Thursday, 17 October, 2019
نواز شریف ذمے دار ہیں

نواز شریف ذمے دار ہیں
جاوید چوہدری کا کالم

 

میں بہرحال نواز شریف کو اس صورتحال کا ذمے دار سمجھتا ہوں۔

یہ درست ہے میاں نواز شریف نے چار برسوں میں اتنا کام کیا جتنا چالیس برسوں میں نہیں ہواتھا‘ حکومت نے چار برسوں میں دہشتگردی 90 فیصد کم کر دی‘ لوگ یہ کریڈٹ فوج کو دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے فوج 2013ء سے پہلے بھی موجود تھی‘ جنرل اشفاق پرویز کیانی چھ سال فوج کے سربراہ رہے‘ یہ کام اگر صرف فوج کر سکتی تو جنرل کیانی ملک کو دہشتگردی سے پاک کر دیتے‘ یہ ان کے دور میں کیوں نہیں ہوا؟

ہمیں ماننا پڑے گا میاں نواز شریف نے فوج کو پوری سپورٹ اور آزادی دی‘ نیشنل ایکشن پلان بنایا‘ فوجی عدالتیں بنائیں‘ فنڈز دیے اور فوج نے دہشتگردی کنٹرول کر لی چنانچہ کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے‘ حکومت نے کراچی میں امن بھی قائم کیا‘ کراچی میں 2013ء میں روزانہ ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی‘ تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملتی تھیں‘ شہر ہفتہ ہفتہ بند رہتا تھا اور صنعت کار‘ بزنس مین اور تاجر دبئی شفٹ ہو رہے تھے‘ نواز شریف نے آ کر کراچی میں امن قائم کر دیا‘ لوگ  اس کا کریڈٹ بھی رینجرز کو دیتے ہیں لیکن رینجرز تو 90ء کی دہائی سے کراچی میں موجود تھے‘ کراچی اس سے قبل ٹھیک کیوں نہیں ہوگیا؟

ہمیں ماننا پڑے گا وفاقی حکومت نے رینجرز کو تمام قانونی اختیارات دیے‘ ایپکس کمیٹیاں بنوائیں‘ فنڈز دیے اور انھیں سیاسی دباؤ سے بچائے رکھا چنانچہ کراچی کلیئر ہو گیا‘ میاں نواز شریف نے جیسے تیسے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی حل کرا دیا‘ یہ لوگ چار برسوں میں نیشنل گرڈ میں دس ہزار میگا واٹ بجلی لے آئے‘ یہ  قطر سے ایل این جی بھی لے آئے‘ میاں نواز شریف نے سی پیک بھی شروع کرا دیا۔

یہ اسٹاک ایکسچینج کو بھی 19 ہزار سے 53 ہزار پوائنٹس تک لے گئے‘ ملکی معیشت بھی بہتر ہو گئی‘ ملک میں سڑکیں‘ پل اور موٹروے بھی بننے لگے‘ میاں شہباز شریف نے پنجاب کی حالت بدل دی‘ میٹرو ہو‘ اورنج لائین ٹرین ہو‘ ہائی ویز ہوں یا پھر انڈر پاسز ہوں آپ کو بہرحال ن لیگ کو کریڈٹ دینا ہو گا‘ آپ کو ماننا پڑے گا۔

آج پنجاب باقی تینوں صوبوں سے آگے ہے لیکن لوگ بجلی‘ گیس‘ اورنج لائین ٹرین اور میٹروز کا کریڈٹ بھی نواز شریف کے بجائے بھاری قرضوں کو دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے قرضوں کا آپشن تو ماضی کی حکومتوں کے پاس بھی تھا‘ وہ یہ آپشن کیوں نہیں لیتی رہیں‘ ہم فرض کر لیتے ہیں ماضی کی حکومتیں ملک کو کشکول سے بچانا چاہتی تھیں لیکن سوال یہ ہے کیا ملک آصف  زرداری‘ پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے ادوار میں قرضوں اور کشکول سے آزاد تھا؟

اگر نہیں تھا تو وہ قرضے کہاں خرچ ہوتے رہے اور ان سے بجلی‘ سڑک‘ گیس اور میٹرو کے کتنے پراجیکٹ شروع ہوئے؟یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے حکومت کی ترجیحات درست نہیں ہیں‘ حکومت کو بجلی‘ گیس‘ سڑکوں اور میٹروز کے بجائے اسپتالوں اور اسکولوں پر توجہ دینی چاہیے تھی‘سوال یہ ہے ماضی کی حکومتوں نے میٹرو‘ سڑک‘ گیس اور بجلی نہیں بنائی‘ انھوں نے کتنے اسکول اور کتنے اسپتال بنا لیے۔

سندھ‘ کے پی کے اور بلوچستان کی حکومتیں آج بھی ان ’’برائیوں‘‘ سے بچی ہوئی ہیں‘ یہ لوگ اپنے صوبوں میں کتنے اسکولوں اور کتنے اسپتالوں کو یورپ کے اسٹینڈرڈ تک لے آئے ہیں‘ عمران خان نے کے پی کے میں کسی میٹرو‘ کسی اورنج لائن ٹرین‘ کسی اوور ہیڈ اور کسی موٹر وے پر رقم ضایع نہیںکی لیکن اس کے باوجود پورے صوبے میں دل اور بچوں کے امراض کا کوئی اسپتال نہیں‘ پورے صوبے کے بچے علاج کے لیے لاہور اور دل کے مریض اسلام آباد اور راولپنڈی آتے ہیں۔

سندھ حکومت نے بھی دس برسوں میں قومی خزانے کو میٹروز اور اورنج لائین ٹرین جیسی لغویات سے بچائے رکھا لیکن یہ اس کے باوجود آج تک کراچی کا کچرہ صاف نہیں کر سکی اور بلوچستان حکومت نے 2008ء سے 2013ء تک وفاق سے 800 ارب روپے لیے‘ وہ رقم کہاں گئی‘ اس سے کتنے اسپتال‘ کتنے اسکول بن گئے‘ یہ کریڈٹ بہرحال نواز شریف کو جاتا ہے‘ حکومت نے رقم بھی خرچ کی اور اس سے ملک میں بہتری بھی آئی‘ لوگ سی پیک کا کریڈٹ بھی سابق حکومتوں اور چین کو دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے چین اور گوادر دونوں 2013ء سے پہلے بھی موجود تھے۔

حکومتوں نے ماضی میں سی پیک شروع کیوں نہیں کر لیا چنانچہ ہمیں بہرحال دل کھلا کرکے میاں نواز شریف کا یہ کنٹری بیوشن بھی ماننا ہو گا‘ ان لوگوں نے ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں کام کیا‘ یہ ان کا کریڈٹ ہے تاہم یہ درست ہے حکومت نے چار برسوں میں بے تحاشہ قرضے لیے لیکن سوال یہ ہے آپ کے پاس قرضوں کے علاوہ کیا آپشن ہے‘ کیا ہمارے پاس تیل کے کنوئیں ہیں۔

کیا ہم صنعتی ملک ہیں اور کیا ہمارے ملک میں ہر سال دس بیس کروڑ سیاح آتے ہیں چنانچہ آپ ترقیاتی اسکیموں اور ملک چلانے کے لیے سرمایہ کہاں سے لائیں گے‘ آپ کے پاس امداد اور قرضوں کے علاوہ کیا آپشن بچتا ہے؟ لیکن میں اس تمام تر کریڈٹ کے باوجود میاں نواز شریف کو ملک کی موجودہ صورتحال کا ذمے دار سمجھتا ہوں‘ کیوں؟ ہم اب یہ ڈسکس کریں گے۔

میاں نواز شریف جانتے تھے ملک بحران کا شکار ہے‘ امریکا سی پیک سے خوش نہیں‘ یہ کسی قیمت پر روس اور چین کے جہازوں کو بحیرہ عرب میں برداشت نہیں کرے گا‘ یہ جانتے تھے بھارت بلوچستان کو توڑنے کے لیے افغانستان اور ایران میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے‘ یہ جانتے تھے داعش کو پاکستان کے خلاف لانچ کیا جا رہا ہے اور میاں نواز شریف یہ بھی جانتے تھے ہماری اسٹیبلشمنٹ افغانستان اور بھارت کے معاملے میں بہت حساس ہے‘ ہم بھارت پر ستر سال سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ہم نے افغانستان میں چالیس سال ضایع کیے ہیں۔

آج روس ہو‘ امریکا ہو یا پھر سارا یورپ ہو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کے بغیر افغانستان میں جنگ لڑ سکتی ہے اور نہ ہی وہاں امن قائم کر سکتی ہے‘ بھارت بھی پاکستان کے بغیر ٹیک آف کر سکتا ہے اور نہ ہی شائننگ انڈیا بن سکتا ہے‘ فوج ان دونوں ایشوز پر کتنی حساس ہے آپ اس کا اندازہ جنرل پرویز مشرف کے انجام سے لگا لیجیے‘ جنرل پرویز مشرف نے 2007ء میں طے شدہ ضابطے سے انحراف کی کوشش کی‘ یہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت سے معاملات بھی طے کررہے تھے اور یہ افغانستان میں ’’پاکستانی پالیسی‘‘ سے بھی دائیں بائیں ہونے لگے تھے چنانچہ یہ اسٹیبلشمنٹ کو بوجھ محسوس ہونے لگے اور یہ بوجھ جلد اتار دیا گیا۔

ہمارے وکلاء کو اس غلط فہمی سے نکلنا ہو گا یہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے اصل چیمپیئن ہیں یا یہ جمہوریت کو واپس لے کر آئے تھے‘ یہ پورا پراجیکٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا تھا‘ یہ اصل طاقت تھے‘انھوں نے جنرل پرویز مشرف کو ان کے سارے منصوبوں کے ساتھ دودھ کی مکھی کی طرح نکالا اور نکال کر دوبئی اور لندن میں جا پھینکا‘ میاں نواز شریف اس حقیقت سے بھی واقف تھے۔

یہ جانتے تھے بے نظیر بھٹو کو کون واپس لایا اور یہ خود کس طرح وطن واپس آئے‘ یہ 2008ء سے 2013ء تک لاہور میں خاموش بیٹھنے کی وجوہات سے بھی واقف تھے اور یہ 2013ء میں اقتدار میں آنے کی وجہ بھی جانتے تھے اور یہ عمران خان کے عروج وزوال کی وجوہات سے بھی آگاہ تھے لہٰذا پھر انھیں جانتے بوجھتے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
یہ افغانستان اور بھارت کے ایشوز میں بلاوجہ کیوں مداخلت کرنے لگے‘میاں صاحب کو نریندر مودی کے ساتھ دوستی کی پینگ بڑھانے‘ افغانستان پر امریکی بیانیہ کو سچ ماننے اور حامد کرزئی کے ساتھ اتفاق کی کیا ضرورت تھی؟ فوج محمود اچکزئی کے کردار سے مطمئن نہیں ‘ میاں نواز شریف کیوں انھیں سرعام اپنا دایاں بازو قرار دیتے رہے‘ پاکستان کے چند بزنس مینوں نے افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی کے الیکشن میں مالی مدد کی ‘ میاں صاحب کو برا منانے کی کیا ضرورت تھی اور آپ کو فوج کے ہر مخالف کو اپنے گرد جمع کرنے کی بھی کیا ضرورت تھی؟

آپ معاملات کو ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ پر کیوں لے گئے ‘آپ اپنی ساری توجہ گورننس پر صرف کرتے‘ آپ اپنے ترقیاتی منصوبے مکمل کرتے‘ انفراسٹرکچر پورا کرتے‘ ادارے مضبوط کرتے‘ امن و امان بہتر بناتے‘ پولیس کی ری اسٹرکچرنگ کرتے‘ اسپتال اور اسکول بناتے‘ صنعت کاری اور اسٹاک ایکسچینج پر توجہ دیتے‘ پارلیمنٹ کو ساتھ لے کر چلتے‘ آپ ریلوے‘ پی آئی اے اور اسٹیل مل کو قدموں پر کھڑا کرتے اور آپ بلدیاتی اداروں کو توانا بناتے‘ آپ آج قوم کے ہیرو ہوتے۔

آج پوری قوم آپ کے پیچھے کھڑی ہوتی لیکن آپ نے کرسی اقتدار پر بیٹھتے ہی بھارت اور افغانستان کا ایشو چھیڑ لیا‘ آپ نے اس ریڈ لائین پر قدم رکھ دیا جس پر آج تک اسٹیبلشمنٹ نے جنرل مشرف‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل ایوب خان کا قدم بھی برداشت نہیں کیا چنانچہ وہی ہوا جس کا ڈر تھا‘ملک تباہی کے دہانے پر آکھڑا ہوا۔ملک کے موجودہ حالات کا میاں نواز شریف کو اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا نقصان قوم اٹھا رہی ہے‘ میاں نواز شریف کے بچے لندن میں بیٹھے ہیں‘ یہ کھرب پتی ہیں۔
میاں نواز شریف کو بھی جیسے تیسے ’’امیونٹی‘‘ مل جائے گی‘امریکا‘ سعودی عرب یا چین انھیں بچا لے گا‘ پارلیمنٹ بھی میاں صاحب کو بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی آئینی ترمیم کر لے گی اور میاں صاحب کو اگر سزا بھی ہو گئی تو بھی یہ اے اور بی کلاس میں رہیں گے‘ یہ جلد یا بدیر باہر آ جائیں گے لیکن ملک کا کیا بنے گا‘ قوم کا کیا ہو گا‘ قوم کو یہ قیمتی سال کون واپس کرے گا؟

میں میاں نواز شریف کو ان حالات کا ذمے دار سمجھتا ہوں‘ یہ اگر لیڈر ہیں تو پھر یہ معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر کیوں لے آئے؟میں سمجھتا ہوں وہ لیڈر جو اپنا غصہ‘ اپنی نفرت کنٹرول نہیں کر سکتا وہ لیڈر‘ لیڈر نہیں ہوتااور میاں صاحب یہاں مار کھا گئے‘ یہ پورے ملک کوتباہی کے دہانے تک لے آئے‘ یہ آگے بڑھتے ہیں تو ملک جائے گا اور یہ اگر پیچھے ہٹتے ہیں تو بھی ملک تباہ ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  9614
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
دسمبر کا مہینہ طلوع ہوتے ہی پشاور، جسے پیار سے ’’گلابوں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے، ہمارے جوان شہدا کے خون سے گلگوں ہو گیا ہے۔ یکم دسمبرکی صبح پونے نو بجے،جب سارے عالمِ اسلام کے ساتھ مملکتِ خداداد پاکستان
ہمیں ایک بار پھر پیچھے جانا پڑے گا‘ 12 اکتوبر 1999ء ہو گیا‘ میاں نواز شریف خاندان سمیت گرفتار ہو گئے‘ یہ اٹک قلعہ پہنچے‘ اسمبلیاں معطل تھیں‘پاکستان مسلم لیگ ن اپنی دو تہائی اکثریت کے ساتھ بوکھلائی پھر رہی تھی
مشہور کہاوت ہے کہ دوسروں کیلئے کھڈا کھودنے والا خود بھی اسی میں جاگرتا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) سوشل میڈیا ٹیم کے بعض ارکان کی گرفتاریوں پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بے چینی دیکھ کر مجھے آج یہ کہاوت بہت یاد آئی ۔ جن دنوں سائبر کرائم بل کو منظور کروانے کیلئے حکومت کی دوڑیں لگی ہوئی تھیں

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور
اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں