Sunday, 16 June, 2019
تاریخ میں پہلی بار

تاریخ میں پہلی بار
سلیم صافی کا کالم

 

تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ کوئی منفرد سیاسی کردار ادا کررہے ہیں حالانکہ یہ کردار ان سے قبل ماضی قریب میں جونیجو بھی ادا کرچکے تھے، میاں نوازشریف بھی اور پھر چوہدری شجاعت حسین بھی ۔ اب ان کے رویے سے لگ رہا ہے کہ جیسے وہ تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم بنائے گئے ہیں حالانکہ ان کی طرح ظفراللہ جمالی بھی وزیراعظم بنائے گئے تھے اور شوکت عزیز بھی ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے اپنی صحافتی زندگی میںپہلی مرتبہ حکومت کے نام پر ایک عجیب و غریب شے دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ مثلاً یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ کسی ملک کے لیڈر یوٹرن کو اپنی صفت اور کارنامہ بتارہے ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ کسی ملک کے وزیراعظم کہتے ہیں کہ انہیں روپے کی قیمت میں کمی کے فیصلے کا پتہ ٹی وی خبروں سے چلا لیکن ان کی حکومت کےا سٹیٹ بینک کے گورنر کہتے ہیں کہ فیصلے کا وزیر خزانہ کو علم تھا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اہم عہدوں پر تعیناتیاں ایک خاتون کے

خوابوں کی بنیاد پر یا پھر کچھ لوگوں کی سفارش پر کی جارہی ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ سینئر ترین اور تجربہ کار لوگوں کی بجائے دو صوبوں میں ایسے وزرائے اعلیٰ لگائے گئے جو کوئی بھی کام کرسکتے ہیں لیکن صوبہ نہیں چلاسکتے ۔ اسی طرح یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وزرائے اعلیٰ سے زیادہ ان کے بعض وزرا بااختیار ہیں ۔ وزیراعظم اعلان کرتے ہیں اور بار بار کرتے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کریں گے ۔ لوگ ان سے التجائیں کرتے ہیں کہ وزیراعظم ہائو س کی لوکیشن اور عمارت یونیورسٹی کے لئے موزوں نہیں ۔ لیکن سستی شہرت کے لئے وہ مصر رہتے ہیں ۔باقاعدہ طور پر وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے پھر ہائرایجوکیشن کمیشن سے ایک افسر کو لاکر مجوزہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کے طور پر وزیراعظم ہائوس میں بٹھایا جاتا ہے، اس عمل میں کئی لاکھ روپے خرچ ہوجاتے ہیں لیکن اچانک متحدہ عرب امارات کے ولی عہد پاکستان کے دورے پر آتے ہیں ۔ ان کا شایان شان استقبال کرنے کا پروگرام بنتا ہے اور وزیراعظم ہائوس کو دوبارہ وزیراعظم ہائوس بنانے کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کو وہاں سے نکال دیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی کا سارا سامان بھی باہر پھینک دیا جاتا ہے اور اسے پھر ماضی کی طرح وزیراعظم ہائوس بنانے پر کئی لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ یہ تماشے ہمیں تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ ایک وزیر کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے ۔ دوسرے کہتے ہیں کہ گورنر راج لگائیں گے ۔ تیسرے کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔ ایک ہی حکومت کے مختلف وزیروں کے متضاد بیانات کا یہ تماشہ بھی ہمیں تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اسی طرح پرویز خٹک اور دیگر وفاقی وزرا پر مشتمل حکومتی کمیٹی وزیراعظم کے دئیے گئے مینڈیٹ کے تحت اپوزیشن سے مذاکرات کرتی ہے ۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین طے پانے والی ڈیل کے تحت میاں شہباز شریف پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین بنتے ہیں ۔ کمیٹی میں شامل حکومتی ممبران اور سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز بھی ان کو ووٹ دیتے ہیں لیکن اسی حکومت کی کابینہ کے ایک رکن شیخ رشید احمد اس فیصلے کے خلاف بولتے رہتے ہیں ۔ صرف بولتے ہی نہیں بلکہ اب اپنی حکومت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جارہے ہیں ۔ یہ تماشہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ایک رکن اپنی حکومت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں لیکن خود حکومت سے نکل رہے ہیں اور نہ انہیں نکالا جارہا ہے ۔ اسی طرح ڈاکٹر فرخ سلیم کو توانائی اور معیشت کے لئے حکومت کا ترجمان مقرر کیا جاتا ہے ۔ وہ تقریباََ دو ماہ تک ٹی وی مباحثوں میں اس تعارف کے ساتھ حکومت کی طرف سے صفائیاں پیش کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن ایک روز وزیراطلاعات اعلان کرتے ہیں کہ فرخ سلیم کو تو ترجمان مقرر ہی نہیں کیا گیا ۔ اب اگر واقعی فواد چوہدری کا دعویٰ درست ہے تو پھر فرخ سلیم کے خلاف نوسربازی کا مقدمہ کیوں نہ بنا؟ کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیراعظم سواتی کی طرف سے ایک غریب خاندان کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تو وزیراعظم سے لے کر وزیرداخلہ تک پوری حکومت اعظم سواتی کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔ اس چکر میں اسلام آباد کے آئی جی پولیس کو بھی رخصت کیا گیا ۔ 

سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اعظم سواتی کوظلم اور فراڈ کا مرتکب قرار دیا گیا تو مجبوراً یہ اعلان کیا گیا کہ اعظم سواتی کو وزارت سے فارغ کر دیا گیا ۔ گزشتہ دو ہفتے کے دوران حکومتی ترجمان بار بار کریڈٹ لیتے رہے کہ کس طرح اعظم سواتی کو جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد وزارت سے فارغ کردیا گیا ہے لیکن اب پتہ چلا کہ سرکاری ویب سائٹ پر ان کا نام بدستور وزرا کی فہرست میں موجود ہے ۔ میں نے ٹی وی پروگرام میں وفاقی وزیراطلاعات سے پوچھا کہ کیا اعظم سواتی کا استعفیٰ منظور ہوچکا ہے اور کیا ان کانوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے تو وہ تصدیق یا تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔ گویا یہ واضح نہیں کہ ایک شخص بدستور وفاقی وزیر ہےیا نہیں۔ سربراہ حکومت خاتم النبین ﷺ کے لفظ کا تلفظ نہیں جانتے ۔ ترجمان فواد چوہدری ہیں ۔ دست ہائے راست زلفی بخاری اور افتخار درانی جیسے ’’فرشتے‘‘ ہیں ۔ صوبوں کے گورنر شاہ فرمان اور عمرا ن اسماعیل جیسے ’’درویش‘‘ ہیں لیکن دعوے ریاست مدینہ بنانے کے ہیں ۔ریاست مدینہ کے مقدس لفظ کے ساتھ یہ مذاق بھی ہمیں تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اللہ پاکستان کا محافظ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50660
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ الفاظ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے 2016میں کہے تھے جس پر کچھ محبِ وطن بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے اسفند یار ولی پر غداری کا الزام لگا کر اُنہیں افغانستان جانے کا حکم دیا لیکن اے این پی کے صدر نے یہ حکم نظر انداز کر دیا تھا۔
بائیس جنوری کو ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے زیرعنوان اپنے کالم میں استاد محترم سہیل وڑائچ نے جو لطیفہ تحریر کیا ، وہ مجھے محترم محمد علی درانی نے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور پیرائے میں سنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک نابینا سردار جی
ہم 1947میں ہجرت سے بچ گئے مگر ہمارا گائوں تقسیم ہوگیا۔ ہمارے گائوں میں سکھ اور مسلمان آباد تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو زمینوں کا ایسا بٹوارہ ہوا کہ ہماری کچھ زمین بھارت میں چلی گئی اور سردار مولا سنگھ کی کچھ زمین
کوئی سے دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہو رہی یا یوں کہیں کہ باقاعدہ جنگ نہیں ہو رہی لیکن اس سر زمین پر کئی ایسے مقام مل جاتے ہیں جہاں کسی نہ کسی صورت میں جنگ ہو رہی ہے اور دو ملک ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ ہیں۔

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں