Saturday, 17 April, 2021
پی ایف یو جے کا بھوک مٹاؤ رقص
جاوید ملک / شب وروز
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے شہر کے سب سے مہنگے اور عالیشان ہوٹل میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا تھا۔اس کی جیب میں ریزگاری ملا کر اتنے ہی پیسے بچے تھے کہ یک طرفہ کرایہ ادا کر کے ہوٹل پہنچ جاتا واپسی پر کسی سے لفٹ مل جاتی تو موجیں ہو جاتیں

ملی یک جہتی کونسل پاکستان
تحریر: منیر احمد خلیلی
ہمارے ملک میں مدت سے فرقوں کی بنیاد پر ایک ایک مسلک کے کئی کئی دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ دھڑے موجود رہے ہیں۔ ہر دھڑا اپنے آپ کو اپنے فرقے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔ فرقہ واریت بجائے خود اسلام کے امیج کو بری طرح مجروح کرتی اور
سوشل میڈیا ایک نیا میدان
جاوید ملک / شب وروز
میں یہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ ہم قدامت پسند زیادہ ہیں یا سست المزاج لیکن یہ طے ہے کہ جدت کو اپنانے میں جس قدر غفلت ہم کرتے ہیں شاید ہی دنیا میں اس کی کوئی نظیر مل پائے جب پانی سر سے چڑھ جاتا ہے تو مجبوراً ہمیں ترکی کی ٹرین سے لٹکنا پڑتا ہے
’’بھکاریوں کے روپ ۔۔۔ ‘‘
ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ
وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح ہرطبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ترقی کی ہے اسی طرح بھکاریوں نے بھی ترقی کی ہے اسی طرح بھکاریوں میں بھی دوطرح کے طبقے پائے جاتے ہیں ایک بھکاری تووہ ہیں جومستقل طورپرنسل درنسل کسی علاقہ کے رہائشی
’’سعودی کے خلاف پروپیگنڈہ: ہوشیار رہنا ہوگا‘‘
جاوید ملک / شب وروز
یہ خبر ہر پاکستانی کیلئے اتنی تکلیف دہ تھی کہ جیسے اسے زندہ کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا ہو اس خبر کو سوشل میڈیا پر انتہائی منظم طریقے سے پھیلایا گیا لمحوں میں یہ افواہ ٹاپ ٹرینڈ بن گئی کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملہ میں سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف
فرقہ واریت سے ہوشیار
تحریر: سید ثاقب اکبر
یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ افراد یا گروہ نئے سرے سے فرقہ واریت کو پھیلانے میں سرگرم ہوگئے ہیں یا فرقہ واریت کے سلیپر سیلز پھر سے متحرک کیے جارہے ہیں۔ اس کے لیے وہ تمام افراد جنھوں نے پاکستان میں فرقہ واریت کے خلاف سالہا سال جدوجہد کی ہے انھیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اپنی طاقتوں کو نئے سرے سے مجتمع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ واریت کی نئی لہر کا مقابلہ کیا جاسکے۔
’’موت سے ایک لمحہ پہلے‘‘
جاوید ملک / شب وروز
کوئی اگر آپ کوایک ایسے شخص کی کہانی سنائے جس کی زندگی کی گھڑیاں گنی جا چکی ہیں اسے موت کا فرشتہ سامنے دکھائی دے رہا ہے اور اس لمحہ بھی وہ کسی کی جیب کاٹنے کسی کو دا لگانے کسی کو ٹھگنے اور دھوکہ دہی سے کچھ مال
کورونا... امتحاں اور بھی ہیں
تحریر: رضوان نقوی
سال 2020 کا آغاز دنیا کے لئے نیک شگون ثابت نہ ہوا۔ 2020 کے شروع میں کورونا وائرس نے اپنی تباہی کا آغاز چین سے کیا اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آج آدھا سال گزرنے کو ہے اور ابھی تک لاکھوں انسان اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔
بے سمجھے پڑھی جانے والی اکلوتی کتاب
تحریر: سید ثاقب اکبر
آپ کسی سے پوچھیں کہ کیا آپ نے ’’بانگ درا‘‘ پڑھی ہے؟ اگر وہ کہے کہ ہاں تو آپ یقیناً یہی سمجھیں گے کہ اس نے ضرور غوروفکر کرکے، کچھ نہ کچھ سمجھ کر پڑھی ہے۔ آپ نے بھی پڑھ رکھی ہو تو اس کی مختلف نظموں، علامہ اقبال کے زور کلام، مشکلاتِ کلام، پیغام، تبدیلی افکار وغیرہ کے موضوعات پر آپ آپس میں تبادلۂ خیال بھی کرسکتے ہیں۔ یہی حال
۔۔۔۔۔۔ صحافت کا جنازہ
جاوید ملک / شب وروز
وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے صحافی کاشف رفیق کو گالی کیوں دی؟ صحافی نے آخر ایسا کیا سوال کردیا جو ان کی طبع نازک پر گراں گزرا شہباز گل کی وہ کون سی دکھتی رگ تھی جس پر انگلی لگتے ہی وہ تڑپ اٹھے اور تھوڑی دیر پہلے تک اخلاقیات کا
امریکی مظلوموں کی حمایت میں آواز اٹھانے کا وقت ہے
تحریر: سید ثاقب اکبر
25 مئی 2020 امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس کے ایسے مظالم طویل عرصے سے جاری ہیں۔
دوراہے پر کھڑی قوم
تحریر: ظہیرالدین بابر
وطن عزیز میں ایک ہی دن کورونا وائرس سے 96 سے زائد افراد کا جان بحق ہونا ان ملکی و عالمی ماہرین کی پیشنگوئی سچ ثابت کررہا ہے جو تواتر سے عالمی وبا کی تباہ کاریوں بارے تنبیہہ کر رہے،ادھر اہل پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اکثریت اس وبا کے مضمرات پر سنجیدگی سے غور کرنے آمادہ نہیں، سرکار کی جانب سے عیدالفطر پر”جزوی لاک ڈاؤن“ کھولنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی قابل ذکر تعداد نے لاپرواہی برتی
ٹھیکیدار کی بیٹی اور کرنل کی بیوی
جاوید ملک / شب وروز
گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران دو ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ رہے ٹھیکیدار کی بیٹی کا ہیش ٹیگ تو ابھی تک ٹرینڈز میں موجود ہے تھانہ ڈیفنس لاہور میں درج مقدمہ کے مطابق معروف بلڈرز ملک ریاض کی بیٹی اپنی دو بہنوں اور مسلح گارڈز کے ہمراہ معروف اداکارہ
امریکہ طالبان معاہدہ کی ناکامی کون چاہتا ہے!
تحریر: ظہیرالدین بابر
افغانستان میں قتل وغارت گری کے حالیہ واقعات نے طویل عرصے سے جنگ سے تباہ حال ملک بارے امن کی امید کو ناامیدی میں بدل رہے ہیں، کابل میں زچہ وبچہ وارڈ میں ماؤں اور نونہالوں کا قتل جاری خون ریزی کے بدترین واقعات میں اپنی جگہ بنا گیا ، ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دہشت گرد عناصر کسی مذہبی و اخلاقی اصول پر پورے نہیں اترتے،
بھارت کا ’’ہندومیڈیا‘‘ میڈیا !
عمر چوہدری کا کالم اگلا مورچہ
’’ہندومیڈیا‘‘ اس بلکتے ''کتے'' کی طرح ہے جس کی' دُم' پر پائوں رکھ دیا جائے اور وہ سر بازار چیختا چلاتا!دُم کو مروڑے دیتا چلا جاتا ہے لیکن کتے سے کوئی نہیں پوچھتا کہ سر بازار ''دُم پھیلانے'' کا مشورہ آخر کس نے دیا تھا بس یہی حال ''مودی سرکار'' کا ہے
محمد بن سلمان کا وژن 2030ء دھندلا رہا ہے
ثاقب اکبر کا کالم درخیال
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2017ء میں سعودی عرب کی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور مہنگا منصوبہ پیش کیا، جس کا عنوان وژن 2030ء رکھا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ پراجیکٹ جدید معیارات کے مطابق اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا۔ اس کے ذریعے سعودی عرب کی آمدنی کا تیل پر انحصار ختم کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت بحیرہ احمر کے کنارے 12 شہروں کو بسایا جانا ہے، اسے نیوم پراجیکٹ کہتے ہیں۔
مقبول ترین
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی
وفاقی حکومت نے وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا جبکہ ان کی جگہ حماد اظہر لیں گے۔ سینیٹر شبلی فراز نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ قلمدان حماد اظہر کو تفویض
لاہور میں موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی۔میڈیا کے مطابق چند روز قبل موٹروے زیادتی کیس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ کیمپ جیل میں فیصلہ سنانے
مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان

کرونا وائرس اور احتیاتی تدابیر
کوہاٹ سے پہلے وہ قبائلی علاقے میں قیام پذیر تھے ان کا خاندان زراعت اور مال مویشی کی تجارت سے وابستہ تھا کوہاٹ کا یہ مقام جس کو جرم کہا جاتا ہے اس وقت چند گاؤں پر مشتمل تھا اور آج آبادی کے لحاظ سے بڑھ کر وہ ایک بڑا علاقہ بن چکا ہے
اس بات کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ زندگی مکافات عمل ہے۔ کچھ لوگ اپنا کیا اسی دنیا میں کاٹ لیتے ہیں اور کچھ لوگ آخرت میں۔ مگر کوئی اس سے بچ نہیں سکتا یہ بات تو واضح ہے اسے کسی بھی صورت میں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں