Wednesday, 22 August, 2018
لیڈروں سے زیادہ عقلمند

لیڈروں سے زیادہ عقلمند
عبدالقادر حسن کا کالم

 

یہ انسانوں کی بستی ہے حیوانوں کی نہیں کہ جہاں کوئی قانون نہ ہو حالانکہ سنتے تو یہی آئے ہیں کہ جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے اور جنگل میں رہنے والے حیوان اس قانون کے تابع رہتے ہیں اسی طرح انسانوں کی بستیوں میں بھی قاعدے قانون ہیں جو کہ انسانوں کو کسی ضابطے میں رکھنے کے لیے وضع کیے گئے تا کہ معاشرہ کسی قانون کے تحت چلتا رہے اور اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو اگر اس قانون میں کوئی بگاڑ پیدا ہو جائے یا کر دیا جائے تو وہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے جو کہ بالآخر کسی بڑے بگاڑ کا نتیجہ بن جاتا ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے وطن عزیز میں بھی زبردستی پیدا کر نے کی کوشش کی جارہی ہے تاآنکہ یہ بگاڑ کسی بڑے سانحہ کا سبب نہ بن جائے یہ کوشش کیوں کی جارہی ہے اس کا بڑا سبب کیا ہے اور اس سے کیا فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں یہ تو اس بگاڑ کا سبب بننے والے ہی بہتر جانتے ہیں یا پھر عوام ہیں جن کے ذہنوں میں اب یہ بات پختہ ہو گئی ہے کہ اگر میاں صاحب نااہل ہو جائیں تو ملک میں ترقی کا عمل رک ہی نہیں جاتا بلکہ ترقی کا پہیہ پیچھے کی جانب چلنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر باوجود حکومت کی کوشش کے یہ پہیہ اگلی جانب چلنے سے انکار کر دیتا ہے۔

دیکھا جائے تو یہ صورتحال اسلیے پیدا ہوئی کہ ایک بین الاقوامی ایجنسی نے دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ داروں کے متعلق یہ انکشافات کیے ان کی دولت کے خزانے کہاں کہاں دفن ہیں اور یہ دولت کیسے حاصل کی گئی ہے اس عالمی چوری کے راز افشاء ہونے کے بعد دنیا بھر میں بھونچال آگیا اور پاکستان کے تقریباً پانچ سو کے قریب افراد کے نام بھی اس میں شامل تھے جن میں سب سے بڑا نام ہمارے حاضر سروس وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کا تھا جن کے متعلق عدالتی کاروائی کا آغاز ہوا اور وزیر اعظم کے عہدے سے نااہلی پر جا کر اس کا اختتام ہوا اور اب یہ صورتحال ہے کہ میاں صاحب نااہلی کے بعد مسلسل اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہیں کہ ان کو کیوں نکالا گیا عدلیہ کے پانچ معزز ججوں پر ان کا غصہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا اور وہ مسلسل عدلیہ کی توہین کیے جا رہے ہیں وہ شاید یہ چاہ رہے ہیں کہ عدالت ان کو توہین عدالت میں بھی بلا لے اور وہ مظلومیت کی ایک اور سیڑھی چڑھ جائیں۔

عدلیہ نے ابھی تک ہر ممکن صبر سے کام لیا ہے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اپنی توہین کو مسلسل برداشت کیا ہے حالانکہ اگر عدالت چاہے تو کسی کو بھی عدالت کے متعلق اس طرح کی گفتگو کرنے کی پاداش میں طلب کر لے اور پھر یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ اپنی توہین کو معاف کر دے یا توہین کرنیوالے کو سزا دے۔

بہرحال ابھی تک حالات کچھ اس طرح کے ہیں کہ میاں نواز شریف عوامی جلسوں کو عوامی عدالت قرار دینے پر بضد نظر آرہے ہیں وہ عوامی جلسوں میں عوام سے عدالت کے خلاف فیصلے لے رہے ہیں اور جو ہاتھ وہ عدلیہ کے خلاف عوامی جلسوں میں حاضرین سے بلند کرا رہے ہیں وہ ہاتھ درحقیقت ان کے اپنے خلاف بلند ہو رہے ہیں اور وقت آنے پر یہ ہاتھ بلند کرنے والا کھیل ان کے اپنے خلاف کھیلا جا رہا ہو گا اور وہ تب اس پوزیشن میں نہیں ہو نگے کہ ان ہاتھوں کو بلند ہونے سے روک سکیں لیکن ابھی تک وہ ان ہاتھوں کی بلندی سے خوش ہی نظر آرہے ہیں اور عوامی جلسوں میں ان کو اپنی کامیابی گردان رہے ہیں وہ دراصل اس وقت سے خائف نظر آتے ہیں جب عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ان کے خلاف نیب سے فیصلے آئینگے اسلیے وہ پیش بندی کرنا چاہتے ہیں کہ معاملہ ان کی نااہلی پر ہی ٹل جائے۔

ان کی جارحانہ تقریروں کے جواب میں سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان نے کہا کہ وہ جلسے تو نہیں کر سکتے لیکن اگر انھیں ضرورت پڑی تو پاکستانی عوام ان کی پشت پر کھڑے ہونگے یعنی کہ عدلیہ نے اپنے جذبات کا اظہار کر دیا ہے اور یہ بات بالکل درست کہی ہے کہ جب عدالت کو ضرورت پڑی عوام ان کے ساتھ کھڑے ہونگے کیونکہ پاکستانی عوام اپنے لیڈروں سے تنگ ہیں کیونکہ انھوں نے ان کی زندگیوں میں آسودگی کے بجائے ان کے دکھوں میں اضافہ کا موجب ہی بنے ہیں۔ اسلیے جہاں سے بھی عوام کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آنے کی امید ہوتی ہے وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر اسی کی جانب چل پڑتے ہیں۔

عدلیہ کے علاوہ چیئر مین نیب بھی خاصے متحرک نظر آتے ہیں اور احتساب بیورو کی بنیاد رکھنے والے حکمران اب اسی احتساب بیورو کی ایک جدید شکل نیب کے رو برو پیشیاں بھگت رہے ہیں ۔ نیب کے چیئر مین نے حکومتی دباؤ میں نہ آنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک طرح کی آخری وارننگ دے دی ہے اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کا بھی مکمل احتساب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

نیب کے چیئر مین یہ کہتے ہیں کہ برسر اقتدار اشرافیہ کے خلاف پنجاب کے بعض ادارے تعاون نہیں کر رہے جس کو برداشت نہیں کیا جائے گا دراصل شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہی نقصان پہنچاتے ہیں تخت نشین کی آنکھیں اور کان ہی ان کے وفادار ہوتے ہیں جو اس کو اصل سے بے خبر رکھتے ہیں اور ایسی دنیا کے خوابوں میں رہتے ہیں جہاں پر حکمران کے لیے راوی چین ہی چین لکھ رہا ہوتا ہے لیکن دراصل سب کچھ اس کے مخالف ہو رہا ہوتا ہے اور خواب سے آنکھیں تب کھلتی ہیں جب شاہ کے یہ وفادار بھی کسی اور کی وفاداری میں جانے کی تیاری میں ہوتے ہیں یا کچھ پہلے سے ہی جا چکے ہوتے ہیں۔

عدلیہ ہو یا اس ملک کی سلامتی کے محافظ ادارے عوام ہمیشہ سے ان کے ساتھ ہی کھڑے رہے اور جب بھی کبھی مشکل وقت آیا یہ ہجوم ایک قوم میں ڈھل گیا اس لیے اگر کسی سیاستدان کو یہ غلط فہمی ہو کہ پاکستانی عوام اس کی انگلی کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں تو وہ اپنی غلط فہمی دور کر لے یہ عوام ہمیشہ اس انگلی پر اٹھتے ہیں جو اس ملک کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر اٹھتی ہے نہ کہ مسجدوں کے میناروں سے بلند ہونے والی حکمران مخالف کرپشن کی صداؤں پر۔ عوام خواص سے کہیں زیادہ شعور رکھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  75247
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
میں ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس سمیت ملک کے تمام گورنر ہاؤسز‘ چیف منسٹر ہاؤسزاور کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی ہاؤسز کے خلاف ہوں‘ یہ بڑی بڑی عمارتیں‘ نوکروں کی فوجیں اور ہاؤسزکا کروڑوں روپے کا بجٹ ہمارے حالات‘ عوام کی
بہت سال پہلے سیّد نور نے ’’عقابوں کا نشیمن‘‘ کے نام سے ایک فلم بنائی تھی۔ اس فلم کے ہیرو بابر علی اور ہیروئن ریما تھیں۔ اس فلم کا نام اتنا خوبصورت تھا کہ مجھے شک گزرا کہ شاید سیّد نور نے مستنصر حسین تارڑ کے کسی ناول پر اپنا دل ہار دیا ہے
میری پہلی محبت صحافت اور عشق اہل قلم تھے۔ عمر کا وہ حصہ جب میرے سارے دوست حسیناﺅں کی آمدورفت کا شیڈول ترتیب دیا کرتے تھے میں کتابوں میں کھویا رہتا تھا۔ کالج میں جوں ہی کوئی فارغ وقت ملتا لائبریری میں گھس جاتا
نوجوان کی آواز فرط جذبات سے رندھ گئی وہ بیس اکیس سال کا پختون تھا اکثر پٹھانوں کی طرح اردو بولتے ہوئے اس کے لہجے سے بھی پشتو جھلک رہی تھی وہ شہر اقتدار میں کھڑا گلہ پھاڑ پھاڑ کر حکمرانوں سے استفسار کررہا تھا

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
وزیر اعظم عمران خان نے نجم سیٹھی کے استعفے کے بعد احسان مانی کو نیا چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نامزد کردیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے احسان مانی کو چیئرمین پی سی بی کے طور
مسجد نبویؐ کے امام ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو ٗ تمام انبیاء نے کہا صرف اللہ کی عبادت کرو ٗاسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق اور بہترین سلوک و برتاؤ ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی 16 رکنی ٹیم نے حلف اٹھالیا، اسد عمر خزانے کے وزیر، شاہ محمود وزیرخارجہ اور فواد چودھری وزیراطلاعات بن گئے، شیخ رشید ریلوے، فروغ نسیم قانون اور پرویز خٹک نے وفاع کی کمان سنبھال لی۔
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کیا گیا۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں