Thursday, 24 October, 2019
افغان جنگ پاکستان اور ایران کے فائدے میں نہیں، گلبدین حکمتیار

افغان جنگ پاکستان اور ایران کے فائدے میں نہیں، گلبدین حکمتیار

کراچی ۔ امیر حزب اسلامی گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کیلئے آج بھی تیار ہوں ،طالبان کے مختلف دھڑوں کے ساتھ رابطے ہیں، طالبان کے موقف میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے، طالبان کے موثر رہنما اب بھی صلح کے حق میں ہیں، افغان حکومت طالبان کو ختم کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے،امریکا کے لئے افغانستان میں صلح کے عمل کی مخالفت کرنا مشکل ہے، طالبان نے ثابت کردیا وہ نہ صرف جنگی قوت بلکہ سیاسی قوت بھی ہیں، ہمارے پاس افغانستان کے موجودہ آئین کا متبادل موجود ہے، طالبان کواعتراض ہے تو آئین میں اصولی طریقے سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے، ہمارے پڑوسی اس بات پر آمادہ نہیں کہ افغا نستا ن میں جنگ ختم ہوجائے، ایران کا افغانستان کے قضیئے میں سب سے منفی کردار رہا ہے، افغان جنگ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے، امریکا اور پاکستان تاپی منصوبے کی تکمیل چاہتے ہیں لیکن ایران نہیں چاہتا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہو، طالبان کے بعض دھڑوں کو اسلحہ فراہمی اور کارروائیوں میں ایران مدد کررہا ہے، دہلی اور اسلام آباد اپنے اختلافات آپس میں حل کریں،اپنی جنگ افغان سرزمین پر منتقل نہ کریں، افغانستان اور پاکستان چاہیں تو صلح اور امن کیلئے کردار اداکرنے کیلئے تیار ہوں۔ 

وہ جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے خصوصی گفتگو کررہے تھے۔ 

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کیلئے آج بھی تیار ہوں بلکہ اس کو ترجیح دیتا ہوں، یہ اچھا ہوگا کہ ہم طالبان کی طرف سے افغان حکومت سے بات کریں اور ان کا موقف آگے پنچائیں،ہمارے طالبان کے مختلف دھڑوں کے ساتھ مفید رابطے موجود ہیں اور مستقبل میں بھی ان رابطوں کے خواہش مند ہیں، میں طالبان کے پیغامات کو دل کی گہرائیوں سے لیتا ہوں، طالبان کے موقف میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے، طالبان کے موثر رہنما اب بھی صلح کے حق میں ہیں، ہم سمجھتے ہیں طالبان کو جنگ میں دھکیلا گیا، اندرونی و بیرونی عوامل ایسے تھے کہ طالبان کے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ طالبان کا مسئلہ حل کیا جائے تاکہ طالبان کو مطمئن کیا جاسکے کہ ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں گے، طالبان بھی احساس کریں کہ ایک باوقار اور باعزت معاہدے کا امکان موجود ہے، حکومت طالبان کے بارے میں اپنے لب و لہجے میں تبدیلی لائے، پہلے حکومتی ذمہ داران کہتے تھے کہ طالبان میں کوئی اچھا اور برا نہیں ہے، افغان حکومت اپنے بازوؤں میں اتنی طاقت نہیں رکھتی کہ وہ طالبان کو ختم کرسکے، وہ طالبان کے خاتمے کیلئے بھی امریکا سے کہتے ہیں، کاش کابل حکومت کے پاس اپنے مخالفین کو ختم کرنے کی طاقت ہوتی، افغان حکومت کہتی ہے طالبان میں اچھا برا نہیں ہے تو پھر خفیہ مذاکرات کیوں کررہی ہے اور خفیہ پیغامات کیوں بھیجتی ہے۔


گلبدین حکمت یار نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات میں پہل کر کے افغان حکومت اور امریکا کو آزمانا چاہئے، ملک کے اندر اور باہر موجود لوگوں کیلئے صلح کی مخالفت کرنا مشکل ہے، امریکا کے لئے بھی افغانستان میں صلح کے عمل کی مخالفت کرنا مشکل ہے، طالبان صلح اور مذاکرات چاہیں تو امریکا سمیت کوئی مخالفت کی جرأت نہیں کرے گا۔ گلبدین حکمت یار نے کہا کہ طالبان بتائیں افغان آئین میں کن شقوں کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم نے بہت سے تحفظات کے باوجود افغان آئین کو تسلیم کیا، ہمیں بھی آئین کی مختلف جہتوں پر اعتراضات ہیں، میں نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ ہمارے پاس اس آئین کا متبادل موجود ہے، جب کبھی بھی جرگے میں بنیادی آئین پر بحث ہوئی تو شرکاء جرگہ افغانستان کے موجودہ آئین کے مقابلہ میں ہمارے تیار کردہ آئین کو ترجیح دیں گے، طالبان بھی اب بہت تجربہ کار ہوچکے ہیں، طالبان نے ثابت کردیا کہ وہ نہ صرف جنگی قوت بلکہ سیاسی قوت بھی ہیں، طالبان اب ایک جنگی، جہادی اور سیاسی قوت کے طور پر مذاکرات میں حصہ لیں گے، میں سمجھتا ہوں طالبان کی طرف سے بھی افغان آئین کو تسلیم کرنے میں بظاہر کوئی خاص مشکل نہیں ہے، اگر طالبان کواعتراض ہے تو آئین میں اصولی طریقے سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے ،ہم اور طالبان مل کر قومی جرگے کے سامنے اپنے تحفظات رکھ سکتے ہیں۔

گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک اپنے مفادات کیلئے افغان جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں جن میں پڑوسی ممالک بھی شامل ہیں، ہمارے پڑوسی کسی قیمت پر اس بات پر آمادہ نہیں کہ افغانستان میں جنگ ختم ہوجائے، انہوں نے اپنے تمام تر وسائل افغانستان میں جنگ اور بدامنی کیلئے جھونک رکھے ہیں، وہ چاہتے ہیں افغان حکومت کمزور ہو حتیٰ کہ ہماری مختلف قومیتوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے، وہ ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کے حق میں نہیں ہیں۔ 

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ایران کا افغانستان کے قضیئے میں سب سے منفی کردار رہا ہے، اس نے ہمیشہ افغانستان میں جنگ کو ترجیح دی ہے، کم از کم تیس سال سے ایران افغان جنگ کو ہوا دے رہا ہے، افغان جنگ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے، کسی ملک نے اس جنگ میں نقصان اٹھایا ہے تو وہ پاکستان ہے، اس جنگ کی وجہ سے پاکستان میں ایسے گروہ پیدا ہوگئے جنہوں نے پاکستان ہی کے خلاف ہتھیار اٹھائے، کئی سالوں سے پاکستان کو اس جنگ کا سامنا ہے، پاکستان کے علاوہ اگر کسی نے افغان جنگ سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ امریکا ہے، امریکا نے اس جنگ میں اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں، امریکا نے افغان جنگ سے کچھ حاصل نہیں کیا، پاکستان نے افغان مارکیٹ بھی کافی حد تک گنوادی ہے اور اسے مرکزی حیثیت بھی حاصل نہیں ہوسکی ہے، پاکستان وسطی ایشیا سے توانائی کا حصول چاہتا تھا لیکن وہ بھی افغان جنگ کی وجہ سے حاصل نہیں کرسکا، پاکستان کو اس وقت بجلی اور گیس کے بحران کا سامنا ہے، امریکا اور پاکستان تاپی منصوبے کی تکمیل چاہتے ہیں لیکن ایران نہیں چاہتا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہو۔

ایک سوال کے جواب میں گلبدین حکمتیار نے کہا کہ ہمسایہ ممالک نے اپنے مفادا ت افغانستان سے وابستہ کر رکھے ہیں، ہمسایہ ممالک اپنی مخالفت اور مزاحمت افغان سرزمین پر منتقل نہ کریں، دہلی اور اسلام آباد اپنے اختلافات کو آپس میں حل کریں اور اپنی جنگ افغان سرزمین پر منتقل نہ کریں، ماسکو اور واشنگٹن بھی اپنے اختلافات کو کسی اور جگہ پالیں اور اپنی رقابتوں میں افغانوں کو قربان نہ کریں، اسی طرح ایران اور عرب ممالک بھی اپنے سیاسی، اقتصادی، نظریاتی، مذہبی اختلا فا ت افغانستان منتقل نہ کریں، پاکستان اور ایران ذہن سے نکال دیں کہ یہ افغان جنگ ہمیشہ ان کیلئے فائدے کا باعث ہوگی، اس جنگ کے شعلے ایک دن ان کے دامن تک بھی پہنچیں گے۔ گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ ایران افغان جنگ میں فریق ہے وہ متحارب گروہوں کے ساتھ تعاون کرتا ہے، افغانستان میں اسلحہ ایران کے راستے آتا ہے، پچھلے تیس سالوں میں جتنا بھی اسلحہ اور مہم جوئی ہوئی وہ ایران سے ہوئی ہے، روسی افواج کے انخلاء اور ڈاکٹر نجیب حکومت کے خاتمے کے بعد جتنا بھی اسلحہ افغانستان آیا ایران کے راستے مشہد سے ہرات اور ہرات افغانستان منتقل ہوا، سب کو معلوم ہے طالبان کے بعض دھڑوں کو اسلحہ فراہمی اور کارروائیوں میں ایران مدد کررہا ہے۔ 

گلبدین حکمتیار نے کہا کہ کابل حکومت پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات چاہتی ہے، ہمیں کراچی کی جگہ چاہ بہار اور پاکستان کی جگہ ایران کا انتخاب نہیں کرنا چاہئے، ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جنگ کا راستہ اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، افغانستان کی بہتری اسی میں ہے کہ ہم صلح کا راستہ اختیار کریں، افغانستان اور پاکستان چاہیں تو صلح اور امن کیلئے کردار اداکرنے کیلئے تیار ہوں۔ افغانستان میں انتخابات سے متعلق سوال پر گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ حزب اسلامی وقت پر انتخابات چاہتی ہے، ہم اس بات سے متفق نہیں کہ انتخابات تاخیر کا شکار ہوں، دیگر سیاسی جماعتیں وقت پرا نتخابات نہیں چاہتی ہیں، انہوں نے عوامی اعتبار کھودیا ہے اس لئے انتخابات سے ڈرتے ہیں، کچھ سیاسی قوتیں نتخابات کے انعقاد پر ہی معترض ہیں ، کچھ لویہ جرگہ کا انعقاد چاہتے ہیں تاکہ انتخابات نہ ہوں، لویہ جرگہ اسی صورت ممکن ہے کہ انتخابات ہوجائے، انتخابات سے خوفزدہ لوگ عدم استحکام چاہتے ہیں ، ہم کسی کو انتخابات میں تاخیر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، انتخابات کیلئے کمیشن چار جماعتوں کے درمیان تشکیل دیا گیا جس پرا عتراض ہے، کمیشن کے سات میں سے چار افراد زیادہ فعال اور متحرک ہیں جنہیں یہ نکالنا چاہتے ہیں، ان متحرک لوگوں کے والد اور بھائی حزب اسلامی میں عہدوں پر رہے ہیں۔ 

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا کرنے یا کسی کی حمایت کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے، حزب اسلامی انتخابات میں حصہ لے کر کامیاب ہوجاتی ہے تو کچھ ممالک خلل ڈال سکتے ہیں جس سے ہم ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ جائیں گے، اس لئے ہم کسی قابل قبول شخص کی حمایت کرنے کو ترجیح دیں گے ، وہی صدارتی امیدوار کامیاب ہوگا جسے حزب اسلامی کی حمایت حاصل ہوگی۔حزب اسلامی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حزب اسلامی پہلے بھی متحد تھی اور اب بھی منظم ہے، یہاں پر جتنے دفاتر کھلے ہیں کسی نے نہیں کہا ہم حزب اسلامی سے جدا ہیں، کسی نے نہیں کہا کہ میں حزب اسلامی کا سربراہ ہوں، سب نے اپنے کارکنان اور عوام کو بتایا ہے کہ ہم نے مصلحت کے تحت دفاتر کھولے ہیں، جب حزب اسلامی کابل واپس آجائے گی تو ہم اپنے دفاتر بند کردیں گے، حزب اسلامی کی شوریٰ میں افغانستان میں بسنے والی ہر قوم سے تین ہزار افراد شامل کیے گئے ہیں۔ 

گلبدین حکمت یار نے بتایا کہ مزار شریف اور تخار کے سقوط کے بعد مجبور ہو کر ایران گیا تھا، میں نہیں چاہتا تھا کہ ایران جاؤں، مرحوم استاد ربانی کے ساتھ تاجکستان ایک اجلاس میں شرکت کیلئے گیا، وہاں ایک ایرانی اہلکار نے مجھے بتایا کہ تاجکستان کے انٹیلی جنس نے بتایا کہ حکمت یار تاجکستان سے نکل جائے،میں نے کہا ٹھیک ہے میرے لئے ہیلی کاپٹر کا بندوبست کردیں مجھے واپس بدخشاں جانا ہے، انہوں نے کہا ہیلی کاپٹر نہیں ہے تو میں نے اس ایرانی سے کہا گاڑی کا بندوبست کرلیں، اس نے گاڑی سے بھی انکار کیا، میں نے اس سے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں میں ایرانج اؤں گا تو آپ سمجھ لیں میں ایران نہیں جارہا، اس وقت پاکستان جانا بھی مشکل تھا بالآخر مجبور ہوکر میں ایران چلا گیا، ایران میں سیاسی پناہ میں نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی قیدی تھا، میں ہر وقت ان کی زیرنگرانی تھا اور ان کا اصل مقصد بھی یہی تھا، طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تو کچھ امریکی اہلکاروں نے پیغام دیا کہ ہم افغانستان آرہے ہیں طالبان آپ کے دشمن ہیں آپ ہماری حمایت کریں ہم آپ کی تمام شرائط تسلیم کرتے ہیں، میں نے ان کو بتایا کہ میں ایک افغان رقیب اور حریف کی سو سالہ حکومت ماننے کو تیار ہوں لیکن کسی غیر کی ایک دن کی حکومت تسلیم نہیں کروں گا، انہوں نے کہا اگر ہم آجائیں تو آپ کیا کرو گے؟ میں نے کہا کہ میں پہاڑوں میں جاؤں گا اور آپ کے خلاف ہتھیار اٹھاؤں گا، میں نے انہیں کہا کہ آپ لوگ جو اتحادی افواج افغانستان لے کر آرہے ہیں یہ اقدام غلط ہے، آپ کابل پر قبضہ تو کرلیں گے لیکن برقرار نہیں رکھ پائیں گے، اتحادی افواج آئی اور ایران نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، افغانستان میں جس نے امریکا کا سب سے زیادہ ساتھ دیا وہ ایران ہے، پاکستان نے زمینی فوج استعمال نہیں کی لیکن ایران نے زمینی جنگجو بھی انہیں دیئے، ایران سے تعلق رکھنے والے گروپ امریکا کے زیراثر افغانستان میں لڑتے رہے، ایران نے مجھے امریکا کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، ایک ایرانی اہلکار نے مجھے بتایا کہ ایرانی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ دو دن کے اندر ایران سے نکل جائیں، میں نے کہا کہاں جاؤں مجھے مشورہ دو کیونکہ میرا پاسپو ر ٹ آپ لوگوں کے پاس ہے، عصر کے وقت انہوں نے مجھے پیغام دیا اور میں اندھیرا ہوتے ہی وہاں سے انہیں بتائے بغیر نکل گیا، صبح کی نماز میں نے ایرانی سرحد کے قریب پڑھی اور سورج طلوع ہوتے ہی افغانستان میں داخل ہوا، افغانستان میں شیگل کے علاقے میں مجھ پر ڈرون حملہ کیا گیا، امریکی کمانڈوز میرے اتنے قریب آگئے تھے کہ میں ان کی باتیں سن سکتا تھا اور انہیں دیکھ رہا تھا، تین راتوں کو اس طرح بھی ہوا کہ پہاڑ کی ایک طرف میں نے اور دوسری طرف انہوں نے رات گزاری ۔ 

گلبدین حکمت یار نے بتایا کہ پاکستان میں میرا داماد گرفتار ہوا اور چھ سال امریکیوں کی قید میں رہا، ڈاکٹر غیرت بہیر اور میرے محافظین کا سربراہ حاجی گل رحمن پاکستان میں گرفتار ہوئے اور دوران تفتیش اذیت کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا، میرا بھائی بھی گرفتار ہوا، میری وجہ سے بار بار تفتیش کی گئی گھر گھر کی تلاشی لی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں افغانستان میں ہی رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22973
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک شادی کی تقریب میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 63 افراد جاں بحق اور 180 سے زائد زخمی ہوگئے۔ افغان میڈیا کے مطابق کابل میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں 63 افراد
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے مغربی صوبے فراہ میں ہرات ہائی وے پر نصب بم اُس وقت دھماکے سے پھٹ گیا جب ایک مسافر بردار بس وہاں سے گزر رہی تھی جس کے نتیجے میں بس میں سوار 34 مسافر ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔
افغانستان میں وزارت دفاع اور فٹبال فیڈریشن کی عمارتوں کے نزدیک خود کش حملے میں 10 افراد ہلاک اور 68 زخمی ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں 2 حملہ آور بھی مارے گئے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت کابل میں واقع وزارت دفاع

مزید خبریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔

مقبول ترین
حکومت نے اپوزیشن کو آزادی مارچ کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق عدالتی فیصلوں کی
دفتر خارجہ کی جانب سے اس دورے کا اہتمام کیا گیا تاکہ آزاد کشمیر میں دہشت گردوں کے اڈے تباہ کرنے کے بھارتی جھوٹ کو بے نقاب کیا جاسکے۔ اس موقع پر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں