Sunday, 24 October, 2021
امریکی مظلوموں کی حمایت میں آواز اٹھانے کا وقت ہے

امریکی مظلوموں کی حمایت میں آواز اٹھانے کا وقت ہے
تحریر: سید ثاقب اکبر


25 مئی 2020 امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس کے ایسے مظالم طویل عرصے سے جاری ہیں۔

امریکی پولیس کے ہاتھوں ہر سال تقریبا 1200امریکی مارے جاتے ہیں۔ 99فیصد ایسے واقعات میں ملوث پولیس افسروں کے خلاف کبھی کوئی فرد جرم تک عائد نہیں ہوتی۔ یہ اعداد و شمار بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں۔ 

جارج فلائیڈ کی مظلومانہ ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس کے مظالم کی بہت سی ویڈیوز بھی پوری دنیا میں چل رہی ہیں۔ 

یوں معلوم ہوتا ہے کہ کالوں کے انسانی حقوق امریکہ میں نہیں ہوتے۔ آج ظلم و بربریت کے خلاف پورے امریکہ میں لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ انسانی شرف و عزت کے حصول کی جنگ ہے۔ یہ برابر کے حقوق کی جنگ ہے۔

کورونا میں مرنے والے کالے امریکیوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق سفید فام افراد کی نسبت سات گنا ہے۔ اس کی وجہ یہ  ہے کہ ہسپتالوں میں گوروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ویسے بھی جسمانی لحاظ سے کالوں میں مدافعتی قوت کم ہے۔

آج کرفیو کے باوجود امریکی عوام سڑکوں پر ہیں۔ فوج کی سنگینوں سے بے خوف آزادی کے متوالے ظالم سرمایہ داری نظام کے خلاف اپنی طرف سے آخری معرکہ لڑنے کے لیے نکل چکے ہیں۔

آج ضرورت ہے کہ ان کے حق میں پوری انسانیت آواز اٹھائے۔ کئی ممالک نے ان کی حمایت میں مظاہرے کیے ہیں۔ برطانیہ میں مظلوم کالے امریکیوں کی حمایت میں نکلنے والے عوام پر برطانوی پولیس نے ظلم ڈھایا ہے جو قابل نفرت او ر قابل مذمت ہے۔

ان مظلوموں کی حمایت کے سب سے زیادہ سزا وار بلالی اذان پر بے قرار ہونے والے مسلمان ہیں۔ جن کے نبیؐ نے فرمایا ہے کہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ فضیلت کا معیار تقوی ہے۔
ہمیں مظلوموں کی حمایت کا حکم دیا گیا ہے۔ 

افسوس ہماری وزارت خارجہ اس مسئلے پر مسلسل خاموش ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ گونگوں اور بہروں کی وزارت ہے۔ گویا اس میں پتھر رہتے ہیں جن کے سینوں میں دل نہیں دھڑکتا۔ یہ تو کشمیریوں کے لیے مشکل سے بولتے ہیں اور وہ بھی فقط بولتے ہیں۔

یہ وزیر خارجہ اور اس کے افسران بیس کروڑ غیرت مند اور انسانی جذبوں سے سرشار پاکستانیوں کے نمائندہ نہیں ہیں۔ ماضی میں دنیا میں ظالموں کی حمایت میں ان کے بیانات ان کے ماتھے پر کلنک اور رسوائی کا ٹیکہ ہیں۔ اس رسوائی کا داغ مٹانے کے لیے وزارت خارجہ کو امریکہ کے کالوں کے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہیے۔ امریکہ سالہا سال سے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتا چلا آیا ہے۔ انسانی حقوق کے نام پر پاکستان اور دیگر ملکوں پر پابندیاں لگاتا رہا ہے۔ آج بھی امریکہ کی وجہ سے پاکستان پر FATFکی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے شکار ممالک کے ساتھ مل کر امریکی مظلوموں کے خلاف مشترکہ طور پر آواز اٹھائے۔

اے مسلمانو! ہم اس قرآن کے ماننے والے ہیں جو کہتا ہے کہ کسی ایک انسان کا ناحق قتل ساری انسانیت کا قتل کے مترادف ہے۔

امریکہ میں انسانیت قتل ہورہی ہے اس پر ہم فریاد کناں ہیں۔ یا اللہ امریکہ کے پسے ہوئے محروم انسانوں کو ظالم حکمرانوں سے نجات عطا فرما۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور البصیرہ کے سربراہ ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  24619
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
میں نہیں مانتا جب لوگ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی پہچان اس کا حسن جھرنیں آبشاریں اور آسمان کو چھوتی بلند و بالا چوٹیاں ہیں گلگت بلتستان کا حسن تو سید مہدی تھے یہ بلند چوٹیاں تو ان کے پاؤں کی دھول بھی نہ ہیں وہ نہ رہے تو جی بی کے جھرنے ترنم کیسے بپا کر سکتے ہیں یہ گھاٹیاں
یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ افراد یا گروہ نئے سرے سے فرقہ واریت کو پھیلانے میں سرگرم ہوگئے ہیں یا فرقہ واریت کے سلیپر سیلز پھر سے متحرک کیے جارہے ہیں۔ اس کے لیے وہ تمام افراد جنھوں نے پاکستان میں فرقہ واریت کے خلاف سالہا سال جدوجہد کی ہے انھیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اپنی طاقتوں کو نئے سرے سے مجتمع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ واریت کی نئی لہر کا مقابلہ کیا جاسکے۔

مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں