Thursday, 24 May, 2018
کیا میرے ”جانوں “ چور ہیں؟

کیا میرے ”جانوں “ چور ہیں؟
جاوید ملک / شب وروز

 

میری پہلی محبت صحافت اور عشق اہل قلم تھے۔ عمر کا وہ حصہ جب میرے سارے دوست حسیناﺅں کی آمدورفت کا شیڈول ترتیب دیا کرتے تھے میں کتابوں میں کھویا رہتا تھا۔ کالج میں جوں ہی کوئی فارغ وقت ملتا لائبریری میں گھس جاتا اور سارے اخبارات چاٹ دیتا تھا ایسے میں دوست بمشکل مجھے گھسیٹ کر کینٹین پر لے جاتے، اس محفل کا موضوع شہر بھر کی مہ جبینیں ہوتی تھیں سب اپنی اپنی جانوں کے قصے سناتے ان کی غزالی آنکھوں، ہرنی جیسی چال ،مونالیزا کو شرماتی مسکراہٹ کا ذکر کرتے ،آہیں بھرتے اور پھر کوئی سینے پر ہاتھ رکھ کر چہرے پر مجنوں کے درد و الم کی کیفیات پیدا کرکے ”اوئی میں مر گیا “ کا نعرہ لگاتا اور محفل قہقہوں سے گونج اٹھتی اکثر اس چٹخارے دار گفتگو کے دوران کوئی دوست از راہ تفنن مجھ سے پوچھ لیتا "تم سناﺅ، آج تمھارے جانوں نے کیا لکھا ؟"

پھر بہت دیر تک فضا بے فکرے قہقہوں سے گونجتی رہتی میں برہم ہوجاتا اور ان سے کہتا کہ یہ لوگ ہمارے ہیروز ہیں ان کی قدر ہم سب پر واجب ہے جو قومیں اپنے دانشوروں کی قدر نہیں کرتیں وہ مٹ جاتی ہیں ایسے میں دوست کوئی اور چٹکلا چھوڑ دیتے اور بات ہنسی میں اُڑجاتی۔ 

میرے اوائل جوانی کے دور میں مجیب الرحمٰن شامی سے ضیاءشاہد تک کتنے ہی اہل قلم تھے جن کا ڈنکا بجتا تھا وہ لفظوں کے بادشاہ تھے یوں لگتا تھا جیسے لفظ ان کے آگے ہاتھ باندھ کر قطار در قطار آتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ ان کے الفاظ میں حسیناو ں کی زلفوں سے زیادہ طاقت تھی اور وہ لوگوں کو اپنا اسیر کرتے تھے وہ مجھ سمیت لاکھوں لوگوں کے جانوں تھے لوگوں نے انہیں دیوتاو  جیسا درجہ دے رکھا تھا اور ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے۔

میں اکثر یہ سوچتا ہوں کے کاش صحافت میرا ذریعہ معاش نہ بنتا اخباری دفاتر کی یہ تنگ و تاریک سیڑھیاں میرا مقدر نہ ہوتیں تو اسرار کے بہت سارے پردے قائم رہتے میرے من کے اندر سجے اس بت خانہ کے اکثریتی بت یوں پاش پاش نہ ہوتے میں صحافتی عقوبت خانوں کی سسکیوں سے آشنا نہ ہوتا۔ قول و فعل کے اس تضاد کا مجھے مشاہدہ نہ ہوتا میں آج بھی اہل قلم کے لفظوں کا اسیر ہوتا ان کا ذکر کرتے ہوئے احترام میرے لہجے میں در آتا میں کبھی نہ جان پاتا کہ حسیناو کی زلفوں کی طرح یہ اسیری بھی دھوکہ ہے ان میں بھاری تعداد مفادی ٹولہ ہے جو دانشور نہیں لفظی مالشیئے ہیں ان کا قبلہ و کعبہ جی حضوری ہے یہ صحافی نہیں بلکہ" ٹھگ "ہیں یہ میں جانتا ہوں کہ بھرم ٹوٹنے کی تکلیف موت سے بدتر ہوتی ہے عقیدتیں جب زمین بوس ہوتی ہیں تو پہلے پہل ان کی جگہ بے بسی چادر تان لیتی ہے اور پھر یہ بے بسی جب غصہ گھونٹ گھونٹ پی کر تھک جاتی ہے تو بغاوت کو جنم دیتی ہے۔

مدثر اقبال بٹ لاہور کے صحافی ہیں میرا ان سے بہت احترام کا رشتہ ہے میں ان کی حق گوئی و بیباکی کا ہمیشہ سے معترف رہا ہوں۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر ان کی طرف سے قومی احتساب بیورو لاہور کو دی گئی ایک درخواست وائرل ہے اس درخواست کا خلاصہ نکال لیا جائے تو مدثر اقبال بٹ کی نظر میں میرے یہ سارے جانوں چور ہیں جو کمینگی کی آخری حد تک لوٹ مار میں مصروف ہیں انہوں نے احتساب بیورو سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لیں اور غلاظت سے اٹے ان نام نہاد ناصحوں کو قرار واقعی سزا دیں ۔ اب فیصلہ تو احتساب بیورو کی تفتیش میں ہی ممکن ہے کہ میرے کون کون سے جانوں چور ہیں ؟ لیکن مجھے یہ تفتیش ہوتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ احتساب بیورو پہلے ہی جس قدر تنقید کی زد میں ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ امید رکھنا کہ ایسے حالات میں وہ اس بد معاشیہ پر بھی ہاتھ ڈال لیں گے ممکن دکھائی نہیں دیتا تاہم امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے مدثر اقبال بٹ امید سے ہیں تو ہمیں بھی حوصلے جوان رکھنا چاہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  93917
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
بہت سال پہلے سیّد نور نے ’’عقابوں کا نشیمن‘‘ کے نام سے ایک فلم بنائی تھی۔ اس فلم کے ہیرو بابر علی اور ہیروئن ریما تھیں۔ اس فلم کا نام اتنا خوبصورت تھا کہ مجھے شک گزرا کہ شاید سیّد نور نے مستنصر حسین تارڑ کے کسی ناول پر اپنا دل ہار دیا ہے
نوجوان کی آواز فرط جذبات سے رندھ گئی وہ بیس اکیس سال کا پختون تھا اکثر پٹھانوں کی طرح اردو بولتے ہوئے اس کے لہجے سے بھی پشتو جھلک رہی تھی وہ شہر اقتدار میں کھڑا گلہ پھاڑ پھاڑ کر حکمرانوں سے استفسار کررہا تھا
یہ اتفاق سمجھ لیں یا ہماری نا اہلی کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دو سابق وزرائے اعظم لیاقت علی خان اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا معمہ ابھی تک حل طلب ہے۔ یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ جب لیاقت علی خان کی شہادت
اپنے ہی وطن میں اب تو ہم وطنوں سے خوف آنے لگا ہے۔ کچھ پتا نہیں کہ کب کون مار دے کافر کہہ کر۔ لگتا ہے ہم انسانوں کے درمیان نہیں، خون کے پیاسے درندوں کے درمیان رہتے ہیں، جو آپ کی حرکات و سکنات پر خونخوار

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے پارٹی سے استعفٰی دے دیا۔ فوزیہ قصوری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین عمران خان اور دیگر پارٹی قائدین کو بھیج دیا ہے۔ فوزیہ قصوری نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے
گوگل کمپنی نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے 'گوگل نیوز ایپ' کو اَپ ڈیٹ کر دیا ہے جس سے صارفین کو خبروں کے حصول میں مزید آسانی ہوگی۔
ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپر رواں مالی سال
دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جہاں رمضان المبارک کا استقبال مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس ماہ مقدس کو لے کر کچھ روایتیں بھی عام ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں برتنوں کو دھونی دینے کی ایک خاص روایت ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں