Sunday, 31 May, 2020
8 مئی! ریڈکراس / ریڈکریسنٹ کا عالمی دِن

8 مئی! ریڈکراس / ریڈکریسنٹ کا عالمی دِن
تحریر: وقار فانی مغل

ڈیڑھ صدی قبل ایک سوئس تاجر کی جانب سے خدمت ِ انسانیت کیلئے ''تحریک'' اب پوری دنیا میں ریڈکراس اور ہلالِ احمر کی صورت موجود ہے۔ جنگی زخمیوں کی دیکھ بھال کی ہنری ڈوننٹ کی سوچ نے رضاکارانہ جذبوں کو فروغ دیا اور آج ہر مذہب کا ماننے والا رضاکارانہ خدمت کیلئے ہمہ وقت موجود پایا جاتا ہے۔یہ کردار کا حسن ہے کہ اِسے زنگ نہیں لگتاہے، یہ کردار انفرادی ہو یا اجتماعی اِس کا نتیجہ مثبت ہی آتا ہے۔ وطن ِ عزیز میں ریڈکراس/ ریڈکریسنٹ موومنٹ سے وابستہ ہلالِ احمر اپنی ایک تابناک، روشن تاریخ رکھتا ہے۔ 

ہلالِ احمر کی باگ ڈور اِن دِنوں معروف شخصیت جناب ابرار الحق کے ہاتھ میں ہے اور صحافتی، سماجی، اخلاقی میدانوں کا شاہ سوار سپوت منگ خالد بن مجید سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ہلالِ احمر کو ایمرجنسی ریسپانس میں ملکہ حاصل ہے، 2005ء کے بدترین زلزلہ میں ہلالِ احمر کو عالمی سطح پر وہ پذیرائی ملی جس کی آج بھی پوری دنیا معترف ہے۔ ہلالِ احمر کو اِس کی رضاکارانہ سرگرمیوں، منصوبہ جات کی تکمیل، انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کی بدولت دنیا بھر کی تمام نیشنل سوسائٹیز میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ موجودہ درویش صفت قیادت نے حالیہ کورونا وباء کے دوران جس جانفشانی، لگن، خلوص کے ساتھ کام کیا ہے وہ قابل ِ صد تعریف وستائش ہے۔ 

قلیل انتہائی قلیل مدت میں کورونا کیئر ہسپتال فعال و متحرک کرکے ہلالِ احمر نے تاریخ رقم کی ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ 8 فیلڈ ہسپتال بھی مختلف شہروں میں قائم کیے تاکہ حکومتی اقدامات کو مؤثر انداز میں نتیجہ خیز بنایا جاسکے۔خون کے عطیات کی فراہمی ہلالِ احمر کا وہ وصف ہے جس کا اعتراف ہر سطح پر ہوا ہے اور آج بھی ہلال ِاحمر کا ریجنل بلڈ ڈونر سنٹر تھلیسیمیا، ہیموفیلیا کے مریضوں، جڑواں شہروں کے ہسپتالوں میں داخل مریضوں، حادثات وسانحات میں زخمی ہونے والوں کیلئے خون کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈینگی وباء کے دوران ہلالِ احمر ریجنل بلڈ ڈونر سنٹر نے پلیٹ لِٹس کی فراہمی کو یقینی بنا کر اپنا امیج برقرار رکھا۔

آج کے اِس عظیم دِن کے موقع پر جہاں دنیا بھر میں طبّی عملہ (ڈاکٹرز/ پیرا میڈیکس) اور رضاکاروں کو تالی بجا کر خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے، وہاں وطن ِ عزیز کے کونے کونے میں رضاکاروں اور طبّی عملہ کو دونوں ہتھیلیوں سے گونج پیدا کرکے یاد کیا جارہا ہے۔ تالیوں کی صورت داد و تحسین رضاکاروں اور طبّی عملہ کیلئے ایسا خراج ہے جس کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی۔ہلالِ احمر کی خون کے عطیات جمع کرنے کی ملگ گیر مہم کورونا وباء کے باعث ذرا رُک گئی ہے ۔

اِس مہم کا آغاز پارلیمنٹ ہاؤس سے کرکے یہ پیغام دیا گیا تھا کہ عوامی نمائندگان خدمت ِ انسانیت کے سفر میں ہلالِ احمر کے سنگ سنگ ہیں۔ اِس ضمن میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی جناب قاسم خان سوری کا کردار قابل ستائش ہے۔ کورونا وباء کے خلاف آگاہی مہم میں ہلالِ احمر نے گھر گھر مہم چلائی، احتیاطی تدابیر والے پوسٹر، بینرز، سٹریمر آویزاں کیے۔فرد سے فرد تک معلوماتی لٹریچر پہنچانے کیلئے رضاکاروں نے محافظ فورس کے تحت بھرپور کام اب بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

ہلالِ احمر نے روزِ اوّل سے اپنے سات بنیادی اُصولوں انسانیت، بلاتفریق، غیر جانبداری، خود مختاری ، رضاکارانہ خدمات، عالمگیریت اور اتحاد کی مکمل پاسداری کی ہے۔ آج کا دِن یہ پیغام دیتا ہے کہ دوسروں کی تکالیف اور مصائب کو کم کرنے، معاشرے کی پائیدار بنیادوں پر بہتری کیلئے ہر فرد اپنا کردار ادا کرے۔ ہلالِ احمر کے پلیٹ فارم سے رضاکار بن کر خدمت ِ انسانیت کے سفر میں ہمسفر بنیں، شعور کی دولت بانٹنے کیلئے آگاہی مہم میں حصہ لیں۔ حادثات وسانحات، آفات سماوی کے دوران متاثرہ گھرانوں کی بحالی و آبادکاری میں اپنا حصہ ڈالیں اور خون عطیہ کرنے میں پہل کریں۔    سلام رضاکار۔۔۔ سلام طبّی عملہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  54818
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ بات ایک دنیا کو معلوم ہے کہ حزب اللہ کا جرم امریکا اور اسکے حواریوں کی نظر میں اسکے سوا کچھ نہیں کہ اس نے اسرائیل کو لبنان کی سرزمین سے نکل جانے پر مجبور کیا اور وہ علاقے میں صہیونی مقاصد کیخلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ حزب اللہ نے شام میں بھی دہشتگرد گروہوں کا مقابلہ کیا۔ اس نے شامی سرزمین کو امریکا اور اسکے لے پالک خون خوار دہشتگرد حواریوں سے آزاد کروانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی کے حزب اللہ کے خلاف اقدام کو شامی حکومت نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے مسترد کر دیا ہے۔
ایک بین الاقوامی ادرے "گلوبل ہیومن کیپٹل" کی ایک تحقیقی و سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان معیار تعلیم کے اعتبار سے 130 ممالک میں سے 125 ویں نمبر پر آگیا ہے جو سال بہ سال مسلسل گرتی ہوئی درجہ بندی کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ معیار تعلیم کے حوالے سے ہم پر واضح کرتا ہے کہ ہم حقیقت میں کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں.
کورونا وائرس نے جہاں انسانی زندگیوں کو اپنے حصار میں لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے وہیں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں لاک ڈائون سمیت کرفیو جیسی صورتحال نافذالعمل ہے ۔ایک طرف تو نظام زندگی بری طرح متاثر ہوچکی تو دوسری طرف کاروبار ،دیہاڑی دار طبقہ بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا ہے
صحافت پڑھتے پڑھاتے قریباً پندرہ برس گزر گئے اور تجربے سے یہی معلوم ہوا ہے کہ کتابی صحافت اور عملی صحافت قدرے مختلف ہیں۔ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صحافتی تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں جیسا کہ کچھ دوستوں نے سمجھ لیا ہے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جاتا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ایٹمی دھماکے انہوں نے، گوہر ایوب اور
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ساری قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایٹمی دھماکا راجا ظفر الحق، گوہر ایوب اور میں نے کیا، نواز شریف سمیت ساری کابینہ ایٹمی دھماکے کے خلاف تھی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور
وزیر مملکت برائے امور کشمیر شہریار آفریدی بھی کورونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ وزیر مملکت نے قوم کے لیے دعا دی اور کہا رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو موذی وباء سے محفوظ بنائے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں