Monday, 28 September, 2020
امریکہ نہیں طالبان بھی ہارگئے!

امریکہ نہیں طالبان بھی ہارگئے!
ظہیرالدین بابرکا کالم

بلاشبہ امریکہ طالبان معاہدہ خدشات اور اندیشوں کے باوجود تاریخی پیش رفت ہے، ہم جانتے ہیں کہ مشکل مسائل کا آسان حل نہیں ہوا کرتا چنانچہ  آئندہ دنوں میں مذکورہ معاہدے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے فریقین  کے عزم اور نیت کو  بنیادی عمل دخل حاصل ہوگا، بادی النظر میں 19سالہ طویل جنگ سے جہاں واشنگٹن بیزار ہوا  وہی طالبان کو بھی دور دور تک حتمی فتح ملنے کا امکان دکھائی نہ دیا ، چنانچہ   دونوں حریفوں کا بھرم اسی طرح ہی  قائم رہ سکتا تھا کہ کچھ لو اور کچھ دو کو معاہدے کا نام دے کر”عزت“ بچا لی جائے،  نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ اور طالبان ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوئے جس کا خمیازہ واشنگٹن اور جنگجوؤں نے کم جبکہ لاکھوں  افٖغان شہریوں نےقربانی دے کر زیادہ بھگتا،  دوحہ  معاہدے کے درپردہ پاکستان، چین اور روس کی درپردہ کوششوں کا بڑاعمل دخل تھا جنھیں بالاآخر کسی نہ کسی شکل میں کامیاب ملی۔  

آثار و واقعات گواہی دے رہے کہ افغانستان میں امن وامان کا قیام آسان نہیں ہوگا  چنانچہ اشرف غنی   اور طالبان کی باہمی  کشیدگی کسی باخبر کے لیے حیران کن نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان میں آج تک مسائل   بات چیت کی بجائے بندوق کیذریعہ حل کیے جاتے رہے، قوی امکان ہے کہ اس بار بھی کہیں نہ  کہیں کسی نہ کسی شکل میں ایسے حالات پیدا ہوجائیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پرکسی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوں، بدلے ہوئے حالات میں واشنگٹن  ہی نہیں امریکہ، طالبان، افغان حکومت سمیت کئی اوراسٹیک ہولڈرز کی  ذمہ داریاں بھی  بڑھ چکیں یہی سبب ہے کہ  بہتری کی توقعات لگانا آساں نہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ بظاہرافغان قیادت بھی کچھ لو اور کچھ دو پر یقین نہیں رکھتی، گزرے ماہ وسال  کی طرح طالبان اب بھی بندوق کے زور پر کابل پر حکومت قائم کرنے کے درپے ہیں، کوئی تسلیم کر ے یا نہ کرے مگر سچ یہی ہے کہ افغان طالبان سو فیصد یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے انھیں اقتدار منتقل کرنے کی واحد وجہ ان کی عسکری قوت ہی ہے، مبصرین کے خیال میں   طالبان قیادت کے دل وماغ میں موجود یہ تاثر انتہائی خطرناک ہے کہ طاقت اور صرف طاقت ہی ان کی کامیابی کی واحد بنیاد ہے چنانچہ ممکن ہے کہ  مسلح گروہ پھرمخالفین پر چڑھ دوڑیں جس کا نتیجہ تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں نکلنے والا۔ اس پس منظر میں  چین اور روس جیسی علاقائی طاقتیں تبہی مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں جب فریقین کچھ لو اور کچھ دو پر یقین رکھیں۔

نئی پیش رفت بھارت کے لیے کسی طور پر خوش کن نہیں، مودی سرکار کو کروڑوں نہیں اربوں روپے کی سرمایہ کاری افغانستان میں ڈوبتی ہوئی محسوس ہورہی ہے، دراصل بی جے پی یہی سمجھتی رہی کہ امریکہ کسی طور پر کابل حکومت کی سرپرستی سے دستبردار نہ ہوگا، نئی دہلی یہ بھی یقین تھا کہ چین  اور روس پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا واشنگٹن کا انتخاب نہیں مجبوری بن چکا، مگر افسوس کہ چانکیہ سیاست کے پیروکار  تمام تر چالاکی اور مکاری کے باوجود یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ عصر حاضر کی سیاست میں معیشت کا کردار فیصلہ کن ہوچکا، اسی لیے 1992میں امریکی صدراتی امیدوار بل کلنٹن کی انتخابی ٹیم کے نمایاں شخص جمیز کارویل  کا یہ جملہ  مخالفین بارے  مشہور ومعروف  ہوا کہ" The economy,stupid"۔ بدلے ہوئے حالات میں واشنگٹن افغانستان میں موجودگی تو چاہتا ہے مگر طالبان کے ساتھ 19سالہ طویل جنگ کا ختم  کرنا اس کی نمایاں ترجیحات میں شامل ہوچکا، یہی سبب ہے کہ ٹرمپ سرعام مودی کے کابل میں لائبیری کھولنے کے کارنامہ کا مذاق اڑاتے رہے۔ 
 
افغانستان میں  قبائلی معاشرے ہونے کی حیثت سے طالبان نے زمینی حقائق کو مدنظر کر اپنی حکمت عمل ترتیب دی،  افغان شہریوں کی مدد سے  ایسی گوریلا جنگ لڑی گی جس  میں دشمن کی پہچان آسان نہ رہی۔چنانچہ جب جب امریکہ نے طالبان کے نام پر بمباری کی تو اس کا نتیجہ افغان عوام کی مذید مخالفت کی شکل میں سامنے آیا، سارے معاملہ میں طالبان کو بے قصور کہنا ہرگز انصاف نہیں، گذشتہ سالوں میں  طالبان نے جس  بے دردی سے  مخالفین کو نشانہ  بنایا  وہ  کوئی راز  نہیں ِ،  جنگجوؤں کے   کے پے درپے خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں  غیر ملکی اور افغان فورسز ہی جان سے نہیں گئیں بلکہ  ہزاروں بے گناہ بھی اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے،  افغانستان میں حالات بہتر ہونے کے بعد اگر کسی نے  جنگ کی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا تو  طالبان کا ہولناک  کردار سامنے آنا ہرگز حیران کن  نہیں ہوگا، بقول شاعر 

شماراس کی سخاوت کا کیا کریں 
چراغ بانٹتا پھرتا ہے  چھین کر آنکھیں 

اب پاکستان کو صورت حال پر گہری نگاہ رکھنا ہوگی، اسلام آباد کو جان لینا چاہے کہ کامیابی کے تو 100باپ ہوتے ہیں مگر ناکامی کا کوئی نہیں، کسی ناخوشگوار صورت حال کے بعد آئندہ دنوں میں یہ ہرگز حیران کن نہ ہوگاکہ امریکہ اورطالبان ہی نہیں دیگر   فریقین پر بھی پاکستان پر الزام تراشیوں کا آغاز کردیں، سمجھ لینا چاہے کہ  افغانستان میں قیام امن کی منزل تاحال  دور ہے جس کے لیے صبر اور حکمت سے کام لینے کے علاوہ دوسرا کوئی اورراستہ نہیں بچا، پاکستان کی حد تک یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ خطے میں قیام امن  اسلام آباد کی خواہش نہیں ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار سینئر صحافی، کالم نویس اور نیوز اینکر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  99028
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
25 مئی 2020 امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس کے ایسے مظالم طویل عرصے سے جاری ہیں۔
افغانستان میں قتل وغارت گری کے حالیہ واقعات نے طویل عرصے سے جنگ سے تباہ حال ملک بارے امن کی امید کو ناامیدی میں بدل رہے ہیں، کابل میں زچہ وبچہ وارڈ میں ماؤں اور نونہالوں کا قتل جاری خون ریزی کے بدترین واقعات میں اپنی جگہ بنا گیا ، ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دہشت گرد عناصر کسی مذہبی و اخلاقی اصول پر پورے نہیں اترتے،
تندرستی ہزارنعمت ہے صحت مندجسم صحت منددماغ ہوتا ہے اس لئے اچھی صحت کے لئے درج ذیل ہدایات اورپرہیزپرعمل کیجئے اوربیماریوں سے دوررہیں اورصحت مندوتوانازندگی گزاریں۔ اچھی صحت کے لئے حیوانات سے حاصل ہونے والی اشیا ء کم سے کم استعمال کریں۔ چربی لگا گوشت بہت کم کھائیں۔ دخانی عمل سے پکائی ہوئی غذا /فاسٹ فوڈبالکل نہ کھائیں۔
عالمی ادارہ صحت نے خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ جولائی کے وسط تک پاکستان میں 2 لاکھ کورونا وائرس کے کیسز ہوسکتے ہیں، ڈبیلو ایچ او کو اس پر بھی تشویش ہے کہ سندھ اور پنجاب میں عالمی وبا سے متاثر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ،اس پر یہ دلیل بھی سامنے آچکی کہ لاک ڈاؤن میں مذید 2 ہفتوں کی توسیع کی ایک وجہ دراصل یہی ڈبلیو ایچ او کی وارننگ ہے

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اہم بین الاقوامی اورعلاقائی امور پرپاکستان کا موقف وضاحت، جرات وتدبر اوربصیرت سے بیان کیا۔ ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ نے وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر ٹوئٹر کے ذریعے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ مجھے سزا دیتے دیتے ملک کو ڈبو دیا۔ اپنے تازہ ٹوئیٹ میں انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر، معزول کیے گئے احتساب عدالت کے جج
سانحہ اے پی ایس کی جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں دھمکیوں کے بعد سکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سانحہ اے پی ایس پر بننے والی جوڈیشل انکوائری کمیشن نے سانحے کی رپورٹ پبلک کردی ہے
24 ممالک کے دفاعی اتاشیوں، سفیر اور سفارتکاروں کے وفد نے ایل او سی کا دورہ کیا جہاں انہیں بھارتی فورسز کی خلاف ورزیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ میڈیا کے مطابق 24 ممالک کے سفیر، سفارتکار اور دفاعی اتاشیوں نے ایل او سی کا دورہ کیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں