Saturday, 19 September, 2020
بھارتی عدالت کا بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم

بھارتی عدالت کا بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم

نئی دہلی ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے بابری مسجد سے متعلق فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد مندر کو گرا کر تعمیر کی گئَی جب کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متنازعہ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجن گوگوئی نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ 1856 سے پہلے اس سر زمین پر کبھی بھی نمازادا کی گئی ہو جب کہ بابری مسجد جس ڈھانچے پر تعمیر کی گئی اسکا کوئی اسلامی پس منظر نہیں ہے۔ کیس کا فیصلہ ایمان اور یقین پر نہیں بلکہ دعووں پر کیا جاسکتا ہے۔ تاریخی بیانات ہندوؤں کے اس عقیدے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آیودھیا رام کی جائے پیدائش تھی۔

بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندورام چبوترہ، سیتا راسوئی کی پوجا کرتے تھے، ریکارڈ میں موجود شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ متنازعہ اراضی ہندوؤں کی ملکیت تھی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس عدالت کو تمام عقائد کو قبول کرنا چاہئے اورعبادت گزاروں کے عقیدوں کوقبول کرنا چاہئے۔ عدالت کو توازن برقرار رکھنا چاہئے۔ ہندوآیودھیا کو رام کی جائے پیدائش سمجھتے ہیں، ان کے مذہبی جذبات ہیں، مسلمان اسے بابری مسجد کہتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ کہ بھگوان رام کی پیدائش یہاں ہوئی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ مسجد کی تعمیر کیلئے مسلمانوں کو ایودھیا ہی میں 5 ایکڑ کی زمین متبادل کے طور پر دی جائے گی۔  بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ علاقے میں اعتماد کی فضا قائم کر کے 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کرزمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بابری مسجد اور رام مندر کی زمین کا عدالت سے باہر تنازع حل کرنے کے لیے مسلم جج ایف ایم خلیف اللہ کی سربراہی میں ایک ثالثی ٹیم تشکیل دی تھی، ٹیم میں ٹیم میں ہندوؤں کے روحانی گرو شری شری روی شنکر اور سینیئر وکیل شری رام پانچو بھی شامل تھے۔ تاہم یہ کمیٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھی۔

اس سے قبل الہ آباد ہائیکورٹ نے بابری مسجد کیس میں اپنا فیصلہ 30 ستمبر 2010 کو سنایا تھا۔ اس میں تین ججوں نے حکم دیا تھا کہ ایودھیا کی دو اعشاریہ 77 ایکڑ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس میں سے ایک تہائی زمین رام للا مندر کے پاس جائے گی جس کی نمائندگی ہندو مہاسبھا کرتی ہے، ایک تہائی سُنّی وقف بورڈ کو جائے جبکہ باقی کی ایک تہائی زمین نرموہی اکھاڑے کو ملے گی۔

واضح رہے کہ بابری مسجد کو 1528 میں مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے تعمیر کرایا تھا اور اسی نسبت سے اسے بابری مسجد کہا جاتا ہے تاہم 1949 میں ہندوؤں نے بابری مسجد سے مورتیاں برآمد ہونے کا دعویٰ کرکے اسے رام کی جنم بھومی قرار دے دیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ مختلف عدالتوں، کمیٹیوں اور کمیشن سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا تھا جس کے تین بنیادی فریق نرموہی اکھاڑا، رال للا اور سنی وقف بورڈ تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  63105
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چینی اور بھارتی افواج کے درمیان متنازع علاقے لداخ میں جھڑپ کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چینی فوج نے بھارتی فوجی دستے کا اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا تاہم مذاکرات کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔
کورونا وائرس کی وباء نے دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں، اس وباء سے دو سو زائد ممالک متاثر ہو چکے ہیں۔ بھارت سے ایک خبر آئی ہے جہاں پر بھارتی دفاعی حکام نے ممبئی کے ایک بحری اڈے پر کورونا وائرس وبا پھیلنے کی تصدیق کی ہے۔
طالبان نے افغان حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی 21 رکنی ٹیم کو مسترد کرتے ہوئے انٹرا افغان مذاکرات سے انکار کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صدر اشرف غنی کی جانب سے ’بین الافغان مذاکرات
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں امریکی صر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی کے دوران بھارتی متنازع شہریت قانون کیخلاف احتجاج پر تشدد شکل اختیار کر گیا، نئی دہلی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکار سمیت

مزید خبریں
اسپیکٹیٹر انڈیکس نے سال 2019 کی د نیا میں رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فہرست کے مطابق بھارت رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ پہلے نمبر پر برازیل، دوسرے پر ساؤتھ افریقہ، تیسرے پر نائجیریا اور چوتھے پر ارجنٹینا ہے۔
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔

مقبول ترین
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو متنازع بنایا گیا ہے۔ القاعدہ کی خطے میں ناکامی کو تو تسلیم کیا گیا لیکن اس کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان میں
رینٹل پاور کیس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 10 ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت تمام درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ جس پر احتساب عدالت اسلام آباد نےفیصلہ محفوظ کر رکھا تھا تاہم آج احتساب
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم سے جواب مانگا جارہا ہے جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد
سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوان چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کہتےہیں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں