Wednesday, 12 August, 2020
تعویزات، عملیات اور جنتر منتر

تعویزات، عملیات اور جنتر منتر
سعد اللہ جان برق کا کالم


اصولی طور پر تو اس جدید ترقی یافتہ اور علوم کی روشنی میں منور دور میں تو ہمات کو ختم یا کم ہونا چاہیے تھا لیکن برسرزمین ہم دیکھ رہے ہیں کہ علوم کی ترقی کے ساتھ تو ہمات اور خرافات بھی مسلسل ترقی کر رہی ہیں، بڑھ رہی ہیں، پھیل رہی ہیں حالانکہ بہت سارے امراض اب پرانے زمانے کی طرح تو ہمات کے بجائے خالص سائنسی ثابت ہو رہے ہیں۔

علاج معالجہ بھی تو ہمات سے نکل کر امراض کی حقیقت کے مطابق ہونے لگا ہے، مطلب یہ کہ روشنی ہر جہت میں مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن حیران کن حد تک توہمات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے، بہت ساری ’’ حقیقتیں ‘‘ تو ہمات ثابت ہو چکی ہیں اور تو ہمات سمجھی جانے والی چیزیں حقائق ثابت ہو رہی ہیں، خاص طور پر گزشتہ ایک صدی سے تو ایجادات، انکشافات اور علاج معالجہ میں ایک انقلاب آیا ہوا ہے۔
انسان اڑنے لگا ہے، ہزاروں لاکھوں میل پر ایک دوسرے کو دیکھ اور سن رہا ہے، وقت کی طنا بیں انسان کے ہاتھ میں آچکی ہیں، لگژریوں کا تو حساب ہی نہیں، موسموں پر قابو پایا جا چکا ہے، بارشوں طوفان کو پہلے سے دیکھنے لگا ہے ۔لیکن ساتھ ہی تو ہمات اور ٹونے ٹوٹکوں کے ذریعے شارٹ کٹ مارنے کا رحجان بھی برابر چل رہا ہے بلکہ کچھ تیز چل رہا ہے کیونکہ مشرق تو خیر مشرق ہے یورپ اور امریکا کے انتہائی ماڈرن سائنسی اور ترقی یافتہ معاشروں بھی ان ٹونے ٹوٹکوں تعویذات و عملیات جنتر منتر بھوت پریت اور روحوں اور جنات و شیاطین کے چکر چل رہے ہیں۔ بظاہر یہ حیرت زدہ کرنے والی بات ہے کہ انسان کا جسم مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور ذہن پیچھے کی طرف دوڑ رہا ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

اس کی وجہ یا وجوہات ایسی نہیں جنھیں ڈھونڈ نے کے لیے بہت بڑا محقق، دانشور یا فلسفی ہونا ضروری نہیں ہے۔ سامنے کی کی بات ہے جب عام آدمی کا جینا دو بھر ہو جائے ، معاشرہ حد درجہ نا ہموار ہو جائے، اونچ نیچ زمین و آسمان ہو جائے بلکہ صاف لفظوں میں کہئے کہ جب سب کچھ کرنے والے ، کمانے والے ، بنانے والے، محنت کش باوجود خون پسینہ بہانے کے نان شبینہ کے محتاج ہو جائیں، جب ان کی زندگی حیوانوں اور غلاموں سے بھی بدتر ہو جائے اور ایک مٹھی بھر اشرافیہ بغیر کچھ کیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے صرف باتیں کرکے آسمان ہو جائیں تو پھر معاشرہ لنگڑا ہو جاتا ہے اور لنگڑا کہیں نہ کہیں تو اپنا سہارا تلاش کرتا ہے۔ آخر اسے بھی جینا اور چلنا تو پڑتا ہے۔

جو ایک دانہ اناج پیدا نہیں کر سکتے ،جو ایک مٹھی ساگ بھی معاشرے کو نہیں دیتے، صرف باتوں کے بتنگڑ بنا کر سب کچھ ہڑپ کر رہے ہیں، اس کا اپنا کمایا ہوا نوالہ بھی اس کے منہ سے چھین رہے ہیں تو وہ بچارے کیا کریں گے، کہاں جائیں گے ،کس سے انصاف مانگیں گے ،کس سے فریاد کریں کہ اس کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں ،کوئی فریاد بھی سننے والا نہیں ہے تو اس قسم کے ’’ سہاروں ‘‘ کی پناہ لینے کی کوشش کریں گے جو ان کے مسائل حل کرے ،کچھ تسلی دے، کچھ امید دلائے، چاہے جھوٹ ہی سہی، ویسے بھی اس کے پاس ’’امید ‘‘ کے سوا اور بچا ہی کیا ہوتا ہے، پنڈورا کے بکس سے نکلنے والی تمام بلائیں تو اسے چمٹی ہوئی ہوتی ہیں۔

ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے

چنانچہ مرگ ناگہانی سے بچنے کے لیے وہ کہیں نہ کہیں سے ’’ امید ‘‘ کی تلاشی میں ہوتا ہے اور ظاہر کہ ’’ امید ‘‘ بجائے خود ایک جھوٹ ہی ہوتی ہے۔ تعویزات، عملیات ،جنتر منتر، جادو، بھوت  وغیرہ اسی ’’ امید ‘‘ کی دکانیں ہوتی ہیں، جو اصل میں اسی اشرافیہ کے ساجھے دار اور دوسرے روپ میں لٹیرے ہی ہوتے ہیں اور یہ کوئی نیا سلسلہ ہے بھی نہیں، انسان کے جتنا پرانا یہ ’’ امید فروشی ‘‘ کا دھندہ بھی ہے۔
قدیم مصر بابل عراق اور ہند میں بھی یہی سلسلہ تھا کہ جب ’’بادشاہ ‘‘ اورپروہت یعنی اشرافیہ کے ہاتھوں لٹ کر عوام مرگ ناگہانی تک پہنچ جاتے تھے تو اس وقت بھی یہ لٹیرے روپ بدل کر سامنے آتے تھے کہ تمہاری بد اعمالیوں کی وجہ سے ’’دیوتا ‘‘ تم پر ناراض ہو گئے، جلدی سے کچھ نذر و نیاز لاؤ تاکہ ہم تمہارے لیے دیوتاؤں کو راضی کر سکیں چنانچہ رہا سہا نوالہ بھی ان سے چھین لیتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے بچوں کی قربانی پر بھی تیار ہو جاتے تھے، عورتیں اپنی عصمتیں بھی پروہتوں کے ذریعے دیوتاؤں کی نذر کر دیتی تھیں۔

عہد قدیم میں وادیٔ دجلہ و فرات کی تہذیب میں یہ قانون تھا کہ کسی لڑکی کی اس وقت تک شادی نہیں ہوتی تھی جب تک و ہ اپنی عصمت کا پہلا تحفہ دیوتاؤں کی نذر نہ کرتی چنانچہ لڑکی جوان ہوتے ہی عشتار کے مندر کے آگے بیٹھ جاتی تھی اور جو کوئی اس کے دامن میں سکہ ڈال دیتا تھا، اس کے ساتھ مندر کے مخصوص کمروں میں چلی جاتی یا پھر ان مخصوص کمروں میں بیٹھ جاتی تھی یہاں تک کہ کوئی ’’ دیوتا ‘‘ انسانی روپ میں آکر اس کا نذرانہ قبول کر لیتا اور دیوتا تو کسی بھی روپ میں آسکتے تھے ،کسی پجاری، کسی شہزادے یا تاجر کے روپ میں ، یہ بھینٹ دینے کے بعد وہ شادی کرنے کی اہل ہو جاتی۔بعد کے ادوار میں تو غلاموں اور کنیزوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ۔

یہاں تک کہ لوگ خود ہی اپنی اولاد بیچنے پر مجبور ہو جاتے۔ کہیں کہیں آج بھی ایسا ہو رہا  ہے۔ لوگ ایسے والدین پر لعن طعن کر تے رہتے ہیں، فیشن ایبل نعروں والے حقوق نسواں کو برا بھلا تو کہتے ہیں لیکن یہ کسی نے نہیں دیکھا ہے کہ ایسے والدین کے پاس دوسرا کوئی چارہ ہوتا ہے کیا۔ ایک بیٹی بیچ کر دوسرے بچوں کو زندہ رکھنا اس کا شوق نہیں ہوتا ۔کونسے والدین چاہیں گے کہ ان کے جگر کے ٹکڑے مصیبت میں ہوں۔

اولاد تو ہر انسان بلکہ حیوانوں تک کو عزیز ہوتی ہے ۔کیا وہ باپ پاگل ہے ،کیا وہ اپنی اولاد کا دشمن ہے، جانور ہے جو اسے انگریزی اسکول کے  بجائے کسی مستری کے پاس مارپیٹ کے لیے بھیجتا ہے۔ جب ایک فرد باہر کی تمام دنیا ،حکومت محکموں ،دکانداروں، آجروں اور بالا دستوں کی مارسہہ کر گھر آتا ہے تو کیا وہ باؤلا ہوتا ہے جو اپنی پیاری بیوی اور بچوں کو مارنے پیٹنے لگتا ہے۔ اسے کہیں نہ کہیں تو اپنے اندر جمع ہونے والی بھڑاس کو بھی نکالنا ہوتا ہے ورنہ پھٹ جائے گا ؟ اور پھر یہ دونوں میاں بیوی کسی عامل کامل اور جنتر والے کے پاس لازماً جائیں گے  جو پہلے ہی سے چھری سان پر چڑھائے ان کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  27222
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
معاشرتی، معاشی اور جسمانی بیماریوں سے شکست خوردہ ایک شخص جاتے جاتے ہمارے ذمے بہت سے قرض چھوڑ گیا۔
ویسے تو پاکستان کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ہی برادرانہ رہے ہیں، مختلف علاقائی اور ملکی معاہدوں میں دونوں ملک شریک رہے ہیں۔ ان روابط کی جڑیں تاریخ کی گہرائی میںموجود ہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اب پاک ترک تعلقات کے بلندی کی طرف بڑھنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
صحافت پڑھتے پڑھاتے قریباً پندرہ برس گزر گئے اور تجربے سے یہی معلوم ہوا ہے کہ کتابی صحافت اور عملی صحافت قدرے مختلف ہیں۔ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صحافتی تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں جیسا کہ کچھ دوستوں نے سمجھ لیا ہے۔
چند روز قبل ایک میموریل تقریب کا اہتمام کیا گیا جو کہ خاصی مایوس کن رہی۔ اس اجلاس میں جو کناڈا کی قتل ہونے والی خاتون صحافی گوری لنکیش کی یاد میں منعقد کی گئی تھی جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اس میں بھاری تعداد میں صحافی حضرات آئیں گے خاص طور پر سینئر صحافی لیکن

مزید خبریں
سید منور حسن مسلم امہ کا اثاثہ و سرمایہ تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہو سکے گا۔
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔

مقبول ترین
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔
سعودی عرب کے سابق انٹیلجنس افسر کی شکایت پر واشنگٹن کی ایک امریکی عدالت نے سعودی بن سلمان ولی عہد کو طلب کرلیا ہے۔ سابق سعودی انٹیلی جنس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی غیر قانونی اراضی کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیشی منسوخ ہوگئی۔ نون لیگی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے نیب آفس بلایا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں