Wednesday, 22 January, 2020
امریکہ کی ایران کو مذاکرات کی پیشکش

امریکہ کی ایران کو مذاکرات کی پیشکش
طاہر یاسین طاہر کا کالم

 

جنگوں کا اختتام ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے۔ دنیا اس وقت امریکی طاقت ،رعب اور تکبر کے سائے تلے آباد ہے،یہ ایک زمینی حقیقت ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔لیکن امریکی زعم پندار،طاقت اور عسکری برتری کو علی اعلان ایران نے چیلنج کر کے دنیا کے  تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا۔جس دن امریکہ نے عراق کے بغداد ایئر پورٹ پر ایرانی القدس برگیڈ کے کمانڈر انچیف جنرل قاسم سلیمانی کو، ان کے میزبان جنرل ابو مہندس کے ہمراہ شہید کیا، تو ایران نے سخت لب ولہجہ اختیار کیا تھا اور برملا کہا تھا کہ ہم بدلہ لیں گے۔بدلے سے مراد یہی لی جا رہی تھی کہ ایران پراکسی وار کا آزمودہ حربہ استعمال کرتے ہوئے امریکیوں کو کئی جگہوں پر ضربیں لگائے گا۔ جیسا کہ سعودی عرب کی آرامکو آئل کمپنی پر ہونے والے حملے کو ایرانی حملہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس حملے کے ایسے شواہد نہیں ملے کہ یہ حملہ ایران نے کیا تھا بلکہ تہران نے اس حوالے سے تردیدی بیان بھی جاری کیا تھا، البتہ اس کی ذمہ داری یمن کے حوثیوں نے لی تھی۔لیکن دنیا جانتی ہے کہ یمن کے حوثیوںکو ایران کی مکمل حمایت و تائید حاصل ہے۔

تجزیہ کار ،ابھی اگر مگر، کے جھمیلوں میں پڑے ہوئے تھے اور کڑیوں سے کڑیاں ملا کر ایران کے " عملی ردعمل" کی تصویر کشی میں مصروف تھے کہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی تدفین سے قبل عراق میں دو امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔ گذشتہ سے پیوستہ روز" برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تہران نے مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے عراق میں اربیل اور عین الاسد کے مقام پر 2 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی، اتحادی افواج کے اہلکار موجود تھے جبکہ مذکورہ حملے میں ایران نے اپنی سرزمین سے ایک درجن سے زائد میزائل فائر کیے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق میزائل حملے میں 80 امریکی دہشت گرد ہلاک ہوئے اور کوئی میزائل روکا نہیں جاسکا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے پاسداران انقلاب کے ذرائع کے حوالے سیخبر نشر کیکہ اگر امریکہ نے جوابی کارروائی کی تو ایران کی نظر خطے میں موجود 100 اہداف پر ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی ہیلی کاپٹرز اور فوجی سازو سامان کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے"۔

ایران نے امریکہ کو مزید اموات سے بچنے کے لیے خطے سے اپنے فوجی اہلکار واپس بلانے کی تجویز بھی دی  اور امریکی اتحادیوں بشمول اسرائیل کو خبردار کیا کہ حملوں کے لیے اپنی سرزمین نہ استعمال ہونے دے۔عین الاسد سب سے بڑا فضائی اڈا ہے جہاں امریکی سربراہی میں اتحادی افواج موجود ہیں جبکہ اربیل کرد خطے کا دارالحکومت ہے۔یاد رہے کہ بدھ کو ایران نے  جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر 20 میزائل فائر کیے تھے اور ان حملوں میں 80امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ دوسری جانب امریکہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کسی امریکی فوجی کی ہلاکت سے انکار کیا تھا۔لیکن یہ امر تو واقعی ہے کہ جہاں درجن سے زائد میزائل داغے جائیں، اور ان میزائلوں کو امریکی جامر سسٹم ٹریک نہ کر سکے، یا انھیں فضا میں " تحلیل" نہ کر دے،وہاں جانی و مالی تقصان تو لازمی ہوتا ہے۔
جنگوں میں ایک کلیہ پروپیگنڈا وار بھی ہے،  امریکہ اور اس کا اتحادی مغرب اپنے پروپیگنڈے کی بنا پر جہاں چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنی بربریت کا نشانہ بناتا ہے۔غالبا ٹونی بلئیر نے عراق پر حملہ کے حوالے سے ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ عراق کے حوالے سے ہمیں غلط رپورٹس ارسال کی گئیں اور یہ کہ عراق کے پاس کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں تھے۔ لیکن ٹونی بلئیر کے اس "اعتراف" سے قبل عراق اپنی خودمختاری و سالمیت کھو چکا تھا۔جنرل قاسم سلیمانی کس مشن پر عراق جا رہے تھے؟ اس حوالے سے دو مختلف آرا ہیں۔ ایک امریکی پروپیگنڈا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی خطے بالخصوص عراق میں گزشتہ چند ماہ سے امریکی مفادات کو سخت نقصان پہنچا رہے تھے اپنے اتحادیوں ملیشیا گروپس کی مدد سے۔جبکہ عراقی حکومت کا سرکاری بیان یہ ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی شہید عراقی حکومت کی دعوے پر عراق کے سرکاری دورے پر تھے۔

امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چونکہ ایک خاص نوع کی ذہنی کیفیت کا شکار رہتے ہیں، اس لیے وہ نتائج سے بے پروا ہو کر اقدامات  اٹھاتے اور بیانات جاری کرتے ہیں۔امریکیوںکو ایرانیوں کے اس شدید ردعمل کا انداہ ضرور تھا، اور شاید ان کا اندازہ یہ تھا کہ ایران پراکسی وار کو تیز کر دے گا۔ایران نے موجودہ حالات میں جوہری معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا اعلان کیا تو دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران ایران پر فوری طور پر اضافی پابندیاں لگانے کا اعلان کر دیا۔لیکن شاید یہ بات خود امریکیوں کے لیے بھی حیران کن ہو گی کہ ایران نے تمام تر پابندیوں،اور دھمکیوں کے باجود اپنے شہید جنرل کو  لحد میں اتارنے سے قبل امریکی حملے کا جواب دے دیا۔

اب امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے نتیجے میں ایران سے ہونے والی کشیدگی کے خاتمے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے ایران کو مذاکرات کی غیرمشروط پیشکش کردی۔عالمی میڈیا کے مطابق امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو خط تحریر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ غیرمشروط سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ عالمی امن اور سیکیورٹی کو مزید خطرہ نہ ہو اور ایرانی حکومت مزید جارحیت نہ کرے۔تاہم امریکہ کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت امریکہ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا دفاع کیا گیا ہے۔خط میں مزید کہا گیا کہ امریکہ خطے میں اپنی فوج اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ایران نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خط لکھ کر عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر کارروائی کا آرٹیکل 51 کے تحت ہی دفاع کیا ہے۔

بیانات ،دھمکیوں اور عملی اقدامات کا سلسلہ دونوں جانب سے جاری ہے، اور دونوں فریقین کے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اس تنائو کو جنگ میں بدلنے سے گریزاں ہیں۔ایران نے برملا کہا ہے کہ خطے کا جو ملک بھی بشمول اسرائیل کے امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے گا، ایران اسی ملک میں امریکی اہداف کو  نشانہ بنائے گا۔امریکہ سے کسی بھی قسم کی حماقت کی توقع کی جا سکتی ہے۔لیکن میرا خیال ہے کہ امریکہ نے اگر غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے تو ایران کو خطے اور عالمِ اسلام و عالم انسانیت کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دوست ممالک کی معاونت سے مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے،لیکن امریکہ اگر یہ چاہے کہ وہ افغان طالبان کی طرز پر غیر سنجیدہ  اور طویل مذاکرات کی ڈور میں ایران کو الجھا کر اس کی توجہ ہٹا لے گا تو یہ امریکیوںکی غلط فہمی ہے۔امریکہ جونہی کارروائی گا ایرانی جوابی کارروائی کریں گے اور اسے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع بھی کریں گے۔

ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے، امریکہ دنیا بھر میں اپنے اعمال کے نتائج بھگت رہا ہے۔امریکی اقدامات سے دنیا غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے جبکہ خطے میں جنگ کے بادل بہت گہرے ہو چکے ہیں۔اس حوالے سے دنیا کے عدل پسند انسانوں، یورپی ممالک اور روس و چین سمیت پاکستان کو بھی امریکہ و ایران کو امن کی راہ پر ڈالنے کے لیے اپنا اپنا کردارا  ضرور ادا کرنا چاہیے کہ اسی میں عالم انسانیت کی بھلائی ہے۔جنگ ہو گی یا معاملہ اسی نہج پر رک جائے گا؟ اس حوالے سے ابھی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،البتہ امن کی آرزو اور اسلام کی سربلندی کے لیے دعا ضرور کی جا سکتی ہے۔امریکہ ایک طرف مذاکرات کی پیشکش کو غیر مشروط بھی کہہ رہا ہے اور دوسری جانب اسی خط میں جو سلامتی کونسل کو لکھا ، اس میں دفاع کے نام پر جارحانہ دھمکی بھی " بین السطور" موجود ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  56155
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
بہت سادہ سے سوالات ہیں۔ ان پر سنجیدگی سے غور کریں۔ شاید آپ کے اندر سے کوئی آواز آئے اور آپ کو ان سوالات کا جواب مل جائے اور پھر آپ یہ بھی جان جائیں گے کہ آپ تاریخ کی رائٹ سائیڈ پر کھڑے ہیں یا رانگ سائیڈ پر۔
دنیا میں تقریباً دو سو سے زائد ملک ہیں، ان ملکوں میں حکمرانی کے پانچ قسم کے ماڈل رائج ہیں، جمہوریت، بادشاہت، آمریت، یک جماعتی نظام اور ہائبرڈ جمہوریت۔
ویسے حد ادب کا تقاضا ہے کہ کچھ نہ کہا جائے، معاملہ ہی ایسا ہے، رشتہ چاہے خون کا نہ ہو لیکن ہے تو وہ میرا چاچا۔۔ اس شہر کے رہنے والے لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ادب و احترام کا رشتہ ہے، اسی بنیاد پر وہ میرے والد مرحوم کے دور سے سیاست کے میدان کا کھلاڑی ہیں
اسلام کو جدید سیکولر، لبرل اور جمہوری چوکھٹے میں ٹھونسنے کا فریضہ جو مذہبی رہنما اور ان کے پیروکار دانشور، محقق اور کالم نگار ادا کر رہے ہیں ان بیچاروں کے لیے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ وہ عملی طور پر زندگی کو علت و معلول

مزید خبریں
اسپیکٹیٹر انڈیکس نے سال 2019 کی د نیا میں رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فہرست کے مطابق بھارت رہائش کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ پہلے نمبر پر برازیل، دوسرے پر ساؤتھ افریقہ، تیسرے پر نائجیریا اور چوتھے پر ارجنٹینا ہے۔
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
چینی دفترخارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک تاریخی مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں پر امن طریقے
سوشل میڈیا کے اس دور میں پروپیگنڈہ کرنا اور عوام الناس کو متاثر کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ نیم خواندہ یا ان پڑھ لوگ تو درکنار انتہائی پڑھے لکھے افراد بھی بآسانی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مقبول ترین
ماں۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ آپ میرے اس عارضی دنیا میں واپس آنے کے لیے کتنی پرجوش تھیں۔۔۔۔۔یہ لیں، آج آپ کی دیرینہ خواہش پوری کیے دے رہی ہوں۔۔۔۔ارے دیرینہ یوں بولا ہے کہ جب سے میرا آپ کا ساتھ چھوٹا، وہ بندھن ٹوٹا جس نے مجھے آپ کی سانسوں کی ڈور سے باندھ رکھا تھا،تب سے محسوس ہونے لگا کہ اب مجھ میں کچھ باقی نہیں رہا۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور اہم ایشوز پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی
حکومت اور اپوزیشن نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے چیئرپرسن شیریں مزاری کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی
وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس روانہ ہوگئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں