Wednesday, 22 August, 2018
انصاف منع ہے

انصاف منع ہے
جاوید ملک/ شب وروز

 

وفاقی دار الحکومت میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کیخلاف قبائلیوں کے احتجاج کو ہفتہ سے زائد عرصہ بیت چکاہے ۔ فروری کا مہینہ ہے اور شہر اقتدار کی شامیں انتہائی یخ بستہ ہیں لیکن موسم کی تلخی سے بے پرواہ ان قبائلیوں کی انکھیں بولتی ہیں، ان کی اردو شاید ٹوٹی پھوٹی ہو ، مذکر کو مؤنث اور مؤنث کو مذکر بنادیتے ہو، ان کا لباس بھی شاید اس شہر کی وضع قطع کے مطابق نہ ہو لیکن ان کے سوال انتہائی ٹھوس ہیں ان کا نوحہ ہرذی شعور کا دل چیرتا ہے۔

ابھی چند روز قبل ہمارے دوست طاہر زمان بنگش نے پُرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا ۔ طاہر بنگش دوحہ قطر میں مقیم ہیں پاکستان سالوں بعد آتے ہیں اس دعوت میں دیگر لوگوں کے علاوہ دوبئی میں پاکستانی کمیونٹی کے صدر پیر قیوم شاہ سے بھی گپ شپ رہی میں نے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت کو وطن عزیز کے موجودہ حالات پر انتہائی آزردہ پایا ۔ اس محفل میں بھی نقیب اللہ محسود کے بہیمانہ قتل پر میں نے ہر آنکھ کو پرنم دیکھا ۔ گزشتہ روز پشاور میں ہمارے دوست تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی حاجی فضل الہی کی رہائش گاہ پر تحریک انصاف کے عہدیداران اور کارکنان نے بھی اس واقعہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ۔ مجھے یوں لگا جیسے نقیب اللہ محسود کے اس قتل نے برداشت کے کئی بند توڑ دیے ہیں اور عرصہ دراز سے ہونیوالی نا انصافیوں کیخلاف پیدا ہونے والا غصہ اب حدود کی سرحدیں پھلانگ رہاہے ۔

بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ جب کسی کے گھر فوتگی ہو جاتی ہے تو محلے بھر کی عورتیں اکٹھی ہو کر بین کرتی ہیں یوں دکھائی دیتا ہے جیسے انہیں پسماندگان سے دلی ہمدردی اور بے پناہ دکھ ہے کسی حدتک ہمدردی تو یقیناًہوتی ہے اور مقصد بھی دکھ بانٹنے کا ہی ہوتا ہے لیکن درحقیقت ہر عورت اپنے دکھوں کو رورہی ہوتی ہے اسے اس موقعہ پراسے اپنے وہ سارے پیارے یاد آجاتے ہیں جو اسے چھوڑ کر ابدی نیند سوگئے ۔ نقیب اللہ محسود کے دکھ سے بھی سب کا دکھ جڑا ہے ۔ یہ ایک شخص ، ایک ظالم پولیس افسر یا پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا نوحہ نہیں بلکہ اس پورے نظام کا نوحہ ہے ۔

وفاقی دار الحکومت میں سینہ کوبی کرتے ان پختونوں کے چہرے پر ایک سوال واضح نقش دکھائی دیتا ہے کہ ہم تو علاقہ غیر کے رہنے والے ہیں جہاں قانون کی عملداری نہیں ہے اتنا ظلم تو وہاں بھی نہیں ہوتا پھر تم کس فاٹا اصلاحات کی بات کررہے ہو کیا ہم اپنی روایات دفن کرکے تمہارے اس قانون کی چھتری تلے آجائیں جس میں چھاتہ کم اور چھید زیادہیں۔

میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اگر پورے پاکستان میں صرف گزشتہ پانچ سالوں کے پولیس مقابلوں پر جوڈیشل انکوائریاں کرلی جائیں تو ستر فیصد سے بھی زیادہ پولیس مقابلے جعلی ثابت ہوجائیں گے ۔سینکڑوں نقیب اللہ محسوداور ان کے غم زدہ بے بس خاندانوں کی گھٹی گھٹی چیخیں آپ کی روح تک کو ہلا دیں گی ۔ مگر کون کرے اور کیوں کرے ؟یہاں تو برسوں سے مٹی پاؤ فارمولے پر نظام کورواں دواں رکھا گیا ہے ۔

میں نے پیر قیوم شاہ سے کہا ، طاہر زمان کو سمجھایا ، حاجی فضل الہی اور تحریک انصاف کے جو شیلے کارکنان کے آگے ہاتھ جوڑے یہ مسئلہ پختون ، قبائلی ، پنجابی ،سندھی ،بلوچی یا کشمیری کا نہیں ہے یہ صوبائیت ، زبانوں یا نسلوں کا بھی مسئلہ نہیں ے یہ مسئلہ ہے ایک مکروہ کن درجہ بندی کا ۔ یہ مسئلہ ہے عام اور خاص آدمی کا ۔ یہ مسئلہ ہے غریب اور امیر کا ، یہ مسئلہ ہے بے اثر اور با اثر کا ۔ ہوتی پختونخواہ کا ہو یا لغاری پنجاب کا کوئی رئیسانی بلوچستان کا ہو یا زرداری سندھ کا یہ قانون ان کے سامنے دم ہلاتا ہے ان کے پاؤں چاٹتا ہے مگر جب معاملہ عام آدمی کا ہو تو نہ جانے لمحوں میں اس قانون کے اندر اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے کہ یہ خون آشام درندہ بننے میں دیر نہیں کرتا ۔

میں قانون کا طالب علم بھی ہوں میں نے پڑھا ہے کہ قانون ہر شہری کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور سب کے حقوق برابر ہیں لیکن قانون کے یہ خوشنما پہلو صرف قانون کی کتابوں میں ہی ملتے ہیں معاشرے میں تو طاقت کا قانون چھنگاڑتا پھرتا ہے اور اس کے سامنے دم مارنے کی کسی میں جرأت نہیں ۔

نقیب اللہ نوجوان تھا ، اس نے ابھی زندگی کے کئی رنگ دیکھنا تھے مگر وہ اس نظام کے وحشی پن کا شکار ہوگیا ۔ مگر وہ پھر بھی خوش قسمت ہے کہ پورا پاکستان اس کیلئے دہاڑیں مارمارکر رویا ہے ۔دو ، چارسو نہیں ہزاروں لوگ اس کیلئے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں اور شہر اقتدار میں خیمہ زن ہیں یہاں اس نظام کی چکی میں تو ہزاروں نقیب اللہ پیس گئے ان کے خاندانوں پر ڈر اور خوف کا پہرہ بٹھادیا گیا وہ ساری عمر ایک گھٹن اور نظام کے دیے ہوئے بدترین الزام کے ساتھ مرمر کر جئے جارہے ہیں بلکہ جینے کے نام پر سزا بھگت رہے ہیں مگر انصاف مانگنے کی جرأت نہیں کرسکتے ؟ اگر کرتے بھی ہیں تو ان کی آواز نظام کی گھن گرج میں دب جاتی ہے ۔۔۔ تف ہے اس نظام پر ۔۔۔لعنت ہے اس نظام کی آب یاری کرنے والوں پر ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  6844
کوڈ
 
   
مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
وزیر اعظم عمران خان نے نجم سیٹھی کے استعفے کے بعد احسان مانی کو نیا چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نامزد کردیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے احسان مانی کو چیئرمین پی سی بی کے طور
مسجد نبویؐ کے امام ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو ٗ تمام انبیاء نے کہا صرف اللہ کی عبادت کرو ٗاسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق اور بہترین سلوک و برتاؤ ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی 16 رکنی ٹیم نے حلف اٹھالیا، اسد عمر خزانے کے وزیر، شاہ محمود وزیرخارجہ اور فواد چودھری وزیراطلاعات بن گئے، شیخ رشید ریلوے، فروغ نسیم قانون اور پرویز خٹک نے وفاع کی کمان سنبھال لی۔
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کیا گیا۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں