Monday, 18 February, 2019
تبدیلی میں تبدیلی کا امکان
سلیم صافی کا کالم
بائیس جنوری کو ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا ، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک نابینا سردار جی

عمران پر تنقید ضرور کریں مگر
تنویر قیصر شاہد کا کالم
دُنیا میں کوئی ایسی حکومت یا کوئی ایسا حکمران بھی ہے جس سے ملک کے سارے عوام خوش اور مطمئن ہوں؟ عوام حکومتوں اور حکمرانوں کے فیصلوں، پالیسیوں اور اقدامات سے یقینا ناراض ہوتے ہیں۔ تنقید اور تنقیص بھی سامنے آتی ہے۔
طلبہ طاقت کو کس نے تقسیم کیا؟
محمود شام کا کالم
ڈاکٹر عبدالقدیر خان جس نشست میں ہوں وہاں صرف تعلیم، سائنس اور تربیت پر بات ہوتی ہے۔ ہم ایک سالانہ ناشتے میں ہیں جس کا اہتمام سلطان چائولہ کرتے ہیں۔ یہاں جو بھی اہم اور ممتاز پاکستانی ہیں کراچی میں، وہ موجود ہیں۔ سینیٹر عبدالحسیب خان
دنیا تو ہمارے سامنے ہے
غازی صلاح الدین کا کالم
پاکستان سے باہر جانے ا ور دنیا گھومنے کا موقع تو ملتا رہا ہے،لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر پاکستان کو چند دنوں کے لئے بھی فراموش کردینے کی کوشش میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ میں اپنی بات کررہا ہوں کیونکہ میں ایک صحافی ہوں
’’فوجی عدالتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
الطاف حسن قریشی کا کالم
امریکہ میں نائن الیون ہوا تو امریکی صدر پچاس سے زائد ممالک کی فوجیں جمع کر کے افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ پاکستان میں اُن دنوں جنرل پرویز مشرف سیاہ و سفید کے مالک تھے اور منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کے باعث عالمی طاقتوں میں
پنجاب سے فلسفے کی بتدریج بے دخلی
محمود شام کا کالم
یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ حکومت پنجاب صوبے میں لیکچررز کی آسامیوں کا اشتہار دیگی۔ اور تین ہزار اسامیوں میں فلسفے کی ایک بھی نشست نہیں رکھی جائے گی۔کیا حکومت پنجاب یہ چاہتی ہے کہ اہل پنجاب میں آج بھی۔ آئندہ بھی انتہا پسندی اسی طرح بڑھتی رہے۔
تاریخ میں پہلی بار
سلیم صافی کا کالم
تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔
ملک صاحب زندہ باد
حامد میر کا کالم
آج مجھے ایک وعدہ پورا کرنا ہے۔ یہ وعدہ میں نے ملک حاکمین خان سے اُن کی زندگی میں کیا تھا لیکن افسوس کہ 2019ء شروع ہوتے ہی وہ یہ دنیا چھوڑ گئے اور میں یہ وعدہ اُن کی وفات کے بعد پورا کر رہا ہوں۔ ملک صاحب سے میری پہلی
زبان کے زخم
الطاف حسن قریشی کا کالم
رعنائی ٔخیال کی جگہ الفاظ کی بدصورتی اور بیان کی خونخواری نے لےلی ہے اور اس کا نام ’عوام کی ترجمانی‘ اور ’اظہار کی آزادی‘ رکھ لیا گیا ہے۔ 2019ء کا سال دھند اور سردی میں لپٹا ہوا اُمید کی شمعوں کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔
یہاں منطق اور تاریخ بھی بے بس ہو جاتے ہیں
محمود شام کا کالم
کیا ارادے ہیں آپ کے؟ ان 12مہینوں، 52ہفتوں اور 365دنوں کو کیسے گزارنا ہے۔ ویسے ہی جیسے پچھلا سال گزارا تھا؟ حکمرانوں کو کوستے، منفی تجزیے کرتے، ٹاک شوز دیکھتے۔ یہ سال 2018سے بھی زیادہ بحران، المیے اور چیلنج لے کر آرہا ہے۔
2019 میں بلاول بھٹو اور مریم نواز کے لیے پیغام؟
تنویر قیصر شاہد کا کالم
آج 2018 کا آخری دن ہے۔ تین سو پینسٹھ دن پلک جھپکتے میں زقند بھر کر گزر گئے اور اپنے عقب میں کوئی نشان بھی نہیں چھوڑا۔ ان گزرے ایام کے قدموں کے نشان ہم دیکھنا بھی چاہیں تو نہیں دیکھ سکتے لیکن اللہ کے پاس ان کا پورا حساب کتاب موجود ہے۔
اب باری ہے زرداری کی
سلیم صافی کا کالم
اپریل کا مہینہ تھا۔ زرداری صاحب اینٹ سے اینٹ لگاکر لاڈلا بننے میں مصروف تھے ۔وہ نوازشریف کو آئوٹ کرنے کے ایجنڈے میں بنیادی کردار ادا کررہے تھے ۔ میاں نوازشریف سے ان کی شکایات جائز تھیں لیکن جن کے لئے وہ استعمال ہورہے تھے۔
دل دہلا دینے والا منظرنامہ
الطاف حسن قریشی کا کالم
ناساز طبیعت کے باعث میں پچھلے ہفتے کالم نہ لکھ سکا۔ اِس بار بھی بخار کی شدت نے ہوش و حواس اُڑا رکھے تھے اور بستر پر لیٹے ہوئے عبدالحمید عدمؔ کے دلچسپ شعر یاد آ رہے تھے جن سے بھولی بسری یادیں عود کر آئی تھیں۔ حافظے
۔۔۔ اور کتنی قربانیاں ؟؟؟
حامد میر کا کالم
وہ ایک ادھورا کام کرنے وطن واپس آئیں۔ ادھورا کام یہ تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر مرنے آئی تھیں۔ مٹی سے اپنی وفا میں سرخ رنگ بھرنے آئی تھیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے دس سال قبل 1997ء میں مارکسٹ دانشور ٹیڈ گرانٹ نے
افغانستان، دستک دیتی نئی تباہی
سلیم صافی کا کالم
وہی ہوا جس کا ڈرتھا۔ تاریخ اپنے آپ کو کئی گنا زیادہ بھیانک شکل میں دہرانے لگی ہے ۔ افغانستان میں امریکہ کم وبیش اسی انجام سے دوچار ہوا جس سے سوویت یونین ہوگیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے لئے ویسے ثابت ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا
سیاحت و مذہبی سیاحت کی صنعت
نصرت مرزا کا کالم
موجودہ حکومت کے سو دنوں کے بارے میں لوگوں کی مختلف آرا ہیں، کچھ لوگ اِن دنوں کو ناکامی اور ناتجربہ کاری کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کم از کم عمران خان ایماندار شخص ہیں، وہ اپنی ناتجربہ کار ٹیم ہونےکے باوجود کوئی
مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ون آن ون ملاقات کی۔ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔ ملاقات میں پاک سعودی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا طیارہ جیسے ہی پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تو معززمہمان کا شایان استقبال شروع کر دیا گیا۔ پاک فضائیہ کے ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے شاہی طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا۔
چین کے ڈپٹی چیف آف مشن چاؤ لی جیان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سمیت کوئی بھی ملک چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کا حصہ بن سکتا ہے۔ میڈیا کے مطابق جیو ٹی وی کے پروگرام جیو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیف
ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے پیر کو ہونے والے اجلاس کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کا پیر کی شام 4 بجے ہونے والا اجلاس اب بدھ کی شام 4 بجے ہو گا۔

براہ راست نشریات
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ہر سو کالے دھن اور اندھیر نگری کا راج ہے اور اس مروجہ نظام کے باعث معاشرہ نہ صرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے بلکہافراتفری اور انتشار کی جیتی جاگتی تصویر بھی بن گیا ہے ایسے حالات میں وطن عزیز
گلگت بلتستان کا ریاست جموں کشمیر سے دو سوسالہ سیاسی اور قانونی رشتے کی داستان اندوہناک بھی ہے اور عجیب غریب بھی۔ 1840 سے 1947 تک کی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا کہ گلگت بلتستان اور لداخ کے لوگ مہاراجہ کی حکومت سے خوش رہا ہو
اسرائیل جو کہ ایک نسل پرست صہیونی ریاست ہے اور اس کا وجود چونکہ صہیونیوں نیبوڑھے استعمار برطانیہ کی مدد سے عالم اسلام کے قلب فلسطین پرغاصبانہ طور پر سنہ1948ء میں قائم کیا تھاتاہم ستر برس کے اس غاصبانہ قبضہ اور تسلط

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں