Wednesday, 22 January, 2020
میزائل حملے اور”حلیم و صلح جو“ امریکہ!!!

میزائل حملے اور”حلیم و صلح جو“ امریکہ!!!
ناصرمغل کا کالم تحقیق

عراق میں امریکی تنصیبات پر ایرانی میزائل حملے کے بعد واشنگٹن کی گھن گرج تھم چکی ہے۔اب امریکہ صلح جوئی اورمفاہمت کی باتیں کرنے لگاہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں اس نے ایران کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات کی پیش کش بھی کی ہے۔

ایران کی قدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں شہادت کے بعد ایرانی قیادت نے یک آوازہوکرامریکہ سے بدلہ لینے کااعلان کیاتھا۔ اس پر 8جنوری کی صبح سے پہلے پہلے عمل بھی کردیاگیا اورعراق میں 2امریکی اڈوں پر میزائل مارے گئے جس کے بعد مرحوم جنرل کی تدفین بھی کردی گئی۔ ان حملوں کے بعد صدرٹرمپ نے بیان جاری کیاتھاکہ ہم نقصانات کاتخمینہ لگارہے ہیں،ایران کی طرف سے حملوں سے میں 80ہلاکتوں کادعویًٰ سامنے آیا۔تاہم امریکہ نے متاثرہ تنصیبات  کا”جائزہ“ لینے کے بعد کہاکہ کوئی نقصان واقع نہیں ہوا۔ساتھ ہی امن اورکشیدگی میں کمی کی باتیں بھی شروع ہوگئیں۔

ادھرایرانی قیادت کاکہناہے کہ ہماراحتمی جوا ب امریکہ کو خطے سے بے دخل کرناہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ امریکہ کے لیے جنوبی ایشیامیں مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ امریکی عوام اورسیاسی قیادت کسی نئی جنگ آرائی کے خلاف ہیں۔عراق سے نکلنے کے لیے بغدادکی پارلیمنٹ نے کہہ دیاہے۔ متعدد نیٹوملکوں نے وہاں سے فوج نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکہ کاسب سے بڑااتحادی برطانیہ 2019ء میں کہہ چکاتھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں ہم امریکہ کے ساتھ نہیں ہوں گے۔

اس تناظرمیں یہ بات واضح ہے کہ عراق اورافغانستان کی جنگوں میں شکست کھانے والی سپرپاورکادم خم اب ختم ہوچکاہے۔جنرل سلیمانی پر حملہ اس کی جھنجھلاہٹ کااظہارتھا۔بارباردعوے کرنے کے باوجود کہیں بھی داعش کوشکست نہیں دی جاسکی۔طالبان کے مقابلے میں امریکی فوج اورنیٹوکی ناکامیاں ایک طولانی داستان ہیں۔شدت پسندی اب دنیابھرمیں پھیل چکی ہے۔ان تمام حالات کی ذمہ داری امریکہ پر ڈالی جاتی ہے۔صورت حال نے واشنگٹن کو حواس باختہ کردیاہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ طاقت کااستعمال نہ کرنے کی ”خواہش“ کااظہارکرنے پر مجبورہوگئے۔

امریکہ اب خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں ہے۔اسی لیے ایران کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات میں ”سنجیدہ“ ہونے کایقین دلارہاہے۔ غیر معمولی حربی طاقت کامالک امریکہ کبھی اس قدر”حلیم“ اور”بردبار“ نہیں تھا۔امریکی کانگریس بھی جنگ روکنے کیلئے سرگرم ہوچکی ہے۔یہ ساری تبدیلیاں دہشت گردی کے خلاف جنگوں کے بعد ایران سے ٹکرلینے کی صرف کوشش سے واقع ہوگئیں۔ایرانی میزائلوں کا امریکی تنصیبات کے ساتھ ”حسن سلوک“ بھی ایک انوکھاواقعہ ہے۔کہیں کوئی نقصان ہی نہیں ہوا، لیکن ان حملوں کااصل کمال یہ ہے کہ امریکہ ایک غضب ناک،جارح اوربے قابو طاقت سے ایک حلیم وصلح جو ملک میں تبدیل ہونے لگاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  82649
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ اگر چہ اس نوعیت کی پہلی نہیں بلکہ انیسویں قرارداد تھی جسے اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے‘یونیسکو‘ کی جانب سے بیت المقدس کی حیثیت کے بارے میں پیش کی گئی اور اس کو دوتہائی اکثریت سے منظور کیا گیا
جمعہ (26مئی ) کو وفاقی بجٹ پیش کیا گیا، جو بیشتر اہداف کی عدم تکمیل اور بھاری قرضوں کے حصول کا عکاس ہے۔ قومی میزانیہ میں اگر عام آدمی کی ٹھوس اور دیرپا ترقی اور فلاح کے لیے رقم مختص نہیں
انگریز کا بیڑہ غرق ہو، ایک لفظ ایسا بنا دیا کہ جو بھی کر لو۔۔۔سوری کہہ کر جان چھڑا لو۔۔کسی کے پاؤں پر پاؤں رکھ دو، سوری۔۔۔ دھکا لگ گیا سوری۔۔ گاڑی کوٹکر مارو، سوری۔۔۔ تم سے شادی نہیں کر سکتا، سوری۔۔آج آپ کی ضرورت نہیں رہی اس دفتر میں، سوری۔

مزید خبریں
اسپیکٹیٹر انڈیکس نے سال 2019 کی د نیا میں رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فہرست کے مطابق بھارت رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ پہلے نمبر پر برازیل، دوسرے پر ساؤتھ افریقہ، تیسرے پر نائجیریا اور چوتھے پر ارجنٹینا ہے۔
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
چینی دفترخارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک تاریخی مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں پر امن طریقے
سوشل میڈیا کے اس دور میں پروپیگنڈہ کرنا اور عوام الناس کو متاثر کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ نیم خواندہ یا ان پڑھ لوگ تو درکنار انتہائی پڑھے لکھے افراد بھی بآسانی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مقبول ترین
ماں۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ آپ میرے اس عارضی دنیا میں واپس آنے کے لیے کتنی پرجوش تھیں۔۔۔۔۔یہ لیں، آج آپ کی دیرینہ خواہش پوری کیے دے رہی ہوں۔۔۔۔ارے دیرینہ یوں بولا ہے کہ جب سے میرا آپ کا ساتھ چھوٹا، وہ بندھن ٹوٹا جس نے مجھے آپ کی سانسوں کی ڈور سے باندھ رکھا تھا،تب سے محسوس ہونے لگا کہ اب مجھ میں کچھ باقی نہیں رہا۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور اہم ایشوز پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی
حکومت اور اپوزیشن نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے چیئرپرسن شیریں مزاری کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی
وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس روانہ ہوگئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں