Wednesday, 17 October, 2018
ہم سے ایسا کیا گناہ ہو گیا؟
وسعت اللہ خان کا کالم
نواز شریف دیوانہ وار حامیوں کے جلو میں ووٹ دینے پولنگ اسٹیشن تک پہنچے مگر شناختی کارڈ ساتھ لے جانا بھول گئے لہذا ووٹ ڈالے بغیر واپس چلے آئے۔ہو سکتا ہے میرے آپ کے لیے یہ اچنبھے کی خبر ہو لیکن ہمارے جیسے ممالک و معاشرے جہاں چہرہ

شورش کاشمیری اور عاصمہ جہانگیر
حامد میر کا کالم
آج کل کے صحافی شورش کاشمیری کے نام سے زیادہ آشنائی نہیں رکھتے۔ وہ پاکستانی صحافت میں مولانا ظفر علی خان کی روایت کے امین تھے اور سیاست پر شاعرانہ تبصرے کیا کرتے تھے۔ 1974ء کی ختم نبوت کی تحریک میں ان کا کردار بہت اہم تھا۔
زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی بھی ہے
غازی صلاح الدین کا کالم
فرانس کے خونی انقلاب کے بعد کہ جس میں قتل و غارت گری کی ایک اندھی لہر بھی اٹھی تھی کسی نے ایک معروف مذہبی شخصیت سے پوچھا کہ جناب اس انقلاب میں آپ نے کیا کیا ؟ جواب تھا۔ ’’میں زندہ رہا‘‘۔ گویا ، مشکل دنوں میں اپنے آپ کو بچائے رکھنا بھی
اپنی حفاظتی بیلٹ باندھ لیں
محمود شام کا کالم
آپ سب کو مبارک ہو۔ پاکستان پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹارہا ہے۔ میاں شہباز شریف حراست میں لے لئے گئے۔ آغاز ہفتہ کراچی اسٹاک ایکسچینج بہت نیچے چلی گئی۔ لوگ سمجھے کہ یہ گرفتاری کا ردّ عمل ہے۔ لیکن اسٹاکس کے ایک بڑے بروکر
جب تک لکھنے والے زندہ ہیں
زاہدہ حنا کا کالم
اب یہ بات دس بارہ برس پرانی ہوئی کہ برصغیرکے تینوں ملکوں میں ادب کا جشن منایا جاتا ہے۔ دور درازکے ملکوں سے مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف زبانوں میں لکھنے والے جے پور، دلی،کراچی، ڈھاکا اور لاہور میں جمع ہوتے ہیں اور اپنی اپنی
تین چار افراد کی اہم گفتگو
مظہر بر لاس کا کالم
ہفتہ، اتوار چھٹی کا دن تھا لہٰذا میرے کچھ نامراد قسم کے دوستوں نے مجھے تنگ کرنا فرض سمجھا۔ سب سے پہلے بڑھک باز، نخرے باز اور بڑے بڑے دعوے کرنے والا بودی شاہ آ گیا، دوچار منٹ بعد بشیرا پہلوان کہیں سے آگیا، بشیرے کی شکل و شباہت تو پرانی تھی
شکریہ نیب
حامد میر کا کالم
شہباز شریف کو نیب کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ نیب نے شہباز شریف کی وہ خدمت کی ہے جو کوئی دوسرا اربوں روپے کے عوض بھی نہ کر پاتا۔ جب سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر رہا ہوئے تھے سازشی مفروضوں کی دنیا میں رہنے والوں کو اس رہائی
نئے پاکستان میں ’’ڈبل تھنک‘‘
غازی صلاح الدین کا کالم
انگریزی کا ایک لفظ ہے ’’ڈبل تھنک‘‘ ۔ اسے جارج آر ویل نے اپنی افسانوی ضرورت کے تحت گھڑا تھا۔ اس کا مفہوم بغیر کسی وضاحت کے ، کچھ کچھ سمجھ میں آتا ہے۔ ایک ترجمہ اس کا ’’دہری سوچ‘‘ بھی ہوسکتا ہے۔ آرویل نے اس کا استعمال اس کیفیت کے لئے کیا ہے
آؤ شہرزاد سے الف لیلہ سنیں
الطاف حسن قریشی کا کالم
حالات بے یقینی کا شکار ہو جائیں، خوب، ناخوب ٹھہرے اور تکبر انسانی عظمت کی معراج قرار پائے، تو پریشاں ذہن انسان داستانوں، ادب پاروں اور شعری نغموں میں پناہ لیتا ہے۔ خوش قسمتی سے مجھے پچھلے دنوں طلعتؔ فاروق کے دو شعری مجموعے موصول
ریاست ِمدینہ یا بغداد
سلیم صافی کا کالم
گزشتہ دس دن بڑے سکون سے گزرے ۔ پاکستانی ٹی وی ٹاک شوز سے بھی نجات ملی رہی اور پاکستانی سیاست پر قابض سیاسی نابالغوں کی تو تو میں میں سے بھی۔ نہ کوئی کفر کا فتویٰ سننے کو ملا اور نہ غداری کا الزام ۔ نہ زبان درازی دیکھنے کو ملی
پر کام کروں گا بڑے بڑے
وسعت اللہ خان کا کالم
مورخہ ستائیس ستمبر۔مقام قومی اسمبلی ہال۔ وزیرِاطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے چور ، ڈاکو اور قومی دولت مجرے کی طرح لٹانے والے ریمارکس کے ردِعمل میں حزبِ اختلاف واک آؤٹ کر چکی ہے۔مگر فواد میاں کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔
جنرل باجوہ کا دَورۂ چین، سی پیک اور قاہرہ کانفرنس
تنویر قیصر شاہد کا کالم
ہمارے ہاں بعض ’’اہلِ دانش‘‘ کے سامنے جب یہ معروف بات کہی جاتی ہے کہ پاک چین دوستی سمندروں سے گہری، پہاڑوں سے بلند اور شہد سے زیادہ شیریں ہے تو انھیں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ وہ اِسے مبالغہ خیال کرتے ہیں۔ ایسے’’اصحابِ دانش و فہم‘‘
ملک چلانا آسان ہے
غازی صلاح الدین کا کالم
چیزیں اتنی بگڑ چکی ہیں کہ اب ان کو ٹھیک کرنا حکمرانوں کے بس کی بات نہیں لگتی۔ جمہور کی سلطانی ممکن ہو یا نہ ہو، سلطانوں کی سلطانی مسلسل خطرے میں رہتی ہے۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی حکمرانی مشکل ہی نہیں شاید ناممکن ہے۔
عظمت کا مینار ۔۔۔۔۔۔
الطاف حسن قریشی کا کالم
ڈاکٹر حسن صہیب مراد، عمر میں مجھ سے کوئی اٹھائیس سال چھوٹے تھے، مگر کام اِتنے بڑے بڑے کر گئے کہ صدیوں یاد رکھے جائیں گے۔ وہ 10ستمبر کو گلگت سے واپس آتے ہوئے ٹریفک حادثے میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے
ہرلباس میں ننگ ِوجود
عطا ء الحق قاسمی کا کالم
بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ایک محاورہ ہے اور ہم لوگ گزشتہ 70برس سے مختلف ادوار میں اس محاورے کو فقرے میں استعمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ متذکرہ محاورے کو فقرے میں استعمال کرنے والے امتحانی نقطہ نظر سے ایسا نہیں کرتے۔
تھپڑ سے نہیں پیار سے ڈر لگتا ہے
وسعت اللہ خان کا کالم
پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے لیے قابلِ قبول اور نارمل ممالک بنانے کا کام پہلی جنریشن کی قیادت ہی کر سکتی تھی۔جناح، لیاقت ،گاندھی، نہرو اور پٹیل ایک دوسرے کی صلاحیتوں، نفسیات،طاقت،کمزوری اور انداز سے نہ صرف واقف تھے بلکہ برت بھی چکے تھے۔
مقبول ترین
لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے
بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمالی علاقے ٹریب میں سیلاب کے باعث 13 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں محض چند گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو عام طورپر3 ماہ سے زائد

براہ راست نشریات
سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو شادی کی دستاویزات لینے کے لئے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے باہر نہیں نکلے۔ استنبول میں حکام کا کہنا ہے
گزشتہ روز وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ نورالحق قادری کے اعزاز میں جماعت اہل حرم نے استقبالیہ کا اہتمام کیا۔ جس میں علماّ مشائخ اور صحافی حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ تقریب جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ استقبالیہ سے
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے تقریباً اڑھائی برس بعد عالمی استعماری طاقتوں کے ایماء پر عراق نے ایران پر اچانک حملہ کر دیا۔ یہ حملہ 22 ستمبر 1980ء کو کیا گیا۔ بدقسمتی سے یہ جنگ 8 برس تک جاری رہی۔ اس وقت عراق میں صدام حسین کی حکومت تھی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں