Friday, 22 March, 2019
پنجاب سے فلسفے کی بتدریج بے دخلی

پنجاب سے فلسفے کی بتدریج بے دخلی
محمود شام کا کالم

یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ حکومت پنجاب صوبے میں لیکچررز کی آسامیوں کا اشتہار دیگی۔ اور تین ہزار اسامیوں میں فلسفے کی ایک بھی نشست نہیں رکھی جائے گی۔کیا حکومت پنجاب یہ چاہتی ہے کہ اہل پنجاب میں آج بھی۔ آئندہ بھی انتہا پسندی اسی طرح بڑھتی رہے۔ تذبذب کا دَور کبھی ختم نہ ہو۔ چھوٹے بڑوں کے ذہن اسی طرح الجھے رہیں۔ کسی بحث میں کوئی اصول اختیار نہ کئے جائیں۔ منطق سے کسی پنجابی کا کوئی واسطہ نہ ہو۔ پنجابی معاشرے کو اخلاقیات سے بالکل پاک کردیا جائے۔ مابعد الطبیعات کا کہیں ذکر نہ ہو۔ بلھے شاہ۔ سلطان باہو۔ وارث شاہ کے استعارے تلمیحات کسی کی سمجھ میں نہ آئیں۔ جدید ٹیکنالوجی مروّت و آداب پر اپنا قبضہ جمالے۔ پنجابی نوجوانوں میں سوال کرنے کی جرأت نہ رہے۔ بزرگوں میں معاملات کا تجزیہ کرنے کی استعداد باقی نہ رہے۔

مائیں اب اقبال، فیض، ڈاکٹر حمید الدین، قاضی عبدالقادر، ڈاکٹر اجمل کو جنم نہ دیں۔ وہ صرف جاگیردار، منیجنگ ڈائریکٹر، سی ای او، ڈائریکٹرز، فنانس کنٹرولرز پیدا کریں۔ درسگاہوں میں کوئی کیوں، کہاں کے الفاظ ادا نہ کرے۔ ارسطو، سقراط، افلاطون کو کوئی یاد نہ کرے۔ فارابی، رازی، رومی، غزالی کی کوئی تقلید نہ کرے۔اقبال تو ایک صدی پہلے ہی کہہ گئے تھے۔

پنجابی مسلمان
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

پنجاب سے ظہور ہونے والے اس عظیم فلسفی کو پہلے ہی پنجابی مسلمان سے شکوہ تھا کہ وہ تحقیق کی بازی میں شرکت نہیں کرتا۔ صیاد کے پھندوں کا بہت جلد شکار ہوجاتا ہے۔ پیری مریدی کے کھیل میں بہت شوق سے شریک ہوتا ہے۔ پنجاب پہلے غیر ملکی فاتحین کے خیر مقدم اور خاطر تواضع میں اپنی تجزیاتی صلاحیتیں کند کرتا رہا پھر اپنی برتری کے احساس میں تلاش اور جستجو سے گریز کرتا رہا۔ پانچ پانیوں کی سر زمین کے سوتے خشک ہوتے رہے۔ ستلج راوی سے ادائیں چھن گئیں۔

حضرت علی بن عثمان ہجویری داتا گنج بخش کہتے ہیں: عالموں کا ارادہ دانائی اور عقل کی طرف ہوتا ہے۔ یعنی عقل سے کام لیتے ہیں اور جاہل لوگ روایت پر عمل کرتے ہیں۔ اس وجہ سے کہ جاہل لوگ عالموں سے جدا رہتے ہیں اور علم سے دُنیا کی عزت و جاہ حاصل کرتے ہیں۔وہ عالم نہیں کہ دنیا کی جاہ اور دنیا کی عزت علم کے ذریعے سے حاصل کرے۔ علم کے مرتبے سے بڑھ کر کوئی ایسا مرتبہ نہیں ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو خدا کو نہ پہچان سکے۔ اور جب علم ہوتا ہے تو آدمی تمام مراتب اور درجات کے قابل ہوتا ہے۔

داتا۔ تری نگری میں اب ایسے فیصلے کئے جارہے ہیں کہ علم صرف دنیا کی عزت و جاہ حاصل کرنے تک محدود کیا جارہا ہے۔ صرف ایسے علوم باقی رکھے جارہے ہیں جن سے دُنیا میں نفع حاصل ہوسکے ۔ اچھی نوکری مل سکے۔ تعلیم کاروبار بن گئی ہے۔ کاروباری علوم سکھائے جارہے ہیں۔ پہلے ہم ہندو کو طعنہ دیتے تھے کہ وہ ہر کام میں بنیا پن دکھاتا ہے۔ لیکن اب بنیا پن ہی ہماری منزل بن رہا ہے۔ کمرشلزم ساری دُنیا میں آرہا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کچھ زیادہ ہی تیز رفتاری ہے مگر پھر بھی کساد بازاری ہے۔ معیشت ڈانواںڈول ہے۔ پہلے چند ایم بی اے ہوتے تھے ملک بہت پُر سکون معاشرہ بہت مستحکم تھا۔ اب ہزاروں ایم بی اے ہیں۔ لیکن افراتفری زیادہ ہے۔جہاں کمرشلزم عروج پر ہے معیشت بہت ترقی کررہی ہے۔ نت نئی ایجادات ہورہی ہیں۔ ٹرانسپورٹ تیز سے تیز تر ہورہی ہے۔ رابطے کی مشینیں نئی سے نئی آرہی ہیں۔ خلا تسخیر ہورہا ہے۔ وہاں کے کالجوں یونیورسٹیوں میں فلسفہ اسی طرح پڑھایا جارہا ہے۔ فلسفے کی سالانہ کانفرنسیں ہورہی ہیں۔ جدید علوم، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فلسفے کے کورسز تشکیل دئیے جارہے ہیں۔ دُنیا کی سب سے قدیم اور آج بھی سب سے عظیم یونیورسٹیوں ۔ کیمبرج اور آکسفورڈ میں اب فلسفہ صرف ایک ڈپارٹمنٹ نہیں پوری فیکلٹی بن گیا ہے۔ یہ ترقی یافتہ قومیں فلسفے کی قدر و اہمیت جانتی ہیں۔ کہ یہ علوم کی ماں ہے۔ فکر کا سر چشمہ ہے۔ نہ جانے کتنے نئے آفاق فلسفے سے ہی ظہور پارہے ہیں۔

ہمارے نئے آقا امریکہ کی یونیورسٹیوں میں بھی فلسفہ اسی شان سے پڑھایا جارہا ہے۔ صدیوں کی تحقیق سے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نئی دنیائوں کی تلاش اور نئے تنازعات کے تجزئیے کی صلاحیت فلسفے کی تدریس سے ہی ملتی ہے۔ ہارورڈ والے کہتے ہیں کہ فلسفے کی تعلیم اس لئے ناگزیر ہے کہ اس سے ہماری تجزیاتی اور تخلیقی استعداد کو جلا ملتی ہے۔ تجزیاتی صلاحیت ہر شعبے اور ہر سیکٹر میں آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرتی ہے۔

ادھر ہمارے اچھے برے وقتوں کے دوست جس کی رفاقت کیلئے سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلندی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہاں بھی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں فلسفہ اور اخلاقیات دوسرے تمام علوم کی طرح پڑھائے جارہے ہیں۔ دوسرے ملکوں کے طلبہ و طالبات فلسفے میں اعلیٰ تعلیم کیلئے چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں جارہے ہیں۔

آکسفورڈ والے فخر کرتے ہیں کہ وہ فلسفے میں نئی راہیں اور نئی کائنات تلاش کررہے ہیں۔ وہ فلسفے کی تاریخ کیلئے تجزیاتی راستہ اختیار کررہے ہیں۔ وہ موجودہ فلسفے اور اسکی تاریخ کے درمیان مکالمہ بھی کررہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں فلسفے کی صدیوں پر محیط تاریخ کا مطالعہ عصری امور کی روشنی میں کررہے ہیں۔ اور عصری مسائل کا حل فلسفے کی تاریخ میں تلاش کررہے ہیں۔ ہر یونیورسٹی میں فلسفے کے اساتذہ کی تعداد 100سے زیادہ ہے۔ جدید علوم اور جدید پریشانیوں کے تناظر میں فلسفے کی نئی شاخیں دریافت کرلی گئی ہیں۔ ان میں ڈاکٹریٹ کرنے والے نئی نسلوں کی تدریس کررہے ہیں۔

ہمارے پاس تو صدیوں کی امانت درس نظامی والے مدارس بھی ہیں۔ جہاں فلسفہ۔ منطق اخلاقیات آج بھی پڑھائی جارہی ہے۔

میرے خیال میں تو فلسفے کی تدریس و تعلیم و تحقیق کی جتنی ضرورت پاکستان کو آج ہے شاید ہی پہلے کبھی ہوئی ہو۔ ہمارے مسائل کی جڑ ہماری ذہنی ساخت ہے۔جس پر ہر سمت سے یلغار ہورہی ہے۔ انتہا پسندی، عسکریت، جاگیرداری، سرمایہ داری، کاروباری، علاقائی اور پھر قیادت کا خلا۔ ان سب کیلئے ایسے ذہن درکار ہیں۔ جو تجزیے۔ تحقیق اور تخلیق کے رُجحانات رکھتے ہوں۔ یہ ذہن فلسفے کے شعبوں میں ہی تیار ہوتے ہیں۔ فلسفے کے اساتذہ اور عشاق کو بھی چاہئے کہ وہ روایتی فلسفے سے نکلیں اور پاکستان کی نفسیاتی۔ سماجی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے نصاب مرتب کریں۔ سیمینارز منعقد کریں۔ تبادلۂ خیال کیلئے ورکشاپس کا اہتمام کریں۔ قیادت یونیورسٹیاں ہی فراہم کرسکتی ہیں۔ پاکستان تذبذب کی کیفیت سے باہر اسی وقت نکلے گا جب کالجوں یونیورسٹیوں کے فلسفے کے ڈپارٹمنٹ میں ملک کے سماجی۔ عمرانی۔ نفسیاتی رُجحانات پر تحقیق اور تبادلۂ خیال ہوگا۔ یہ فلسفی عوام کو رہنما خطوط سے نوازیں گے۔ پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ فلسفہ کے سربراہوں کا مطالبہ ہے کہ پنجاب میں کم از کم ضلع کی سطح پر تو فلسفے کی ایک نشست رکھی جائے۔ جسمانی تربیت کیلئے تو اساتذہ رکھے جارہے ہیں۔ ذہنی تربیت کیلئے اساتذہ غیر ضروری کیوں سمجھے جارہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26182
کوڈ
 
   
مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر 21 سے 23 مارچ تک پاکستان کا دورہ کریں گے اور وہ
سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے 460 ارب روپے جمع کروانے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو کام کرنے کی اجازت دے دی۔
اسلام آبادمیں اخبارات کے ایڈیٹرز اور مالکان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں الیکشن مہم پاکستان کی نفرت کی بنیاد پر ہورہی ہے،ہم بھارت کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی مہم جوئی کا جواب
آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے جعلی اکاونٹس کیس میں نیب کے سامنے اپنے ابتدائی بیانات ریکارڈ کروا دئیے۔ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما، کارکنوں اور پارٹی رہنماوں کے ہمراہ نیب راولپنڈی کے دفتر میں پیش ہوئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں