Thursday, 19 July, 2018
25 جولائی کے بعد کیا ہوگا؟

25 جولائی کے بعد کیا ہوگا؟
حامد میر کا کالم

بزرگوں نے سچ کہا ہے کہ بڑا بول بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے۔ شہباز شریف سے اس معاملے میں کچھ بےاحتیاطی ہوگئی۔ انہوں نے کراچی میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے لاہور کو پیرس بنادیا وہ کراچی کو بھی پیرس بنا دیں گے۔ ان کے اس دعوے کی گونج ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ ایک طوفانی بارش نے لاہور کو ایسا تالاب بنا ڈالا جس میں کشتیاں تیر رہی تھیں۔ شہباز شریف نے بارش کے بعد سامنے آنے والی بدانتظامی کی ذمہ داری نگران حکومت پر ڈال دی حالانکہ شہر کا بلدیاتی نظام بدستور مسلم لیگ(ن) کے پاس ہے۔ بارش کے پانی کو دریائے راوی کے سپرد کرنا کوئی مشکل نہ تھا لیکن شہباز شریف پچھلے دس سال میں نکاسی آب کا کوئی موثر نظام نہ بنا سکے اور ایک بارش نے ان کے اس بیانیے کو توڑ پھوڑ دیا جو انہوں نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ ہی کھڑا کردیا تھا۔

نواز شریف کا بیانیہ تھا’’روک سکو تو روک لو‘‘۔ اس بیانیے میں بھی جارحیت اور طاقت کا گھمنڈ تھا۔ شہباز شریف نے ڈیویلپمنٹ کا نعرہ لگایا۔ نواز شریف کا بیانیہ ان کے ووٹر کے لئے اہم تھا، شہباز شریف کا بیانیہ ان اہم لوگوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا جن کو عوام ووٹ دیتے ہیں۔ یہ دونوں بیانیے ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور اسی لئے بارش سے پہلے رائے عامہ کے جائزوں میں مجموعی طور پر مسلم لیگ(ن) آگے تھی لیکن بارش کے بعد ان جائزوں کی زیادہ اہمیت نہیں رہ گئی۔ بارش سے ایک دن قبل اس ناچیز کو لاہور میں شہباز شریف کے ساتھ ناشتے کی میز پر تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ وہ بڑے مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ(ن) آسانی کے ساتھ کم از کم سو نشستیں قومی اسمبلی میں حاصل کرلے گی اور اتحادیوں کے ساتھ مل کرحکومت بھی بنالے گی لیکن اگر مسلم لیگ(ن) کو زور زبردستی سے روکنے کی کوشش کی گئی تو ایک بحران پیدا ہوجائےگا۔ شہباز شریف نے محتاط لہجے میں کہا کہ اگر میں اپنے بھائی کے خلاف بغاوت کردیتا اور داراشکوہ بن جاتا تو مجھے اور میرے بہت سے ساتھیوں کو انکوائریاں نہ بھگتنی پڑتیں لیکن میں نے نواز شریف کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے سے انکار کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔

اس گفتگو کے دوران شہباز شریف نے پوری تفصیل سے بتایا کہ ان کی درخواست پر نواز شریف نے چودھری نثار علی خان کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کردی تھی جس دن اس فیصلے کااعلان ہونا تھا اس سے ایک رات قبل چودھری نثار علی خان کے حوالے سے بعض ٹی وی چینلز پر ایک بیان نشر ہوا جس میں نواز شریف پر تنقید کی گئی تھی۔ اگلے روز نواز شریف نے اخبار شہباز شریف کے سامنے رکھ دیا جس میں چودھری نثار کا بیان موجود تھا۔ دوسری طرف چودھری صاحب کہہ رہے تھے کہ انہوں نے یہ بیان جاری نہیں کیا اور اس کی تردید کردی تھی۔ اس سلسلے میں ایک ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز سے تصدیق بھی کی گئی کہ چودھری نثار نے تردید کی تھی یا نہیں لیکن غلط فہمی دور نہ ہوئی اور ٹکٹ جاری نہ ہوسکا۔ شہباز شریف نے اپنے بعض ساتھیوں کی طرف سے پارٹی ٹکٹ واپس کرکے ’’جیپ‘‘ پر سوار ہونے کے واقعات پر زیادہ بات نہیں کی۔ وہ اقتدار کے حصول سے زیادہ تاریخ میں اپنے مقام کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نظر آئے اورمجھے محسوس ہوا کہ انہیں زیادہ دبایا گیا تو پھر وہ بھی آستینیں چڑھا لیں گے اور جیل جانے سے بھی نہ گھبرائیں گے۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے خلاف فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے مسلم لیگ(ن) کمزور نہیں مضبوط ہوگی لیکن اس ملاقات کے اگلے ہی روز جو بارش ہوئی اسے دیکھ کر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ مسلم لیگ(ن) کے لئے اصل خطرہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ نہیں بلکہ وہ بدانتظامی ہے جو بارش کے بعد سامنے آئی۔ عمران خان نے اس بدانتظامی پر بھرپور تنقید کی ہے۔ گزشتہ دنوں بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات ہوئی تو پہلی دفعہ وہ مجھے اپنی پارٹی کی اندرونی گروپ بندی سے کافی پریشان نظر آئے۔

عمران خان’’جیپ‘‘ پر سوار آزاد امیدواروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجھے واضح طور پر کہا کہ یہ آزاد لوگ پورے سسٹم کو اپنا غلام بنا لیں گے۔ عمران خان سے گفتگو کے بعد میں نے ان کے ایک قریبی ساتھی سے کہا کہ مجھے الیکشن کے بعد سیاسی استحکام نظر نہیں آتا کیونکہ جن لوگوں کو عمران خان کا مدد گار سمجھا جارہا ہے عمران خان ان کا حسن انتخاب نہیں بلکہ مجبوری ہیں۔ دوسرے الفاظ میں نواز شریف اور آصف زرداری کے مقابلے پر عمران خان ایک چھوٹی برائی ہیں۔ اس چھوٹی برائی کو نواز شریف اور آصف زرداری کےسامنے کھڑا تو کردیا گیا ہے لیکن اس پر اعتماد نہیں کیا جارہا اور اسے قابو کرنے کے لئے جیپ سواروں کا ایک قافلہ تیار کرلیا گیا ہے۔ ان جیپ سواروں کے بارے میں آصف علی زرداری کے پاس بہت مزے مزے کے قصے ہیں۔ وہ کچھ دن سے لاہور میں بیٹھ کر جیپ سواروں کے ساتھ اگلے سیاسی معرکے کی تیاری کررہے ہیں۔ آصف زرداری کا خیال ہے کہ اگر وہ انتخابات کے التواء کا مطالبہ کردیتے تو ان کے ساتھیوں کو گرفتار کیا جاتا نہ بلاول پر لیاری میں پتھرائو ہوتا۔ انہوں نے لاہور میں ہنستے ہوئے مجھے بتایا کہ کس طرح ان کے ایک امیدوار کو زبردستی جی ڈی اے میں بھیجا گیا اور پھر کس طرح وہ اسے چھین کر واپس لائے اور یہیں سے وہ سرد جنگ شروع ہوئی جس کی جھلکی بلاول پر پتھرائو کی صورت میں نظر آئی لیکن پتھرائو نے پیپلز پارٹی کو نقصان کی بجائے فائدہ پہنچایا۔ 

بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھیوں کو خضدار میں کھلم کھلا دھمکیوں کے ذریعہ ایک نئی جماعت میں شامل کرایا جارہا ہے لیکن ایک سیاستدان ایسا بھی ہے جس نے مجھے دبا ئو کا کوئی قصہ نہیں سنایا بلکہ ان کے لب و لہجے میں مجھے ایک خوشگوار تبدیلی محسوس ہوئی۔ یہ تھے محترم مولانا فضل الرحمن صاحب جو ایم ایم اے کے ایک اجلاس میں شرکت کےلئے اسلام آباد آئے تو ان سے بھی کچھ باتیں ہوگئیں۔ 

مولانا صاحب کو یقین ہے کہ عمران خان وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے۔ وہ جیپ سواروں کے بارے میں شہباز شریف اور آصف زرداری والا لب و لہجہ بھی استعمال نہیں کررہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے عمران خان کے مدد گاروں کی صفوں میں کوئی نقب لگا لی ہے اور خاموشی سے کسی سرپرائز کی تیاری کررہے ہیں۔ سچی بات ہے مجھے خوشی ہوئی کہ مولانا صاحب نے کسی سے لڑائی جھگڑے کے بجائے خود کو واقعی ایک مقناطیس بنالیا ہے جو کسی اور طرف نہیں جارہا بلکہ سب کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ مولانا کے بارے میں کچھ لوگ بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں لیکن مولانا صاحب بڑا بول نہیں بول رہے۔ بڑا بول غرور کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غرور پسند نہیں۔ طاقت کا گھمنڈ بھی اچھی چیز نہیں۔ 

یہ خاکسار پچھلے دنوں جن سیاستدانوں کو ملا وہ بےبس نظر آئے۔ جن کے ہاتھوں یہ سیاستدان بےبس ہیں انہیں بھی اپنی طاقت پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہئے۔ اصغر خان کیس میں سب کے لئے سبق ہے۔ اس کیس میں اسلم بیگ، اسد درانی، نواز شریف اور دیگر کو سزا ہو یا نہ ہو لیکن اس کیس نے ان سب کو تاریخ کے ایک موڑ پر ایک مقام دے دیا ہے۔ آج پاکستان میں جو ہورہا ہے اس کا پول بیس سال بعد نہیں کھلے گا بلکہ 25جولائی 2018 کو کھل جائے گا۔ ایک بارش نے شہباز شریف کی بدانتظامی کا پول کھول دیا اگر ایسی ہی بدانتظامی اورکمزور انجینئرنگ 25 جولائی کو ہوئی تو وہ ہاہاکار مچے گی جو کسی کے روکنے سے بھی نہ رکے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  38216
کوڈ
 
   
مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے نمائندہ جی ایچ کیو نے بتایا پاک فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں، آرمی صرف امن اومان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے، آرمڈ فورسز ہمیشہ سول اداروں کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نواز کی ان کے وکلا سے ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق نوازشریف اورمریم نواز کا آج اڈیالہ جیل میں چھٹا روزہے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو جیل کا مکین ہوئے 11 دن ہوگئے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں انتخابی امیدواروں پر دہشت گردانہ حملوں سے پاکستان خوفزدہ ہونے والا نہیں ملک میں جمہوری انتخابی عمل جاری رہے گا۔
ترکی کی حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی دو سال بعد ختم کردی۔ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک دھڑے نے صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی تھی۔ اس بغاوت میں فوجیوں سمیت تقریب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں