Monday, 27 September, 2021
ملی یک جہتی کونسل پاکستان

ملی یک جہتی کونسل پاکستان
تحریر: منیر احمد خلیلی

 

ہمارے ملک میں مدت سے فرقوں کی بنیاد پر  ایک ایک مسلک کے کئی کئی دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ دھڑے موجود رہے ہیں۔ ہر دھڑا اپنے آپ کو اپنے فرقے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔ فرقہ واریت بجائے خود اسلام کے امیج کو بری طرح مجروح کرتی اور ملت کے ضعف کا سبب بنتی ہے۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عفریت نے خوف و دہشت اور خون ریزی کا جو کھیل پچھلے تیس چالیس سال میں کھیلا اس نے ہمارے وطن کی کمر بھی توڑ دی۔ 

'مِلّی یک جہتی کونسل' بڑے نیک مقاصد کے تحت وجود میں آئی تھی۔ اس کا مقصد فرقہ واریت کی بنیاد پر تعصبات اور منافرتوں کو کم کرنا اور ملّتِ اسلامیہ پاکستان میں یکجہتی کی فضا قائم کرنا تھا۔ اس نے بڑے نازک حالات میں بہت موثر انداز میں کام شروع کیا تھا۔ قاضی حسین احمد رح اور مولانا شاہ احمد نورانی رح جیسی بلند پایہ شخصیتیں اس کی قیادت پر فائز تھیں اور ان کی آواز اندرون و بیرون ملک سنی اور مانی جاتی تھی۔

ہمارے ملک کے مخلتف مذہبی فرقوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہتا ہے اور فرقوں کی قیادت بھی اس حساب سے اِدھر اُدھر ہوتی رہتی ہے۔ بریلوی مکتب فکر میں علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان کئی ٹکڑوں میں بٹی اور فرقہ کے اندر اثر و اقتدار ثروت قادری کی سُنّی تحریک کے ہاتھ چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ اس کے اثر سے ہر طرف ہری پگڑیوں کی بہار دیکھنے میں آتی تھی۔ اس سے بھی کچھ پہلے اسی فرقہ میں ڈاکٹر طاہر القادری چھائے ہوئے نظر آتے تھے۔ ثروت قادری کراچی میں محدود ہو گئے اور ان کی تنظیم میں ایم کیو ایم کے بھگوڑوں نے پناہ لینی شروع کر دی تو اس کی پذیرائی بھی ختم ہو گئی۔

اسی دوران میں ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کا قتل ہوا۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سنائی گئی۔ جب تک معاملہ عدالت میں رہا ان کے حق میں کوئی طاقتور آواز نہ اٹھی لیکن ان کی شہادت کے بعد مولانا خادم رضوی مرحوم کی سربراہی میں 'تحریک لبیک یا رسول اللہ' ایک نئے phenomenon کی صورت میں نمودار ہوئی چھا گئی۔ اس نے عملا پورے بریلوی مکتب فکر کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

 ملی یکہجتی کونسل کی تشکیل کے وقت شیعہ گروپ میں   علامہ ساجد نقوی کی قیادت میں 'تحریک نفاذ فقہ جعفریہ' مرکزی حیثیت رکھتی تھی لیکن 'جمعیت علمائے پاکستان' کی طرح یہ فرقہ بھی شکست و ریخت سے گزرتا ہوا اس مقام پر پہنچا کہ اس کا اقتدار علامہ راجہ ناصر کی 'مجلس وحدت المسلمین' کے ہاتھ آ گیا۔ اب وہی اپنے فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

'ملی یک جہتی کونسل' میں اس وقت کسی بھی مسلک کا تسلیم شدہ با اثر اور مضبوط و موثر رائے رکھنے والا دھڑا شامل نہیں ہے۔ یہ سکڑتی سکڑتی اب پنجاب تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اس میں اس وقت واحد قومی سطح کے رہنما ہیں باقی سب اپنے اپنے فرقے کے کسی چھوٹے یونٹ کے نمائندہ ہیں۔

'ملی یک جہتی کونسل' کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ یہ ایک علمی و فکری اور فقہی و تحقیقی اور اجتہادی ادارے میں ڈھلتی اور پوری امت کو اعتقادی اور فکری و نظریاتی طور پر قریب کرتی۔ اس کے کرنے کا ایک اور بہت بڑا کام یہ ہے کہ کسی دور میں ملک کے عظیم علماء کے پیش کردہ 22 نکات کے فریم ورک کے اندر فرقوں میں ہم آہنگی اور قربت کا کوئی جامع پروگرام پیش کرتی۔ لیکن ہم اسے محدود سے محدود تر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یہ ہر دو چار ماہ بعد 'نشستند گفتند برخاستند' کی حد تک کوئی میٹنگ کرتی ہے اور کیک پیسٹری کھا کر اگلے اجلاس تک فارغ ہو جاتی ہے۔ 

پوری ملت کے اندر یکجہتی تو دور کی بات ہے اس کے اندر اتنی صلاحیت بھی نہیں ہے کہ یہ بریلوی ٹکڑوں، دیوبندی دھڑوں، شیعہ اجزا اور اہل حدیث ٹکڑیوں کو یکجا کر کے ان فرقوں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ختم کرے۔ اس کی موجودہ ہیئت ایسی ہے کہ جو دیو بندی، بریلوی اور شیعہ اور اہل حدیث ٹکڑے اس میں نمائندگی کر رہے ہیں ان کو یہ مکاتیب فکر اپنا حقیقی نمائندہ سمجھتے ہی نہیں۔ ایسی صورت میں یہ ایک قومی فورم کا درجہ کیسے حاصل کر سکتی ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  96745
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ خبر ہر پاکستانی کیلئے اتنی تکلیف دہ تھی کہ جیسے اسے زندہ کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا ہو اس خبر کو سوشل میڈیا پر انتہائی منظم طریقے سے پھیلایا گیا لمحوں میں یہ افواہ ٹاپ ٹرینڈ بن گئی کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملہ میں سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف
25 مئی 2020 امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس کے ایسے مظالم طویل عرصے سے جاری ہیں۔

مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں