیکٹ ڈائریکٹر
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں