Monday, 27 January, 2020
بدل کر فقیروں کا ہم بھیس غالب

بدل کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
مقتدا منصور کا کالم

اپنے ہی وطن میں اب تو ہم وطنوں سے خوف آنے لگا ہے۔ کچھ پتا نہیں کہ کب کون مار دے کافر کہہ کر۔ لگتا ہے ہم انسانوں کے درمیان نہیں، خون کے پیاسے درندوں کے درمیان رہتے ہیں، جو آپ کی حرکات و سکنات پر خونخوار نظریں گاڑے ہوئے ہیں کہ جیسے ہی آپ کے منہ سے کوئی متنازع لفظ یا جملہ نکلے، آپ کو چیر پھاڑ کر رکھ دیں۔ خون انساںاس قدر ارزاں ہوچکا ہے کہ کہیں عقیدے کے نام پر، کہیں نسلی و لسانی تفاخر کے نام پر، جب چاہے، جو چاہے اسے بہا سکتا ہے۔ 

جو کچھ وطن عزیز میں ہورہا ہے، اسے دیکھ اور سوچ کر ہی ریڑھ کی ہڈی میں ٹھنڈی لہر دوڑ جاتی ہے۔

جب تک غیر مسلم اور ان کی بستیاں شدت پسندوں کی زد پر رہیں، ہم مذمتی بیان داغ کر یہ سمجھتے رہے کہ ذمے داری ادا ہوگئی۔ مگر جب مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں بغیر کسی ثبوت سفاکی کے ساتھ قتل کیا گیا، تو اندازہ ہوا کہ معاشرہ سفاکی کی کس سطح تک جا پہنچا ہے۔ مگر اس کے بعد بھی کانوں میں ٹھسی روئی اور آنکھوں پہ چڑھی چربی نہ ہٹ سکی۔ کیونکہ اصل چربی تو ذہنوں پر چھائی ہے، جس نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر رکھی ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج تک کسی بھی مسئلے کو اجتماعی دانش اور قومی شعور کے ساتھ حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پر 22 روز تک جو کچھ ہوا، اس نے ہماری ذہنی، فکری اور سماجی پسماندگی پر مہر ثبت کردی ہے۔ وطن عزیز کی ستر برس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ دل سوز انکشاف ہوتا ہے کہ جھوٹ، دروغ گوئی اور دھوکا دہی ہماری حکمران اشرافیہ کا روز اول ہی سے وطیرہ رہا ہے۔ وہ اخلاقی اقدار جو کبھی ہمارے لیے باعث فخر ہوا کرتی تھیں، وقت گزرنے کے ساتھ قصہ پارینہ ہوئیں۔ جب خواص ہی آئین و قانون کی دھجیاں بکھیرنے لگیں، تو عوام کیوں کر پیچھے رہ سکتے ہیں۔ وہ بھی بے نتھے بیل کی طرح چہار سو منہ مارنے لگتے ہیں۔ گویا جس کا جو جی چاہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ نہ کوئی روکنے والا، نہ کوئی ٹوکنے والا۔ ایسے ماحول میں کہاں کا انصاف اور کہاں کی منصفی۔

کہا جاتا ہے کہ لوگ پاکستانی بن کر سوچیں۔ مگر جو تلقین کررہے ہیں، پہلے خود تو اس پر عمل کرکے دکھائیں۔ آئین و قانون کی پاسداری کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں، پھر واعظ بن کر تلقین کریں۔ عام آدمی تو بیچارا نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ وہ اس ریوڑ میں شامل ہے، جسے جہاں موڑ دیا جاتا ہے، چل پڑتا ہے۔ کسی نے درست کہا ہے کہ اس ملک میں جو خرابی یا بگاڑ ہے، اس میں غریب اور ان پڑھ کا کوئی کردار نہیں۔ ہر خرابی کی بنیاد طاقتور، بااثر اور تعلیم یافتہ لوگوں نے ڈالی ہے، جو دیگرے را نصیحت، خود را فضیحت کی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔ جب یہ تسلیم کرلیا جائے گا کہ ہر قومیت کی اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور شناخت ہے، تو ہر شہری میں پاکستانیت کا جذبہ از خود بیدار ہوتا چلا جائے گا۔ پھر سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے والے کسی اہلکار کو دانشوری جھاڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

مگر یہاں عالم یہ ہے کہ جو تلخ حقائق سے پردہ اٹھادے، اس کی حب الوطنی مشکوک ہوجاتی ہے۔ جو اشرافیہ کی ہاں میں ہاں ملائے، اس کی ہر حماقت بھی قابل قبول۔ حالانکہ سات دہائیوں کی تاریخ میں اس ملک کو جو نقصان پہنچا ہے، انھی نام نہاد محب وطن عناصر نے پہنچایا ہے۔ جن پر غداری اور وطن دشمنی کا الزام لگایا گیا، وقت و حالات نے ثابت کیا کہ وہی اصل محب وطن تھے۔ ان کا کہا کل بھی درست تھا، آج بھی درست ہے۔ مگر اشرافیہ پھر اشرافیہ ہے، وہ رات کو دن کہے تو تسلیم کیا جانا چاہیے، وہ صبح کو شام کہے تو سر خم تسلیم کرنا چاہیے۔

اشرافیہ کی دانش کا عالم یہ ہے کہ جو اس ملک کے درودیوار کو خون سے بھگوتے رہتے ہیں، انھیں اپنا سمجھتی ہے اور گلے لگاتی ہے۔ ان کے ہر ظلم و ستم سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ مگر جس نے عوام کے حقوق کی بات کی، ریاست کے منطقی جواز کی درستی کی بات کی، اس پر عرصہ حیات تنگ کردیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی ایک نشان عبرت تھا، جو غرور و تکبر اور احساس برتری کے منہ پر طمانچے کی صورت ظاہر ہوا۔ مگر ہماری کوتاہ بین اشرافیہ نے اس سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی اسی فکری نرگسیت پر اصرار ہے۔ مگرکوئی پلٹ کر دیکھنے اور دماغ سے سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کررہا۔ یہ نہیں سوچا جارہا کہ جن پر ہم تکیہ کیے ہوئے ہیں، وہی پتے ہوا دے رہے ہیں۔ وہی ہماری عالمی رسوائی اور قومی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ آج ملک کا کون سا حصہ ہے، جو محفوظ ہے؟ کس جگہ بے چینی نہیں ہے۔ مگر عقل و دانش سے عاری اشرافیہ وہی راگنی الاپ رہی ہے، جس کی وجہ سے اس حال کو پہنچے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ فیض آباد پر 22 دن کے دھرنے نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ تو ان سے پوچھتا ہوں کہ 126 دن کے دھرنے میں کون سی کوثر و تسنیم میں دھلی گفتگو ہوئی تھی۔ آج سوشل میڈیا پر کون سی اردو معلیٰ تحریر کی جارہی ہے۔ لگتا ہے کہ گالم گلوچ ہمارا قومی تفاخر بنتی جارہی ہے۔ کسی دانشور نے کہا تھا کہ جس معاشرے میں بدتہذیبی ثقافتی شکل اختیار کرجائے، جنونیت اور جذباتیت روایت بن جائے۔ اس معاشرے میں عقل و دانش اور دلیل ومکالمہ کی توقع عبث ہے۔ پاکستانی معاشرہ اسی ڈگر پر جا پہنچا ہے یا پہنچا دیا گیا ہے کہ جہاں سے واپسی اب ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
پھر عرض ہے کہ اس ملک کے باسیوں کو ریاست گریز رجحان کی طرف دھکیلنے کا سبب غلط ریاستی پالیسیاں ہیں۔ یہ تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے کہ پاکستان ایک کثیرالقومی اور کثیرالعقیدہ ملک ہے؟ جس میں مسلمان اکثریت میں ضرور ہیں، مگر غیر مسلم بھی اس کے شہری ہیں۔ انھیں شہری حقوق اور سیاسی آزادیوں سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بھی قبول کیا جائے کہ مسلمانوں کے کئی فقہ، فرقے اور مسالک ہیں۔ ان سب کا ریاست پر مساوی حق ہے اور بنا کسی پہرے اپنی عبادات کرنے کی پوری آزادی ہے۔

بابائے قوم کے وعدے کے مطابق ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرنے اور ان میں عبادت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس عمل میں رکاوٹ ڈالنے والا دراصل وطن دشمن ہے۔ ہر قوم، قومیت اور کمیونٹی کو اپنی زبان، ثقافت اور طرز حیات پر آزادانہ عمل پیرا ہونے کا حق آئین پاکستان دیتا ہے۔ ان شقوں سے انحراف آئین پاکستان سے انحراف ہے۔ تمام شہریوں کو بلاامتیاز نسل، لسان، صنف اور عقیدہ تحفظ فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمے داری ہے۔ انتشار و افتراق کا سبب یہ ہے کہ ریاست یہ ذمے داریاں پوری کرنے میں مسلسل ناکام ہے۔ جو عوام کی الجھنوں اور اغیار کی سازشوں کا راستہ کھولنے کا سبب ہے۔

مگر جن کے ہاتھوں میں اقتدار و اختیار کی باگیں ہیں، جو بااثر و بااختیار ہیں، ان کی سمجھ میں درویشوں کی صدائیں نہیں آتیں۔ وہ اس وقت تک خواب خرگوش میں محو رہتے ہیں، جب تک کہ کوئی بڑا سانحہ یا المیہ رونما نہ ہوجائے۔ مگر ہماری اشرافیہ کی بے حسی کی تو شاید تاریخ میں بھی نظیر نہ ملے۔ کیونکہ جس کی آنکھیں سقوط ڈھاکا جیسے المیہ سے نہ کھل سکیں، اسے شاید بڑے سے بڑا سیلاب رواں بھی بیدار نہ کرسکے۔ کیونکہ بیدار اگر ہونا ہوتا تو ہوچکے ہوتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  6258
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انگریز کس ملک سے آئے، میں برطانیہ انگریز اور فرنگی کو الگ الگ خانے میں رکھتا تھا۔ کیونکہ صادق بازار میں ہر اتوار کو گورے صاحبوں اور میموں کی ایک بس بھر کے گڈو پاور پلانٹ سے آتی تھی اور سب دکان
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
دسمبر کا مہینہ طلوع ہوتے ہی پشاور، جسے پیار سے ’’گلابوں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے، ہمارے جوان شہدا کے خون سے گلگوں ہو گیا ہے۔ یکم دسمبرکی صبح پونے نو بجے،جب سارے عالمِ اسلام کے ساتھ مملکتِ خداداد پاکستان
سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے، جو ہو چکا ہے اور جو ہونے جا رہا ہے، اس حوالے سے پورے ملک پر بے یقینی چھائی ہوئی ہے۔ سیاستدانوں نے عوام کو اُلجھایا ہوا ہے جب کہ بیوروکریسی اپنا روایتی سازشی کردار ادا کررہی ہے۔ وطن عزیز دنیا کا واحد ملک ہے جس کا وزیر خزانہ کرپشن کیسز میں عدالتوں کے چکر بھی کاٹ رہا ہے

مزید خبریں
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
اسپیکٹیٹر انڈیکس نے سال 2019 کی د نیا میں رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فہرست کے مطابق بھارت رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ پہلے نمبر پر برازیل، دوسرے پر ساؤتھ افریقہ، تیسرے پر نائجیریا اور چوتھے پر ارجنٹینا ہے۔
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں کرپشن سے متعلق اپنی رپورٹ پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیکس میں کہیں نہیں کہا کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی، اخبارات اور کچھ سیاستدانوں نے رپورٹ کو غلط انداز میں بیان کیا ہے، موجودہ حکومت
میڈیا کے مطابق اسلام آباد کے فیصل چوک پر سنگل بند ہونے کے باوجود امریکی سفارت خانے کی گاڑی کے ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی، تیز رفتاری کے باعث گاڑی سامنے سے آنے والے دوسری کار سے ٹکرا گئی۔ جس کے نتیجے خاتون جاں بحق
خیبرپختونخوا حکومت میں اختلافات پروزیراعلیٰ محمود خان نے ایکشن لیتے ہوئے 3 صوبائی وزراءکو کابینہ سے نکال دیاگیا اورگورنر خیبرپختونخواشاہ فرمان کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا مسئلہ کشمیرکو آسان نہ لے اور دنیا اب برملا تسلیم کررہی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں غیرجمہوری اور فاشسٹ نظریہ مسلط کیاجارہا ہے۔ یہ خطے کی سلامتی اور امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا کشمیر پر قبضے کا بیان غیر مناسب ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں