Wednesday, 21 February, 2018
علم ایک بڑی دولت ہے

علم ایک بڑی دولت ہے
فیصل مقصود کا کالم

 

آبادی کے تیز اضافے نے بہت سی مشکلات پیدا کر دی ہیں لوگ چھوٹے گھروں میں اپنے کنبوں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں بچوں کو کھیلنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملتی۔ دوسری طرف کالج اور سکول تعداد میں نا کافی ہیں، ذرائع آمدورفت کی سہولتیں آبادی کے دباؤ کو نہیں سہہ سکتی اس لیے بہت سے بچے تعلیم کے بغیر رہ جاتے ہیں۔ علم ایک بڑی دولت ہے اس کو نہ چور چرا سکتا ہے اور نہ ہی ڈاکو چھین سکتا ہے، جو آدمی علم حاصل کرتا ہے اس کی بڑی قدر ہوتی ہے، علم خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا ،اس وقت تم کو لکھنے اور پڑھنے کے سوا کوئی فکر نہیں، اگر یہ موقع کھو دیا تو ایسا وقت پھر نہیں آئے گا، ایک اچھی حکومت کا سب سے بڑا اور اہم فرض ہے کہ وہ ملک کے لوگوں کے لیے ضروریات زندگی سستی کرے، ضرورت زندگی سے مراد محض اناج ہی نہیں، اناج کپڑا طبی سہولتیں تعلیم وغیرہ بھی ضروریات زندگی میں شامل ہیں، اچھی اور بہترین حکومت و ریاست کا یہ فرض اول ہے کہ وہ تعلیم کو عام و مفت کرے تاکہ ہر عام و خاص تعلیم کے زیور سے مستفید ہو سکے۔ 

یہاں سب سے پہلے بنیادی تعلیم پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک ہی علاقہ میں دس سے پندرہ سکول کھلے ہیں جن کی کوئی رجسڑریشن نہیں ہوتی، کس نے اور کب کھولے، حکومت کوئی توجہ نہیں دیتی اور اوپر سے آج کل کے والدین بھی لاپروا ہیں وہ بچوں سے جان چھڑوانے کے چکر میں اپنے بچے کی بنیاد کسی ایسے اجنبی شخص کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں جس کو خود تعلیم کا کچھ نہیں پتہ اور وہ بچوں کو تباہ و برباد کرنے کی بنیاد ہے۔ اس سے اکثر حادثات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اکثر والدین اندھا اعتماد کر کے اپنے بچوں کو ایسے شخص کے حوالے کر جاتے ہیں کس کو وہ خود سے اچھی طرح نہیں جانتے یہ تو ان سکولوں کا حال جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا یعنی وہ کہیں رجسٹر نہیں ہوتے۔ بس نوٹ چھاپنے کے لیے ایک مشین لگی ہوتی ہے۔

 دوسری طرف اگر نظر دوڑائی جائے یعنی گورنمنٹ سکولوں میں نرسری کا حال اتنا برا ہے کہ اس میں ٹیچرز تو قابل ہوتے ہیں لیکن وہ نرسری کے بچوں کو صرف صبح 8 بجے سے 12 بجے تک قید کرنے والی بات ہے، استاد اپنی باتوں میں اس طرح مشغول ہوتے ہیں جیسے سب سے ذیادہ مظلوم وہ ہیں اور کچھ کا تو یہ حال ہے کہ موبائیل کو چھوڑتے نہیں بس وہ 12 بجنے کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ لو جی 12 کیسے نہ بجے آج کل صبح شام والے پیکیجز جو بہت مشہور و معروف ہیں، یہ گیا وہ گیا اب 12 بجانا استاد کے دائیں ہاتھ کا کام ہے یہ 12 بجے اور چھوٹی یہ ہے بنیادی تعلیم کا حال جس کو اکثر انگریزی میں نرسری مونٹیسری اور نا جانے کیا کیا نام دیے جا چکے ہیں۔ اب اگر ہم گردن کو دوسری طرف گھمائیں تو بات پرائمری تعلیم کی طرف جاتی ہے۔ یہاں یہ کہنا کسی ہیرے سے کم نہ ہو گا کہ والدین بنیادی تعلیم میں تو کچھ لاپروا کم ہوتے ہیں لیکن وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے بنیادی تعلیم ایسی پڑھوائی ہے کے ہمارے بچوں کو سب کچھ سکندر کی طرح آ گیا ہے وہ علم کا بادشاہ بن گیا ہے دراصل یہاں بچے کو ڈبل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے گھر میں بھی اور سکول میں بھی لیکن والدین ایسا ڈھیلا پن ظاہر کرتے ہیں جیسے انھوں نے بچوں کے تمام تعلیم فرائض پورے کر دیئے۔ یہ سب سے بڑی بے وقوفی ہے فیس دے کر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اب سب کچھ سکولوں والے کریں گے ایسا نہیں ہے والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کی ہر روز کا کام چیک کریں لیکن وہ ایسا نہیں کرتے اوپر سے ہمارے ہاں سکولوں میں ایسے نئے افراد بھرتی کر دیئے ہیں جو کسی نا کسی شعبہ ہائے میں ناکام ہو کر آئے ہوتے ہیں یا کسی کا بھنجا بھتیجا سفارشی استاد بھرتی ہو گیا تو وہ بھی اپنے رونے لے کر بیٹھ جاتا ہے اور بچوں کو وہ سبق سیکھتا ہے جس کو خود تعلیم کے شعبے سے کوئی لگاؤ نہیں ہوتا اب اگر ہم تصویر کا رخ سیکینڈری تعلیم یعنی میڑک لیول کی تعلیم کی طرف کریں تو ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ وہ مرحلہ ہے جب طلب علم نے اپنی اس زندگی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ جس شعبہ میں اس کے جانے کی تمنا یا خواب ہوتا ہے یعنی ڈاکٹر انجینیئر وغیرہ دو نمایاں اور واضع شعبے دیکھنے میں آتے ہیں۔ 

یہاں پھر والدین کا ذکر نہ کروں تو اس مضمون کی حقیقت مٹ جائے گی جب ایک طالب علم میڑک لیول پر پونچتا ہے تو اس کی تو خواہیش والدین اس طرح سے کھا جاتے ہیں جیسے صدیوں سے بھوکے وہ ہوں میرا بیٹا تو ڈاکٹر بنے گا ڈاکٹر سے نیچے کی تو وہ بات ہی نہیں کرتے بے شک بچے میں ایسی کوئی صلاحیت موجود نہ ہو اسی لیے اکثر سننے میں آتا ہے عموما جب کوئی طالب علم ڈاکٹر نہ بن پائے یا انجینیئر نہ بن پائے تو اس کی یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ میں یہ پڑھنا نہیں چاہتا تھا والدین کے اسرار پر رکھ لیا تھا اور ایک سیکینڈری لیول کے غلط انتخاب سے بچے کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے اب ہائیر سیکینڈری لیول کی طرف نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پڑھائی زیورو اور کالجوں میں بد نظمی کا دن بدن بڑھنا ہے طلبا اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دیتے وہ اساتذہ کا احترام بلکل نہیں کرتے وہ کالج باقاعدگی سے نہیں جاتے۔

اوراگر وہ غلطی سے پورے ہفتے میں کبھی کالج چلے بھی جائیں تو اپنا وقت فضول گپ شپ میں ضائع کر دیتے ہیں وہ صحت مندانہ غیر نصابی سر گرمیوں میں حصہ نہیں لیتے وہ سگریٹ نوشی اور بے ہودہ فلموں کے دلدادہ ہیں ہر لڑکا عامر خان یا سلمان خان اور ہر لڑکی خود کو ایشیوریا رائے یا کترینہ بننا چاہتی ہے لڑکے تو مست مولا بنے کا ڈھونگ کرتے ہیں جو اپنی پارو کی تلاش میں سر گرداں ہے اور دوسری طرف ہر لڑکی اپنے سلمان خان کی تلاش میں ڈوبی ہوئی ہے کالجوں کی یہ صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے اگر والدین اساتذہ اور حکومت نے اپنی زمہ داریاں پوری نہ کیں تو ہمارا سارا نظام تعلیم تباہ ہو جائے گا جو کہ بہت بڑا المیہ فکر ہے اب ذرا تصویر کا رخ بڑی سکرین کی طرف گھوماتیں ہیں جہاں مکمل اندھیرا نظر آ رہا ہے اور آنے والی نسل پتہ نہیں کس طرف جا رہی ہے میرا مطلب ہے یونیورسٹی لیول سب سے پہلے یونیورسٹی کی تعلیم کی اگر بات کی جائے تو بات تعلیم حاصل کرنے سے پہلے ہی ختم سمجھے کیوں کے بیچلر اور ماسٹر لیول کی فیسوں کی دیواریں اتنی مظبوط ہیں کہ ان کو توڑنا مشکل ہی نہیں بلکے نا ممکن ہے پاکستان میں یونیورسٹیاں تو بہت ہیں لیکن وہ یونیورسٹیاں کم اور کاروباری ادارے زیادہ ہیں فیسیں بہت ہیں اس وجہ سے اکثر وہ طالبہ جن پڑھنے کا شوق ہو وہ پڑھ نہیں پاتے اور اپنی سفید پوشی میں وقت گزار دیتے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسے سرکاری ادارے ہیں جہاں ایجوکیشن کے فنڈز آتے ہیں جو طلبہ فیس ادا نہیں کر سکتے وہ ان کو سپورٹ کرنے کے لیے آتے ہیں لیکن وہ ان مستحق طلبہ تک اس لیے نہیں پہنچ پاتے کیوں کہ ان کو اس بارے میں آگاہی بھی کم ہوتی ہے اور دوسرا اگر غلطی سے آگاہی ہو بھی جائے تو ادارے میں سفارشات نہ ہونے کے وجہ سے وہ اس حق سے محروم رہ جاتے ہیں اوپر سے ہمارے ادارے بھی ایسے ہیں اگر کوئی مستحق مرد کی رسائی وہاں ہو بھی جائے تو اس کی تحقیق میں مہینوں لگ جاتے ہیں جس سے طالبہ کا وقت ضائع ہو جاتا ہے اب بات یونیورسیٹیوں میں پڑھنے والے طالبہ کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یونیورسٹیوں میں کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے اور کون کروا رہا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں سسٹم کیا ہے اس پر بات کرتے ہیں ویسے تو ہر کوئی اپنے آپ کو اسلام کا علمبردار سمجھتا ہے کہتا ہے باتیں ایسے کرتے ہیں جیسے ابھی ہی کسی درس سے پڑھ کر مفتی کی ڈگری بغل میں ڈال کر لائے ہیں ۔ہمارے ہاں جو یونیورسٹیوں میں سسٹم ہے اس کو انگریزی میں کو ایجوکیشن اور عام زبان میں ایسا نظام جہاں لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے بیٹھ کر ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں اب بات کا پہیہ پھر گھماتے ہیں وہ لوگ جو خود کو مفتی اور اسلام کا ڈھکیدار بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں وہی ایسے اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ایسے اداروں کی طرف بھیجتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم اسلام کی ٹھیکیدار ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ دراصل وہی لوگ بعد میں روتے ہیں آج کل یہ حال ہے کہ جس کے پاس پیسہ ہے وہی یونیورسیٹیوں میں پڑھے گا بالخصوص کو ایجوکیشن تو مردوں اور عورتوں کے لیے ہر دل عزیز ہو گئی ہے۔ 

ہمارے ہاں یونیورسٹیوں کو بھی کوئی پوچھنے والا نہیں نشہ واشہ پیار و عشق اور بے حیائی اس طرح یونیورسٹیوں میں رچی بسی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم امریکہ میں یا کسی غیر مسلم ملک میں موجود ہیں، جہاں بے حیائی اور دیگر چیزوں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے، اگر کوئی غلطی سے پوچھ ہی لے تو معاملہ کہاں سے کہاں تک چلا جاتا ہے، ایک اور قابل غور بات جو کہ اہم بھی ہے کہ اگر یہاں یہ ذکر نہ کیا جائے تو اس کالم کا مقصد فوت ہو جائے گا کہ کالجوں سے لے کر یونیورسیٹوں تک سیاسی تنظیموں کی ایک لابی کام کرتی ہے جو بہت متحرک نظر آتی ہے، ہر کالج اور یونیورسٹی میں جو نئی نسل کو برباد کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور تو اور ان تنظیموں کے سر براہوں کو باقاعدہ خرید کر تعلیم دی جاتی ہے اور پھر وہ اپنے تنظیم کے کارکنوں کو باقاعدہ تربیت دے کر ملک کے خلاف بھی استعمال میں لاتے ہیں جو کہ ایک خطرناک اور بڑا مسئلہ ہے لیکن یہ بات یہاں پر ضرور کروں گا کہ ایسی ہی تنظیموں کا فائدہ ملک دشمن اٹھاتے ہیں اور وہ اپنا کوئی ایسا شخص تیار کرتے ہیں جو ان تنظیموں کو متحرک کرتا ہے۔ طلبہ کو پہلے کوئی سمجھ نہیں ہوتی کیوں کہ وہ اس عمر کے حصہ میں ہوتے ہیں جہاں خود کو شاہ رخ اور دوسرے کو کاجول یا ایشیوریا سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔دراصل ہمارے ہاں تعلیمی اداروں اور گھروں میں بچوں کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے بعد میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر علاقے میں ایک ادارہ آگاہی کھولے۔ جہاں طلبہ کو ان تمام خطروں کے بارے میں آگاہی دی جائے اور خطرناک لوگوں سے کیسے بچا جائے اور ان کو بے نقاب کیسے کیا جائے، تاکہ بعد کے نقصان سے بچا جائے، ایک معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلباء اور ان کے والدین کے بارے میں تعصب اور جانبداری سے کام نہ لے، اسے چاہیے کہ وہ مذہب پیشے قومیت اور رنگ و نسل سے قطع نظر اپنے طلباء سے منصفانہ سلوک کرے طلباء کو کم تر اور گھٹیا نہیں جاننا چاہیے انکی عزت نفس کو مجروح نہیں کرنا چاہیے نہ۔ہی ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرنا چاہیے ایسا استاد جو اپنے شاگردوں سے نفرت کرتا ہے دراصل خود احساس کمتری میں مبتلا ہوتا ہے اس میں رتی بھر شک بھی نہیں کہ ہمارے ہاں تعلیم کے ہر شعبہ میں خاصی تبدیلی اور ترقی ہو چکی ہے لیکن کسی شخص کے علم کو پرکھنے کا طریقہ ابھی تک فرسودہ ہی ہے اب تو لوگوں نے موجودہ نظام امتحانات کے خلاف بولنا شروع کر دیا ہے ان کا موقف ہے کہ یہ کسی طالب علم کی یاداشت کو جانچنے کا زریعہ تو ہے لیکن یہ ہمیں اس کی صیح قابلیت کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا امتحان پریشانی کا موجب بنتے ہیں کیونکہ ہمارے مستقبل کا انحصار ان ہی پر ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں امتحان میں کامیابی یا ناکامی کو زندگی میں کامیابی یا ناکامی کی علامت سمجھا جاتا ہے آپ کے سارے مستقبل کا فیصلہ ایک امتحان والے دن کر دیا جاتا ہے ممتحن کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ آپ پرچہ اس لیے درست حل نہیں کر سکے کہ اس دن آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی یا یہ کہ آپ کے والد کا انتقال ہو گیا تھا، اگر آپ امتحان میں ناکام ہو جاتے ہیں تو آپ کو گدھے کی طرح احمق کند ذہن اور نالائق سمجھا جائے گا ،تعلیم کا مقصد ہمیں اس قابل بنانا ہونا چاہیے کہ ہم زندگی کے بارے میں از خود کوئی رائے قائم کر سکیں، ہمارے عقل و دانش میں اضافہ ہو اور ہم کسی بیرونی دباؤ میں آئے بغیر اپنے لیے درست فیصلہ کر سکیں ، 

موجودہ نظام تعلیم اور نظام امتحانات سب کچھ کرتے ہیں لیکن تعلیم کے اسی بنیادی مقصد کو پورا نہیں کرتے ہمارے نصاب میں جو کچھ درج ہے ہمیں صرف اس کو سیکھنا ہے لہذا امتحان رٹے بازی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ہم کچھ اہم سوالات رٹ لیتے ہیں جو امتحانات یا پرچے میں آ سکتے ہیں اور پھر امتحان میں جوں کا توں لکھ آتے ہیں اس لیے چونکہ کم محنت کے ساتھ محض چند سوالات رٹ لینے سے امتحان پاس کیا جا سکتا ہے اس لیے طلب علم میں گہرائی سے مطالعہ کرنے کا شوق پیدا نہیں ہوتا، خود اساتذہ کی قابلیت کو امتحانی نتائج سے پرکھا جاتا ہے، اس طرح انہیں اپنے طلبا کو پڑھانے کی بجائے انہیں امتحانی تکنیک میں ماہر کر دینے پر مجبور کیا جاتا ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر وہ طالب علم کامیاب ہوتے ہیں جنہیں امتحانی تکنیک میں تربیت دی گئی تھی کہ وہ طالب علم جنہیں بہترین طریقہ سے پڑھایا گیاتھا، بد قسمتیوں کا یہ سلسلہ جس سے طالب علم کو اپنی تعلیمی زندگی کے دوران گزرنا پڑتا ہے یہیں ختم نہیں ہوتا ،طالب علم کے تمام پرچے وہ ممتحن دیکھتے ہیں جنہیں طالب علم جانتا نہیں اور نہ ہی وہ اس طالب علم اور اس کی قابلیت سے پہلے سے آگاہ ہوتے ہیں، ممتحن حضرات انسان ہی ہوتے ہیں جوابی کاپیوں کو دیکھتے ہوئے وہ تھک بھی جاتے ہیں انہیں بھوک بھی لگتی ہے اور غصہ بھی آتا ہے بڑے محدود وقت میں انہیں جلدی میں لکھے ہوئے پرچوں کے ڈھیر دیکھنا پڑتے ہیں ایسے میں ان سے غلطیاں سر زد ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے لیکن ہر شخص یہ جانتا ہے کہ ان کی ہر بات میں وزن ہے، ان کا لکھا حرف آخر سمجھا جاتا ہے، ممتحن نے جو ناانصافی آپ سے کر دی اس کا کوئی توڑ نہیں، اس کے خلاف احتجاج بھی نہیں کر سکتے۔ 

امتحان لینے والے اداروں کے لیے امتحانات منافع بخش کاروبار بن گئے ہیں وہ ہر سال طالب علموں سے بھاری فیسسیں لیتے ہیں اور پھر انہیں اپنے دفاتر اور کاروں کی دیکھ بھال کے لیے فیاضی سے خرچ کر دیتے ہیں۔ جس کی واضع مثال این ٹی ایس ۔ او ٹی ایس ۔ بی ٹی ایس ۔اے ٹی ایس ۔ اور ناجانے کتنے لٹیرے ہمارے ملک میں بیٹھے اس ملک کی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر کھا رہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ۔آج کل تو یہ فیشن بن گیا ہے نوکری کے لیے ایڈمیشن کے لیے پتہ نہیں کون کون سی ٹیسٹنگ سروس آ گئی ہے۔ جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا اور تو اور جن کا خود سٹاف جعلی تعلیمی اسناد رکھتا ہے اور ٹیسٹنگ سروس کھول کر بیٹھ جاتا ہے گھر میں کھنے کے لیے آٹا ہو نہ ہو پیٹ میں کچھ ہو نا ہو فیس ادا کرنا ضروری ہے ورنہ گھر بیٹھو یا ریڑھی لگا لو وہ بھی نہیں لگا سکتے اگر غور کریں تو یہ ساری باتیں حوصلہ شکن ہیں لیکن ان سب کا یہ مطلب نہیں کہ نظام تعلیم کے صرف برے پہلوں ہی ہیں یہ اگر بہترین نہیں ہے تو بد ترین بھی نہیں۔

یہ تکلیف دہ ضرور ہے لیکن زندگی میں اسی طرح کی اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جو ہمیں ناپسند ہیں تو کیوں نہ ہم اسے اسی طرح برداشت کریں ،جس طرح ہم زندگی کی بہت سی دوسری ایسی چیزوں کو برداشت کرتے ہیں ،اگر تعلیم پر مکمل گفتگو کی جائے تو یہاں اگر نصاب کا زکر نہ کروں تو انتہائی افسوس ہو گا ،کیونکہ ہمیں اپنے ملک کے نصاب کو بدلنے کی اتنی فکر نہیں جتنی ہمارے دشمنوں کو ہے ،جب ہی وہ ہمارے ملک کے نصاب کو تبدیل کرنے کے لیے افسردہ اور پریشان ہیں، جی ہاں میرا اشارہ آپ سہی اور بلکل درست سمجھیں ہیں، مانا کہ ہمارے نصاب کو تبدیل کرنا ہو گا وہ بھی اس شرط پر کہ اس میں کچھ فنی تعلیم و تربیت ڈالنے کی ضرورت ہے جو کہ طلبہ کے لیے بے حد فائدہ مند ہے، لیکن اتنا بھی تبدیل نہیں کرنے کی ضرورت کے اس میں سے بلکل سب کچھ تبدیل کر دیا جائے، جیسا کہ ہمارے ملک پاکستان میں کچھ ایسی تنظیموں نے سر اٹھایا ہے، جو نصاب کے نام پر مذہبی انتشار پھیلانے کی کوشش کرنے میں مصروف ہیں، یعنی وہ دین کو ختم کرنے کے لیے ہمارے آنے والی نسلوں کو برباد کرنے کی کوشش میں لگی ہے اور اپنی اپنی سروے ٹیمیں بنا کر بیٹھی ہیں، جنہوں نے ہمارے سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کے ہر اس پیج کو نوٹ کیا اور انڈر لائین کر کے اس سے ایک کتابچہ ڈیزائن کیا ہے کتابچہ کچھ اس طرح بنایا ہے کہ اس میں جہاں جہاں اسلام یا اللہ تعالی کی یا حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جہاں کوئی دینی بات ہے وہاں سے نکالا گیا ہے اور اس کو ایک کتابچہ کی شکل دے دی ہے جس میں ہمارے ملک کے وہ دلال بھی شامل ہیں جو ایک روپے کی خطر اپنی عزت بیچنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور اس میں بڑی لابی قادیانیوں کی ہے ، اگر آپ کو یقین نا آئے تو ہر سکول کا سروے کریں کلاس ون سے کلاس دہم تک جتنے بھی اساتذہ اسلامیات یا لائبریری میں کام کر رہے ہیں وہ کون ہیں وہ زیادہ تر قادیانی ہیں جنہوں نے ہر طرف جال بیچھا دیا ہے ان کو پتہ ہے کہ کسی نے پوچھنا تو نہیں ہے چلو ان کو تباہ کریں تاکہ مسلمان کمزور ہو اور یہ ٹوٹ جائے اس کی ہر نظام کو تباہ کرو تا کہ یہ کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہ رہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستانی عوام سوئی نہیں جاگ رہی ہے وہ اس کا ضرور بچائے گی پاکستان کی عوام جاگ رہی ہے جگتی ہے اور جاگتی رہے گی اور وہ کسی قیمت پر بھی کسی کو اپنے ملک پاکستان سے کھلنے کی اجازت نہیں دے گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81625
کوڈ
 
   
مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
پاک فوج کے اضافی دستے سعودی عرب بھیجنے پر قومی اسمبلی میں بحث ہوئی ہے۔ میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں پاک فوج کو سعودی عرب بھیجنے کا معاملہ پھر زیر بحث آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے اظہار
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے درست کہا ہے کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں اور جب سیاست دانوں پربھینس چوری کے پرچی کٹے تو غلطی تب بھی ہوئی۔
ایرانی دار الحکومت تہران میں سکیورٹی فورسز اور صوفی عقیدت مندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تہران پولیس کے ترجمان بریگیڈیئر سعید منتظرالمہدی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران کے
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں