Thursday, 20 January, 2022
ہمارے بارے میں

مبصر ڈاٹ کام پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے چند صحافتی دوستوں کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے۔

مکمل پراجیکٹ سات زبانوں پر مشتمل ہے جن میں انگریزی،اردو،فارسی،عربی،ہندی،بنگالی اور پشتو شامل ہیں۔

فی الحال انگریزی اور اردو سیکشن میں خبروں اور تجزیات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔باقی پانچ زبانوں میں ویب سائیٹ ابھی زیر تکمیل ہے۔

مبصر ڈاٹ کام کا مقصد معیاری خبریں،رپورٹس اور بے لاگ تجزیات قارئین تک پہنچانا ہے۔

ایڈیٹر: صفدر دانش

چیف نیوز ایڈیٹر: وحید اختر

ڈپٹی ایڈیٹر: ڈاکٹر قلب نواز

ایسوسی ایٹ ایڈیٹر: شہباز علی عباسی

نیوز ایڈیٹر: سدھیر کیانی

سب ایڈیٹر: تیمور حسن

آئی ٹی انچارج: محمد عارف

ویب کنٹرولر: اسداللہ خان

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جو حکومت پاکستان کے قوانین کا پابند ہے۔ مبصر ڈاٹ کام کا کسی بھی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعت، شخصیت یا کسی بھی قسم کے علمی تحقیقاتی ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔ مبصر ڈاٹ کام کے نام پر کسی بھی شخصیت یا ادارے کے ساتھ لین دین کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا۔ ہر عام و خاص سمیت تمام متعلقہ ادارے نوٹ فرما لیں ۔۔۔ ادارہ

مقبول ترین
نیشنل اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (ایس ایم ای ڈی اے) پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ صدی میں ایک مرتبہ ایسی صورتحال ہوتی ہے، عالمی مالیاتی ادارے (ڈبلیو ایچ او) سمیت دیگر اداروں نے تسلیم کیا
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 15 افسران کو معطل کرکے انضباطی کارروائی کا حکم جاری کردیا۔ میڈیا کے مطابق سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار
وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مری میں متعدد افراد کی اموات پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔ میڈیا کے مطابق مری اور گلیات میں شدید برفباری اور ٹریفک جام کے باعث سردی سے ٹھٹھر کر مرنے والے افراد کی تعداد 21 ہوچکی ہے
مری میں برفباری میں پھنسے 21 سیاح شدید سردی سے ٹھٹھر کر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ وزیرداخلہ شیخ رشید نے فوج اور سول آرمڈ فورسز کو طلب کرلیا ہے۔ملک کے پُرفضا مقام مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے

کرونا وائرس اور احتیاتی تدابیر
کوہاٹ سے پہلے وہ قبائلی علاقے میں قیام پذیر تھے ان کا خاندان زراعت اور مال مویشی کی تجارت سے وابستہ تھا کوہاٹ کا یہ مقام جس کو جرم کہا جاتا ہے اس وقت چند گاؤں پر مشتمل تھا اور آج آبادی کے لحاظ سے بڑھ کر وہ ایک بڑا علاقہ بن چکا ہے
اس بات کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ زندگی مکافات عمل ہے۔ کچھ لوگ اپنا کیا اسی دنیا میں کاٹ لیتے ہیں اور کچھ لوگ آخرت میں۔ مگر کوئی اس سے بچ نہیں سکتا یہ بات تو واضح ہے اسے کسی بھی صورت میں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔

کیا ملک میں کرفیو نافذ ہونا چاہیے؟
نتائج ملاحظہ کریں
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں