Friday, 18 January, 2019
جنرل صاحب بالکل درست ہیں!

جنرل صاحب بالکل درست ہیں!
وسعت اللہ خان کا کالم

 

ایسا شاید پہلی بار ہوا کہ عسکری تعلقاتِ عامہ کے ذمہ دار ایک فل میجر جنرل (آصف غفور) کو نام لے کر وضاحت کرنا پڑی کہ خاتون صحافی گل بخاری کو فوج نے اغوا نہیں کیا اور اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

گذشتہ ہفتے میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ میں ایک چارٹ پر آویزاں کچے کانوں والے کچھ منہ پھٹ صحافیوں کی چسپاں تصاویر کی جھلک کراتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے واقف ہیں۔ بعد ازاں جنرل صاحب نے وضاحت کی کہ اس چارٹ کا مقصد صحافیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔

یہ محض حسنِ اتفاق ہے کہ جنرل صاحب کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی پریس بریفنگ کے اگلے روز ہی گل بخاری چند گھنٹے کے لیے غائب ہو گئیں۔ چونکہ گل بخاری بھی جارحانہ ٹویٹ کاری کے لیے جانی جاتی ہیں لہذا برطانوی ہائی کمیشن سمیت کئی یار لوگوں نے اس کے ڈانڈے جنرل صاحب کی پریس بریفنگ سے ملا دیے۔

جنرل صاحب کا بیان مزید جامع اور آئینے کی طرح شفاف ہو جاتا اگر وہ ہم جیسے موٹے دماغ والے صحافیوں کو بس سمجھانے کی غرض سے یہ وضاحت بھی کر دیتے کہ صرف فوج ہی نہیں بلکہ اس سے متعلقہ آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت کوئی بھی حساس ادارہ آئین و ملکی قوانین کے دائرے میں ہی کام کرتا ہے اور گل بخاری سمیت کسی بھی پاکستانی شہری کو جبری طور پر اٹھانے یا غائب کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔

اس حوالے سے اندرونی و بیرونی ذرائع ابلاغ میں جو تاثر ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ جعلی نمبر یا بغیر نمبر پلیٹ یا کالے شیشے والی ایک ہی رنگ و نسل کی ویگو گاڑیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ اگر آئندہ کسی علاقے میں ایسی گاڑیاں مشکوک گھومتی یا کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر کسی شہری کو سڑک، گھر یا دفتر سے جبراً اٹھاتی نظر آئیں تو فلاں فلاں ایمرجنسی نمبر پر فوری اطلاع دیں۔

اگر مقامی تھانیدار ایسے واقعات کی رپورٹ درج کرنے میں آنا کانی کرے تو مجھے (جنرل صاحب کو) براہِ راست اس ای میل ایڈریس اور اس ٹویٹر ہینڈل پر مطلع کریں تاکہ ایسے قانون شکن واقعات کو بروقت روکنے میں بحیثیت ایک قومی ادارہ ہم سے جو ممکن ہو کر پائیں۔

اس بارے میں کوئی بھی شہری فوج یا نیم فوجی یا حساس اداروں سے تعاون کرنے سے نہ ہچکچائے کیونکہ ایسے عناصر کی نشاندہی اور سرکوبی ہم سب کا قومی فرض ہے جن کی حرکتوں کی وجہ سے کسی بھی قومی یا حساس ادارے کی شہرت پر سوال اٹھے۔

ویسے تو جنرل صاحب کئی بار ہم جیسے کوڑھ مغز لکھاریوں کی سہولت کے لیے دہرا چکے ہیں کہ ان کا ادارہ تعمیری تنقید اور ملکی قوانین کے تحت حاصل اظہار کی آزادی کا احترام کرتا ہے مگر آج کل کے حالات میں ایک بار پھر ایک باضابطہ یقین دہانی کی اشد ضرورت ہے۔

کیونکہ کچھ نیم محبِ وطن عناصر ایسی بے پر کی زیادہ ہی اڑا رہے ہیں کہ فلاں چینل کے اینکر، زید میڈیا گروپ یا سرکردہ میڈیا سیٹھ حاجی اللہ دتہ کی پشت پر فلاں حساس ادارے کا ہاتھ ہے، بکر کیبل گروپ کو نامعلوم نمبروں سے کوئی حساس افسر بن کے ڈراتا ہے کہ اگر تم نے فلاں چینل کو ایک گھنٹے میں نہیں اتارا تو کوئی تمہیں نہ اتار دے۔

بحیثیت شہری کم ازکم میں نہیں چاہوں گا کہ کوئی نامعلوم نمبروں کا استعمال کر کے بطور مسٹر فلاں فلاں پاکستانی میڈیا اور شہریوں کو ڈراتا پھرے اور پھر غیر محبِ ڈھنڈورچی اس کی آڑ میں پاکستان کے ایسے کلیدی اداروں کو چار دانگِ عالم بدنام کرتے پھریں کہ جو پہلے ہی اس ملک کے جغرافیائی و نظریاتی تحفظ کے لیے دن رات چومکھی لڑ رہے ہیں اور سب سے زیادہ قربانیاں دے رہے ہیں۔

بلکہ میں تو یہ تجویز دوں گا کہ فوج اور متعلقہ سول ادارے میجر جنرل آصف غفور یا انہی کے ہم پلہ کسی باصلاحیت افسر کی سربراہی میں تمام ضروری سہولتوں سے لیس ایک ایسا ادارہ بھی تشکیل دیں جو پاکستانی شہریوں کو نامعلوم گاڑیوں میں ڈال کر لے جانے والی ’خلائی مخلوق‘ نیز میڈیا اور کیبل آپریٹرز کو دھمکیاں دینے والے عناصر کی بروقت شناخت کر کے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لا سکے۔

یوں ہم سب ڈٹ کر اس ملک دشمن غلیظ پروپیگنڈے کا ایمنسٹی، ہیومین رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے فورم پر نگاہیں نیچی کیے بغیر مدلل جواب دے سکیں کہ ہمارے ادارے بالخصوص حساس ادارے آئین و قانون سے ماورا ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’بی بی سی اردو‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  3976
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا۔
ہم 1947میں ہجرت سے بچ گئے مگر ہمارا گائوں تقسیم ہوگیا۔ ہمارے گائوں میں سکھ اور مسلمان آباد تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو زمینوں کا ایسا بٹوارہ ہوا کہ ہماری کچھ زمین بھارت میں چلی گئی اور سردار مولا سنگھ کی کچھ زمین
کوئی سے دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہو رہی یا یوں کہیں کہ باقاعدہ جنگ نہیں ہو رہی لیکن اس سر زمین پر کئی ایسے مقام مل جاتے ہیں جہاں کسی نہ کسی صورت میں جنگ ہو رہی ہے اور دو ملک ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ ہیں۔
فرید خان طوفان اب تو لڑھکتے لڑھکتے تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں لیکن آج بھی دل سے پختون قوم پرست ہیں ۔ دور طالب علمی میں اے این پی کی طلبہ تنظیم پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ اور اس کے رہنما رہے ۔ اس دور سے باچا خان

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے دیکھتے دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی زندگی میں ڈرکی کوئی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہورہے ہیں، ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں ریفرنس

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں