Friday, 05 June, 2020
قرآن حکیم اور امام خمینیؒ
ان دنوں اسلام کے بطل جلیل حضرت امام سید روح اللہ موسوی الخمینی کی اکتسویں برسی منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات کی جائے گی۔ ان کی زندگی ویسے بھی بڑی جامعیت کی حامل ہے اور ایک بڑی شخصیت کے اعتبار سے جس پہلو کی جانب نظر کریں وہ ہمیں بلندی پر فائز نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ان کی زندگی کے سیاسی پہلو کو دیکھا گیا ہے حالانکہ ان کا سیاسی پہلو دینی عرفانی اور اخلاقی اور ملکوتی پہلوؤں سے پھوٹتا ہے۔
رسول اکرمؐ اور شہادت امام علیؑ کی پیشگوئی

علامہ اقبال، قائداعظم اور فلسطین
ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقاؤں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنماؤں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں خاص طور پر حکیم الامت علامہ اقبال جنھیں بجا طور پر مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا انتخاب کیا ہے۔
علامہ اقبالؒ کے افکار
علامہ اقبال ۹ نومبر ۷۷۸۱ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور انکے والد شیخ نور محمد متقی و درویش عاشق رسولؐ عارف مسلک شخص تھے۔ اقبال کہتے ہیں (ایک مرتبہ) دوران گفتگو (والد صاحب) کہنے لگے معلوم نہیں بندہ اپنے رب سے کب کا بچھڑا ہوا ہے اس خیال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ تقریباً بے ہوش ہو گئے اور رات دس گیارہ بجے تک یہی کیفیت رہی۔ اپنی والدہ کے بارے میں اقبالؒ نے معروف مرثیے ”والدہ مرحومہ کے نام“ میں لکھا ہے:
یمن پر اتنی خاموشی کیوں؟
عزیزان! ۲۶ مارچ کو یمن میں جاری شورش اور حوثی مقاومت کو ۵ سال پورے تو ہوئےمگر یمن میں صرف موت، بھوک اور بربادی جو جدید دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران ہے کے علاوہ کچھ نہیں ملتا جس پر لب کشائی کی جا سکے ۔ آخر دنیا اتنی خاموش کیوں ہے؟
کیا امریکہ میں ریاستوں کی علیحدگی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے؟
امریکہ میں بے روزگاری کے تاریخ کے بدترین مقام پر پہنچ جانے کے بعد ان کی سیاسی ساکھ پہلے ہی خراب ہو چکی ہے۔ اس لیے آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی کامیابی کے امکانات ہر روز پہلے کی نسبت کم ہو رہے ہیں۔ کورونا کی حشر سامانیاں امریکہ میں اسی طرح جاری رہیں تو امریکی وفاق کے لیے مزید دھچکوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
’’شب برأت اور ولادت امام مہدیؑ‘‘
اہل سنت اور اہل تشیع کی معتبر ترین کتب حدیث میں 15شعبان کی رات کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ قمری اعتبار سے مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ رات دن سے پہلے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان چاند دیکھنے کے بعد رات کو چاند رات کہتے ہیں
حکومت مساجد کی تالابندی سے اجتناب کرے، ملی یکجہتی کونسل
ملی یکجہتی کونسل کی تمام رکن جماعتوں کے قائدین، علماء کرام اور دینی راہنمائوں نے ایک مشترکہ اعلامئے میں کہا کہ حکومت مساجد کی تالابندی سے اجتناب کرے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے ملنے والی خبروں کے مطابق انتظامیہ مساجد کی تالا بندی اور ائمہ جمعہ
’’کربلا کا ستارہ ۔۔۔ امام حسینؑ‘‘
’’کربلا کا ستارہ‘‘ صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیرمحمد زبیر الوری کا ایک ایمان افروز خطبہ ہے جس میں امام حسین علیہ السلام کا ذکرِ منیر بڑی محبت اور کیف و مستی کے عالم میں کیا گیا ہے، جب کہ اس کے علمی و تحقیقی لوازم کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کربلا کی
’’23 مارچ  1940 کا تاریخی دن‘‘
23 مارچ وہ تاریخی دن ہے جس دن بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اللہ کے حکم سے مملکت خداداد کے معرض وجود میں آنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا تھا۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک جہاں اب اسی دن کی مناسبت اور ملک سے محبت اور
کرونا کے زیر سایہ عراق میں امریکا کے نئے اقدامات
ایک طرف عراقی حکومت اور پارلیمان کا مطالبہ اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جواب، یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ 2جنوری کے بعد عراق اور امریکا ایک دوسرے کے معاون، حلیف یا دوست نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ پھر آج تک جو کچھ ہوا وہ اسی امر کی تصدیق کر رہا ہے۔ امریکا عراق میں فوجی طاقت کے سہارے رہنا چاہتا ہے اور عراقی اسے ہر صورت میں نکالنے کے لیے بے تاب ہیں۔
’’یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی‘‘
انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین کی تاریخ میں پندرہ مئی یوم نکبہ یعنی فلسطینی سرزمین کے صہیونیوں کے ناپاک ہاتھوں میں غصب ہونے کا دن ہے اسی طرح تیس مارچ کو فلسطینی عرب سرزمین مقدس فلسطین کا دن مناتے ہیں یعنی ’’یوم ارض فلسطین‘‘ منایا جاتا ہے۔
’’پانچ فروری ۔۔۔۔ یومِ یکجہتی کشمیر‘‘
یومِ یکجہتی کشمیر بھارتی جارحیت ،ریاستی غنڈہ گردی اور اخلاق سے عاری جمہوریت کے دعویدار ''مودی دیش''کے منہ پر طمانچے برسانے کا دن ہے ،بلا شبہ کشمیریوں کی قربانیوں اور جدوجہد آزادی کی طویل داستان کئی دہائیوں سے جاری ہے
”کشمیریوں کی جدوجہد کے 89 سال “
کشمیریوں کی تحریک آزادی باقاعدہ 1931 میں شروع ہوئی جو 2020ءتک جاری و سار ی ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسئلہ کشمیر دنیا کا پیچیدہ ترین مسئلہ ہے جسے حل کرنے کےلئے سنجیدگی کو سمجھنا ضروری ہے ۔
”فلسطین برائے فروخت نہیں“
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کیلئے اپنا دو ریاستی فارمولہ پیش کردیا، مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا۔
’’ایرانی حملے میں 34 فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں، پینٹاگون کا اعتراف‘‘
پینٹاگون نے عراق میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے میں 34 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف کرلیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان نے تصدیق کی کہ جنرل سلیمانی کے قتل کے بدلے ایران کے 8 جنوری کے حملے
’’شہید جنرل قاسم سلیمانی‘‘
جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت نے امریکی دہشت گردی پر مہر ثبت کر دی ہے دنیا بھر میں امن اور اخلاقیات کا درس دینے کا دعویدار ''امریکا ''عالمی دنیا کو جنگ و جدل کے گھنائونے کاروبار میں اُلجھا کر اپنی ساکھ کے بچائو اور اسلحہ کی وسیع منڈیاں تلاش
مقبول ترین
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ ملک میں فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے موثر آپریشن ضروری ہے تاکہ معیشت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ آرمی چیف نے کہا ہے
امریکی صدر جو سیاہ فام شہری کے قتل پر احتجاج کرنے والوں کو بار بار فوج تعینات کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے، اب یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ جارج کے ساتھ جو ہوا وہ ایک خوفناک واقعہ تھا، ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ بائیس جون کو پبلک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیٹا اور وائس باکس مل چکے، ابھی تک کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالی گئی، جلد از جلد انکوائری مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ملک بھر میں ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والی بڑی مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی بڑی مارکیٹس بند کرنے کیلئے آپریشن شروع کر دیا گیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے این سی او سی میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا غیر ذمہ داری

کرونا وائرس اور احتیاتی تدابیر
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں