Tuesday, 18 December, 2018
’’فرد واحد ‘‘ اور ملکی معیشت

’’فرد واحد ‘‘ اور ملکی معیشت
علی احمد ڈھلوں کا کالم

 

سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے، جو ہو چکا ہے اور جو ہونے جا رہا ہے، اس حوالے سے پورے ملک پر بے یقینی چھائی ہوئی ہے۔ سیاستدانوں نے عوام کو اُلجھایا ہوا ہے جب کہ بیوروکریسی اپنا روایتی سازشی کردار ادا کررہی ہے۔ وطن عزیز دنیا کا واحد ملک ہے جس کا وزیر خزانہ کرپشن کیسز میں عدالتوں کے چکر بھی کاٹ رہا ہے اور سیٹ بھی نہیں چھوڑ رہا۔ جس ملک کا وزیرخزانہ ہی مقدمات میں الجھا ہوا ہو، اس کی معیشت کیسی ہوگی ، وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں کسی کا قصور بھی نہیں ہے۔

ہم ہی اس کے ذمے دار ہیں کیونکہ ہر دفعہ ہم انھی گنے چنے سیاستدانوں کو ووٹ دیتے  ہیں جو صرف اپنی اکانومی مضبوط کرتے ہیں،جب ان سیاستدانوں کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کا ایک سال ڈکٹیٹر شپ کے 100سال سے بہتر ہے تو یقین مانیں دل کر تا ہے ان کو کوڑے مارے جائیں، کیونکہ ان سیاستدانوں کی اپنی جماعتوں میں بھی جمہوریت نام کی چیز نہیں ہے تو ملک میں کیا خاک جمہوریت لائیں گے؟

آج میاں نواز شریف چاہتے ہیں کہ مریم نواز آگے آئے، زرداری صاحب فرماتے ہیں کہ بلاول آگے ہوں گے اور میں اُن کی پچھلی سیٹ پر بیٹھوں گا، شہباز شریف کے بعد حمزہ شہباز سیاست میں آئیں گے، مفتی محمود کے بعد مولانا فضل الرحمن، غوث بخش بزنجو کے بعد حاصل بزنجو، اے این پی میں غفار خان کے بعد ولی خان اور آج اسفند یار ولی، یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ آمریت کی مثالیں نہیں؟ پھر آپ ہر سیاسی جماعت (ماسوائے جماعت اسلامی) کا شجرہ نصب اُٹھا کر دیکھ لیں، کہیں جمہوریت نام کی چیز نظر نہیں آئے گی ۔ آج ہماری سیاسی جماعتیں اسی وجہ سے عوام میں مقبولیت کھو رہی ہیں کہ اُن میں ’’فرد واحد‘‘ کی اُجارہ داری ہے۔ جھوٹ پر جھوٹ کی سیاست نے نہ صرف ملک کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اپنے کردار کو بھی مشکوک بنا دیا ہے، 
بقول ظفرؔ اقبال
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے!

آج پیپلز پارٹی کو دیکھ لیں، اسے ایک خاندانی پارٹی بنا دیا گیاجس کی وجہ سے یہ تباہ ہوگئی، 1986ء میں جب بینظیر آئی تھیں تو ان کے شاندار استقبال کے بعد کئی بڑے سیاستدان ناراض ہوئے جن میں غلام مصطفیٰ جتوئی، غلام مصطفیٰ کھر،ملک معراج خالداور آفتاب شیرپاؤ جیسے سیاستدان شامل تھے، جب کہ آج بلاول کی قیادت میں سینئر لیڈر شپ قمر زمان کائرہ، خورشید شاہ، رضا ربانی، اعتزاز احسن اور دیگر رہنماؤں کو ایک بار پھر پیچھے دھکیل دیاگیا ہے، اسے آپ نان ڈیموکریٹک اسٹائل کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔
پھر  بھٹو سے لے کر مشرف تک کوئی ڈکٹیٹر پیپلز پارٹی کو ختم نہ کر سکا مگر اس پارٹی کو آصف علی زرداری اور ان کی ٹیم نے صوبائی جماعت بنا دیا جو سندھ تک محدود ہوگئی۔ گزشتہ انتخابات میں ایک وقت میں پاکستان کی سب سے مقبول ترین پی پی پی کا سندھ کے علاوہ تمام صوبوں سے نام و نشان مٹ گیا۔  پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہ جیتی۔ لیکن سبق پھر بھی حاصل نہ کیا۔ سندھ میں حکومت ملی تو وہی وہی کرپشن، وہی اقرباپروری، حکومتی سودوںمیں وہی کمیشن ، وہی کک بیکس کے الزامات۔ الزامات کی بھی تو کوئی نہ کوئی کہانی تو ہوگی۔

آج مسلم لیگ ن کو دیکھ لیں جو’’فرد واحد‘‘ کی وجہ سے سخت بحران کا شکار ہے، اور ان کی ’’ضد‘‘ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو باغی کر سکتی ہے۔ جو پاکستان کی ایک بڑی جماعت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ وہی ہوا کہ ن لیگ میں اختلافات کھل کر سامنے آچکے ہیں اور میری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات اور جماعت کے سینئر رہنماؤں کا مریم نواز کی قیادت میں کام نہ کرنے کا حتمی فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ اور اسی طرح کے دوسرے اختلافات کے پیش نظر 90 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ایسے ہیں جو مسلم لیگ ن کو چھوڑ  سکتے ہیں اور ان میں بعض اہم نام بھی شامل ہیں یہاں تک کہ بعض وزراء بھی مستعفی ہو کر نواز شریف کو سرپرائز دے سکتے ہیں۔

اور دوسری طرف بزرگ سیاسی رہنماؤں ذوالفقار کھوسہ،ریاض پیرزادہ،  میر ظفر اللہ جمالی اور پیر پگارا کے اچانک متحرک ہونے کی وجہ سے ن لیگ خاصی پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ جب کہ نواز شریف کے آج احتساب عدالت میں پیش ہونے کو ن لیگ کے بعض حلقے ’’سیاسی انتقام‘‘ سے تشبیہ دے رہے ہوں گے۔ بندہ پوچھے کہ الزامات تو صحیح ہیں ناں، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آپ کے پاس 100روپیہ ہے اور ایک لاکھ روپے کا الزام لگا دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں حساب سیدھا سادا سا ہے کہ اگر کسی نے گزشتہ 30سال میں 30ارب کمایا ہے جو ریکارڈ پر بھی آیا ہو، اس پر ٹیکس بھی دیے گئے ہوں لیکن اثاثے 300ارب سے بھی زیادہ ہیں تو پوچھنا تو پڑے گا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟

مختصرا ً یہ کہ میاں نواز شریف کو چاہیے کہ وہ مزید خرابی کا باعث بننے کے بجائے اپنے آپ کو اداروں سے کلیئر کرائیں اور پھر عوام میں واپس آئیں، مجھے پورا یقین ہے کہ لوگ اُن کی عزت کریں گے، اب جب کہ تادم تحریر انھوں نے 3نومبر کو احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے ، اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ پیشی کے بعد واپس آکر یہی کہیں گے کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘

غرض یہ نہیں کہ کیوں نکالا، بلکہ غرض یہ ہے کہ غیرملکی قرضے 75ارب ڈالر سے بڑھ کر90ارب ڈالر تک کیسے پہنچ گئے؟ جب کہ ملکی بینکوں سے بھی حکومت نے 15ارب ڈالر قرضے حاصل کر رکھے ہیں۔ آیندہ چند ماہ میں پاکستان نے صرف سود کی مد میں عالمی مالیاتی اداروں کو اتنی ادائیگی کرنی ہے کہ بیچارہ ’’روپیہ‘‘ بری طرح لڑکھڑا جائے گا جس کے نتیجے  میں آنے والا مہنگائی کا سونامی لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردے گا، ان سب وجوہات کی بنا پر آج ن لیگ کے حالات یہ ہیں کہ 2018ء کے الیکشن میں یہ بڑی جماعت بھی چند سیٹوں پر مشتمل ہوگی اور اس لیے ملک میں غیر یقینی صورتحال ، ڈوبتی معیشت کا ذمے دار بھی ’’فردواحد‘‘ ہی ہوگا!اس لیے فرد واحد ملک پر رحم کرے تو یہی ملک کے لیے بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  92494
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
آٹھ روز پہلے کراچی کے آرٹلری میدان تھانے میں رینجرز سب انسپکٹر شاہد پرویز خان کی مدعیت میں یہ ایف آئی آر درج ہوئی کہ ’’مدعی پریس کلب کے قریب گاڑیوں کی سرسری چیکنگ کر رہا تھا کہ کار نمبر بی ای ڈی سات سو پندرہ الٹرا ہائی بریڈ میں
مجھ سے عید ملتے ہوئے میرے دوست میں وہ گرم جوشی نہیں تھی جو ہمیشہ سے اس کے مزاج کا حصہ رہی ہے۔ میں نے پوچھا تو کہنے لگا کچھ نہیں بھائی ۔ بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔۔ لیکن ایسا کہتے وقت اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
اخبارات کی روایت ہے جسے ٹی وی چینلز نے بھی اپنا لیا ۔۔ ہر عید کے موقع پرممتاز شخصیات کے حوالہ سے خبر چلائی جاتی ہے کس نے کہاں عید منائی، یہ خبر سب کے لیے بہت مزے کی ہوتی ہے۔لوگوں کو معلوم نہیں اس خبرمیں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے
پاکستان کی معیشت کا حجم ڈھائی سو بلین ڈالر ہے۔ اس معیشت میں پچھلے آٹھ برس سے ساڑھے چار تا چھ فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر گذشتہ انہتر برس میں اتنے نہیں تھے جتنے آج ہیں

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیکیورٹی گارڈ نے صحافی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد ان
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق کی گولیاں آزادی کے غیر مسلح بہادر حریت پسندوں کو کبھی کچل نہیں سکتیں۔
فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ایک ویب چینل کو انٹرویو دیا تھا اور اس معاملے میں ان پر آج فرد جرم عائد کی گئی ہے، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔ باس موقع پر عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔
پاکستان کے تعاون سے آج سے شروع ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات کا امریکا کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے جب کہ طالبان نے بھی امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کردی۔ ہائی پیس کونسل کے ڈپٹی چیف

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں