Thursday, 24 October, 2019
پاکستان مخالف تین ممالک کا متحدہ دباؤ

پاکستان مخالف تین ممالک کا متحدہ دباؤ
تنویر قیصر شاہد کا کالم

 

آج شام بھارتی ریاست ’’راجستھان‘‘ کے مرکزی اور مشہور شہر، جے پور، میں سالانہ صُوفی میلہ (South Asian Sufi Festival) چار دن تک مسلسل جاری رہنے کے بعداپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔پچھلے تیس برسوں کے دوران منعقد ہونے والا یہ 54 واں صُوفی میلہ ہے۔

اصولی طور پر اس میں ’’سارک‘‘ کے آٹھوں ممالک کے فنکاروں اور دانشوروں کو شریک ہونا تھالیکن بھارتی سازش اور شرارت سے پاکستان کو اِس متنوع میلے سے منہا کر دیا گیا ہے۔6 تا9 اکتوبر جاری رہنے والے متذکرہ میلے میں 130 ممتاز مقامی و عالمی شہرت یافتہ صوفی اسکالرز اور اہلِ دانش نے شرکت کی ہے۔

افغانستان سے 30، بنگلہ دیش سے 20، نیپال سے 12،سری لنکا سے 10، بھوٹان و مالدیپ سے پانچ پانچ اور باقی بھارت سے۔ صوفی میلے کی روحِ رواں اور منتظمِ اعلیٰ اجیت کور، جو بھارت کی ایوارڈ یافتہ ادیبہ اور شاعرہ ہیں، نے ایک بھارتی اخبار کے استفسار پر بتایا ہے کہ ’’ہم نے 20 پاکستانی دانشوروں کو مدعو کرنے کے لیے بھارتی وزارتِ خارجہ (MEA) اور وزارتِ داخلہ (MHA) سے رابطہ کیا تھا تا کہ پاکستانیوں کے لیے ویزوں کا بندوبست کیا جائے لیکن دونوں وزارتوں نے سرے ہی سے کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘

رواں سال کے ماہ فروری کے دوران بھارت میں منعقد ہونے والے مشہور ادبی میلے میں بھی پاکستانی ادیبوں اور شاعروں کو بھارتی حکومت نے شریک نہیں ہونے دیا تھا۔ پچھلے تین، ساڑھے تین برسوں کے دوران بھارتی خفیہ اداروں اور بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان پر چاروں اطراف سے شدید دباؤ ڈالنے کی جو کوششیں جاری کر رکھی ہیں، مذکورہ بالا دونوں واقعات اِسی بھارتی سٹریٹجی کا حصہ ہیں۔

جے پور کے صُوفی میلے میں پاکستانی دانشوروں کی شرکت ناممکن بنا کر بھارت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان سے مسلسل کٹّی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت پر مگر واضح رہنا چاہیے کہ وہ دباؤکے یہ ہتھکنڈے بروئے کار لا کر بھی اپنے ایجنٹ کلبھوشن یادیو، جو بلوچستان اور سندھ میں بے پناہ تباہی پھیلانے کا ذمے دار ہے، کو زندہ حاصل نہیں کر سکے گا۔

5 اکتوبر2017ء کو ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور، نے اخبار نویسوں کو جو مفصل پریس بریفنگ دی ہے، اس میں بھی پاکستان دشمن کلبھوشن کے بارے واضح اشارے دیے گئے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی دباؤ کے باوجود پاکستان کو اپنے ڈھب پر نہیں لایا جا سکا ہے۔ یوں بھارتی اسٹیبلشمنٹ کسمسا کر رہ گئی ہے۔

پاکستان مخالف تمام تر بھارتی سازشوں اور شرارتوں کے باوجود پاکستان نے (مکالمے کے لیے) بھارت پر اپنے دروازے بند نہیں کیے ہیں۔ اِس کا تازہ ثبوت یہ بھی ہے کہ ابھی چند دن پہلے پاکستان نے بوہرہ کمیونٹی کے بارہ ہزار بھارتی  شہریوں کو ویزے جاری کیے تھے جنہوں نے کراچی میں اپنی مذہبی تقریبات میں حصہ لیا ہے اور ابھی پانچ اکتوبر ہی کو یہ لوگ واپس بھارت گئے ہیں۔

مودی صاحب مگر اجیت ڈوول ایسے سلامتی مشیروں (جنہوں نے پاکستان دشمنی کی گویا قسم کھا رکھی ہے) کے خطرناک مشوروں پر عمل پیرا ہیں۔ یہی مشیر ہیں جنہوں نے نریندر مودی کو مجبور کیا ہے کہ وہ سندھ طاس ایسے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کریں اور پاکستان کا پانی روک لیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب کا پانی 15034کیوسک رہ گیا ہے، حالانکہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت روزانہ دریائے چناب میں 55 ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہے۔

بھارت روزانہ پاکستان کا 35 ہزار کیوسک پانی چوری کر کے دراصل پاکستان کو چیلنج بھی کر رہا ہے اور اِس خطرناک ہتھکنڈے سے پاکستان کی معیشت اور زراعت پر دباؤ بھی ڈال رہا ہے۔ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی بھارتی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ نہایت بے شرمی سے یہ بھی پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ ’’میانمار کی شدت پسند تنظیم (ARSA) اور اس کے ایک مرکزی لیڈر (عمار جنجونی) کو پاکستان تربیت دے رہا ہے۔‘‘

یہ ایسی گھناؤنی تہمت ہے کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ چونکہ آجکل امریکا بوجوہ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کو سخت تنقید کا ہدف بنائے ہُوئے ہے؛ چنانچہ بھارت نے بھی امریکی نقشِ قدم پر چلتے ہُوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام، جو تمام تر محفوظ اور پُر امن ہیں، کے خلاف اپنے تھنک ٹینکس میں منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے۔

مثال کے طور پر: 7 اکتوبر 2017ء کو امریکی وزیر دفاع جیمز مَیٹس نے واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی ’’آرمڈ سروسز کمیٹی‘‘ کے رُوبرو یہ غلط بیانی کی ہے کہ ’’سی پیک‘‘ متنازع علاقوں سے گزر رہی ہے۔‘‘ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے یہ دل آزار اور غیر حقیقی بیان عین اُس وقت دیا جب پاکستان کے وزیر خارجہ (خواجہ آصف) ابھی سرکاری دَورے پر امریکا ہی میں تھے۔ بھارت اِس بیان پر پھر بغلیں کیوں نہ بجائے؟

مسلسل ایسے واقعات رُونما ہو رہے ہیں جو اس بات کی چغلی کھا تے ہیں کہ بھارت، امریکا اور افغانستان متحدہ دباؤ ڈال کر پاکستان کا سر جھکانا چاہتے ہیں۔ بلوچستان اور ’’سی پیک‘‘ کو گزند پہنچانا اِس اتحادِ ثلاثہ کا مشترکہ مقصد ہے۔ تقریباً دو ماہ قبل، 25 اگست کو، واشنگٹن کے پریس کلب میں جو نام نہاد پریس کانفرنس کروائی گئی، وہ بھی اِسی منصوبے کا شاخسانہ تھی۔ بظاہر اِس کا اہتمام American Friends of Balochistan نامی ایک تنظیم نے کیا۔

پاکستان کے خلاف الزام لگانے اور تہمتوں کا طومار باندھنے کے لیے معاندینِ پاکستان نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ مقصد یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان پر اتنا دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ گھٹنے ٹیک دے۔ لیکن انشاء اللہ یہ نوبت آ سکتی ہے نہ کبھی آئے گی۔ ستم کی بات یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک میں اگر پاکستان کے کسی فرد کی جانب سے ان منفی پروپیگنڈوں کا جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کوشش کو ناکام اور سبوتاژ کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اوسلوکے ’’نوبل پِیس سینٹر‘‘ اور ’’یونیورسٹی آف لنڈن‘‘ میں جب سابق صدرِ پاکستان پرویز مشرف نے پاکستان کا موقف بیان کرنے کی کوشش کی تو اُن کے جلسے اُلٹا دیے گئے۔

ہماری مشرقی سرحدوں اور ایل او سی پر مسلسل بھارتی فائرنگ سے آئے روز پاکستانی جس تسلسل کے ساتھ شہید ہو رہے ہیں، یہ المیہ تو اپنی جگہ سنگین ہے ہی لیکن بھارت سے شہ پا کر افغانستان نے بھی ہماری مغربی سرحد کو جس طرح غیر محفوظ بنانے کی بھونڈی کوشش کی ہے، اس نے پاکستان پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران پاک افغان سرحد پر افغان دہشتگردوں کے ہاتھوں پاک فوج کے لیفٹیننٹ ارسلان عالم اور نائب صوبیدار اظہر علی کا شہید ہونا معمولی واقعات نہیں ہیں۔

یقیناً ان خونی حملوں کے عقب میں بھارت ہے۔ اِسی لیے تو وزیر خارجہ خواجہ آصف کو دو دن پہلے امریکا میں یہ کہنا پڑا ہے: ’’پاکستان کی اصل تشویش افغانستان پر نئے امریکی منصوبے میں بھارتی کردار ہے۔‘‘ سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ بھی دنیا کو یہی سمجھانے اور باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا مگر بھارتی پروپیگنڈے کے سحر میں گرفتار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  17260
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
پچھلے دنوں اسلام آباد میں بروئے کار ایرانی سفارتخانے کے ایک سینئر رکن سے چائے پر ملاقات ہُوئی۔ وہ ایمبیسی مذکور کے پریس سیکشن سے وابستہ ہیں۔ ملاقات کی دعوت اُن کی طرف سے آئی تھی۔ایسے شیریں لہجے میں
ہم پاکستانیوں کی بھی عجب زندگی ہے جو تقسیم کر دی گئی ہے اس کا ایک حصہ بڑے لوگوں کی زندگی پر مشتمل ہے جس میں سوائے عیش و عشرت اور ضیاع وقت کے اور کچھ نہیں۔ ان عیاش لوگوں کو یہ فکر رہتی ہے
پھر ایک سانحہ، پھر آگ و خون کی ہولی ۔ جھل مگسی میں فتح پور کے مقام پر چیزل شاہ کی درگاہ میں عرس کے موقعے پر خود کش حملہ ۔ دو درجن کے قریب افراد جاں بحق، تین درجن سے زائد زخمی۔ اس درگاہ پر یہ دوسرا حملہ۔ پہلے حملے میں اس سے دگنی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جن احتساب عدالتوں میں آصف علی زرداری دھکے کھایا کرتے تھے انہی احتساب عدالتوں میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے بھی چکر لگیں گے۔

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
حکومت نے اپوزیشن کو آزادی مارچ کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق عدالتی فیصلوں کی
دفتر خارجہ کی جانب سے اس دورے کا اہتمام کیا گیا تاکہ آزاد کشمیر میں دہشت گردوں کے اڈے تباہ کرنے کے بھارتی جھوٹ کو بے نقاب کیا جاسکے۔ اس موقع پر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں