Friday, 22 June, 2018
جنرل صاحب بالکل درست ہیں!

جنرل صاحب بالکل درست ہیں!
وسعت اللہ خان کا کالم

 

ایسا شاید پہلی بار ہوا کہ عسکری تعلقاتِ عامہ کے ذمہ دار ایک فل میجر جنرل (آصف غفور) کو نام لے کر وضاحت کرنا پڑی کہ خاتون صحافی گل بخاری کو فوج نے اغوا نہیں کیا اور اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

گذشتہ ہفتے میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ میں ایک چارٹ پر آویزاں کچے کانوں والے کچھ منہ پھٹ صحافیوں کی چسپاں تصاویر کی جھلک کراتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے واقف ہیں۔ بعد ازاں جنرل صاحب نے وضاحت کی کہ اس چارٹ کا مقصد صحافیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔

یہ محض حسنِ اتفاق ہے کہ جنرل صاحب کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی پریس بریفنگ کے اگلے روز ہی گل بخاری چند گھنٹے کے لیے غائب ہو گئیں۔ چونکہ گل بخاری بھی جارحانہ ٹویٹ کاری کے لیے جانی جاتی ہیں لہذا برطانوی ہائی کمیشن سمیت کئی یار لوگوں نے اس کے ڈانڈے جنرل صاحب کی پریس بریفنگ سے ملا دیے۔

جنرل صاحب کا بیان مزید جامع اور آئینے کی طرح شفاف ہو جاتا اگر وہ ہم جیسے موٹے دماغ والے صحافیوں کو بس سمجھانے کی غرض سے یہ وضاحت بھی کر دیتے کہ صرف فوج ہی نہیں بلکہ اس سے متعلقہ آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت کوئی بھی حساس ادارہ آئین و ملکی قوانین کے دائرے میں ہی کام کرتا ہے اور گل بخاری سمیت کسی بھی پاکستانی شہری کو جبری طور پر اٹھانے یا غائب کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔

اس حوالے سے اندرونی و بیرونی ذرائع ابلاغ میں جو تاثر ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ جعلی نمبر یا بغیر نمبر پلیٹ یا کالے شیشے والی ایک ہی رنگ و نسل کی ویگو گاڑیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ اگر آئندہ کسی علاقے میں ایسی گاڑیاں مشکوک گھومتی یا کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر کسی شہری کو سڑک، گھر یا دفتر سے جبراً اٹھاتی نظر آئیں تو فلاں فلاں ایمرجنسی نمبر پر فوری اطلاع دیں۔

اگر مقامی تھانیدار ایسے واقعات کی رپورٹ درج کرنے میں آنا کانی کرے تو مجھے (جنرل صاحب کو) براہِ راست اس ای میل ایڈریس اور اس ٹویٹر ہینڈل پر مطلع کریں تاکہ ایسے قانون شکن واقعات کو بروقت روکنے میں بحیثیت ایک قومی ادارہ ہم سے جو ممکن ہو کر پائیں۔

اس بارے میں کوئی بھی شہری فوج یا نیم فوجی یا حساس اداروں سے تعاون کرنے سے نہ ہچکچائے کیونکہ ایسے عناصر کی نشاندہی اور سرکوبی ہم سب کا قومی فرض ہے جن کی حرکتوں کی وجہ سے کسی بھی قومی یا حساس ادارے کی شہرت پر سوال اٹھے۔

ویسے تو جنرل صاحب کئی بار ہم جیسے کوڑھ مغز لکھاریوں کی سہولت کے لیے دہرا چکے ہیں کہ ان کا ادارہ تعمیری تنقید اور ملکی قوانین کے تحت حاصل اظہار کی آزادی کا احترام کرتا ہے مگر آج کل کے حالات میں ایک بار پھر ایک باضابطہ یقین دہانی کی اشد ضرورت ہے۔

کیونکہ کچھ نیم محبِ وطن عناصر ایسی بے پر کی زیادہ ہی اڑا رہے ہیں کہ فلاں چینل کے اینکر، زید میڈیا گروپ یا سرکردہ میڈیا سیٹھ حاجی اللہ دتہ کی پشت پر فلاں حساس ادارے کا ہاتھ ہے، بکر کیبل گروپ کو نامعلوم نمبروں سے کوئی حساس افسر بن کے ڈراتا ہے کہ اگر تم نے فلاں چینل کو ایک گھنٹے میں نہیں اتارا تو کوئی تمہیں نہ اتار دے۔

بحیثیت شہری کم ازکم میں نہیں چاہوں گا کہ کوئی نامعلوم نمبروں کا استعمال کر کے بطور مسٹر فلاں فلاں پاکستانی میڈیا اور شہریوں کو ڈراتا پھرے اور پھر غیر محبِ ڈھنڈورچی اس کی آڑ میں پاکستان کے ایسے کلیدی اداروں کو چار دانگِ عالم بدنام کرتے پھریں کہ جو پہلے ہی اس ملک کے جغرافیائی و نظریاتی تحفظ کے لیے دن رات چومکھی لڑ رہے ہیں اور سب سے زیادہ قربانیاں دے رہے ہیں۔

بلکہ میں تو یہ تجویز دوں گا کہ فوج اور متعلقہ سول ادارے میجر جنرل آصف غفور یا انہی کے ہم پلہ کسی باصلاحیت افسر کی سربراہی میں تمام ضروری سہولتوں سے لیس ایک ایسا ادارہ بھی تشکیل دیں جو پاکستانی شہریوں کو نامعلوم گاڑیوں میں ڈال کر لے جانے والی ’خلائی مخلوق‘ نیز میڈیا اور کیبل آپریٹرز کو دھمکیاں دینے والے عناصر کی بروقت شناخت کر کے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لا سکے۔

یوں ہم سب ڈٹ کر اس ملک دشمن غلیظ پروپیگنڈے کا ایمنسٹی، ہیومین رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے فورم پر نگاہیں نیچی کیے بغیر مدلل جواب دے سکیں کہ ہمارے ادارے بالخصوص حساس ادارے آئین و قانون سے ماورا ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’بی بی سی اردو‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87598
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
کسی بھی کتاب پر تبصرے کا سہل نسخہ یہ ہے کہ آپ اس پر تبصرہ کرنے کے بعد کتاب پڑھنا شروع کریں۔ گذشتہ دنوں مجھے یہی محسوس ہوا جب برصغیر کے دو سابق جاسوسانِ عظام آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل اسد درانی
رحمتوں اور برکتوں کا مقدس مہینہ طلوع ہو چکا ہے۔ یہ وہی عظیم الشان مہینہ ہے جس میں قرآنِ حکیم نازل ہوا اَور برِصغیر کے مسلمانوں کا آزاد وطن پاکستان وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کے لیے لیلۃ القدر مختص فرمائی اور
مجھے نہیں معلوم کہ سبب کیا ہے البتہ پچھلے چند برس میں ایک تبدیلی تو ضرور آئی ہے۔اب لوگ اپنے الفاظ واپس لینے لگے ہیں اور معذرت بھی کرنے لگے ہیں۔ درگذر کرنے والوں کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے۔
جب سے اس پٹی کے صحرا نشینوں اور ان کے مویشیوں کو گھر کے بہت قریب قابل ِاستعمال پانی کی سہولت پہلی بار میسر آئی ہے تب سے زندگی کے اطوار بھی بدلنے لگے ہیں۔طلوعِ آفتاب سے دوپہر شروع ہونے تک

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
گڈانی میں سمندر میں نہاتے ہوئے ایک ہی خاندان کے 17 افراد ڈوب گئے، جن میں سے 4 خواتین کی لاشیں نکال لی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ایک بچے کو بے ہوشی کی حالت میں جبکہ باقی 10 افراد کو صحیح سلامت ریسکیو کرلیا گیا۔
اب اس وقت بھی یہ فیچر استعمال کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بی ٹا ٹیسٹ کے لیے ایک نیا واٹس ایپ ورژن 2.18.189 پیش کیا گیا ہے جبکہ وائس کال کا نیا ورژن v2.18.192 ہے۔ اس کا اصل ورژن بعد میں آئے گا اور ابھی ٹیسٹ کے لیے بی ٹا ورژن گوگل پلے اسٹور پر ریلیز کیا گیا ہے۔
گلوبل آئل اینڈ گیس ڈسکوریز ریویو 2017 کی رپورٹ کے مطابق سال 2017 کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان نے تیل و گیس کے 2 بڑے ذخائر دریافت کیے ہیں جبکہ سال کے آخری 3 ماہ کے دوران تیل و گیس کے 4 مزید نئے ذخائر دریافت کیے۔
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 4 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قابض بھارتی فوج نے محاصرہ کیا اور سرچ آپریشن کے دوران رہائشی علاقے میں فائرنگ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں