Thursday, 28 May, 2020
کیا امریکہ عراق میں پھر مہم جوئی کرے گا؟

کیا امریکہ عراق میں پھر مہم جوئی کرے گا؟
ثاقب اکبر کا کالم در خیال

ایک طرف امریکا کو کرونا وائر س کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں اور دوسری طرف ایسی خبریں آرہی ہیں جن کے مطابق امریکی افواج عراق میں کسی نئی مہم جوئی کی تیاری کررہی ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا یہ غلطی کرے گا؟ عام حالات ہوتے تو شاید یہ کہا جاسکتا تھا کہ امریکا اپنے مفادات کے حصول یا ان کی حفاظت کے لیے کوئی بھی کارروائی کر سکتا ہے لیکن ہماری رائے میں اس وقت عراق میں فوجی مہم جوئی امریکا کے لیے انتہائی خطرناک ہوگی۔

کرونا وائرس کے نتیجے میںامریکا میں بے روزگاری کی وجہ سے حکومت کو امداد کے لیے چھیاسٹھ لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جب کہ وائرس کی وجہ سے اموات کی تعداد آج(3اپریل2020) کے اعداد و شمار کے مطابق 6000تک جا پہنچی ہے، جب کہ وائرس کا شکار ہو جانے والوں کی تعداد میں بھی امریکا دنیا کے تمام ممالک سے آگے نکل چکا ہے۔ خود امریکی صدر کے مطابق اموات کی تعداد ایک سے دو لاکھ کے مابین ہو سکتی ہے۔

کرونا کے وار سے امریکی فوجی بھی محفوظ نہیں رہے۔ اس وائرس کا شکار ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بیان کی جارہی ہے۔ بہت سے فوجی اہل کار ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے اعلان کیا ہے سیکورٹی کی تشویش کے پیش نظر دفاعی شعبوں سے وابستہ اہل کاروں کے کرونا میں مبتلا ہونے کی خبریں جاری نہ کی جائیں۔ مزید براں فوجی مشقیں بھی روک دی گئی ہیں۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ امریکی بحری بیڑے روز ولٹ کے کیپٹن برٹ کوروزیر کا پینٹاگون کے نام ایک خط منظر عام پر آیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ان کے بحری بیڑے میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے اور ان کے سیلرز کی جان بہت خطرے میں ہے۔انھوں نے لکھا کہ ہم حالت جنگ میں نہیں ہیں لہٰذا ضرورت نہیں کہ میرے سیلرز ہلاک ہو جائیں۔انھوں نے مزید لکھا ہے کہ کرونا کا بحری بیڑے پر پھیلاﺅ بہت تیز رفتار ہے اور کنٹرول کے قابل نہیں لہٰذا اس تمام بحری بیڑے کو قرنطینہ بنا دیا جائے۔ یاد رہے کہ اس بحری بیڑے پر چار ہزار سے زیادہ کا عملہ موجود ہے اور یہ بیڑا جنوبی کوریا اور جاپان کے جنوب میں بحرالکاہل میں موجود ہے۔ اس خط کے منظر عام پرآنے کے بعد جہاز کے کمانڈر کو برطرف کر دیا گیاہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ دولت امریکا کے پاس ہے اور اسی نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے دو کھرب ڈالر مختص کیے ہیں۔

ادھر یہ صورت حال ہے اور اُدھر عراق میں امریکا کی فوجی نقل وحرکت میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس نے دو ہفتے پہلے اپنے نسبتاً چھوٹے تین فوجی اڈے عراقی فورسز کے حوالے کیے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عراق کی پاپولرمزاحمتی فورسز کے زیادہ نشانے پر تھے۔ ان اڈوں سے امریکا نے اپنا بھاری اسلحہ اپنے نسبتاً مضبوط اور بڑے فوجی اڈوں میں منتقل کر دیا ہے۔

عراقی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ عراق میں امریکا کی حالیہ نقل و حرکت اس کی عقب نشینی نہیں بلکہ اپنی افواج کی محدود فوجی اڈوں پر از سر نو تعیناتی ہے تاکہ اس طرح وہ ان سے عراق میں فوجی بغاوت اور عراقی مزحمتی فورسز پر حملے کے لیے استفادہ کر سکے۔
اس سلسلے میں واشنگٹن کے روزنامہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ان تجزیہ کاروں کی رائے درج کی گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مزاحمتی قوتوں اور عراق کی قومی شخصیات پر حملوں کی تیاری کررہا ہے۔ان کامزید کہنا ہے کہ امریکا نے واضح طور پر سردار قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی شہادت کی ذمہ داری کو قبول کیا ہے اور اب وہ مزاحمتی قوتوں کی طرف سے شدید ردعمل پر پریشان ہے۔ اس لیے اس نے ان کے اڈوں پر حملے کا فیصلہ کیا ہے۔

درایں اثنا حزب اللہ عراق نے بھی اعلان کیا ہے کہ عراق میں امریکا کی نقل و حرکت فقط اپنی افواج کی ازسرنو تقرری نہیں ہے بلکہ اس نے ان اڈوں کو خالی کیا ہے جو اس کی نظر میں محفوظ نہیں تھے اور اب نسبتاً زیادہ محفوظ اڈوں پر انھیں منتقل کیا گیا ہے لہٰذا امریکا عراق میں سیاسی بغاوت اور مزاحمتی فورسز کے اڈوں پرحملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے کیونکہ وہ انھیں اپنی سازشوں کے راستے میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
دولت قانون جو عراق میں متعدد جماعتوں کا سیاسی اتحاد ہے، نے اعلان کیا ہے امریکا جارحانہ صہیونی منصوبوں کا حامل ہے، اس لیے عراق میں اس کی موجودگی نہ فقط اس ملک کی حاکمیت کے خلاف جارحیت ہے بلکہ اس نے عراق کو بحرانوں سے دوچار کررکھا ہے اور ان میں سب سے اہم بحران جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے دہشت گردانہ کارووائی میں شہادت سے پیدا ہوا ہے۔

ایک اور مزاحمتی گروہ تحریک الابدال کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کمال الحسناوی نے بھی اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے پھر کسی خطا کا ارتکاب کیا تو مزاحمتی قوتوں کا جواب بہت سخت ہوگا۔الحسناوی نے یہ خبر فاش کی کہ انھیں عراق کے مستعفی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی طرف سے پیغام موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے پاس اس سلسلے میں ٹھوس اطلاعات موجود ہیں کہ امریکا الحشد الشعبی اور مزاحمتی فورسز کے اڈوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔الحسناوی نے مزید کہا کہ ان اطلاعات کے پیش نظر الحشد الشعبی اور مزاحمتی قوتوں پر کسی نئے حملے کا جواب ہم امریکا کو بہت سخت دیں گے۔

یہ تمام ردعمل ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ عراق میں تین امریکی فوجی اڈوں پر مزید فوجی طیارے اتارے گئے ہیں۔اس سے پہلے خبر آئی تھی نئے آنے والے ہوائی جہازوں میں امریکی فوج اور فوجی مشیر موجود ہیں۔امریکی وزارت دفاع نے بھی 2اپریل کو اعلان کیا ہے کہ امریکی اڈوں پر میزائل سسٹم منتقل کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں امریکی فوجی ترجمان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر نے ایران کے خلاف ٹویٹ وزارت خارجہ کے مشیروں کے دباﺅ پر کیا ہے جنھوں نے انھیں مشورہ دیا ہے کہ عوام اور مخالف سیاسی شخصیات کا ملک کے کرونا کے باعث ہونے والے حالات سے رخ موڑنے کے لیے عراق میں فوجی کارروائی شروع کریں اور ایک مصنوعی فوجی بحران پیدا کردیں۔دوسری طرف پینٹاگون اور سی آئی اے اس تجویز کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کی رائے میں ایسا کرنا انتہائی خطرناک راستے پر قدم رکھنے کے مترادف ہے جس کے نتائج کا اس وقت اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔تاہم یکم اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھا کہ ایران اپنے حامی گروپوں کے ساتھ مل کر عراق میں امریکی افواج پر حملے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پر ردعمل سامنے آیا ہے چنانچہ ایران کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد حسین باقری نے کہا ہے کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت پر ہماری گہری نظر ہے اور اگر ایران کی سیکورٹی کو ذرہ بھر خطرہ ہوا اور معمولی سی بری نظر سے بھی ہماری طرف دیکھا گیا تو ہمارا جواب شدید ترین ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتوں میں عراق میں امریکی اڈوں کے خلاف ہونے والے اقدامات عراقی عوام اورمزاحمتی قوتوں کا سردار قاسم سلیمانی اور جنرل ابو مہدی المہندس جو عراقی مزاحمت کے نائب کمانڈر تھے، کی امریکی دہشت گردانہ حملے میں شہادت پر فطری ردعمل ہے اور اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکا ایران کے خلاف اس حوالے سے جو پراپیگنڈا کررہا ہے وہ سب جھوٹ پر مبنی ہے۔
ایک اور ایرانی جنرل یحییٰ صفوی نے کہا کہ عراقی پارلیمان کی طرف سے امریکی افواج کے انخلا کے قانون کی منظوری کے بعد ان کی وہاں موجودگی غیر قانونی ہے۔ عراقی عوام امریکا کی غیر قانونی موجودگی کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ان حالات میں امریکا اور امریکی فوج کی طرف سے عراق کی قومی خود مختاری کے خلاف اقدام امریکا اور اس کی فوج کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

جنرل یحییٰ صفوی نے کہا دنیا اور مغربی ایشیا میں امریکا کی سیاسی اور فوجی قوت کے زوال کا دور شروع ہو گیا ہے اور امریکی فوجی جانتے ہیں کہ کوئی بھی اقدام ان کے مفاد میں نہیں ہے۔

جہاں تک امریکا کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ اس نے عراق کو داعش سے نجات دلائی ہے تو اس کے خلاف عراقی وزارت دفاع کے ترجمان یحییٰ رسول نے کہا ہے کہ یہ عراق کی فوج تھی جس نے ملک کی حفاظت کی اور عراق کی سرزمین کو دہشت گرد تنظیم داعش سے نجات دلائی اور اب بھی اس سے مقابلہ کررہی ہے۔یحییٰ رسول نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آج عراق داعشی عناصر کا پیچھا کرنے کی پہلے سے زیادہ طاقت رکھتا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ تیار ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ الحشد الشعبی عراقی فوج کا قانونی حصہ ہے۔

بعض عراقی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب سے وابستہ عناصر بھی عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کر سکتے ہیں تاکہ ان کا الزام عراق کی مزاحمتی قوتوں پر ڈالا جاسکے اور امریکا کو ان کے خلاف کارروائی پر ابھارا جا سکے۔ امریکی اڈوں اور مراکز پر گذشتہ دنوں میں بھی ایسی کارروائیاں ہوئی ہیں جن سے عراق کی مزاحمتی قوتوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

ان حالات میں امریکی کانگرس میں ڈیمو کریٹ راہنماﺅں نے امریکی صدر کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی قسم کے فوجی اقدام سے پہلے کانگرس سے مشورہ کریں۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے کرونا کی وحشت سامانیاں امریکا کو اپنی گرفت میں لے رہی ہیں، امریکا کے لیے کوئی نئی مہم جوئی بہت مشکل ہوگی کیونکہ اس کے خلاف خود امریکا میں بہت بڑا ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ اس کا کوئی اور نتیجہ ہو یا نہ ہو آئندہ صدارتی انتخابات میں اس کا منفی سایہ ڈونلڈ ٹرمپ پر ضرور پڑے گا کیونکہ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ امریکا عراق میں کوئی فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ امریکا کے حق میں نکلے گا۔ امریکا کو بظاہر فضائی برتری حاصل ہے لیکن ایسی ہی فضائی برتری امریکا اور اس کے اتحادیوں کے یمن میں کام نہیں آسکی۔ عراق کی حالت تو اس سے کہیں بہتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  10040
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
افغانستان میں قتل وغارت گری کے حالیہ واقعات نے طویل عرصے سے جنگ سے تباہ حال ملک بارے امن کی امید کو ناامیدی میں بدل رہے ہیں، کابل میں زچہ وبچہ وارڈ میں ماؤں اور نونہالوں کا قتل جاری خون ریزی کے بدترین واقعات میں اپنی جگہ بنا گیا ، ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دہشت گرد عناصر کسی مذہبی و اخلاقی اصول پر پورے نہیں اترتے،
عالمی ادارہ صحت نے خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ جولائی کے وسط تک پاکستان میں 2 لاکھ کورونا وائرس کے کیسز ہوسکتے ہیں، ڈبیلو ایچ او کو اس پر بھی تشویش ہے کہ سندھ اور پنجاب میں عالمی وبا سے متاثر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ،اس پر یہ دلیل بھی سامنے آچکی کہ لاک ڈاؤن میں مذید 2 ہفتوں کی توسیع کی ایک وجہ دراصل یہی ڈبلیو ایچ او کی وارننگ ہے
قارئین! معاف کیجئے گا ہم سدھرنے والے ہرگز نہیں، شاید دعائیں آسمانوں سے پلٹائی جارہی ہیں اس لئے بے اثر ہیں۔ اچھا ایسا ہے تو پھر ہمیں انفرادی و اجتماعی معاملات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینا ہوگا۔
اسلام ایک جامع و کامل دین ہے۔ جس نے زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق بشریت کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اگر اسلامی احکامات کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہو گا کہ اسلام نے اقتصاد اور معاش کو عبادی احکامات سے اگر زیادہ نہ کہیں تو کم اہمیت بھی نہیں دی۔ بدون شک اقتصاد انسانی زندگی کا بنیادی ترین رکن ہے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو داﺅ پر لگا رہا ہے ‘ بھارت متنازعہ علاقوں میں تعمیراتی کام ‘سڑکیں اور فوجی بنکرز بنا رہا ہے جو کہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے ‘لداخ کے متنازعہ علاقے میں تعمیرات سے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزیاںکر رہا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق کورونا س کے وار تیز ہوگیاہے ،60ہزار پاکستانی متاثر‘ اب تک 1240 جاں بحق ،مجموعی طور پر 19 ہزار142 مریض صحت یاب ‘ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار446 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شدید مہنگائی کے باعث عوام حکومت سے تنگ آچکی ہے مو جودہ حکومت کاخاتمہ ہی عوام کے لئے ریلیف ہو گا،عوام نا اہل نیازی حکومت سے نجات چاہتی ہے ۔ کورونا وباءاور ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے حکو مت کی کو ئی پا لیسی نظر نہیں آئی ، ڈنگ ٹپاو¿ نظام چل رہا ہے ۔
پاکستان مسلم لیگ(ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران کے حکم پر چینی بر آمد کی گئی‘ مقدمہ بنایا جائے ،وزیراعظم کے لاپتہ ہونے پر تشویش ہے وزیراعظم کی گمشدگی کا اشتہار شائع کرنا چائیے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں