Monday, 17 December, 2018
خطرناک الیکشن کی’’پرامن‘‘ تیاریاں!

خطرناک الیکشن کی’’پرامن‘‘ تیاریاں!
عطاء الحق قاسمی کا کالم

 

ہم آپ کے ممنون ہیں کہ ہم جانبازوںکی درخواست پر آج آپ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ جناب والا آج آپ کو اپنے درمیان موجود پاکر ہمارے جو جذبات ہیں ان کی شدت لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے، اگرچہ آپ نے ہمیں کسی بھی موقع پر تنہا نہیں محسوس ہونے دیا اور ہر نازک موقع پر دامے درمے سخنے مدد فرماتےر ہے۔ روحانی طور بھی آپ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے لیکن آج آپ کی جسمانی موجودگی نے ہمیں نیا حوصلہ اور نیا ولولہ دیا ہے جس کے لئے آپ کے تہہ دل سے ممنون ہیں۔جناب والا جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ الیکشن میں اب چندروز باقی رہ گئےہیں اور یہ عام الیکشن نہیں ہیں، ووٹر کی مرضی خواہ کچھ بھی ہو ہم نے اس سے اپنی مرضی کا ووٹ ڈلوانا ہے۔ یہ ہے کہ آپ کے تعاون سے اسلحہ کے لئے موصول ہونے والی رقم اپنے طور پر گرانقدر ہونے کے باوجود مہنگائی کے حوالے سے اس قدر کم ہے کہ اس میں چند کلاشنکوف ہی آسکتی ہیں، چنانچہ ہماری کم مائیگی کا یہ عالم ہے کہ ہم دس جانبازوں کے علاوہ صرف ایک کے پاس کلاشنکوف ہے، باقی جانباز کھلونوں کی دکان سے پستولیں خریدرہے ہیں۔ جناب والا! آپ کے دشمنوں سے نپٹنے کے لئے جس جدید اسلحے کی ضرورت ہے اس کی اہمیت سے آپ بخوبی واقف ہیں،کیونکہ اس وقت ملک جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس معاملے میں ذرا سی غفلت ہمارے اور آپ کے لئے شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ 

جناب والا! اس وقت ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ علاقے والوں پر دہشت طاری کرنے کے لئے روزانہ ہزاروں ہوائی فائر کرنے پڑتے ہیں۔ فنڈز کی کمی نے بہت پریشان کررکھا ہے، بلکہ ارد گرد کی بستیوں کے لوگ اپنے طور پر پریشان ہیں، کیونکہ اگر کسی روز ہم لوگ چاند ماری کا ناغہ کریں تو وہ لوگ ذہنی طور پر اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ فائرنگ کی آواز سنے بغیر کوئی کام کرنے کےقابل نہیں رہتے، چنانچہ نہ انہیں نیند آتی ہے نہ پڑھا جاتا ہے، نہ لکھا جاتا ہے حتیٰ کہ ہمسائے میں اگر کوئی مریض ہے تو اسکےلواحقین درخواست کرتے ہیں کہ براہ کرم کہیں سے چار چھ کارتوس ادھار مانگ کر فائرنگ کروادیں تاکہ مریض کو نیند آجائے۔ جناب والا! ایسے مواقع پر سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا جناب والا سے درخواست ہے کہ فنڈ میں اضافہ کے لئے مثبت اور فوری اقدام کریں اگر ممکن ہے تو ان قدر دانوں سے ہماری براہ راست بات کروادیں جو اس ضمن میں آپ سے تعاون کرتے ہیں ، اس میں آپ کی عزت بھی ہے۔

جناب والا! ہم ایک اور شکایت آپ کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں اور وہ پولیس کے رویے کے بارے میں ہے۔ جناب والا! وہ بھی اس معاشرے کے فرد ہیں اور انہیں بھی روز گار کے بہتر وسائل تلاش کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا اس ملک میں رہنے والےدوسرے شہریوں کا ہے، چنانچہ جناب والا! اس کے لئے وہ ہماری طرف دیکھتے ہیں ہم اگر باقاعدگی سے انہیں نذرانہ نہ دیتے رہیں تو وہ کسی جھوٹے مقدمے میں ہمیں گرفتار کرلیتے ہیں اور پھر اخبارات کے ذریعے اس کی پبلسٹی بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح بسوں اور ویگنوں کے مالکان نے جس طرح لوٹ کھسوٹ کا بازارگرم کیا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے شہریوں کی جان جس طرح عذاب میں ہے تو یہ شہری بھی آپ کی طرف ہی دیکھتے ہیں چنانچہ آپ کے بی ہاف پر ہمیں انہیں جرمانہ بھی کرنا پڑتا ہے جس سے تھوڑی بہت آمدن ہوجاتی ہے، مگر یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، چنانچہ ناجائز آمدنی کے حامل امرا ءکی جائیدادوں پر قبضہ بھی کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے بہت سے اداروں کا منہ بھی بند کرنا پڑتا ہے۔

جناب والا! آپ جانتے ہیں کہ ہم الیکشن سے کئی روز پہلے سے ڈیرہ بھی چلا رہے ہیں، جہاں لائٹنگ، جھنڈیاں اور آپ کی قد آدم تصاویر آویزاں ہیں۔ صبح شام حلقے کے ووٹروں کے لئے چائے اور کھانے کے شاندار انتظامات ہوتے ہیں اس ضمن میں مختلف مقدموں کی وجہ سے جو ذہنی پریشانی ہوتی ہے اس سے بہت سے دوسرے مثبت کام متاثر ہوتے ہیں کیونکہ جناب والا! ایسے کاموں کے لئے مکمل ذہنی یکسوئی بہت ضروری ہے تاہم اس وقت ملک میںمعرکہ حق و باطل گرم ہے اور ہم آپ کی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے تاوقیکہ حق و باطل میں پہچان مشکل ہوجائے کیونکہ اس فضول سی بات کی وجہ سے پوری انسانیت ایک عذاب میں مبتلا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نام نہاد محب الوطن ہماری سرگرمیوں کو شک و شبے کی نظروں سے دیکھتے ہیں مگر جناب والا! اس سے کیا فرق پڑتا ہے انسان کو پریشان کرنے والی اصل چیز تو ضمیر ہوتی ہے ،ہم اور آپ دونوں جانتے ہیں کہ ضمیر ایک بوگس طرزاحساس کا نام ہے جو ہمیشہ افراد کی ترقی میں حائل ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  99207
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
صدر ٹرمپ کا جلا کٹا ٹوئٹ کیا آنا تھا کہ راج سنگھاسن پہ بیٹھے جغادریوں میں کیا کھلبلی تھی کہ نہ مچ گئی۔ اور میرے پرانے دوست خواجہ آصف کی رگِ ظرافت کہیے یا بھانڈپن، ٹرمپ کو اُنہوں نے وہ وہ سنائی ہیں کہ شاید اُس پر چھپنے والی آگ اور بگولہ نامی کتاب کا مصنف بھی مات ہو جائے۔
27؍ دسمبر 2007ء کی وہ سرد اور خونچکاں شام، بی بی بے نظیر کے خون میں لتھڑ کر دل و دماغ پر جم سی گئی ہے۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دہشت گرد وحشی ہر جانب سے حملہ آور ہوئے تھے اور وہ نہ رہی جس نے دہشت گردوں، مذہبی انتہاپسندوں اور مقتدرہ کے آمرانہ عناصر کے گٹھ جوڑ کو للکارا تھا۔
16 دسمبر کی تاریخ گزر گئی۔ وہ تاریخ جس نے پاکستان کو دولخت کرکے اس کھیل کا کام تمام کیا جس میں پاکستان کی حکمران اشرافیہ شروع سے مصروف تھی۔ وہ ملک جو مشرقی بنگال کے لوگوں کے ووٹوں
این اے 120لاہور کے ضمنی انتخابات میں نون لیگ نے کامیابی حاصل کرلی۔ تحریک انصاف نے 2013ء کے مقابلہ میں 6ہزار ووٹ کم لئے تو نو ن لیگ کے ووٹوں میں بھی 30ہزار کے قریب کمی ہوئی۔

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
جنگ کسی بھی معاشرے کیلئے نہ صرف بربادی کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ جنگ زدہ علاقے معاشی طور پر بھی ترقی اور تعمیر کے عمل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جنگوں کی وجہ سے تقسیم ہونے والے خاندانوں کے دل کی کیفیت اور کرب تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں
امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے کہ امریکہ یمن سعودی جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے دستبردار ہو جائے.امریکہ کی وزارت خارجہ کے وزیر پومپیو نے کہا کہ ہم امریکی کانگریس کی منظور کی گئی قرارداد کا احترام کریں گے.
سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ گرفتار ہوا تو کیا ہوگا، جیل دوسرا گھر ہے، ان کو غلط فہمی ہے کہ ہم خوف میں مبتلا ہیں، اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ سیاست سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے، ان کو کھیلنا آتا ہی نہیں، یہ انڈر 16 کھلاڑی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا اور والدین کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کو نہیں بھولے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں