Wednesday, 19 February, 2020
تباہی کے دہانے پر کھڑا شہر

تباہی کے دہانے پر کھڑا شہر
مقتدا منصور کا کالم

 

آج اس نشست میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیر اطلاعات سندھ حکومت ناصر حسین شاہ اور مئیر کراچی  وسیم اخترکے علاوہ شہر کی اہم کاروباری شخصیات اور ممتاز صحافیوں کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان مسائل پر گفتگو کرنے کی جسارت کروں گا، جو یہ شہر نا پرساں گزشتہ ایک دہائی سے بھگت رہا ہے۔ دراصل صوبے کی حکمران جماعت میں حکمرانی کی اہلیت کا فقدان ہو یا شہروں کی ترقی سے بے اعتناعی یا سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی کشمکش، اس کا خمیازہ پورے سندھ کے عوام بالعموم اور کراچی کے شہری بالخصوص بھگت رہے ہیں۔ اس لیے اپنی گفتگو کو کراچی تک محدود رکھنے کی کوشش کروں گا۔

کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر، صنعتی مرکز اور مالیاتی سرگرمیوں کا محور ہے، آج بدترین بد انتظامی کا شکار ہے۔ ہر فرد اور ہر ریاستی ادارہ اس کے جسم سے بوٹیاں نوچ کر توکھا چکا،اب ہڈیاں بھنبھوڑی جا رہی ہیں۔ شہر کا عالم یہ ہے کہ اسے شہر کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ انسانوں کا ایک جنگل ہے، جس میں قرون وسطیٰ کے قبیلوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ جہاں ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہر عقیدے کا ماننے والا دوسرے عقیدے کے ماننے والے سے خوفزدہ ہے۔

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ چہار سو کچرے کے لگے ڈھیر، ہر سمت ابلتے گٹر،ٹوٹی پھوٹی شاہراہیں اور سڑکیں حکمرانوں کا منہ چڑاتی اور شہریوں کا دل جلاتی نظر آتی ہیں۔ کبھی شہر میں سویڈن سے درآمد کردہ بسیں اور سرکلر ریلوے چلتی تھی، جو مدت ہوئی مرحوم ہوئیں۔ اب تو یہ عالم ہے کہ لوگ خستہ حال بسوں اور ویگنوں کی چھتوں یا پھر عجیب الخلقت سواری چنگ چی پر سفر کرنے پر مجبور ہی نہیں عادی بھی ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر ہر قسم کے سنگین جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ طاقتور مافیائیں سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر تقرر کی گئی نااہل اور ناکارہ پولیس پورے شہر میں دندنداتی پھرتی ہیں۔ پولیس کا صرف ایک کام رہ گیا ہے کہ وہ روزانہ کروڑوں روپے کی رشوت اکٹھی کرکے حکام بالا تک پہنچاتی ر ہے، جب کہ اکثر و بیشتر پولیس اہلکار بھی مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

شہر میں فراہمی و نکاسی آب کا کوئی نظام ہے اور نہ مناسب تعداد میں صحت مراکز ہیں۔ دو کروڑ کی آبادی کے شہر میں گنتی کے چار یا پانچ سرکاری اسپتال ہیں۔ انگریزوں نے سول اسپتال اس وقت تعمیر کیا تھا، جب شہر کی آبادی دو لاکھ تھی۔ اس لحاظ سے اس وقت شہر میں کم ازکم 20 سول اسپتال ہونا چاہئیں۔ سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی تو ناقابل بیان ہے۔ وہ تعلیمی ادارے ، جہاں سے بیشتر نامور مشاہیر تعلیم حاصل کرکے نکلے، آج حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔عمارتیں آثار قدیمہ کا نقشہ پیش کررہی ہیں، جہاں نہ کوئی سہولت میسر ہے اور نہ ہی اساتذہ حاضر ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کی اکثریت بھی سفارشی ہے۔

اس صورتحال کا سبب یہ ہے کہ دنیا بھر میں اقتدار و اختیار کی زیادہ سے زیادہ عدم مرکزیت کے ذریعے شراکتی جمہوریت کو فروغ دیا جا رہا ہے، مگر پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں اپنے فیوڈل مائنڈ سیٹ کے باعث اقتدار و اختیار کی مرکزیت قائم کرنے پر مصر ہیں۔ فیوڈل ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے 2001 میں متعارف کرائے گئے مقامی حکومتی نظام کو بیک جنبش قلم منسوخ کردیا۔ حالانکہ یہ نظام اب تک متعارف کرائے گئے مقامی حکومتی نظاموں میں سب سے زیادہ شراکتی نوعیت کا تھا۔ اسی طرح پولیس آرڈر 2002میں بہتری لانے کے بجائے اپنی فیوڈل بالادستی قائم رکھنے کی خاطر نو آبادیاتی دور کے پولیس ایکٹ 1861 کو بحال کیا ہے۔

صوبوں میں مقتدر سیاسی جماعتوں بالخصوص سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر ایک ایسا بلدیاتی نظام متعارف کرایا ہے، جو برطانوی دور کے بلدیاتی نظام سے بھی کم تر اختیارات کا حامل ہے۔ جس سے صوبائی حکومت کی اقتدار و اختیار پر مرکزیت قائم کرنے کی شدید خواہش کا اظہار ہوتا ہے، تاکہ بلدیاتی کونسلوں کو مفلوج رکھ کر نچلی سطح کے انتظامی یونٹوں کے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی امور پر بھی ان کا مکمل کنٹرول قائم رہ سکے۔

یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ برصغیر میں انگریز حکمرانوں نے1870کے قوانین کے تحت 1883میں ایک بلدیاتی نظام رائج کیا تھا ۔ ایوب خان اور جنرل ضیاالحق کے متعارف کردہ بلدیاتی نظام اسی نوآبادیاتی بلدیاتی نظام کا چربہ تھے، جب کہ چاروں صوبوں میں 2013 میں متعارف کرائے جانے والے لوکل گورنمنٹ Acts ایوب خان اور ضیاالحق کے بلدیاتی نظاموں کا چربہ ہیں۔ اس لیے سندھ حکومت کا یہ دعویٰ باطل ہوجاتا ہے کہ اس نے ایک آمر (پرویز مشرف) کے مقامی حکومتی نظام کو رد کیا ہے۔

حالانکہ PILDAT سمیت مختلف سماجی تنظیموں کی رائے میں پرویز مشرف کے دور میں متعارف کردہ نظام اقتدار و اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی کی جانب مثبت پیش رفت تھا۔ اس نظام پر مختلف سیاسی جماعتوں کا صرف ایک ہی اعتراض رہا ہے کہ اس میں صوبوں کی حیثیت ثانوی کردی گئی تھی، اب جب کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خاصی حد تک خود مختاری حاصل ہوگئی ہے، مقامی حکومتی نظام میں صوبوں کوBye Pass کرنے کا تاثر ختم ہوجاتا ہے، دیگر کمزوریوں کو مناسب آئینی ترامیم کے ذریعے با آسانی دور کیا جاسکتا ہے، مگر ایسا کرنے سے دانستہ گریز کا راستہ اختیار کیا گیا۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ دنیا بھر میں وقت گزرنے کے ساتھ مقامی حکومتوں کے اختیارات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ لندن کے مئیر کے اختیارات تو بہت زیادہ ہیں، اس سے متصل چھوٹے سے شہر چیلسی جہاں کچھ عرصہ قبل ایک پاکستانی نژاد برطانوی مشتاق لاشاری مئیر رہ چکے ہیں، کراچی اور لاہور سے زیادہ بااختیار مقامی حکومت ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے ایک ملین(دس لاکھ) آبادی والے شہر کو میٹروپولیٹن جب کہ 10 ملین (ایک کروڑ) آبادی والے شہر کو میگا سٹی قرار دیا ہے۔ ان شہروں کے لیے مختلف ممالک نے مکمل طور پر ایک علیحدہ انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا، برطانیہ، جرمنی اور بھارت میں مروج مقامی حکومتی نظاموں کا مطالعہ کرکے ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

اس وقت ہمارے سامنے دو اہم ایشوز ہیں: اول، جو لولا لنگڑا بلدیاتی نظام صوبائی اسمبلیوں نے منظور کیا ہے، کم از کم اس پر دیانتداری کے ساتھ ہی عمل کرلیا جائے، تاکہ عوام کو کسی حد تک ریلیف مل سکے۔ دوئم، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں شہری سطح پر پیدا ہونے والے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ ملک میں دو درجاتی (Two tier) انتظامی ڈھانچے کی جگہ تین درجاتی (Three tier) نظام رائج کیا جائے۔ جس میں وفاق، صوبہ اور ضلع بااختیار انتظامی یونٹ ہوں۔ پھرضلع کومزید چار درجات (Tier) میں تقسیم کردیاجائے،یعنی ضلع، تعلقہ (تحصیل)، یونین کونسل اور وارڈ۔ اس طرح شہری مسائل کے حل اور عوام کو فوری ریلیف ملنے کے یقینی امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

یہ طے ہے کہ شہر چھوٹے ہوں یا بڑے،ان کی حالت زار میں بہتری اسی وقت ممکن ہے، جب اقتدار و اختیار حقیقی معنی میں نچلی سطح پر منتقل ہو۔ یعنی مقامی حکومتوں کو ان کے دائرہ کار کے اندر مکمل سیاسی، انتظامی اور مالیاتی بااختیاریت حاصل ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں، جو عوام کے وسیع تر احساسات کی ترجمان ہوتی ہیں، ان سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اقتدار واختیار پر کنڈلی مارکر بیٹھنے کے بجائے ریاستی انتظامی ڈھانچے میں مناسب تبدیلیوں کے اسے حقیقی معنی میں نچلے ترین انتظامی یونٹ تک منتقل کرکے عوام کے لیے فوری ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41023
کوڈ
 
   
مزید خبریں
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ سیاسی معاون نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں کینسر کا مرض‌لاحق تھا۔ وہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔
ویسے تو پاکستان کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ہی برادرانہ رہے ہیں، مختلف علاقائی اور ملکی معاہدوں میں دونوں ملک شریک رہے ہیں۔ ان روابط کی جڑیں تاریخ کی گہرائی میںموجود ہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اب پاک ترک تعلقات کے بلندی کی طرف بڑھنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مان لیں وہ نااہل، نالائق اور سلیکٹڈ ہیں انہیں گھر جانا پڑے گا۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پوری

مقبول ترین
مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں گھر گھر تلاشی کے دوران قابض بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور وادی میں مودی سرکار
پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ شجاعت حسین نے کہا ہے کہ عمران خان چاپلوسوں اور چغل خوروں سے دور رہیں، اپنے ارد گرد منافقین کی نشاندہی کریں اور نزدیک نہ آنے دیں۔ سربراہ ق لیگ چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم عمران کو مشورہ دیتے
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرے گی، جتنے مرضی مارچ کرلیں، عمران خان کہیں نہیں جا رہے، مہنگائی کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیریس کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے کے بیان کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا غیر جانبدارانہ تبصرہ دیرپا پاکستانی موقف کا حامی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں