Friday, 16 November, 2018
پچاس سالہ پیپلز پارٹی

پچاس سالہ پیپلز پارٹی
وسعت اللہ خان کا کالم

 

پیپلز پارٹی دو روز پہلے پچاس کی ہو کر اکیاونویں برس میں داخل ہوگئی۔لاہور کے جس گھر سے متصل خالی پلاٹ میں اس کا جنم ہوا اس گھر کے مالک ڈاکٹر مبشر حسن ماشااللہ پچانوے برس کی عمر میں بھی ذہنی اعتبار سے ساٹھے پاٹھے ہیں۔پیپلز پارٹی کے جنم دن کے موقع پر جو یادگار گروپ فوٹو کھینچا گیا اس میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید انتالیس سالہ ذوالفقار علی بھٹو کے زانو پر بیٹھے ہیں۔ویسے دو روزہ کنونشن میں لگ بھگ تین سو مندوب شریک ہوئے تھے۔مگر یہ تین سو کون تھے کسی کے پاس مکمل ریکارڈ نہیں۔شائد پیپلز پارٹی کے پاس بھی نہیں۔

ایک تاسیسی رکن عبدالرزاق سومرو کی یادداشت کے مطابق اس کنونشن میں جے اے رحیم ، ملک حامد سرفراز ، حنیف رامے ، معراج خالد ، ڈاکٹر مبشر حسن ، شیخ محمد رشید ، کمال اظفر ، ملک شریف ، حکیم عبداللطیف ، میاں محمد اسلم ، محمد صفدر ، آفتاب ربانی ، عبدالوحید کٹپر ، شوکت علی لودھی ، میر رسول بخش تالپور ، معراج محمد خان ، بیگم عباد احمد ، خورشید حسن میر ، حیات محمد خان شیر پاؤ ، چاکر علی جونیجو  ، مصطفی کھر ، حفیظ پیرزادہ ، مجتبی کھر ، احمد رضا قصوری ، حق نواز گنڈاپور ، جہانگیر خان ، عماد حسین جمالی ، احمد دہلوی ، سردار پیر بخش بھٹو ، میر حامد حسین ، ملک نوید احمد بھی شریک تھے۔ہر مندوب نے انٹری کارڈ کی مد میں دس دس روپے بطور کنونشن فیس ادا کیے۔

تیس نومبر اور یکم دسمبر کو دو دن میں چار سیشن ہوئے۔ تین نام تجویز ہوئے۔پیپلز پروگریسو پارٹی ، پیپلز پارٹی ، سوشلسٹ پارٹی آف پاکستان۔اتفاق پاکستان پیپلز پارٹی پر ہوا۔عام طور پر سیاسی جماعتوں میں بالائی عہدہ صدر کہلاتا تھا۔مگر اتفاق ہوا کہ پیپلز پارٹی کا صدر نہیں چیئرمین ہوگا ( تب شائد چیئرمین ماؤزے تنگ ذہن میں ہوں گے )۔

پیپلز پارٹی میں لوگوں کو نکالنے کا رواج کبھی بھی نہیں رہا۔جو لوگ تاسیسی کنونشن میں شریک ہوئے  ان میں سے متعدد نے بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں ہی راستے جدا کر لیے۔کچھ بھٹو کو پسند نہ آئے ، کچھ کو بھٹو کا انداز پسند نہ آیا۔سب سے پہلا باغی احمد رضا قصوری تھا۔پھر معراج محمد خان ، پھر پیپلز پارٹی کے بنیادی نظریہ ساز جے اے رحیم ، پھر تہتر کے آئین کے ایک معمار محمود علی قصوری ، پھر غلام مصطفی کھر۔بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد بھی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔

مگر جس جس نے بھی کسی بھی وجہ سے بھٹو کی زندگی یا بعد میں پیپلز پارٹی چھوڑی وہ پھر سیاست میں بہت دور تک نہ چل پایا۔ احمد رضا قصوری اور محمود علی قصوری مرحوم تحریک ِ استقلال میں چلے گئے۔معراج محمد خان مرحوم نے قومی محاذ ِ آزادی بنایا اور آخری دور میں اپنی پارٹی تحریکِ انصاف میں ضم کردی اور پھر نکال لی ، ، مولانا کوثر نیازی مرحوم کی پروگریسو پیپلز پارٹی جانے کہاں ہے۔غلام مصطفی کھر کنونشن مسلم لیگ میں گئے اب سنا ہے طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے بعد تحریک ِ انصاف میں علامتی طور پر شامل ہیں۔

حنیف رامے مرحوم نے مساوات پارٹی بنائی اور پھر وہ کہیں کھو گئی۔عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم نے سندھی بلوچ پشتون کنفیڈرل فرنٹ کا مختصر تجربہ کیا اور پھر سیاست ہی چھوڑ دی۔ غلام مصطفی جتوئی مرحوم کی نیشنل پیپلز پارٹی کدھر گئی۔ ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کا سندھ نیشنل فرنٹ کبھی مسلم لیگ ن میں ضم ہو جاتا ہے تو کبھی تحریک ِ انصاف میں۔فاروق لغاری مرحوم کی ملت پارٹی مسلم لیگ ق میں ضم ہو گئی۔ آفتاب شیر پاؤ  کی قومی وطن پارٹی گھر کی پارٹی ہے۔

فیصل صالح حیات کی پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کا کوئی اتا پتا نہیں مگر بھائی فیصل  گھوم گھام کے پھر پیپلز پارٹی میں آ  گئے۔بی بی اور مرتضی میں سیاسی طور پر نہ بن پائی لہذا پی پی شہید بھٹو وجود میں آ گئی۔اب یہ پارٹی ستر کلفٹن اور المرتضی لاڑکانہ کے درمیان پائی جاتی ہے۔جن کے گھر میں پیپلز پارٹی پیدا ہوئی وہ ڈاکٹر مبشر حسن بھی اب شہید بھٹو پارٹی میں ہیں۔

پیپلز پارٹی کی ایک خوبی اسے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حیات تک دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتی تھی کہ اس میں ہر طبقے ، رنگ ، نسل و مذہب کی نمائندگی تھی۔کنگلا پتی بھی تھا اور اس کا جاننے والا کروڑ پتی بھی۔عین وقت پر گھر میں بیٹھنے والے بھی تھے اور دوڑ کر پھانسی کا پھندہ چومنے والے بھی۔اب صرف چومنے والے زیادہ ہیں۔

بہت بڑی عاشق مزاج مخلوق ایسی بھی تھی اور اب بھی ہے جس کے لیے پیپلز پارٹی اہم نہیں بلکہ بھٹو اہم تھا۔مثلاً  لیاری کب پیپلز پارٹی کا  رہا وہ تو ہمیشہ بھٹو کا رہا۔لاہور کا محمد صدیق عرف ہرا سائیں جس کا گذشتہ ماہ ہی نوے برس کی عمر میں انتقال ہوا۔اس کے لیے پیپلز پارٹی کا ہونا نہ ہونا ہارنا جیتنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔اسے  کوئی مطلب نہیں تھا کہ بھٹو زندہ تھا تو کیا ہوا اور پھانسی پر جھول گیا تو کیا فرق پڑ گیا۔اس کی گدھا گاڑی پر تو نصف صدی تک پیپلز پارٹی کا جھنڈا اور بھٹو کی تصویر لگی رہی۔ضیا الحق آیا اور چلا گیا بابا ہرے کی بلا سے اور اب بابا ہرا بھی بھٹو صاحب کے پاس چلا گیا۔

میں رحیم یار خان کے ہاشمی اخبار فروش کو جانتا ہوں جو ہمیشہ سن ستر کی دہائی میں ہی زندہ رہا۔میں نے کسی ایک دن بھی نہیں دیکھا کہ اس نے کوئی ایسی قمیض پہنی ہو  کہ جس کے کالر پر پیپلز پارٹی کا چھوٹا سا جھنڈا نہ کڑھا ہوا ہو۔

آج جب کہ پیپلز پارٹی پچاس برس کی ہو گئی ہے۔بھٹو صاحب ہوتے تو نوے برس کے ہوتے۔شائد وہ پارٹی کے چیئرمین نہ ہوتے مگر ان کی موجودگی کے سبب ہو سکتا ہے  پاکستان واقعی ایسا پاکستان ہوتا جیسا کہ کسی نارمل ملک کو ہونے کا حق ہے۔ان پچاس برسوں میں پارٹی بھی کہاں سے چلی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔بھٹو صاحب کے اردگرد کیسے کیسے لوگ تھے اور آج کیسے کیسے لوگ ہیں۔بھٹو صاحب کی پراپرٹی کارکن تھے آج بس پراپرٹی ہے۔کچھ شخصی جزیرے اب بھی بچے ہوئے ہیں ورنہ تو چہار جانب پانی ہی پانی ہے۔بھٹو نے سیاسی مجاوری توڑ پھوڑ کے رکھ دی تھی۔آج پارٹی کے پاس بس مجاوری بچی ہے۔تب سوشلزم ہماری معیشت ہے کا نعرہ تھا۔آج کرونی ازم  ہی ہماری معیشت ہے۔بھٹو سیاست کو ڈرائنگ روم سے گھسیٹ کر سڑک پر لایا۔تیسری قیادتی پیڑھی اسے سڑک سے گھیسٹ کر پھر ڈرائنگ روم میں لے گئی۔

میں نے پروفیسر غفور احمد مرحوم سے ایک بار پوچھا بھٹو مالی اعتبار سے کیسا تھا ؟ کہنے لگے کرپٹ ہوتا تو ضیا الحق ضرور اس بارے میں بھی کوئی نہ کوئی وائٹ پیپر لے آتا۔

میں نے چترال کے بھی دور دراز علاقے مستوج کے ایک پہاڑی گھر کے ایک کمرے میں دیکھا ایک اکلوتی بھٹو کی تصویر پر گلاب کی سوکھی مالا لٹک رہی تھی۔ صاحبِ خانہ سے پوچھا کیا آپ پیپلز پارٹی میں ہو ؟ کہنے لگا نہیں تو ، مجھے کبھی سیاست سے دلچسپی نہیں رہی۔ پوچھا  بھٹو کی تصویر کیوں لگا رکھی ہے۔کہنے لگا ایک بار یہاں آیا تھا۔پھر کوئی نہیں آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  3310
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب حکومت نے پٹرول کی قیمتوںمیں بھی اضافہ کر دیا ہے یہ اضافہ حکومت کو بہت پہلے ہی کر دینا تھا لیکن عوامی دبائو کے باعث اس میں تاخیر ہوتی رہی اور اب عوام کے دبائو کے باوجود ملکی خسارے میں کمی
گزشتہ دس دن بڑے سکون سے گزرے ۔ پاکستانی ٹی وی ٹاک شوز سے بھی نجات ملی رہی اور پاکستانی سیاست پر قابض سیاسی نابالغوں کی تو تو میں میں سے بھی۔ نہ کوئی کفر کا فتویٰ سننے کو ملا اور نہ غداری کا الزام ۔ نہ زبان درازی دیکھنے کو ملی
سابق صدر آصف علی زرداری کمال کی سیاست کرتے ہیں۔ وہ اپنے مخالفوں کو ہمیشہ اپنی مسکراہٹ اور خاموشی سے ماردیتے ہیں مگر طاقت کے کھیل میں آجکل زرداری ایک بار پھر مصیبت میں ہیں۔ غلطیاں کسی اور کی نہیں شاید ان کی اپنی ہی ہیں۔
کبھی وہ دور تھا جب کا غذ پر لکھے ہو ئے حرفوں کی تاثیر سے پڑھنے والو ں کے دل ودما غ منورّ ہو جا تے تھے اور منہ سے نکلے ہوئے لفظوں کی طاقت سے جُھوٹ اور جُر م کی قوتّیں کا نپ اٹھتی تھیں۔

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
لاپتہ ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان خان پورڈیم پر تعینات تھے، سی ڈی اے کے افسر ایازخان کی بیٹی کی کل شادی ہے۔ اہلیہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا جمعرات کی شام ساڑھے 4 بجے میرے خاوند دفتر سے نکلے، خاوند نے جی 13 میں واقع اپنے گھر آنا تھا
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کے بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، زلفی بخاری سماعت کے دوران عدالت میں وکیل اعتزاز احسن
سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے ردِ عمل میں پہلی مرتبہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے ان 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو صحافی کے قتل کا منصوبہ بنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں