Wednesday, 14 November, 2018
فتنے کو فتنے سے نہیں مارا جا سکتا

فتنے کو فتنے سے نہیں مارا جا سکتا
وسعت اللہ خان کا کالم

 

حیوان اور انسان میں سوائے اس کے کیا فرق ہے کہ حیوان کے تمام افعال جبلت کے تابع ہوتے ہیں اور انسان کے افعال عقل کے۔اگر انسان بھی عقل کو معطل کر کے محض جبلت پر اتر آئے تو پھر دونوں مساوی ہیں۔

قانونِ فطرت کے دو ستون ہیں۔ طاقت اور کمزوری۔ چونکہ جانور جبلت کے تابع ہیں لہذا جنگل کا قانون بھی جبلت کے انھی دو ستونوں پر استوار ہے یعنی طاقت اور کمزوری۔یہ عقل ہی بتاتی ہے کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں۔یا جبلت کے تحت زندگی بسر کرتے ہوئے جانور کے ہم پلہ بنے رہو یا جبلت کو عقل کے تابع کر کے طاقت کی ناک میں نتھ ڈالو اور کمزور کو بھی جینے کا حق دو اور اس کام کے لیے ایسے قوانین اور ادارے تشکیل دو جو طاقت بے لگام نہ ہونے دیں اور کمزور کو طاقت کا نوالہ نہ بننے دیں۔ لہذا جسے ہم انسانی تہذیبی ارتقا کہتے ہیں وہ جبلت کا نہیں عقل کا تحفہ ہے۔

( فی الحال میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ عقل کامل ہے کہ ناقص یا عقل کے پردے میں انسان نے ایک دوسرے کو کس طرح جبلی انداز میں نیچا دکھانے کے لیے ظلم کا کاروبار گرم کیا۔عقل جیسی بھی ہے فی الحال ہمیں جبلت کی زیادتیوں سے بچانے کے لیے یہی میسر ہے۔ اگر کوئی عقل سے ماورا نظام تلاش کر لے جو عقل کی خرابیوں سے پاک ہو تو نہایت خوشی ہوگی۔لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا۔ بے لگام جبلت کے مقابلے کے لیے عقل پر ہی تکیہ کرنا ہماری مجبوری ہے)۔

چنانچہ اندھی طاقت سے کمزور کو بچانے کے لیے انسانی تہذیب نے ارتقائی سفر میں جو ادارے تشکیل دیے ان میں سب سے پہلے ریاست اور پھر عدالت ہے۔ ریاست کی تشکیل کے لیے فرد اور طاقتور کے درمیان روسو کے نظریہِ معاہدِہِ عمرانی (سوشل کنٹریکٹ) اور قدیم تصورِ ریاست میں بادشاہ اور عدالت کی یکجائی سے پیدا ہونے والے مسائل ِ عدل کو فاسٹ فارورڈ کرتے ہوئے جدید ریاست اور جدید عدالتی تصور کی جانب آتا ہوں۔یہ دونوں تصورات اگرچہ مغربی نشاۃ ثانیہ کی پیداوار ہیں مگر آج کی دنیا میں قائم دو سو سے زائد ریاستیں اسی جدید تصور کی پیداوار ہیں بھلے ان کا طرز ِ حکومت و نظریہ و نظام کچھ بھی ہو۔

ہر ملک میں بسنے والا ہر گروہ بلاامتیاز طبقہ رنگ و نسل ریاستی یکجہتی کی قیمت کے طور پر ایک ہی عدالتی نظام پر اتفاق کرنے پر مجبور ہے۔اس عدالتی نظام کی خوبیوں اور خامیوں پر قیامت تک بحث ہو سکتی ہے۔اسے بہتر سے بہتر بنانے کے لیے لاتعداد تجاویز دی جا سکتی ہیں۔اس کے فیصلوں سے شدید اختلاف و اتفاق کیا جا سکتا ہے مگر ریاستی حدود کے اندر یا باہر کسی شہری، گروہ، تنظیم یا ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عدلیہ کے ادارے کو ہی چیلنج کر دے یا اس کا وجود ماننے سے ہی انکار کردے۔

کیونکہ عدلیہ ریاستی دیوار کے بیچ کی وہ اینٹ ہے اور ایک ایسے زاویے پر نصب ہے کہ اسے نکال دینے کا مطلب ہے کہ ہر ریاستی ادارہ دھڑام سے زمیں بوس ہو جائے اور ریاست دیکھتے ہیں دیکھتے ملبے کا ڈھیر بن جائے گی۔حکومتیں ختم ہو جائیں تو پھر تشکیل دی جا سکتی ہیں۔ فوج ختم ہو جائے تو دوبارہ کھڑی کی جا سکتی ہے مگر ناقص سے ناقص متفق علیہہ عدلیہ بھی ختم ہو جائے تو ہر طرف انارکی کا جنگل چشمِ زدن میں نمودار ہو جاتا ہے۔ایک بار انارکی کا جن بوتل سے نکل جائے تو اسے سوائے قانون اور عدالت کے کوئی بوتل میں نہیں ڈال سکتا۔ لیکن اگر عدل کی بوتل ہی توڑ دی جائے تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا۔

اگر تمام مذاہب و نظریات عدل کے قیام اور معیار پر تواتر سے زور دیتے ہیں۔اگر ہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول لاکھوں بار دوہرانے سے نہیں تھکتے کہ کفر کی حکومت چل سکتی ہے مگر ناانصاف ریاست نہیں چل سکتی ، اگر ہم چرچل سے منسوب یہ بات اپنے بچوں کو سناتے ہوئے بیزار نہیں ہوتے کہ ملک چلے نہ چلے عدالت کا کام نہیں رکنا چاہیے توان تمام باتوں کے کچھ معنی ہیں۔ عدالت عام آدمی اور ریاست اور فرد و فرد کے درمیان وہ چھلنی ہے جس کا کام ظلم و ناانصافی کو روکنا ہے۔اور جب کوئی اس چھلنی کو ہی توڑنا چاہے تو اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔

پاکستان کا نظامِ انصاف پاکستانی آئین کے تابع ہے۔جیسا آئین ہوگا ویسی عدلیہ ہو گی۔عدلیہ بالائے آئین فیصلے نہیں کر سکتی۔عدلیہ نیچرل لا کے بنیادی اصولوں سے بھی انحراف نہیں کر سکتی۔عدلیہ آئینی و قانونی سقم کی جانب توجہ ضرور دلا سکتی ہے ، آئین و قانون کی تشریح کر سکتی ہے مگر نہ قانون بنا سکتی ہے نہ ازخود بدل سکتی ہے۔عدلیہ کسی مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، ہندو ، احمدی ، پارسی کو انصاف نہیں دیتی بلکہ ریاست کے شہریوں ، انسانوں اور جانوروں کے لیے مساوی نگاہ سے دستیاب حقائق و منطق کی روشنی میں فیصلے کرتی ہے۔

چونکہ جج بھی انسان ہیں اور انسان سے غلطی ہوتی ہے لہذا غلطی کا امکان کم سے کم رکھنے کے لیے فیصلوں کے خلاف اپیل اور جج کے اخلاقی و قانونی کنڈکٹ کی جانب توجہ دلانے اور شنوائی کے لیے بھی باقاعدہ فورم موجود ہیں۔

اس کے باوجود اگر کوئی فرد ، گروہ ، ادارہ یا تنظیم بھلے کتنے ہی اعلی مقاصد کے نام پر سہی کسی عدالت کا حتمی فیصلہ ماننے سے انکار کردے یا عدالت کو ہی جڑ سے اکھاڑ دینے کی دھمکی دے اور اس کے نتیجے میں سماجی و قانونی نظام تتر بتر ہونے لگے تو یہ توہینِ عدالت نہیں فتنہ ہے ، ہر اعتبار سے فتنہ۔اور فتنے کے تدارک کے لیے آئین و قانون میں جو طریقہ موجود ہے اس کا پوری قوت سے حرکت میں آنا لازم ہے بصورتِ دیگر صرف عدلیہ کا نہیں ریاست کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

بات چیت مخالف سے ممکن ہے مگر فتنہ گروں سے نہیں اگر وہ اظہار ندامت نہ کریں اور ریاستی آئین و قانون و عدلیہ پر مکمل اعتماد کا حلف نہ اٹھائیں۔ فتنہ گر صرف وہی نہیں جو ریاست و ریاستی اداروں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دے بلکہ وہ عناصر اور گروہ بھی ہیں جو بظاہر آئین و قانون و ریاست سے وفاداری کا دم بھریں مگر اپنے قول و فعل سے فتنہ پردازوں کی مدد کریں اور ریاست کی جڑیں کھوکھلی کریں۔

جب ریاست وسیع تر مفاد میں اور افراتفری سے بچنے کے لیے فتنہ گروں کے سامنے لچک دکھاتی ہے تو فتنہ گر اسے ریاست کی کمزوری سمجھتے ہیں۔جب ریاست ان کے چند ناجائز مطالبات فساد کو پھیلنے سے روکنے کا سوچ کے مان لیتی ہے تو فتنہ گر اسے اخلاقی فتح سمجھ کر مزید مطالبات پیش کر دیتے ہیں اور یوں یہ سلسلہ ریاست پر قبضے یا ریاست کے خاتمے پر ہی منتج ہوتا ہے۔

فتنہ گر کی نشانی یہ ہے کہ آپ انھیں بوٹی دیں گے تو یہ اگلا مطالبہ بکرے کا کریں گے۔ آپ بکرا پیش کریں گے تو یہ ریوڑ مانگیں گے ، آپ ریوڑ ان کے حوالے کریں گے تو یہ طویلے پر قبضہ کرنے کا سوچیں گے۔وائرس بات چیت کے جوشاندے سے نہیں اینٹی بائیوٹک سے بھاگتا ہے۔

یہ ایک مسلسل لڑائی ہے مگر کوئی بھی لڑائی عوام کی مدد کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔اور عوام تک پہنچے کا راستہ میڈیا ہے۔اگر ریاست کو واقعی انتہا پسندی کو باندھنا ہے تو پھر میڈیا کو اپنے اور عام آدمی کے درمیان پل بنانا ہوگا۔ اگر ریاست چلانے والوں نے یہ پل ہی توڑ دیا یا اس پر کانٹے بکھیر دیے تو پھر ریاست اور فتنہ گروں کے درمیان سوائے افواہ اور جھوٹ کی دھند کے کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔

آخری بات۔فتنے کو فتنے سے نہیں مارا جا سکتا۔ فتنے کو صرف سچائی اور سچائی کی بنیاد پر ثابت قدمی ہی مار سکتی ہے۔کیا آپ یہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  70073
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
آپ سب کو مبارک ہو۔ پاکستان پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹارہا ہے۔ میاں شہباز شریف حراست میں لے لئے گئے۔ آغاز ہفتہ کراچی اسٹاک ایکسچینج بہت نیچے چلی گئی۔ لوگ سمجھے کہ یہ گرفتاری کا ردّ عمل ہے۔ لیکن اسٹاکس کے ایک بڑے بروکر
بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ایک محاورہ ہے اور ہم لوگ گزشتہ 70برس سے مختلف ادوار میں اس محاورے کو فقرے میں استعمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ متذکرہ محاورے کو فقرے میں استعمال کرنے والے امتحانی نقطہ نظر سے ایسا نہیں کرتے۔
امریکہ اپنے ڈومورکے مطالبے پر قائم ہے مگر دھیمے لہجے کے ساتھ، مائیک پومپیو یہ کہہ کر گئے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کرے جبکہ پاکستان اپنے فیصلے پر قائم ہے کہ وہ امریکہ کی جنگ نہیں لڑے گا اور اپنے مفادات کو مقدم رکھے گا۔
6 ستمبر قوم کی وحدت، عظمت، عزیمت اور شجاعت کا استعارہ بن گیا ہے جو ہمارے جذبوں اور حوصلوں کو گرماتا رہتا ہے۔ میں نے اس درخشندہ اور تابندہ استعارے کو تمام تر وسعتوں کے ساتھ اپنی تازہ ترین تصنیف ’’جنگ ِ ستمبر کی یادیں‘‘ میں محفوظ کر لیا ہے۔

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں