Sunday, 16 June, 2019
تین چار افراد کی اہم گفتگو

تین چار افراد کی اہم گفتگو
مظہر بر لاس کا کالم

 

ہفتہ، اتوار چھٹی کا دن تھا لہٰذا میرے کچھ نامراد قسم کے دوستوں نے مجھے تنگ کرنا فرض سمجھا۔ سب سے پہلے بڑھک باز، نخرے باز اور بڑے بڑے دعوے کرنے والا بودی شاہ آ گیا، دوچار منٹ بعد بشیرا پہلوان کہیں سے آگیا، بشیرے کی شکل و شباہت تو پرانی تھی مگر اس بار اس نے دودھیا لباس پہن رکھا تھا۔ بشیرے کے پیچھے پیچھے ہی کہیں عاقل شاہ تھا ۔عاقل شاہ کو ہم بچپن ہی سے پاگل شاہ کہتے آئے ہیں۔عاقل شاہ نے بھی کیا مقام پایا ہے کہ اسے گائوں کے چھوٹے بڑے سب پاگل شاہ کہتے ہیں مگر منہ پر سب لوگ شاہ جی، شاہ جی کہتے تھکتے نہیں۔مجھے سب سے پہلے میرے پرائمری اسکول کے ٹیچر نے اس ہستی کا نام بتایا تھا، دراصل عاقل شاہ ہمارے اسکول آیا ہوا تھا، وہ کافی دیر ماسٹر صاحب کے پاس بیٹھا رہا جب گیا تو میں نے ہمت کرکے ماسٹر صاحب سے پوچھ لیا کہ آپ کے پاس کون آیا ہوا تھا ۔ماسٹر صاحب بولے ’’پاگل شاہ‘‘ خیر وہ دن اور آج کا دن ہم سب اسے پاگل شاہ ہی کہتے ہیں۔اب تو ماسٹر صاحب نے بھی لائسنس عنایت کر دیا تھا اس لئے ہم ماسٹر صاحب کے سامنے بھی پاگل شاہ ہی کہا کرتے تھے اب یہ تینوں ہستیاں پتہ نہیں کیسے اکٹھی میرے گھر پر تشریف فرما ہو گئیں، میں خاموشی سے ان کی گفتگو سنتا رہا، بس کبھی کبھار ہاں جی یا جی ہاں کہتا رہا۔ سب سے پہلے بشیرے پہلوان نے گفتگو کا آغاز کیا، کہنے لگا ’’میں نے تو سوچا ہے کہ کشتیوں سے کوئی خاص آمدنی نہیں ہو رہی، میں نے ایک دوسرا کام بھی شروع کیا ہے، اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہو رہا میں تو سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کہ سیاست شروع کر دوں، ممبراسمبلی بنوں گا پھر بڑے سے بڑا عہدہ حاصل کروں گا پھر کبھی اپوزیشن میں بھی بیٹھوں گا لیکن میں دوران اقتدار خوب لوٹ مار کروں گا، اپنے ملک کو کنگلا کروں گا، ہر سودے میں کمیشن کھائوں گا، ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہو گا جس میں میری پتی شامل نہیں ہوگی، اگر مجھ پر مخالفین نے کرپشن کے الزامات لگائے تو میں ایسی ایسی کرنسی کا نام لوں گا جس کا اب وجود ہی نہیں ہے، مثلاً میں اپنی دیانتداری کے دعوئوں کے ساتھ یہ کہا کروں گا کہ کوئی مجھ پر دھیلے کی کرپشن ثابت کر دے، کبھی کہوں گا کہ کوئی مجھ پر ایک پائی ثابت کر دے اور کبھی کہوں گا کہ کوئی مجھ پر کرپشن کی ایک دمڑی ثابت کر دے، اس دوران میرے دوسرے ساتھی بھی میری حمایت کریں گے اور اگر مجھے گرفتار کر لیا گیا تو میرے حامیوں کے علاوہ کچھ اور ہمارے جیسے یہ کہیں گے کہ ہم پارلیمینٹ کی بالادستی کیلئے کام کر رہے ہیں، اس گرفتاری سے پارلیمینٹ کا تقدس مجروح ہوا ہے، کوئی کہے گا کہ اس سے جمہوریت کو خطرہ ہے یعنی میری گرفتاری کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا جائے گا، یوں میرا کام چلتا رہے گا۔‘‘

بشیرے کا خطاب ختم ہوا تو عاقل شاہ المعروف پاگل شاہ شروع ہوگیا وہ بولا ’’اگر بشیرا یہ کام کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں کر سکتا، میرے پاس بھی تھوڑے بہت پیسے تو ہیں، رہی میری سرکاری ملازمت کی تو میں اس کو طلاق دے دیتا ہوں، میں کونسا کوئی بڑا افسر ہوں، ایک معمولی اہلکار ہی تو ہوں، میں بھی سیاست شروع کرتا ہوں، اہلکار سے وزیر بنوں گا اور پھر وزیر بن کے ساری زندگی کی بھوک ختم کروں گا، خوب جائیدادیں بنائوں گا، ہر وقت پارلامنٹ، پارلامنٹ کہوںگا لیکن اس دوران رج کے لوٹوں گا، ملک کھوکھلا کروں گا، میں ہر معاملے پر کہوں گا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائیں، اگر ایٹمی پلانٹ کی بات بھی آ گئی تو میں پارلیمانی کمیٹی ہی کی بات کروں گا، پہلی بات تو یہ کہ مجھے کوئی گرفتار نہیں کرے گا اور دوسری بات یہ کہ اگر گرفتاری ہوئی تو پھر جمہوریت خطرے میں آ جائے گی۔‘‘

بشیرے پہلوان اور پاگل شاہ کے بعد بودی شاہ کی جلالی گفتگو شروع ہوئی ’’تم دونوں ایسا مت سوچو، یہ کام ہو گئے جو پہلے ہونا تھے، کیا تم دونوں نے نئے وزیراعظم کی بات نہیں سنی کہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا، کسی ڈاکو اور چور کو نہیں چھوڑوں گا لہٰذا تم دونوں باز آ جائو، چھوڑو ایسی باتیں ویسے بھی اگلے بیس پچیس دنوں میں کچھ اور خوفناک گرفتاریاں شروع ہونے والی ہیں،بچنا مشکل ہو چکا ہے تم سیاست کا نام بھول جائو، سیاست تو سیاست رہی باقی شعبوں میں بھی جھاڑو پھرنے والا ہے، تم دھیلا کہو، پائی کہو یا دمڑی، بچنا مشکل ہو چکا ہے، یہ جو نیا وزیراعظم ہے یہ تو اپنی پارٹی کے لوگوں کو بھی نہیں چھوڑے گا، ایسا لگتا ہے کہ اسے جمہوریت کی کوئی پروا ہی نہیں، عجیب آدمی ہے نہ خود لوٹ مار کرتا ہے اور نہ ہی کرنے دیتا ہے، تم دونوں میرے دوست ہو، اپنے ارادے ترک کر دو، اب یہ کام یہاں نہیں ہوگا۔‘‘میں ان تینوں کی باتوں پر تقریباً خاموش ہی رہا، اب آخر میں صرف ناصرہ زبیری کا شعر ہی سنانے کو رہ گیا ہے کہ ؎

دل سے جذبوں کا واسطہ ایسے

جس طرح سُر سے تال کا رشتہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  78079
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
انتقالِ اقتدار کو تین مہینے ہونے کو آئے ہیں جن میں واقعات کی اِس قدر گہما گہمی رہی کہ گمان گزرتا ہے عمران خان کی حکومت کو تین سال ہو گئے ہیں۔ پہلے یہ احساس کسی انتقالِ اقتدار کے بعد نہیں ہوا تھا۔ جب 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی
فوج بھی قبائلی علاقوں میں امن چاہتی ہے اور پشتون تحفظ موومنٹ بھی امن چاہتی ہے۔ فوج بھی آپریشن کے بعد روزمرہ کی ذمہ داریاں سول انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کے حوالے کرنے کے حق میں ہے اور پشتون موومنٹ کا بھی یہی مطالبہ ہے۔
آج شام بھارتی ریاست ’’راجستھان‘‘ کے مرکزی اور مشہور شہر، جے پور، میں سالانہ صُوفی میلہ (South Asian Sufi Festival) چار دن تک مسلسل جاری رہنے کے بعداپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔پچھلے تیس برسوں کے دوران منعقد ہونے والا یہ 54 واں صُوفی میلہ ہے۔
کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جن احتساب عدالتوں میں آصف علی زرداری دھکے کھایا کرتے تھے انہی احتساب عدالتوں میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے بھی چکر لگیں گے۔

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں