راولپنڈی
Friday, 10 July, 2020
راہداری منصوبہ ایک میجک ہے، پراجیکٹ ڈائریکٹر

راہداری منصوبہ ایک میجک ہے، پراجیکٹ ڈائریکٹر
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر ظاہر شاہ
ناصر احمد مغل

 

پاک چین اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کوآرڈی نیٹرڈاکٹر ظاہر شاہ نے کہا ہے کہ سی پیک درحقیقت گریٹر ایشیا کا راستہ ہے،اس جیسا پوٹینشل دنیامیں کہیں نہیں پایاجاتا،اس کی حیثیت بالکل جادوجیسی ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر ظاہر شاہ کا کہناتھاکہ گوادر اور اس کی بنیادپر تعمیر کی جانے والی راہداری کا مقابلہ کسی اور منصوبے یا بندرگاہ سے نہیں کیا جاسکتا،نہ اسے روایتی پیمانوں سے ماپا جاسکتاہے ،یہ کتنا طویل ہوگا،کہاں سے گزرے گا ،کہاں سے مڑے گا،ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے اقتصادی راہداری کو نہیں سمجھا جاسکتا،اسے بڑے کینوس پر دیکھ کر ہی سمجھا جاسکتاہے ،یہ تو ایک میجک ہے،قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع بہت کم آتے ہیں،پاکستان خوش قسمت ہے کہ اسے گوادرجیسی بندرگاہ اور اقتصادی راہداری جیسا منصوبہ ملاہے۔ 

 پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک نے کہا کہ یہ منصوبہ بنیادی طورپر پاکستان اور چین کے باہمی تعلقات کو سٹرٹیجک اکنامک رخ پر لے کر جارہاہے،دوسری اہم چیز یہ ہے کہ راہداری پورے خطے کو ملائے گی،علاقائی ملکوں کے باہمی روابط گہر ے ہوں گے ،خطہ میںتجارت اور صنعت کو ترقی ملے گی۔پاکستان کو بھی اس منصوبے سے بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر بہتر ہوگا،توانائی کا مسئلہ حل ہوگا،گوادر کو ترقی ملے گی ،صنعتی تعاون ہوگا۔یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے لیے مفید ہے۔چین کے ون بیلٹ ون روڈ تصور کا ایک بڑا حصہ یہ راہداری بھی ہے۔چین اپنے مغربی حصے کو کھولنا چاہتاہے جس کی وجہ سے سوشیو اکنامک ترقی آئے گی۔

اسی بارے میں:پاک چین اقتصادی راہداری :پس منظر اور مستقبل

انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری ایک اوپن اکنامک سسٹم وجود میں لائے گی ،نیا لاجسٹکس سسٹم بنے گا،پاکستانی حکومت کا وژن 2025ء اور چین کا اوبر(ون بیلٹ ،ون روڈ)وژن دونوں ہی ترقی کو ہدف بناتے ہیں۔پاکستان کے لیے راہداری کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس کی بدولت ہماری جی ڈی پی بڑھے گی،ترقی میں حائل بنیادی رکاوٹیں دور ہوں گی،توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی،سڑکیں اور ریل روڈ ز بہترہوجائیں گے۔صنعتی کلسٹرز بنیں گے ،صنعتی پارکس تعمیر کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر ظاہر نے بتایاکہ یہ ایک وسیع اور مجموعی ترقی کا منصوبہ ہے۔پاکستان کے مغرب اور شمال سے جنوب کی طرف جانے والے رستے بہتر ہوں گے ،مشرقی سمت بھی بہتری آئے گی۔یہ ایک جامع فریم ورک ہے۔اس کے اثرات بہت دورتک جاتے ہیں،زراعت ،سیاحت ،آئی ٹی ،ٹیلی کام کو بھی فروغ ملے گا۔تجارتی مراکز اور سروس ایریازبنیں گے۔

اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ راہداری 1کھرب ڈالر کی تجارتی گزرگاہ  ہوگی،اور اس کے بے پناہ فوائد ہوں گے،پوراخطہ فائدہ اٹھائے گا،جنوبی ایشیا کے تمام ممالک اس راہداری سے مستفید ہوں گے ، گریٹر ایشیا وجود میں آئے گا،آخر کار ہرملک اس راہداری کی طرف ہی آئے گا۔

ظاہرشاہ کا کہناتھاکہ پاکستان میں تھر جیسے علاقے بھی اس راہداری کی بدولت بہتری سے بہرہ ورہوجائیں گے۔چینی اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم اسے سائنسی منصوبہ بندی سے مکمل کریں گے،یعنی جو آسان ترین انداز ہوگا وہ اپنایا جائے گا۔

ڈاکٹر ظاہر شاہ نے بتایا کہ یہ منصوبہ مغربی،وسطی اور مشرقی تین راستوں پر مشتمل ہے۔مغربی راستہ گوادرسے،پنجگور،ہوشاب،سوراب،کوئٹہ،ژوب،ڈی آئی خان، برہان اور اسلام آباد سے ہوتاہوا چین تک جائے گا۔یہ راستہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جارہاہے۔پہلے گوادر تک رسائی نہیں تھی۔اب ہوشاب تک سڑک تعمیر ہورہی ہے،وہاں سے سوراب اور پھر ڈیر ہ اسماعیل خان تک سڑک بنی ہوئی ہے۔ڈی آئی خان سے برہان اور اسلام آباد تک راستہ بنایا جائے گا۔جون 2018ء تک اسے مکمل کرنے کا ہدف ہے۔مشرقی روٹ میں ملتان تاسکھر موٹروے بن رہی ہے ،وہ راستہ بھی آہستہ آہستہ بہتر ہوگا۔

ڈاکٹر ظاہر شاہ نے کہا کہ راہداری کے تحفظ کے لیے پاک فوج کا ایک ڈویژن تشکیل دینے کا کام تقریباً مکمل ہے ،جون 2016ء تک یہ ڈویژن تیار ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مستقبل کا منصوبہ ہے اور بہت چیلنجنگ ہے۔لیکن ہرچیلنج کا مقابلہ قومی اتفاق واتحادسے کیا جاسکتاہے۔اس منصوبے پر ملک میں قومی اتفاق رائے ہوناچاہیے جو کہ بہت حدتک ہوبھی چکاہے۔اس منصوبے کے مشکل مقامات یہ ہیں کہ ہر جگہ پیشہ ورانہ انداز میں کام کرناہے،صوبائی سطح پر جو معاملات ہیں ،جو ذمہ داریاں ہیں انہیں احسن انداز میں پوراکیا جاناضروری ہوگا،سیکیورٹی کے معاملات کو بھی دیکھنا اہمیت کا حامل ہوگا۔لیکن ان تمام چیزوں سے بلند امر یہ ہے کہ راہداری منصوبہ پاکستان کے ہرفرد کے لیے مقدس ہے۔اسے تکمیل تک پہنچانا اور اس کی کامیابی کے لیے کام کرنا ہرپاکستانی کافرض ہے۔یہ پوری قوم کا منصوبہ ہے۔قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع بہت کم آتے ہیں۔قدرت کی طرف سے اس موقع کا فائدہ اٹھانے کا وقت ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  69176
کوڈ
 
   
راولپنڈی کی خبریں
برٹش سکول کونسل کی جانب سے اسلام آباد کے معروف ہوٹل میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں انٹرنیشنل سکول ایوارڈ جیتنے والے سکولز سربرہان کیساتھ انٹر نیشنل کوآرڈینیٹر اور ایکٹو ٹیچرز کواس شاندار تقریب میں مدعو کیا گیا۔ تحصیل کلر سیداں کے پانچ سکولزیہ ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہےجن میں چار گرلز سکولز شامل ہیں

مقبول ترین
پنجاب گروپ آف کالجز راولپنڈی ، اسلام آباد کی جانب سے گزشتہ روز ایک مقامی ہال میں طلبہ و طالبات کے لیے کیرئیر کونسلنگ کے سلسلے میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا ، جس میں طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس سیمینار میں میڈیکل کالجز
راولپنڈی ۔پنجاب ٹیچرز یونین راولپنڈی اور پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن راولپنڈی کے عہدیداروں نے سی ای او ایجوکیشن اعظم کاشف سے ملاقات کی اور ایجوکیٹرز کی ریگولرائزیشن سمیت دیگر اہم مسائل پر تفصیلی گفتگوکی
راولپنڈی۔ضلع راولپنڈی کے درجنوںمردو خواتین ایجوکیٹر ز نے گزشتہ بروز ہفتہ پریس کلب راولپنڈی کے سامنے کنٹریکٹ اساتذہ کی ریگو لرائزیشن 10 سال مکمل ہونے پر اظہار تشکر اور احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا
۔راولپنڈی پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن ضلع وتحصیل راولپنڈی کے عہدیداروں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو بلدیاتی تحویل میں دینے کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے، بلدیاتی نمائندوں کاکا م سرکاری ادارے چلانا نہیں، اس سے سیاسی مداخلت مزید بڑھ جائے گی

علاقائی خبریں
کسان اتحاد کے عہدیداران نے کہا ہے کہ جھنگ شوگر ملز،مافیا نے سال 2019،2020 کی کسانوں کی خون پسینے کی پیمنٹ ابھی تک ادا نہیں کی اور ضلعی انتظامیہ جھنگ شکر گنج شوگر ملز سے کسانوں کی 60 کڑور روپے کی پیمنٹ لیکر ر دینے میں ناکام ہو گئی ہے ۔
تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے مرکزی رہنمااور پاکستان مسلم الائنس کے صوبائی صدر صاحبزادہ پیرشبیراحمد صدیقی نقشبندی نے کہاہے کہ کرونا وائرس کو شکست دینے کیلئے احتیاطی تدابیر اور حکومتی ایس او پیز پر عمل پیرا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ماسک کا پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا اس سلسلے میں شہر بھر میں ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔
انقلاب اسلامی ایران کے بانی امام خمینیؒ کی برسی کے موقع پر ادارہ التنزیل پاکستان کی جانب سے "امام خمینیؒ کی قرآنی خدمات" کے موضوع پر آن لائن محفل قرائت قرآن کریم و سیمینار چار جون کو رات نو بجے منعقد ہوگا۔

افغانستان: امریکی سازشوں کا گڑھ
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں