Thursday, 14 December, 2017
پچاس سالہ پیپلز پارٹی

پچاس سالہ پیپلز پارٹی
وسعت اللہ خان کا کالم

 

پیپلز پارٹی دو روز پہلے پچاس کی ہو کر اکیاونویں برس میں داخل ہوگئی۔لاہور کے جس گھر سے متصل خالی پلاٹ میں اس کا جنم ہوا اس گھر کے مالک ڈاکٹر مبشر حسن ماشااللہ پچانوے برس کی عمر میں بھی ذہنی اعتبار سے ساٹھے پاٹھے ہیں۔پیپلز پارٹی کے جنم دن کے موقع پر جو یادگار گروپ فوٹو کھینچا گیا اس میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید انتالیس سالہ ذوالفقار علی بھٹو کے زانو پر بیٹھے ہیں۔ویسے دو روزہ کنونشن میں لگ بھگ تین سو مندوب شریک ہوئے تھے۔مگر یہ تین سو کون تھے کسی کے پاس مکمل ریکارڈ نہیں۔شائد پیپلز پارٹی کے پاس بھی نہیں۔

ایک تاسیسی رکن عبدالرزاق سومرو کی یادداشت کے مطابق اس کنونشن میں جے اے رحیم ، ملک حامد سرفراز ، حنیف رامے ، معراج خالد ، ڈاکٹر مبشر حسن ، شیخ محمد رشید ، کمال اظفر ، ملک شریف ، حکیم عبداللطیف ، میاں محمد اسلم ، محمد صفدر ، آفتاب ربانی ، عبدالوحید کٹپر ، شوکت علی لودھی ، میر رسول بخش تالپور ، معراج محمد خان ، بیگم عباد احمد ، خورشید حسن میر ، حیات محمد خان شیر پاؤ ، چاکر علی جونیجو  ، مصطفی کھر ، حفیظ پیرزادہ ، مجتبی کھر ، احمد رضا قصوری ، حق نواز گنڈاپور ، جہانگیر خان ، عماد حسین جمالی ، احمد دہلوی ، سردار پیر بخش بھٹو ، میر حامد حسین ، ملک نوید احمد بھی شریک تھے۔ہر مندوب نے انٹری کارڈ کی مد میں دس دس روپے بطور کنونشن فیس ادا کیے۔

تیس نومبر اور یکم دسمبر کو دو دن میں چار سیشن ہوئے۔ تین نام تجویز ہوئے۔پیپلز پروگریسو پارٹی ، پیپلز پارٹی ، سوشلسٹ پارٹی آف پاکستان۔اتفاق پاکستان پیپلز پارٹی پر ہوا۔عام طور پر سیاسی جماعتوں میں بالائی عہدہ صدر کہلاتا تھا۔مگر اتفاق ہوا کہ پیپلز پارٹی کا صدر نہیں چیئرمین ہوگا ( تب شائد چیئرمین ماؤزے تنگ ذہن میں ہوں گے )۔

پیپلز پارٹی میں لوگوں کو نکالنے کا رواج کبھی بھی نہیں رہا۔جو لوگ تاسیسی کنونشن میں شریک ہوئے  ان میں سے متعدد نے بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں ہی راستے جدا کر لیے۔کچھ بھٹو کو پسند نہ آئے ، کچھ کو بھٹو کا انداز پسند نہ آیا۔سب سے پہلا باغی احمد رضا قصوری تھا۔پھر معراج محمد خان ، پھر پیپلز پارٹی کے بنیادی نظریہ ساز جے اے رحیم ، پھر تہتر کے آئین کے ایک معمار محمود علی قصوری ، پھر غلام مصطفی کھر۔بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد بھی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔

مگر جس جس نے بھی کسی بھی وجہ سے بھٹو کی زندگی یا بعد میں پیپلز پارٹی چھوڑی وہ پھر سیاست میں بہت دور تک نہ چل پایا۔ احمد رضا قصوری اور محمود علی قصوری مرحوم تحریک ِ استقلال میں چلے گئے۔معراج محمد خان مرحوم نے قومی محاذ ِ آزادی بنایا اور آخری دور میں اپنی پارٹی تحریکِ انصاف میں ضم کردی اور پھر نکال لی ، ، مولانا کوثر نیازی مرحوم کی پروگریسو پیپلز پارٹی جانے کہاں ہے۔غلام مصطفی کھر کنونشن مسلم لیگ میں گئے اب سنا ہے طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے بعد تحریک ِ انصاف میں علامتی طور پر شامل ہیں۔

حنیف رامے مرحوم نے مساوات پارٹی بنائی اور پھر وہ کہیں کھو گئی۔عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم نے سندھی بلوچ پشتون کنفیڈرل فرنٹ کا مختصر تجربہ کیا اور پھر سیاست ہی چھوڑ دی۔ غلام مصطفی جتوئی مرحوم کی نیشنل پیپلز پارٹی کدھر گئی۔ ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کا سندھ نیشنل فرنٹ کبھی مسلم لیگ ن میں ضم ہو جاتا ہے تو کبھی تحریک ِ انصاف میں۔فاروق لغاری مرحوم کی ملت پارٹی مسلم لیگ ق میں ضم ہو گئی۔ آفتاب شیر پاؤ  کی قومی وطن پارٹی گھر کی پارٹی ہے۔

فیصل صالح حیات کی پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کا کوئی اتا پتا نہیں مگر بھائی فیصل  گھوم گھام کے پھر پیپلز پارٹی میں آ  گئے۔بی بی اور مرتضی میں سیاسی طور پر نہ بن پائی لہذا پی پی شہید بھٹو وجود میں آ گئی۔اب یہ پارٹی ستر کلفٹن اور المرتضی لاڑکانہ کے درمیان پائی جاتی ہے۔جن کے گھر میں پیپلز پارٹی پیدا ہوئی وہ ڈاکٹر مبشر حسن بھی اب شہید بھٹو پارٹی میں ہیں۔

پیپلز پارٹی کی ایک خوبی اسے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حیات تک دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتی تھی کہ اس میں ہر طبقے ، رنگ ، نسل و مذہب کی نمائندگی تھی۔کنگلا پتی بھی تھا اور اس کا جاننے والا کروڑ پتی بھی۔عین وقت پر گھر میں بیٹھنے والے بھی تھے اور دوڑ کر پھانسی کا پھندہ چومنے والے بھی۔اب صرف چومنے والے زیادہ ہیں۔

بہت بڑی عاشق مزاج مخلوق ایسی بھی تھی اور اب بھی ہے جس کے لیے پیپلز پارٹی اہم نہیں بلکہ بھٹو اہم تھا۔مثلاً  لیاری کب پیپلز پارٹی کا  رہا وہ تو ہمیشہ بھٹو کا رہا۔لاہور کا محمد صدیق عرف ہرا سائیں جس کا گذشتہ ماہ ہی نوے برس کی عمر میں انتقال ہوا۔اس کے لیے پیپلز پارٹی کا ہونا نہ ہونا ہارنا جیتنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔اسے  کوئی مطلب نہیں تھا کہ بھٹو زندہ تھا تو کیا ہوا اور پھانسی پر جھول گیا تو کیا فرق پڑ گیا۔اس کی گدھا گاڑی پر تو نصف صدی تک پیپلز پارٹی کا جھنڈا اور بھٹو کی تصویر لگی رہی۔ضیا الحق آیا اور چلا گیا بابا ہرے کی بلا سے اور اب بابا ہرا بھی بھٹو صاحب کے پاس چلا گیا۔

میں رحیم یار خان کے ہاشمی اخبار فروش کو جانتا ہوں جو ہمیشہ سن ستر کی دہائی میں ہی زندہ رہا۔میں نے کسی ایک دن بھی نہیں دیکھا کہ اس نے کوئی ایسی قمیض پہنی ہو  کہ جس کے کالر پر پیپلز پارٹی کا چھوٹا سا جھنڈا نہ کڑھا ہوا ہو۔

آج جب کہ پیپلز پارٹی پچاس برس کی ہو گئی ہے۔بھٹو صاحب ہوتے تو نوے برس کے ہوتے۔شائد وہ پارٹی کے چیئرمین نہ ہوتے مگر ان کی موجودگی کے سبب ہو سکتا ہے  پاکستان واقعی ایسا پاکستان ہوتا جیسا کہ کسی نارمل ملک کو ہونے کا حق ہے۔ان پچاس برسوں میں پارٹی بھی کہاں سے چلی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔بھٹو صاحب کے اردگرد کیسے کیسے لوگ تھے اور آج کیسے کیسے لوگ ہیں۔بھٹو صاحب کی پراپرٹی کارکن تھے آج بس پراپرٹی ہے۔کچھ شخصی جزیرے اب بھی بچے ہوئے ہیں ورنہ تو چہار جانب پانی ہی پانی ہے۔بھٹو نے سیاسی مجاوری توڑ پھوڑ کے رکھ دی تھی۔آج پارٹی کے پاس بس مجاوری بچی ہے۔تب سوشلزم ہماری معیشت ہے کا نعرہ تھا۔آج کرونی ازم  ہی ہماری معیشت ہے۔بھٹو سیاست کو ڈرائنگ روم سے گھسیٹ کر سڑک پر لایا۔تیسری قیادتی پیڑھی اسے سڑک سے گھیسٹ کر پھر ڈرائنگ روم میں لے گئی۔

میں نے پروفیسر غفور احمد مرحوم سے ایک بار پوچھا بھٹو مالی اعتبار سے کیسا تھا ؟ کہنے لگے کرپٹ ہوتا تو ضیا الحق ضرور اس بارے میں بھی کوئی نہ کوئی وائٹ پیپر لے آتا۔

میں نے چترال کے بھی دور دراز علاقے مستوج کے ایک پہاڑی گھر کے ایک کمرے میں دیکھا ایک اکلوتی بھٹو کی تصویر پر گلاب کی سوکھی مالا لٹک رہی تھی۔ صاحبِ خانہ سے پوچھا کیا آپ پیپلز پارٹی میں ہو ؟ کہنے لگا نہیں تو ، مجھے کبھی سیاست سے دلچسپی نہیں رہی۔ پوچھا  بھٹو کی تصویر کیوں لگا رکھی ہے۔کہنے لگا ایک بار یہاں آیا تھا۔پھر کوئی نہیں آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  74068
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
اپنے منہ پر تھپڑ, جاوید چوہدری, مارک روٹ, مبصر نیوز
یہ بات ہے نومبر دو ہزار آٹھ کی۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو گیارہ ماہ اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو سات ماہ اور آصف زرداری کو صدر بنے تین ماہ ہو چلے ہیں۔بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر نئی حکومت کوئی ایسی یادگار قائم کرنا چاہتی ہے
اکتوبر2005 کا زلزلہ قیامت صغریٰ تھا،اس قدرتی آفت نے ایک بارپھرہمیں جھنجوڑکررکھ دیااداروں کی غفلت نااہلی اورکسمپرسی کے سارے پردے چاک ہوگئے ہیں ان دنوں میں وفاقی دارالحکومت کے ایک روزنامہ اخبارسے بطورپررپورٹرمنسلک تھا۔
پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی سیاست کے کئی پہلو زیرِبحث آئے ہیں ۔ اس کی تفتیش کے دائرہ کار کے وسیع ہونے سے ہماری معاشرت کا ایک پہلو بھی سیاسی مکالمہ کا حصہ بنا ہے ، بیٹیوں کی عزت و تکریم۔

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
راولپنڈی۔ پاک فوج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے حق میں ہے جب کہ قیام امن کے لئے قبائلی عوام کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں، ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے قبائلی عمائدین اور یوتھ جرگہ کے
بغداد۔ عراق میں داعش کو شکست دینے کے بعد امریکی فوج سمیت دیگرممالک کی افواج کی موجودگی کے سخت مخالف ہیں، ان خیالات کا اظہار تحریک عصائب اہل الحق کے سربراہ نے شیخ قیس خزعلی نے ذرائع ابلاغ
پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ حکومت ناموس رسالت سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے باز رہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ حکومت نے الیکشن قوانین کی آڑ میں ختم نبوت کے معاملہ میں چھیڑ چھاڑ کی
اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں اویس منظور تارڑنے کہا ہے کہ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جس اچھے ، منفرد اور منظم انداز میں خواتین کی پسماندگی اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئےجو کام کررہی ہےوہ قابل تحسین ہے۔ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جیسے ادارے ہمارے ملک کے لئے بہت بڑی نعمت ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں