Thursday, 19 July, 2018
مشرف بہ مقابلہ ایم کیو ایم

مشرف بہ مقابلہ ایم کیو ایم
زاہدہ حنا کا کالم

زاہدہ حنا کا کالم

ہمارے یہاں ملک اور قوم کے لیے نسخۂ شفا آمر ہی لکھتے رہے اور یہ بھی وہی تھے جن میں سے دو نے خود نوشت لکھی ۔ جنرل ایوب خان ’’جس رزق سے آتی ہو‘‘ کے مصنف کہلائے ، یحییٰ خان ’ ایں دفترِ بے معنی غرقِ مے ناب اولیٰ‘ کی تصویر تھے انھیں کسی کام کی فرصت نہ مل سکی ۔

جنرل ضیاء الحق کو موت کے فرشتے نے مہلت نہ دی ۔ بریگیڈیر صدیق سالک جو ان کے کارہائے نمایاں لکھنے والے ممکنہ وقایع نویس ہوسکتے تھے ، وہ بھی جنرل ضیاء کے ہمراہ گئے۔ رہ گئے جنرل پرویز مشرف تو انھوں نے اپنے دورِ اقتدار میں ہی ’’In the Line of Fire‘‘ تحریر کرلی تھی اور اس کی رونمائی کے لیے امریکا بھی تشریف لے گئے تھے۔ وہ فور اسٹار جنرل تھے۔ 1999ء میں انھوں نے جمہوریت اور جمہوری حکومت پر شب خون مارا ۔ ابتدا میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر رہے اور پھر 2001 ء سے 2008ء تک خود کو صدر کے عہدے پر فائز رکھا۔ 2008 ء میں انھوں نے اس وقت صدارتی عہدے سے استعفیٰ دیا جب ان کے سر پر مواخذے کی تلوار لٹک رہی تھی۔

اپنے دور صدارت میں انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کئی سیاسی کارکنوں کو معافی دی اور ایم کیو ایم کو حکومت میں مرکزی کردار ادا کرنے کی چھوٹ دی ۔11ستمبر 2009 کو ٹوئین ٹاور پر ہونے والے حملے کے بعد جب امریکا نے ان سے دہشت گردی کی جنگ کے خلاف معاونت کے لیے کہا تو جنرل مشرف نے افغانستان پر امریکی حملے میں وہ تعاون بھی پیش کردیا جو امریکیوں نے پاکستانیوں سے طلب نہیں کیا تھا۔ یوں وہ امریکی صدر اور سٹبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔
ادھر پاکستان میں آج تک ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ  جنرل مشرف، افغانستان سے دہشت گردی کی جنگ کوکھینچ کر پاکستان کی سرحدوں کے اندر لائے۔ یوں انھوں نے پاکستان کو دہشت گردوں کے لیے ایک ایسی جگہ بنا دیا جہاں وہ پناہ لے سکتے تھے اور جہاں نقل وحرکت کرنا یا پاکستانی شہریوں کو سہولت کار بنانا، طالبان کے لیے بہت آسان تھا ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدارکی خاطر پاکستان کو منشیات اور کلاشنکوف کا ’تحفہ‘ دیا اور جنرل پرویز مشرف امریکیوں کو خوش کرنے کی خاطر اُس دہشت گردی اور خودکش دھماکوں کا ’تحفہ‘ لے کر آئے جس نے ہزاروں پاکستانیوں کی جان لی اور ملک کی پیشانی پر ’دہشت گرد‘ کا کلنک لگا دیا ۔ ان کا مستعفی ہو کر پاکستان سے جانا اور پھر بلند آہنگ دعوؤں کے ساتھ پاکستان آنا ہم سب ہی کو یاد ہے ۔ وہ سیاست میں بھرپور حصہ لینے کی خواہش اور عزم رکھتے تھے ۔

اسی لیے انھوں نے جون 2010ء میں آل پاکستان مسلم لیگ بنائی اور اس کے سربراہ کے طور پر پاکستان واپس آئے۔ ان کا خیال تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ان سے لاکھوں روپے لینے والوں نے انھیں یقین دلایا تھا کہ وہ جب کراچی پہنچیں گے تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ان کا انتظار کر رہا ہوگا۔ عوامی سمندر تو دورکی بات ہے جب وہ کراچی پہنچے تو وہاں چند سو افراد کے سوا کچھ بھی نہ تھا ۔ یہ صورتحال جو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی، ان کے لیے ناقابلِ یقین تھی۔ کراچی آنے کے تین برس بعد ان کی واپسی کا راستہ اس وقت کے جنرل راحیل شریف نے ہموار کیا جن کے لیے شکر گزاری کا اظہار وہ ایک نہیں کئی انٹرویوز میں کرچکے ہیں ۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج اپنے ایک سابق سربراہ کے مواخذے کو کسی طور برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ اس طرح ایک ایسی نظیر قائم ہوجاتی جو آنے والے دنوں میں فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے مسئلہ بن سکتی تھی۔

آج جنرل مشرف اس لیے یاد آرہے ہیں کہ دو دن پہلے انھوں نے کراچی میں اپنی جماعت اے پی ایم ایل کے جلسے سے خطاب کیا ۔ یہ جلسہ لیاقت آباد دس نمبر کے فلائی اوور پر ہوا۔ اس جلسے میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم خیال لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر ہم ایک ایسا اتحاد بنا رہے ہیں جو اقتدار میں آکر عوام کے مسائل حل کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم مہاجروں کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ کراچی پاکستان ہے۔ اس شہر میں سندھی، مہاجر، پٹھان، بنگالی، پنجابی، بلوچی سمیت تمام قومیت کے لوگ آباد ہیں ۔ کراچی کے لوگوں کو استعمال کیا گیا۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ میں صدر، آرمی چیف رہ چکا ہوں ۔ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ۔ پاکستان کی ترقی کا سوچتا ہوں ۔کراچی میں لاشوں کی سیاست ہوتی تھی۔ خاندان کے خاندان تباہ ہوگئے۔ میں بھی مہاجر ہوں لیکن میں اپنے آپ کو مہاجر نہیں سمجھتا۔ میں سب سے پہلے پاکستانی ہوں ۔ مہاجر ایک پڑھی لکھی قوم ہے ۔

ایم کیو ایم نے مہاجروں کو تباہ کردیا ۔ اے این پی نے کٹی پہاڑی میں پٹھانوں کو اسلحہ دیا۔ ایم کیو ایم نے مہاجروں کو اسلحہ دیا ۔ پیپلز پارٹی نے اپنے لوگوں کو اسلحہ دیا۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑایا۔ ہمیں اس سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنا پڑے گا۔ کراچی کے لوگ باشعور ہیں۔ وہ میرا ساتھ دیں۔ ہم پیپلز پارٹی کا مقابلہ کریں گے۔ اب جو اتحاد بنے گا اس کو نیا نام دیا جائے گا۔ اور ہماری کوشش ہوگی کہ ہم حکومت بنائیں۔ ہم کراچی سمیت ملک بھر کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم تعلیم صحت، امن و امان اور دیگر مسائل کو حل کریں گے۔ اس لیے میں عوام کو کہتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں تاکہ ہم حکومت بنا کر عوام کے مسائل حل کرسکیں۔ جو بھی سمجھتا ہے کراچی سندھ نہیں ہے وہ غلط سمجھتا ہے۔ کراچی ہمیشہ سندھ کا حصہ رہے گا۔ سندھ کے دیہی اور شہری علاقے ایک ہونا چاہئیں۔ آپ ’را‘ کے ایجنٹ، ٹارگٹ کلر، بھتہ خور اور دہشت گرد کہلائے۔ کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ وہ شریف آدمی ہے۔ ان دھبوں سے میں آپ کو باہر نکالوں گا۔ پیپلز پارٹی سندھ، مسلم لیگ (ن) پنجاب، اے این پی پٹھان کے لیے ہے۔

ان کی یہ تقریر پڑھ کر مجھے نومبر 2017 ء کا ان کا بیان یاد آیا جس میں انھوں نے ایک ایسے سیاسی اتحاد کا اعلان کیا تھا جس میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کو شمولیت کی دعوت دی گئی تھی، انھوں نے کہا تھا کہ وہ تمام جماعتیں جو مہاجروں کی نمایندگی کرتی ہیں انھیں متحد ہوجانا چاہیے۔ اپنے اس بیان میں عمران خان پر تنقید کی تھی کہ وہ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔ انھوں نے عمران کو بھی دعوت دی تھی کہ وہ ان کے اس اتحاد میں شامل ہوجائیں۔ ان کے اس بیان میں ان جماعتوں کا بھی نام دیا گیا تھا جو جنرل پرویز مشرف کے 23 رکنی جماعتی اتحاد میں شامل ہوں گی۔

11 نومبر2017ء کے اس بیان کو دہرانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ 7جنوری 2018 ء کو انھوں نے لیاقت آباد میں جو تقریر کی ہے اس میں ایم کیو ایم کے نام کو ایک دھبہ قرار دیا ہے۔ 11 نومبر 2017ء کو وہ جس جماعت کو اپنے سیاسی اتحاد کا حصہ بننے کی دعوت دے رہے تھے، 7 جنوری یعنی دو ماہ سے بھی کم کی مدت میں اس کو مہاجروں کے نام پر دھبہ قرار دیا ہے۔

اس سے بہت پہلے اپنے دورِ اقتدار میں وہ ایم کیو ایم کے ہمدرد بلکہ سرپرست سمجھے جاتے تھے اورکوئی بھی آج 12 مئی کی ان خبروں اور فلموں کو نہیں بھولا ہے جن میں اسلام آباد میں ہونے والی ’’ استحکام پاکستان ریلی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کا مکّہ بنا کر لہرایا تھا ۔ یہ وہ گھڑی تھی جب کراچی میں آگ لگی ہوئی تھی، شہر گولیوں کی تڑ تڑاہٹ سے گونج رہا تھا، ہر طرف خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی ۔ اس وقت کے چیف جسٹس کراچی ائیر پورٹ پر محصور تھے اور آخر کار انھیں واپسی کا سفر اختیارکرنا پڑا تھا ۔کراچی جل رہا تھا اسی گھنٹہ گھڑی اس وقت کے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے مکّے لہراتے ہوئے کہا تھا ’’دیکھ لیا جائے۔ یہ عوام کی طاقت ہے۔‘‘

12 مئی 2007 ء جو کراچی کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، اس روز جنرل پرویز مشرف ایم کیوایم کے پشتی بان تھے۔ 11 نومبر 2017 ء کو نئے سیاسی اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے وہ ایم کیو ایم ۔ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کو اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دے رہے تھے اور دو ماہ سے بھی کم کی مدت میں 7 جنوری 2018ء کو وہ اعلان کررہے تھے کہ ایم کیو ایم مہاجروں کے دامن پر سیاہ دھبہ ہے۔

جنرل پرویز مشرف نسیان کے مریض تو یقیناً نہیں ہیں لیکن وہ نیم حکیم ضرور ہیں۔ وہ لوگ جو خود کو ابھی تک مہاجر کہتے اور سمجھتے ہیں انھیں سوچنا چاہیے کہ ایک سابق آمر نے انھیں پہلے اپنے اقتدار اور جمہوریت کے خلاف استعمال کیا اور آج بھی وہ انھیں جمہوری عمل کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔فوجی آمر کے پاس سیاسی دانش نہیں ہوتی کیونکہ یہ اس کا شعبہ نہیں ہے۔ جناب کے پاس یہ دانش ہوتی تو وہ اس ایم کیو ایم کو ایک دھبہ نہ کہتے جسے وہ ماضی میں استعمال کرتے رہے تھے، بلکہ کسی اور لفظ کا انتخاب کرتے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  16782
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
موضوع کچھ اور تھا اور بات کہیں اور پہنچی ہوئی تھی مگر نجانے مجھے کیا سوجھی کہ میں نے جنرل باجوہ سے پوچھ لیا ’’ کوئی ایسی خواہش جو ابھی بھی پوری نہ ہوئی ہو‘‘ یہ سن کران کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی
افواجِ پاکستان کے ترجمان ادارے،آئی ایس پی آر، کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور صاحب نے چارج سنبھالا تو میری اُن سے تفصیلی ملاقات ہُوئی۔اُن کے مرکزی دفتر میں۔اُن کے پیشرو(جنرل عاصم) بھی اپنے متعینہ فرائض کی بجا آوری میں خاصے مستعد تھے
یوم مئی پوری دنیا میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ 1886ء میں امریکا کے شہرشکاگو میں لاکھوں مزدوروں نے استحصالی قوتوں اور اپنے ساتھ ہونے والے جبر اور ناانصافیوں کے خلاف شکاگو کی سڑکوں پر بھرپور احتجاج کیا۔ یہ احتجاج جبری مشقت کے خلاف تھا
میرا دل ان اصحاب کو داد دینا چاہتا ہے جنہوں نے آپریشن رّدالفساد کا نام سوچا اور رکھ دیا۔۔۔ یہ اس قدر جامع اور عمیق نام ہے کہ میں اس کے بارے میں جتنا بھی سوچتا ہوں اتنا ہی اُن دماغوں کا معترف ہوجاتاہوں جن میں یہ نام اپنی تمام تر وسعتوں

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے نمائندہ جی ایچ کیو نے بتایا پاک فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں، آرمی صرف امن اومان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے، آرمڈ فورسز ہمیشہ سول اداروں کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نواز کی ان کے وکلا سے ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق نوازشریف اورمریم نواز کا آج اڈیالہ جیل میں چھٹا روزہے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو جیل کا مکین ہوئے 11 دن ہوگئے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں انتخابی امیدواروں پر دہشت گردانہ حملوں سے پاکستان خوفزدہ ہونے والا نہیں ملک میں جمہوری انتخابی عمل جاری رہے گا۔
ترکی کی حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی دو سال بعد ختم کردی۔ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک دھڑے نے صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی تھی۔ اس بغاوت میں فوجیوں سمیت تقریب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں