Sunday, 16 June, 2019
یہاں منطق اور تاریخ بھی بے بس ہو جاتے ہیں

یہاں منطق اور تاریخ بھی بے بس ہو جاتے ہیں
محمود شام کا کالم

نیا سال مبارک ہو!

کیا ارادے ہیں آپ کے؟ ان 12مہینوں، 52ہفتوں اور 365دنوں کو کیسے گزارنا ہے۔ ویسے ہی جیسے پچھلا سال گزارا تھا؟ حکمرانوں کو کوستے، منفی تجزیے کرتے، ٹاک شوز دیکھتے۔ یہ سال 2018سے بھی زیادہ بحران، المیے اور چیلنج لے کر آرہا ہے۔ دنیا بہت کچھ سوچ رہی ہے۔ تصورات کو عملی شکل دینے کے لئے ٹیکنالوجی کی نئی نئی ایجادات آ رہی ہیں۔ ہمارے ہاں ابھی بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب کے کچھ علاقوں اور فاٹا میں 16ویں اور 17ویں صدی پورے شباب کے ساتھ موجود ہیں۔ انسانوں کی اکثریت اب بھی مٹھی بھر سرداروں، جاگیرداروں کے سامنے سر اٹھا کر نہیں بیٹھ سکتی۔ ان کے فیصلے اب بھی پولیس یا عدالتیں نہیں کرتیں، سردار، ملک اور خان ہی کرتے ہیں۔ پہلے بعض سیاسی جماعتیں، تنظیمیں، ٹریڈ یونین لیڈر یہ نعرے تو لگا دیا کرتے تھے‘ کھیت وڈیروں سے لے لو، ملیں لٹیروں سے لے لو، اب نہ ایسے نعرے لگتے ہیں نہ ہی کسی پارٹی کے انتخابی منشور میں ایسے عزائم شامل کئے جاتے ہیں۔

72سال کے بعد پاکستان کی آبادی جتنی ہونا چاہئے تھی عین اس کے مطابق بلکہ کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہے۔ لیکن 72سال کے بعد ہماری معیشت جہاں ہونا چاہئے تھی، جہاں ہمارا تمدّن، رہن سہن ہونا چاہئے تھا، تعلیم کی شرح جہاں ہونا چاہئے وہاں نہیں ہے۔ 72سال کے بعد ہماری زندگی میں جتنی آسانیاں ہونا چاہئے تھیں، انسانی نقل و حرکت کے لئے جتنی آرام دہ، تیز رفتار ٹرانسپورٹ ہونا چاہئے تھی، وہ نہیں ہے۔

اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ہم سب ہیں۔ ہمارے سوچنے، دیکھنے کے انداز حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔ یہ حکمراں سول یا فوجی، ہم میں سے ہی تھے اور ہیں۔ ہم ہی انہیں پیدا کرتے ہیں، پرورش کرتے ہیں پھر منتخب کرتے ہیں یا انہیں اقتدار پر قبضہ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔

ہم نے ایسے معاشرے کو جنم دیا ہے جہاں منطق اور تاریخ بھی اپنی چوکڑی بھول جاتے ہیں۔ میں دو تین دن سے سوچ رہا ہوں کہ کیا ہمارے ہاں مختلف ادوار کے عملی نتائج منطق اور تاریخ کے اصولوں کے مطابق تھے۔ آج کے عمرانی دور سے جائزہ لینا شروع کر لیتے ہیں۔ کیا یہ زرداری اور شریفی ادوار کا واقعی منطقی نتیجہ ہے۔

بات لمبی ہو جائے گی مگر یہ دیکھنا تو ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اگر صدارتی اختیارات، نیک نیتی سے پارلیمنٹ کو منتقل کئے جس سے پارلیمانی نظام مضبوط ہوا تو کیا تاریخ کا تقاضا یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کہ انہیں پانچ سال اور مل جاتے۔ نواز شریف کا اس وقت سرکاری افق پر ابھرنا کیا عین منطقی تھا؟ نواز شریف نے میگا پروجیکٹس بنائے، جنرل کیانی سے مفاہمت کی، کیا ان کا عدالتی فیصلے سے برطرف ہونا منطق اور تاریخ کے مطابق تھا؟ اور پیچھے چلے جائیں جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ساڑھے پانچ سال میں جتنے بنیادی کام کئے، اس سر زمینِ بے آئین کو ایک متفقہ منظور شدہ آئین دیا، 90ہزار جنگی قیدی واپس لائے، بے روزگار پاکستانیوں کو خلیج کی ریاستوں میں ملازمتیں دلوانے کے لئے پاسپورٹ کا اجرا آسان کیا۔ ان کے ساتھ کیاکچھ ہوا۔ حکومت برطرف کی گئی، پھر انہیں سزائے موت بھی دے دی گئی، کیا یہ سب کچھ منطق اور تاریخ کے عین مطابق تھا؟ جنرل ضیاء الحق کے مذہبی نظریات کو عوام میں بہت پذیرائی ملی، ملک کی اکثریت شدت پسند ہو گئی، وہ گیارہ سال تک بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کرتے رہے، ان کا منہ سے نکلا حرف ہی آئین اور قانون تھا، ان کے مذہبی رجحانات کے پیروکار تو اب بھی پورے ملک میں موجود ہیں لیکن ان ہم خیال طبقوں کو اقتدار نہیں مل سکا۔ کوئی بھی جنرل ضیا سے اپنا تعلق ظاہر کرنے کو تیار نہیں ہے حتیٰ کہ ان کا مشن مکمل کرنے کے دعویدار بھی ان سے بہت دور ہو گئے ہیں۔

کیا ساری مملکتیں اسی طرح بھٹکتے، راستے بدلتے چلتی ہیں۔ پاکستان میں اصولوں، نظریات اور پالیسیوں کو تسلسل کیوں نہیں ہے۔ قومی مفادات کا تعین کیوں نہیں کیا جاتا۔ امریکہ سے اتحاد کو ہمیشہ ہمارے ہاں تسلسل نصیب ہوا ہے۔ ہر حکمراں فوجی یا سیاسی عام طور پر وائٹ ہائوس میں حاضری کو اپنی سیاسی زندگی کی معراج سمجھتا تھا۔ اس بار یہ تسلسل بھی ٹوٹ گیا ہے۔ خبر نہیں‘ عمران خود نہیں جانا چاہ رہے یا وائٹ ہائوس والے نہیں بلا رہے۔

نیا سال بھی شور و غوغا اور افراتفری سے شروع ہو رہا ہے۔ میڈیا اور دوسری کئی صنعتوں میں کارکن فارغ کئے جا رہے ہیں۔ امریکہ برطانیہ میں بھی ایسی صورتحال آتی ہے مگر وہاں سوشل سیکورٹی بے روزگاروں کو جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے کچھ وظیفہ دیتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ نظام پوری طرح شروع نہیں ہوا۔ جہاں تھوڑا بہت ہے، وہاں کہیں حکومت کی طرف سے، کہیں بڑے صنعتی اداروں کی طرف سے اپنا حصّہ نہیں ڈالا جاتا۔

اربوں روپے کی لوٹ مار، بیرونِ ملک سرمائے کے فرار کی باتیں تو ہو رہی ہیں مگر سرکاری خزانے میں اس لوٹی ہوئی رقم سے اب تک کچھ واپس نہیں آیا ہے۔

حکمران، اپوزیشن، تجزیہ کار اور میڈیا صرف اندرونِ ملک مقدمات اور سیاسی بیانات پر اٹکے ہوئے ہیں۔ عالمی دارالحکومتوں میں ہماری بربادیوں کے لئے جو مشورے ہو رہے ہیں ان سے متعلق کہیں بات نہیں ہو رہی ہے۔ ایسا تو نہیں ہےکہ سپر طاقت امریکہ نے اس خطّے میں دلچسپی ترک کر دی ہے۔ اس کے سفارتکار اور خفیہ ایجنٹ روز کچھ نہ کچھ تو کر رہے ہیں۔ امریکہ اب بھی علاقے میں تبدیلیوں کی سکت رکھتا ہے، وہ تو اب ہمارا پڑوسی ہے۔ کابل میں امریکہ، بھارت اور افغانستان 2019کے لئے جو روڈ میپ بنا رہے ہیں اس میں پاکستان کے لئے زیر زمین بارودی سرنگیں رکھی جا رہی ہیں۔ چین کیا اس مثلث کی سرگرمیوں سے بے خبر ہے؟ یقیناً نہیں۔ لیکن وہ حرکت میں اسی وقت آئے گا جب یہ گٹھ جوڑ اس کے مفادات کا راستہ روکے گا یا ہم اس کو احساس دلائیں گے۔ سہ فریقی مذاکرات سے ان سازشوں کا کسی حد تک توڑ ہوا ہے۔ بعض بین الاقوامی تجزیے تو کہتے ہیں کہ امریکہ نے اس علاقے میں چین کو اپنی اقتصادی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ دے دی ہے کیونکہ اس کو فوجی حوالے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ چین پاکستان اور افغانستان کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور یورپ تک اپنی رسائی مستحکم کر رہا ہے۔ امریکہ بھی ایشیا میں اپنی اقتصادی موجودگی برقرار رکھنے کے لئے(ARA) Asia Reassurance Initiativeکا اربوں ڈالر کا پروگرام شروع کر رہا ہے۔

ان سارے محرّکات اور عوامل کا پاکستان میں کسی سطح پر ذکر نہیں ہوتا۔ کیا یہ ہمارے نزدیک اہم نہیں ہیں؟ کیا عمران خان میں اتنی مدبرانہ صلاحیتیں ہیں جو ان بین الاقوامی پیچیدگیوں میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ حالات جس سمت بڑھ رہے ہیں کیا عمران خان کو پاکستان بالخصوص پنجاب میں اتنی سیاسی مقبولیت اور طاقت حاصل ہو گی کہ وہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کر سکیں اور ان کو درپردہ بین الاقوامی حمایت کو بے اثر کر سکیں۔ پھر بھارت کے انتخابات بھی ہونے والے ہیں، ادھر سے بھی کوئی خیر کی خبر نہیں آئے گی۔ سوچنا یہی ہے کہ کیا ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  24578
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
ہمیں تو کوئی تحفظ دو، ہمیں بھی کوئی پوچھے، تم سے کوئی بھیک تو نہیں مانگ رہے، ہر دور میں ہر حکومت نے وعدہ کیا، تم کچھ کر نہیں سکتے سرکاری نوکری دے نہیں سکتے لیکن ہمیں اپنا کاروبار تو کرنے دو۔ یہ قرضے تو ہم نے ہی پورے کرنے ہیں۔
بائیس جنوری کو ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا ، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک نابینا سردار جی
تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعینات کردیا گیا ہے جب کہ دیگر 5 لیفٹیننٹ جنرل کے بھی تبادلے کیے گئے ہیں۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر معمول کے تبادلے کیے گئے ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں