Tuesday, 25 February, 2020
بھارتی حکمرانی کا کھوکھلا پن

بھارتی حکمرانی کا کھوکھلا پن
کلدیپ نئیر کا کالم

 

6 دسمبر کو بابری مسجد کے انہدام کو25 سال ہو جائیں گے۔ یہ کام کانگریس کی حکومت کے دور میں 1992ء میں کیا گیا تھا جب پی وی نرسمہا راؤ وزیراعظم تھے۔ بی جے پی کی حکومت بجائے اس کے کہ اس تاریخی مسجد کے انہدام کا مداوا کرتی وہ الٹا مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر پر مصر ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے بیان جاری کیا ہے کہ ایودھیا میں صرف ایک عظیم الشان مندر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ دراصل مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ روشن خیال لوگوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے جو ملک کی رنگا رنگی کی حمایت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسجد اور مندر بیشک ساتھ ساتھ قائم و دائم رہیں۔

بہرحال تاریخی بابری مسجد کا انہدام بھارت کے سیکولر چہرے پر ایک بدنما دھبہ ہے‘ اب اگر صرف مندر تعمیر کیا جائے تو یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہو گا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ مسجد کے انہدام کے نتیجے میں پورے ملک میں ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تھے۔ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم نرسمہا راؤ نے صورتحال کی وضاحت کے لیے سینئر صحافیوں کا ایک اجلاس طلب کیا تھا۔ انھوں نے حالات پر قابو پانے کے لیے میڈیا کا تعاون طلب کیا۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بے بس ہو چکی ہے کیونکہ مسجد کو منہدم کرنے کے لیے ہزاروں کار سیوک اکٹھے ہو چکے ہیں۔ آنجہانی سوشلسٹ لیڈر مدھو لیمائے نے مجھے خود بتایا تھا کہ نرسمہا راؤ نے جو پوجا کا ڈھونگ رچایا تھا اس کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ مسجد کے انہدام کی طرف کسی کا دھیان ہی نہ جا سکے۔ اس نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ گویا پوجا میں اس کا دھیان نروان کی طرف لگا ہوا ہے لیکن جب اس کے ایک ساتھی نے اس کے کان میں سرگوشی کی کہ مسجد کو گرا دیا گیا ہے تو اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔

نرسمہا راؤ مسجد کے انہدام سے قبل اس کارروائی کو بہ آسانی روک سکتے تھے جہاں تک صدارتی حکم کے نفاذ کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ تو دو ہفتے قبل ہی کر لیا گیا تھا بس اس کے لیے کابینہ کی توثیق درکار تھی لیکن وزیراعظم نے کابینہ کا اجلاس ہی طلب نہ کیا۔ جب انہدام شروع ہو گیا تو وزیراعظم کے دفتر سے بڑے اضطراب بھرے فون آنے لگے۔ اگرچہ کانگریس نے نرسمہا راؤ کے خلاف الزام کی تردید کی ہے لیکن پارٹی ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کر سکی کہ آخر مسجد کے انہدام کے ساتھ ہی اس جگہ راتوں رات ایک چھوٹا سا مندر کس طرح کھڑا ہو گیا۔

مرکزی حکومت اس وقت مکمل طور پر بااختیار تھی کیونکہ اتر پردیش پر صدارتی حکم کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کو برخاست کر دیا گیا تھا۔ بہرحال بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ ریاست کی سرحدوں سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گیا جب کہ مرکزی حکومت  روز بروز کی پیشرفت کا بغور جائزہ لے رہی تھی۔ جسٹس من موہن سنگھ لائبرہن کمیشن کی نرسمہا راؤ کے طرز عمل پر خاموشی کانگریس کی پوزیشن پر پردہ ڈالنے کی غرض سے تھی۔

بابری مسجد کے انہدام کے بعد جب اٹل بہاری واجپائی سے اس مسئلہ پر بات کرنے کے لیے کہا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پہلے مندر کو بن لینے دو۔ مجھے ان کے اس جواب پر بہت حیرت ہوئی کیونکہ میں انھیں بی جے پی میں آزاد خیال رہنما سمجھتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ عدالتی کمیشن نے واجپائی کو بھی مسجد کے انہدام میں قصور وار قرار دیا۔ آخر مسجد کے انہدام میں ملوث ہونے کے باوجود وہ اس الزام سے انکار کس بنا پر کر سکتے ہیں؟

6 دسمبر 1992ء کو بی جے پی کے دو لیڈروں ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر کو بھی مسجد کے انہدام کے جرم میں برابر کا ملوث قرار دیا گیا۔ واجپائی کا نام میرے لیے بہت حیرت انگیز تھا۔ جب واجپائی وزیر اعظم بنا تو وہ ایک بالکل بدلا ہوا شخص تھا۔ انھوں نے دانشوروں اور صحافیوں سے بھری ہوئی بس کو لاہور کے خیرسگالی دورے پر لے جانے کی قیادت کی، وہ پڑوسیوں کو امن اور صلح کا پیغام دینا چاہتے تھے۔ ان تینوں اہم شخصیات نے ملک کے اعلیٰ ترین مناصب پر متمکن ہو گئے ۔واجپائی وزیراعظم بن گئے۔ ایڈوانی وزیر داخلہ بن گئے اور جوشی انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر بن گئے۔

اگر یہ تینوں بابری مسجد کے انہدام میں ملوث تھے تب اعلیٰ عہدوں کا حلف اٹھاتے وقت انھوں نے اس حلف کی صحیح معنوں میں پاسداری نہیں کی کیونکہ حلف میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ وہ ملک کی یکجہتی کے لیے کام کریں گے اور آئین کی بالادستی کو مقدم خیال کریں گے جس کے دیباچے میں سیکولرزم کا لفظ لکھا گیا ہے۔ لائبرہن کمیشن نے کہا ہے کہ متذکرہ تینوں افراد بھی ان 68 لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی کوشش کی۔

صرف یہی نہیں بلکہ متذکرہ تین لیڈروں نے سپریم کورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کو ہر صورت میں برقرار رکھا جائے۔ دوسرے الفاظ میں انھوں نے ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ اور ملک کے آئین و قانون کا مذاق اڑانے کی کوشش کی حالانکہ حلف اٹھانے سے قبل انھوں نے آئین اور قانون کی پابندی کی قسم کھائی تھی۔ اور ان تینوں نے چھ سال تک حکمرانی کی لیکن اس تمام عرصے کے دوران انھوں نے مکافات کی بھی کوئی کوشش نہیں کی۔ کیا چھ سال تک ان کے ضمیر نے انھیں بے ضمیری کا احساس نہیں دلایا۔

یہ صرف قانون کا سوال نہیں بلکہ اخلاقیات کا سوال بھی ہے۔ آخر جب متذکرہ لیڈروں نے مسجد کو منہدم کرنے کا باقاعدہ طور پر منصوبہ بنا لیا تھا تو وہ اتنے اہم مناصب پر کس طرح فائز کیے جا سکتے تھے۔ یہ ایسا سوال ہے جس پر ملک میں کھلے عام بحث کرائی جانی چاہیے تاکہ اس کا درست جواب حاصل ہو سکے۔ جن لوگوں کے ہاتھ صاف نہ ہوں انھیں پارلیمنٹ کے مقدس ایوان میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے۔ دریں اثناء شری شری روی شنکر اسٹیک ہولڈروں کو روحانی مشقیں کرا رہے ہیں۔

انھوں نے حال ہی میں ایودھیا کا دورہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلہ کا حل ایک دورسے پر الزام تراشیوں کے بجائے مذاکرات اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ شری شری روی شنکر کی ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے شری شری روی شنکر کو ان کے نیک مقاصد میں ہر ممکن تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بی جے پی اپنی انتخابی مہم ایودھیا سے شروع کر رہی ہے جس کی تعمیر و ترقی کا وعدہ بھی موجودہ حکومت نے کیا ہے۔

بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مدھو نے رام مندر کے بارے میں سوال پوچھنے پر کہا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لیے اس بارے میں کوئی سوال جواب نہیں ہو سکتا۔ بہتر یہی ہے کہ ہم قانونی عمل کے مکمل ہونے کا انتظار کریں۔ جہاں تک شری شری روی شنکر کا یہ معاملہ حل کرانے میں اپنی خدمات پیش کرنے کا تعلق ہے تو انھوں نے 2001ء میں بھی ایسا کرنے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہ ہو سکے تھے ان کی پیشکش کا ردعمل وہی ہوا جو آج ہو رہا ہے۔

ایک ہندو لیڈر سریندر جین کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ میں اصل رکاوٹ  آر ایس ایس کے چیف موہن بھگوت کے اس بیان کی وجہ سے پیدا ہوئی کہ ایودھیا میں صرف اور صرف مندر ہی بنے گا اور کچھ نہیں بن سکتا حالانکہ مسلمانوں نے تسلیم کر لیا تھا کہ مسجد کے پہلو میں مندر کی تعمیر پر انھیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا اس حوالے سے آر ایس ایس کے سربراہ کا بیان آگ بھڑکانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ (ترجمہ: مظہر منہاس)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  25844
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
1998ء میں پی ٹی وی کے شہرہ آفاق پروگرام ''الفا بریووچارلی''کے دبنگ ہیرو دنیائے نیزہ بازی کے شہنشاہ نوابزادہ ملک عطاء محمد خان اپنے مداحوں کو سوگوار کر گئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم ملک عطاء محمد خان پچیس اکتوبر
شاید سکول کے زمانے سے یہ شعر مجھے یاد ہے۔ مجھ جیسے بے شمار دوسرے لوگوں کو بھی جو اردو جانتے ہیں۔اردو ادب کے قبیلے کے تو ہر فرد کو یہ شعر یاد ہے، اور انھیں بھی جنھیں ادب سے تو کوئی واسطہ نہیں لیکن سیاسی دکان کا سودا بیچنے کے
ان دنوں ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے ساتھ ایران میں ہوں اور محسوس کررہا ہوں کہ گویا اک نئے انقلاب کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس کی بنیادیں تو وہی ہیں لیکن تیور کچھ بدلے ہوئے ہیں۔ رفتار کچھ تیز ہوگئی ہے۔ اثرات کا پھیلائو وسعت اختیار کررہا ہے۔
جنرل قاسم سلیمانی اپنی شھادت سے پہلے اتنے مشہور نہیں تھے کہ جتناوہ بعد از شھادت معروف ہوئے۔میرے نزدیک یہ اللہ کے نزدیک کسی کی جان کی قبولیت کی سب سے بڑی علامت ہوتی ہے۔آج پوری دنیا کی زبان پر انکا ذکر خیر، انکے مقبول بارگاہ

مزید خبریں
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ سیاسی معاون نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں کینسر کا مرض‌لاحق تھا۔ وہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔
ویسے تو پاکستان کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ہی برادرانہ رہے ہیں، مختلف علاقائی اور ملکی معاہدوں میں دونوں ملک شریک رہے ہیں۔ ان روابط کی جڑیں تاریخ کی گہرائی میںموجود ہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اب پاک ترک تعلقات کے بلندی کی طرف بڑھنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

مقبول ترین
سابق ناظمِ کراچی نعمت اللّٰہ خان ایڈووکیٹ انتقال کر گئے، وہ طویل عرصے سے علیل تھے، انتقال کے وقت ان کی عمر 89 برس تھی۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں امریکی صر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی کے دوران بھارتی متنازع شہریت قانون کیخلاف احتجاج پر تشدد شکل اختیار کر گیا، نئی دہلی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکار سمیت
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیا کمرشل شہر آباد کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ‘’نیو بلیو ایریا’’ منصوبے کی منظوری دے دی۔ میڈیا کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں نیو بلیو ایریا منصوبہ کی منظوری
خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود تمام قائمہ کمیٹیاں تحلیل کردی گئیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی پیر کو ایک بار پھر مچھلی بازار بنا رہا اور اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں