Sunday, 05 April, 2020
امریکہ نہیں طالبان بھی ہارگئے!

امریکہ نہیں طالبان بھی ہارگئے!
ظہیرالدین بابرکا کالم

بلاشبہ امریکہ طالبان معاہدہ خدشات اور اندیشوں کے باوجود تاریخی پیش رفت ہے، ہم جانتے ہیں کہ مشکل مسائل کا آسان حل نہیں ہوا کرتا چنانچہ  آئندہ دنوں میں مذکورہ معاہدے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے فریقین  کے عزم اور نیت کو  بنیادی عمل دخل حاصل ہوگا، بادی النظر میں 19سالہ طویل جنگ سے جہاں واشنگٹن بیزار ہوا  وہی طالبان کو بھی دور دور تک حتمی فتح ملنے کا امکان دکھائی نہ دیا ، چنانچہ   دونوں حریفوں کا بھرم اسی طرح ہی  قائم رہ سکتا تھا کہ کچھ لو اور کچھ دو کو معاہدے کا نام دے کر”عزت“ بچا لی جائے،  نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ اور طالبان ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوئے جس کا خمیازہ واشنگٹن اور جنگجوؤں نے کم جبکہ لاکھوں  افٖغان شہریوں نےقربانی دے کر زیادہ بھگتا،  دوحہ  معاہدے کے درپردہ پاکستان، چین اور روس کی درپردہ کوششوں کا بڑاعمل دخل تھا جنھیں بالاآخر کسی نہ کسی شکل میں کامیاب ملی۔  

آثار و واقعات گواہی دے رہے کہ افغانستان میں امن وامان کا قیام آسان نہیں ہوگا  چنانچہ اشرف غنی   اور طالبان کی باہمی  کشیدگی کسی باخبر کے لیے حیران کن نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان میں آج تک مسائل   بات چیت کی بجائے بندوق کیذریعہ حل کیے جاتے رہے، قوی امکان ہے کہ اس بار بھی کہیں نہ  کہیں کسی نہ کسی شکل میں ایسے حالات پیدا ہوجائیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پرکسی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوں، بدلے ہوئے حالات میں واشنگٹن  ہی نہیں امریکہ، طالبان، افغان حکومت سمیت کئی اوراسٹیک ہولڈرز کی  ذمہ داریاں بھی  بڑھ چکیں یہی سبب ہے کہ  بہتری کی توقعات لگانا آساں نہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ بظاہرافغان قیادت بھی کچھ لو اور کچھ دو پر یقین نہیں رکھتی، گزرے ماہ وسال  کی طرح طالبان اب بھی بندوق کے زور پر کابل پر حکومت قائم کرنے کے درپے ہیں، کوئی تسلیم کر ے یا نہ کرے مگر سچ یہی ہے کہ افغان طالبان سو فیصد یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے انھیں اقتدار منتقل کرنے کی واحد وجہ ان کی عسکری قوت ہی ہے، مبصرین کے خیال میں   طالبان قیادت کے دل وماغ میں موجود یہ تاثر انتہائی خطرناک ہے کہ طاقت اور صرف طاقت ہی ان کی کامیابی کی واحد بنیاد ہے چنانچہ ممکن ہے کہ  مسلح گروہ پھرمخالفین پر چڑھ دوڑیں جس کا نتیجہ تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں نکلنے والا۔ اس پس منظر میں  چین اور روس جیسی علاقائی طاقتیں تبہی مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں جب فریقین کچھ لو اور کچھ دو پر یقین رکھیں۔

نئی پیش رفت بھارت کے لیے کسی طور پر خوش کن نہیں، مودی سرکار کو کروڑوں نہیں اربوں روپے کی سرمایہ کاری افغانستان میں ڈوبتی ہوئی محسوس ہورہی ہے، دراصل بی جے پی یہی سمجھتی رہی کہ امریکہ کسی طور پر کابل حکومت کی سرپرستی سے دستبردار نہ ہوگا، نئی دہلی یہ بھی یقین تھا کہ چین  اور روس پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا واشنگٹن کا انتخاب نہیں مجبوری بن چکا، مگر افسوس کہ چانکیہ سیاست کے پیروکار  تمام تر چالاکی اور مکاری کے باوجود یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ عصر حاضر کی سیاست میں معیشت کا کردار فیصلہ کن ہوچکا، اسی لیے 1992میں امریکی صدراتی امیدوار بل کلنٹن کی انتخابی ٹیم کے نمایاں شخص جمیز کارویل  کا یہ جملہ  مخالفین بارے  مشہور ومعروف  ہوا کہ" The economy,stupid"۔ بدلے ہوئے حالات میں واشنگٹن افغانستان میں موجودگی تو چاہتا ہے مگر طالبان کے ساتھ 19سالہ طویل جنگ کا ختم  کرنا اس کی نمایاں ترجیحات میں شامل ہوچکا، یہی سبب ہے کہ ٹرمپ سرعام مودی کے کابل میں لائبیری کھولنے کے کارنامہ کا مذاق اڑاتے رہے۔ 
 
افغانستان میں  قبائلی معاشرے ہونے کی حیثت سے طالبان نے زمینی حقائق کو مدنظر کر اپنی حکمت عمل ترتیب دی،  افغان شہریوں کی مدد سے  ایسی گوریلا جنگ لڑی گی جس  میں دشمن کی پہچان آسان نہ رہی۔چنانچہ جب جب امریکہ نے طالبان کے نام پر بمباری کی تو اس کا نتیجہ افغان عوام کی مذید مخالفت کی شکل میں سامنے آیا، سارے معاملہ میں طالبان کو بے قصور کہنا ہرگز انصاف نہیں، گذشتہ سالوں میں  طالبان نے جس  بے دردی سے  مخالفین کو نشانہ  بنایا  وہ  کوئی راز  نہیں ِ،  جنگجوؤں کے   کے پے درپے خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں  غیر ملکی اور افغان فورسز ہی جان سے نہیں گئیں بلکہ  ہزاروں بے گناہ بھی اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے،  افغانستان میں حالات بہتر ہونے کے بعد اگر کسی نے  جنگ کی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا تو  طالبان کا ہولناک  کردار سامنے آنا ہرگز حیران کن  نہیں ہوگا، بقول شاعر 

شماراس کی سخاوت کا کیا کریں 
چراغ بانٹتا پھرتا ہے  چھین کر آنکھیں 

اب پاکستان کو صورت حال پر گہری نگاہ رکھنا ہوگی، اسلام آباد کو جان لینا چاہے کہ کامیابی کے تو 100باپ ہوتے ہیں مگر ناکامی کا کوئی نہیں، کسی ناخوشگوار صورت حال کے بعد آئندہ دنوں میں یہ ہرگز حیران کن نہ ہوگاکہ امریکہ اورطالبان ہی نہیں دیگر   فریقین پر بھی پاکستان پر الزام تراشیوں کا آغاز کردیں، سمجھ لینا چاہے کہ  افغانستان میں قیام امن کی منزل تاحال  دور ہے جس کے لیے صبر اور حکمت سے کام لینے کے علاوہ دوسرا کوئی اورراستہ نہیں بچا، پاکستان کی حد تک یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ خطے میں قیام امن  اسلام آباد کی خواہش نہیں ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار سینئر صحافی، کالم نویس اور نیوز اینکر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  39312
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ایک طرف امریکا کو کرونا وائر س کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں اور دوسری طرف ایسی خبریں آرہی ہیں جن کے مطابق امریکی افواج عراق میں کسی نئی مہم جوئی کی تیاری کررہی ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا یہ غلطی کرے گا؟
دنیا کا طاقتور ترین ملک امریکہ آج کہاں کھڑا ہے یہ وہ ملک ہے جس کو باہر سے دیکھنے والے دنیا کی محفوظ ترین جگہ تصور کرتے ہیں۔یہاں دنیا کی ہر سہولت کا خیال رکھا جاتا ہے اور پوری دنیا کے باسی یہاں رہنے کو اپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں آج 30 مارچ حالات یہاں پہ تبدیل ہوچکے ہیں امریکہ میں ایک لاکھ افراد سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں
اور آخر کار اہلیان دہلی نے بی جے پی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر ثابت کر دیا ہے کہ نفرت پھیلانے ،امن غارت کرنے اور انسانی حقوق کی پامالی کے ماسٹر مائنڈ کسی بھی ریاست کے رہنما نہیں بن سکتے ،دہلی میں بی جے پی کی ساری قیادت
وزیر اعظم پاکستان، عمران خان، کشمیر، امریکہ، صدر ٹرمپ، بھارت، مودی

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہر قیمت پر اپنے عوام اور ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی مناسبت سے جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ 25 اپریل تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ حکومت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے قومی ایکشن پلان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ حکومت کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض بھارتی فوج نے جنت نظیر وادی کے ضلع کلگام کے خارجی اور داخلی راستوں کو بند
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے سرحد کھولنے کی درخواست کی گئی تھی۔ پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے، افغان حکومت کی خصوصی درخواست اور انسانی ہمدردی پر اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں