Tuesday, 24 April, 2018
پیپلز پارٹی زیادہ خسارے میں یا نون لیگ؟
تنویر قیصر شاہد کالم
پچھلے سال جون کے پہلے ہفتے جب وسطی پنجاب کے معروف سیاستدان اور پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے نتھیا گلی جا کر کپتان کے ہاتھ پر سیاسی بیعت کی تو گویا پنجاب میں پیپلز پارٹی کی کمر ہی ٹوٹ گئی تھی۔

شفاف انتخابات کے بنیادی تقاضے
الطاف حسن قریشی کا کالم
ان دنوں ملکی حالات کی موجیں کناروں سے باہر نکل رہی ہیں۔ جمہوریت کے شیدائی بہت خوش تھے کہ تیسری بار قومی اسمبلی اپنی آئینی میعاد پوری کرنے والی ہے، مگر ایک سال سے پے در پے ایسے حوادث پیش آ رہے ہیں جن سے انتخابات
’’ووٹ کو عزت دو‘‘
حامد میر کا کالم
بہت عرصے کے بعد ایک خوبصورت تقریر سننے کو ملی۔ مجمع مسلم لیگ(ن) اور اس کے اتحادیوں نے اکٹھا کیا تھا لیکن داد ایک ایسے سیاست دان نے سمیٹی جو مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ نہیں کھڑا۔مسلم لیگیوں سے داد سمیٹنے والے
ایک وزارت ’’سویلین شہدا‘‘ کے لیے بھی !!!
علی احمد ڈھلوں کا کالم
گزشتہ ہفتے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی (جی ایچ کیو) میں تقسیم اعزازات کی تقریب ہوئی۔ تقریب میں عسکری حکام، غازیوں اور شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔ تقریب میں شہداء کے لواحقین اور غازیوں کو اعزازات دیے گئے۔
مقتول ہی تو قاتل ہے
وسعت اللہ خان کا کالم
اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہوا ہے تو وہ دلیل ہے اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہا ہے اس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی نہیں دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ہے۔
روس سے اسلحے کا حصول
نصرت مرزا کا کالم
2005ء میں بھارت اور امریکہ کے درمیان سول جوہری معاہدہ اور 2008ء میں امریکی کانگریس سے اس کی منظوری کے بعد پاکستان نے امریکہ کے علاوہ نئے دوست تلاش کرنے شروع کردیئے۔
قندوز کے جگر پاش واقعات کے گہرے اثرات
الطاف حسن قریشی کا کالم
قندوز میں ایک مدرسے پر بمباری کے حادثے کو گزرے بارہ دن ہو چکے ہیں، مگر وہ بچے جو قرآن حفظ کر کے دستار بندی کی باوقار تقریب میں شریک تھے، اُن کے جسم ویڈیو میں تار تار ہوتے اور فضا میں اُڑتے دیکھے۔ وہ اندوہناک مناظر میرے پورے وجود میں تحلیل ہو گئے ہیں۔
بے شرم اور انتہائی بے شرم
جاوید چوہدری کا کالم
چوہدری منظور احمد پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری ہیں‘ قصور سے تعلق رکھتے ہیں‘یہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی رہے‘ میں انھیں کل ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں دیکھ رہا تھا‘ ایشو ڈاکٹر رمیش کمار کی پاکستان
اشرافیہ کو سات خون معاف
عبدالقادر حسن کا کالم
سیاستدانوں نے جاتے جاتے ایک بار پھر عوام پر حملہ کر دیا ہے اوراپنے لیے سرکاری خزانے کی لوٹ مار کو جائز قرار دے دیا ہے۔ پاکستان جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا وہ مقصد تو کب کا دفن کیا جا چکا ہے اور
چوہدری شجاعت نے کیا کچھ دیکھا؟
حامد میر کا کالم
یہ ایک سرپرائز ہے۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ چوہدری شجاعت حسین اتنا سچ بول سکیں گے لیکن پاور پالیٹکس کے اس دور میں چوہدری صاحب نے کافی شجاعت دکھا دی ہے اور اپنی کتاب میں کچھ ایسی باتیں لکھ ڈالی ہیں
سفید تھر میں صاف پانی
وسعت اللہ خان کا کالم
جب سے اس پٹی کے صحرا نشینوں اور ان کے مویشیوں کو گھر کے بہت قریب قابل ِاستعمال پانی کی سہولت پہلی بار میسر آئی ہے تب سے زندگی کے اطوار بھی بدلنے لگے ہیں۔طلوعِ آفتاب سے دوپہر شروع ہونے تک
کشمیری پنڈتوں کا المیہ
کلدیپ نئیر کا کالم
مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو اپنے آبائی گھروں کا وزٹ کرنا چاہیے ان کی مراد مقبوضہ وادی سے ہے، لیکن محبوبہ کا یہ بیان زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔
جب مولانا فضل الرحمٰن کو وزیراعظم نہ بننے دیا گیا
محمود شام کا کالم
یہ 2002ء میں رمضان کا مبارک مہینہ ہے۔ آئی ایس آئی کی طرف سے افطار کا اہتمام ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن موجود ہیں۔ حضرت شاہ احمد نورانی۔ قاضی حسین احمد جیسی جید ہستیاں۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احسان الحق
باری باری۔ سب کی باری
سلیم صافی کا کالم
گائوں کے چوہدری صاحب ایک روز خربوزوں کے باغ کے معائنے کے لئے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیک وقت تین چور باغ پر ٹوٹ پڑے ہیں اور خربوزے کاٹ کر بوریوں میں ڈال رہے ہیں۔ وہ قریب گئے تو دیکھا کہ ایک چور
آہ ۔۔۔۔۔۔۔ 4 اپریل 1979
خالد مجید کا کالم
یہ تو ہونا ہی تھا جب فیصلہ ڈیکٹیٹ ہو کر محفو ظ ہو جائے ۔۔۔اور تمام افراد کو مقام و منصب کے مطابق فیس کی تر سیل بھی ممکن بنا دی گئی ہو ۔۔۔پھر باقی سب تو رسمی کاروائیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ آنکھوں میں دھول جھو نکنے کے واسطے
احتساب، انصاف، انقلاب اور انتخاب
عرفان اطہر قاضی کا کالم
بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی نیا کاروبار شروع کرو تو اس کے مثبت پہلوئوں کی بجائے سب سے پہلے منفی پہلوئوں پر غور ضرور کر لینا چاہئے۔ ہرا ہرا سب کو نظر آتا ہے مگر پیلا رخ دیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔ آج سیاست بھی دنیا میں ایک بیوپار ہے۔
مقبول ترین
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہےکہ سی پیک پاکستان کو ترقی کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ کراچی میں سی پیک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نےکہا کہ سی پیک کے ذریعے افغانستان اور مغربی چین کو بھی رسائی مل سکے گی
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے غیر متعلقہ افراد کی سیکورٹی واپس لینے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ جن لوگوں کو جان کا خطرہ ہے ان سے سیکیورٹی واپس نہ لی جائے اور تمام صوبے سیکیورٹی فراہمی کا فارمولا ایک ہفتے میں طے کرلیں۔
عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں کل رات ہونے والی فائرنگ کی اصل حقیقت سامنے آگئي ہے فائرنگ کے واقعہ میں آل سعود کے بعض اعلی شہزادے ملوث ہیں۔ ڈرون کو گرانے کا واقعہ سعودی حکومت کا ڈرامہ ہے فائرنگ کے واقعہ کے بعد سعودی بادشاہ
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس اپنی بات سنا دیتے ہیں کوئی اور بولتے تو پابندی لگا دیتے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز لندن میں اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔

براہ راست نشریات
خواتین کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے انھوں نے ہی اولاد کی تربیت کرنی ہے جو کہ آگے بڑھ کر ایک مفید معاشرے کی بنیاد بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کی راہنما عابدہ راجہ نے علمی وتحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ جناب زینب سلام اللہ علیہا افتخار اسلام مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا
اکثر جب ہم بازار جاتے ہیں تو ہمیں مردانہ آواز مگر زنانہ لباس زیب تن کئے ہوئے کوئی آواز پیچھے سے آتی ہے کہ ’’اے بابو کچھ دے دو‘‘اور جب ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو کوئی خواجہ سرا پیچھے کھڑا ہوتا ہے بعض افراد تو اس تیسری جنس کو کچھ نہ کچھ
کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی قدرت کی طرف سے انسانی تولید کا ایک بہترین و مکمل نظام وضع کردیا گیا. اس کے بعد اس نظام پر مختلف مذاہب، ثقافتوں اور ممالک کا روایتی غلاف چڑھایا جاتا رہا اور آج بھی اکیسویں صدی میں بھی بنیادی نظام وہی ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں