Sunday, 21 April, 2019
’’۔۔۔۔۔۔۔ دنیا ہی بدل گئی‘‘
الطاف حسن قریشی کا کالم
یہ 22فروری کی شام تھی جب مجھ پر نمونیہ کا شدید حملہ ہوا اَور مجھے فوری طور پر اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ شدید علالت کے باعث مجھ سے دو کالموں کا ناغہ ہوا، اِس دوران ایسے حیرت انگیز اور عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے کہ دیکھنے

فریادی ننھی پری! خواب ریاست ِمدینہ کے
عرفان اطہر قاضی کا کالم
ہمیں تو کوئی تحفظ دو، ہمیں بھی کوئی پوچھے، تم سے کوئی بھیک تو نہیں مانگ رہے، ہر دور میں ہر حکومت نے وعدہ کیا، تم کچھ کر نہیں سکتے سرکاری نوکری دے نہیں سکتے لیکن ہمیں اپنا کاروبار تو کرنے دو۔ یہ قرضے تو ہم نے ہی پورے کرنے ہیں۔
تبدیلی میں تبدیلی کا امکان
سلیم صافی کا کالم
بائیس جنوری کو ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا ، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک نابینا سردار جی
عمران پر تنقید ضرور کریں مگر
تنویر قیصر شاہد کا کالم
دُنیا میں کوئی ایسی حکومت یا کوئی ایسا حکمران بھی ہے جس سے ملک کے سارے عوام خوش اور مطمئن ہوں؟ عوام حکومتوں اور حکمرانوں کے فیصلوں، پالیسیوں اور اقدامات سے یقینا ناراض ہوتے ہیں۔ تنقید اور تنقیص بھی سامنے آتی ہے۔
طلبہ طاقت کو کس نے تقسیم کیا؟
محمود شام کا کالم
ڈاکٹر عبدالقدیر خان جس نشست میں ہوں وہاں صرف تعلیم، سائنس اور تربیت پر بات ہوتی ہے۔ ہم ایک سالانہ ناشتے میں ہیں جس کا اہتمام سلطان چائولہ کرتے ہیں۔ یہاں جو بھی اہم اور ممتاز پاکستانی ہیں کراچی میں، وہ موجود ہیں۔ سینیٹر عبدالحسیب خان
دنیا تو ہمارے سامنے ہے
غازی صلاح الدین کا کالم
پاکستان سے باہر جانے ا ور دنیا گھومنے کا موقع تو ملتا رہا ہے،لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر پاکستان کو چند دنوں کے لئے بھی فراموش کردینے کی کوشش میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ میں اپنی بات کررہا ہوں کیونکہ میں ایک صحافی ہوں
’’فوجی عدالتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
الطاف حسن قریشی کا کالم
امریکہ میں نائن الیون ہوا تو امریکی صدر پچاس سے زائد ممالک کی فوجیں جمع کر کے افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ پاکستان میں اُن دنوں جنرل پرویز مشرف سیاہ و سفید کے مالک تھے اور منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کے باعث عالمی طاقتوں میں
پنجاب سے فلسفے کی بتدریج بے دخلی
محمود شام کا کالم
یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ حکومت پنجاب صوبے میں لیکچررز کی آسامیوں کا اشتہار دیگی۔ اور تین ہزار اسامیوں میں فلسفے کی ایک بھی نشست نہیں رکھی جائے گی۔کیا حکومت پنجاب یہ چاہتی ہے کہ اہل پنجاب میں آج بھی۔ آئندہ بھی انتہا پسندی اسی طرح بڑھتی رہے۔
تاریخ میں پہلی بار
سلیم صافی کا کالم
تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔
ملک صاحب زندہ باد
حامد میر کا کالم
آج مجھے ایک وعدہ پورا کرنا ہے۔ یہ وعدہ میں نے ملک حاکمین خان سے اُن کی زندگی میں کیا تھا لیکن افسوس کہ 2019ء شروع ہوتے ہی وہ یہ دنیا چھوڑ گئے اور میں یہ وعدہ اُن کی وفات کے بعد پورا کر رہا ہوں۔ ملک صاحب سے میری پہلی
زبان کے زخم
الطاف حسن قریشی کا کالم
رعنائی ٔخیال کی جگہ الفاظ کی بدصورتی اور بیان کی خونخواری نے لےلی ہے اور اس کا نام ’عوام کی ترجمانی‘ اور ’اظہار کی آزادی‘ رکھ لیا گیا ہے۔ 2019ء کا سال دھند اور سردی میں لپٹا ہوا اُمید کی شمعوں کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔
یہاں منطق اور تاریخ بھی بے بس ہو جاتے ہیں
محمود شام کا کالم
کیا ارادے ہیں آپ کے؟ ان 12مہینوں، 52ہفتوں اور 365دنوں کو کیسے گزارنا ہے۔ ویسے ہی جیسے پچھلا سال گزارا تھا؟ حکمرانوں کو کوستے، منفی تجزیے کرتے، ٹاک شوز دیکھتے۔ یہ سال 2018سے بھی زیادہ بحران، المیے اور چیلنج لے کر آرہا ہے۔
2019 میں بلاول بھٹو اور مریم نواز کے لیے پیغام؟
تنویر قیصر شاہد کا کالم
آج 2018 کا آخری دن ہے۔ تین سو پینسٹھ دن پلک جھپکتے میں زقند بھر کر گزر گئے اور اپنے عقب میں کوئی نشان بھی نہیں چھوڑا۔ ان گزرے ایام کے قدموں کے نشان ہم دیکھنا بھی چاہیں تو نہیں دیکھ سکتے لیکن اللہ کے پاس ان کا پورا حساب کتاب موجود ہے۔
اب باری ہے زرداری کی
سلیم صافی کا کالم
اپریل کا مہینہ تھا۔ زرداری صاحب اینٹ سے اینٹ لگاکر لاڈلا بننے میں مصروف تھے ۔وہ نوازشریف کو آئوٹ کرنے کے ایجنڈے میں بنیادی کردار ادا کررہے تھے ۔ میاں نوازشریف سے ان کی شکایات جائز تھیں لیکن جن کے لئے وہ استعمال ہورہے تھے۔
دل دہلا دینے والا منظرنامہ
الطاف حسن قریشی کا کالم
ناساز طبیعت کے باعث میں پچھلے ہفتے کالم نہ لکھ سکا۔ اِس بار بھی بخار کی شدت نے ہوش و حواس اُڑا رکھے تھے اور بستر پر لیٹے ہوئے عبدالحمید عدمؔ کے دلچسپ شعر یاد آ رہے تھے جن سے بھولی بسری یادیں عود کر آئی تھیں۔ حافظے
۔۔۔ اور کتنی قربانیاں ؟؟؟
حامد میر کا کالم
وہ ایک ادھورا کام کرنے وطن واپس آئیں۔ ادھورا کام یہ تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر مرنے آئی تھیں۔ مٹی سے اپنی وفا میں سرخ رنگ بھرنے آئی تھیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے دس سال قبل 1997ء میں مارکسٹ دانشور ٹیڈ گرانٹ نے
مقبول ترین
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 18 اپریل کو سرحد پار سے 15 دہشت گرد داخل ہوئے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی ، جنہوں نے بس کو روکا اورشناخت کرکے 14 پاکستانی شہید کیے
وزیراعظم نے اپنی حکومتی ٹیم میں مزید تبدیلیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ کپتان کا مقصد ٹیم کو جتانا ہوتا ہے اور بطور وزیراعظم ان کا مقصد اپنی قوم کو جتانا ہے اس لیے جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردیا جائے گا۔
وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے فواد چوہدری سمیت دیگر وزراء سے ان کے قلمدان واپس لے لیے۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فواد چوہدری سے وزارت اطلاعات واپس لے کر
وزیر خزانہ اسد عمر نے وزارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزرا کے قلمدانوں میں ردو بدل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ مجھ سے وزارت خزانہ واپس لے کر وزارت توانائی کا قلمدان دینا چاہتے تھے

براہ راست نشریات
برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے بیٹے اور ملک کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین یمن میں جنگ سمیت دیگر اہم مسائل پر ’شدید اختلافات‘ جنم لے چکے ہیں۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ہر سو کالے دھن اور اندھیر نگری کا راج ہے اور اس مروجہ نظام کے باعث معاشرہ نہ صرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے بلکہافراتفری اور انتشار کی جیتی جاگتی تصویر بھی بن گیا ہے ایسے حالات میں وطن عزیز
گلگت بلتستان کا ریاست جموں کشمیر سے دو سوسالہ سیاسی اور قانونی رشتے کی داستان اندوہناک بھی ہے اور عجیب غریب بھی۔ 1840 سے 1947 تک کی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا کہ گلگت بلتستان اور لداخ کے لوگ مہاراجہ کی حکومت سے خوش رہا ہو

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں