Monday, 27 September, 2021
دنیا کو تنگ کرنے والا خود تنگ آگیا
 
دنیا کو تنگ کرنے والا خود تنگ آگیا
 

اس وقت امریکی حکومت کو ایسے سخت اور دشوار حالات کا سامنا ہے جس کی نظیر ماضی میں جلدی نظر نہیں آتی۔ جارج فلوئڈ کے بہیمانہ قتل کے بعد امریکہ میں جاری نسل پرستی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کی لہر دوڑ گئی اور مجموعی طور پر ہر روز لاکھوں کی تعداد میں امریکی شہری سڑکوں پر نکل کر نسل پرستی کے اور ظلم و تشدد کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ امریکی جریدے ایٹلانٹک نے امریکہ کی حالیہ صورتحال کا موازنہ تیونس جیسے بعض بحران زدہ ممالک سے کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے زوال کی جانب گامزن ہے۔


کارٹون
دنیا کو تنگ کرنے والا خود تنگ آگیا
صدر ٹرمپ اور کورونا
رمضان المبارک میں اشیاء خورد نوش کی قیمتوں میں اضافہ
صدر ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کی امداد روک دی
سماجی فاصلہ رکھیں
شوگر مافیا اور حکومت آمنے سامنے
کورونا، اپنے حصے کا کام کریں
اس سے آگے کوئی گریڈ نہیں ہے، گومل یونیورسٹی ۔۔۔۔ بشکریہ: ابو شان
’’بھارت اپنی ہی چال میں خود پھنس گیا‘‘
مذاکرات
بچے اسکول اور سیکیورٹی
سیکیورٹی سسٹم
سیاستدان اور گھریلو مسائل
کمیشن مافیا
پاکستانی سیاستدان اور عوام
سموگ کے فائدے
مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

کرونا وائرس اور احتیاتی تدابیر
کوہاٹ سے پہلے وہ قبائلی علاقے میں قیام پذیر تھے ان کا خاندان زراعت اور مال مویشی کی تجارت سے وابستہ تھا کوہاٹ کا یہ مقام جس کو جرم کہا جاتا ہے اس وقت چند گاؤں پر مشتمل تھا اور آج آبادی کے لحاظ سے بڑھ کر وہ ایک بڑا علاقہ بن چکا ہے
اس بات کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ زندگی مکافات عمل ہے۔ کچھ لوگ اپنا کیا اسی دنیا میں کاٹ لیتے ہیں اور کچھ لوگ آخرت میں۔ مگر کوئی اس سے بچ نہیں سکتا یہ بات تو واضح ہے اسے کسی بھی صورت میں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔

کیا ملک میں کرفیو نافذ ہونا چاہیے؟
نتائج ملاحظہ کریں
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں