Tuesday, 07 April, 2020
’’نئی دہلی: حالات کشیدہ، پولیس اہلکار سمیت 4 ہلاک‘‘

’’نئی دہلی: حالات کشیدہ، پولیس اہلکار سمیت 4 ہلاک‘‘

نئی دہلی ۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں امریکی صر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی کے دوران بھارتی متنازع شہریت قانون کیخلاف احتجاج پر تشدد شکل اختیار کر گیا، نئی دہلی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکار سمیت 4 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں 10 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ متعدد پٹرول پمپس، گاڑیوں اورسرکاری املاک کو جلا دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 24 گھنٹوں کے بعد دوسری بار دہلی میں جھڑپیں ہوئیں، بی جے پی کے انتہا پسندوں نے شہریت بل کے خلاف احتجاج کرتی عوام پر دھاوا بول دیا جبکہ دہلی میں پتھراؤ کیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے پولیس افسر کا نام رتن لال ہے جو پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر کام کر رہا تھا، پتھراؤ کے دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) امت شرما بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انتہا پسندوں نے مسلم اکثریتی علاقے جعفر آباد اور موج پور میں گھروں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ دہلی کے علاقے موج پور، چاند باغ، کردمپوری، دلیاپور کے علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دن بھر سے جاری جھڑپوں کے دوران دوسری ہلاکت ہوئی، ہلاک ہونے والے کا نام محمد فرقان ہے جبکہ دیگر دو افراد کی شناخت محمد سلمان اور شاہد علوی کے نام سے ہوئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق حمد سلیمان کا دلی کے ظفر آباد علاقے سے تعلق جبکہ شاہد علوی کا تعلق اترپردیش کے بلند شہر سے ہے۔ لاک ہونے والا محمد سلیمان کی ٹانگ میں گولی لگی اور اس کی موت زیادہ خون بہنے سے ہوئی ہے۔

نئی دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ 10 پولیس اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں گے۔

جوائنٹ کمشنر الوک کمار نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی سی پی شاہدرہ امیت شرما عوام کی جانب سے پتھراؤ کی وجہ سے زخمی ہو گئے ہیں۔ متعدد پٹرول پمپس،گاڑیوں اورسرکاری املاک کو جلا دیا گیا۔

شمال مشرق دہلی کے دس علاقوں میں پولیس نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے اور اس کے علاوہ شہر کے مختلف حصوں جیسے ظفر آباد، موج پور، سلیم پور اور چاند باغ سے تشدد اور ہنگاموں کی اطلاعات ملی ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں موجود مجمع کو سنبھالنے کے لیے پولیس کی نفری کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور جب انھوں نے لاٹھی چارج شروع کیا تو وہاں پر بھگدڑ مچ گئی۔

دریں اثناء بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شدت پکڑے مظاہروں اور ہلاکتوں کے بعد کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پر امن احتجاج سب کا حق ہے۔ عوام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پر تشدد راستہ نہ اپنایا جائے۔

مزید برآں کانگریس جماعت کے دیگر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر نئی دہلی میں ہونے والے مظاہرے وزیر داخلہ امت شاہ کی ناکامی ہے، کیونکہ وزیر داخلہ دارالحکومت میں امن و امان قائم رکھنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

نئی دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے وزیر داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے امن کی اپیل کی اور کہا کہ قانون کی بالادستی قائم کرنے میں مدد کریں۔

لیفٹننٹ گورنر انیل بئیجل نے دہلی کے پولیس کمشنر کو حکم دیا ہے کہ امن و امان بحال کرنے کی پوری کوششیں کی جائیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کپل مشرا نے بھی ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا کہ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ امن کو برقرار رکھا جائے اور چاہے وہ شہریت کے قانون کے حامی ہوں یا مخالف، تشدد اور ہنگاموں سے گریز کریں۔

دوسری جانب رکن اسمبلی اسدالدین اویسی نے کپل مشرا کی ٹویٹ کے جواب میں انھی پر ہنگامہ آرائی کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ تمام ہنگامے بی جے پی کے رہنما کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔انھیں فوراً گرفتار کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز موج پور کے علاقوں میں مسلم خواتین نے شہریت بل کے خلاف دھرنا دیا تھا، بی جے پی کا مقامی رہنما انتہا پسندوں کے ساتھ دھرنا ختم کرنے آیا، دھرنے پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  84026
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
متنازع شہریت قانون کے خلاف شروع ہونے والے پر تشدد واقعات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جبکہ مرنے والوں میں انٹیلی جنس افسر بھی شامل ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں زخمیوں کی تعداد 200 سے زائد ہو گئی ہے جبکہ بی جے پی کے دہشت
بنگلہ دیش اور افغانستان نے بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کی مخالفت کردی۔ مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے اور 3 ممالک کے ہندو، سکھ، جین، بدھ مت، مسیحی اور پارسیوں کو شہریت دینے کا کہا گیا ہے۔
افغانستان کے نائب وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کردی ہے، جائے وقوعہ سے فائرنگ کی شدید آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
سیکیورٹی اہلکار کی فائرنگ سے سی آر پی ایف کے 4 اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) زخمی ہوگیا

مزید خبریں
اسپیکٹیٹر انڈیکس نے سال 2019 کی د نیا میں رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فہرست کے مطابق بھارت رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ پہلے نمبر پر برازیل، دوسرے پر ساؤتھ افریقہ، تیسرے پر نائجیریا اور چوتھے پر ارجنٹینا ہے۔
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔

مقبول ترین
قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 397 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3278 ہوگئی جن میں 259 صحت یاب ہوگئے ہیں۔
کورونا کا شکار برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ برطانیہ میں مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 4 ہزار 934 ہو گئی۔ برطانیہ میں کورونا وائرس بے قابو ہوتا جا رہا ہے، برطانوی وزیراعظم کو حالت خراب ہونے پر ہسپتال
تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بڑے فیصلے کرتے ہوئے رپورٹ کی روشنی میں کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں۔ یہ بات انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہی، بعد ازاں مقامی نشریاتی ادارے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو
خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ منظور، شہزاد ارباب کو مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، فخر امام غذائی تحفظ، امین الحق انفارمیشن ٹیکنالوجی، حماد اظہر کو صنعت وپیداوار کی وزارت دیدی گئی جبکہ بابر اعوان کو مشیر برائے پارلیمانی امور مقرر کر دیا گیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں