Wednesday, 18 September, 2019
’’سی پیک‘‘ کے مخالفین کو کیسے مات دی جاسکتی ہے؟

’’سی پیک‘‘ کے مخالفین کو کیسے مات دی جاسکتی ہے؟
تنویر قیصر شاہد کا کالم

 

چین پاکستان اکنامک کوریڈور، جسے عرفِ عام میں ’’سی پیک‘‘(CPEC) کے نام سے یاد کیاجاتا ہے، میں چینی سرمایہ کاری ساٹھ ارب ڈالر کے ہندسے کو چھُورہی ہے۔ پاکستان کی پچھلی سات عشرہ کی تاریخ میں دنیا کے کسی ملک نے ہمارے ہاں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کی۔ گویا کہا جاسکتا ہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ گزشتہ سات دہائیوں پر پھیلی دوستی اور اعتماد کی بنیاد پر ’’سی پیک‘‘ کے نام سے پاکستان میں بیک وقت60 ارب ڈالر کا سرمایہ لگانے کا فیصلہ کیا؛ چنانچہ پاکستان کے نکتہ نظر سے اسے بجا طور پر صرف Game Changerہی نہیں بلکہFate Changerبھی کہا جارہا ہے۔

اور یہ بات کسی کو پسند آئے یا نہیں، لیکن یہ تاریخی واقعہ ہے کہ اِس عظیم منصوبے کا سہرا جناب نوازشریف کے سر بندھتا ہے۔ یقیناً اس میں جناب شہباز شریف کی بھی برابر کی توانائیاں صَرف ہُوئی ہیں۔جناب احسن اقبال کی بھاگ دوڑ بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ سیاسی حاسدین اور مخالفین کی طرف سے ’’سی پیک‘‘ کے پس منظر میں دونوں شریف برادران پر چند ایک الزامات بھی لگے ہیں لیکن اِس کے باوصف پاکستان کامیابیوں سے ہمکنار ہو کر رہے گا۔ انشاء اللہ۔

رابطہ کاری میں آسانیاں پیدا ہوں گی، توانائی کے میدان میں وطنِ عزیز کو جو سنگین مسائل درپیش ہیں اُن کا خاتمہ ہوگا اور ملک بھر کا انفرااسٹرکچر جدید خطوط پر استوار ہو سکے گا۔’’سی پیک‘‘ کے پیش منظر اور پس منظر میں ہمیں اچھے خواب دکھائے گئے ہیں۔ ہم سب ان خوابوں کی مثبت تعبیر کے منتظر ہیں۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہماری عسکری اور سیاسی قیادتیںاس معاملے میں ایک پیج پر ہیں۔ متعلقہ فریقین ہاتھوں میں ہاتھ دے کر آگے بڑھنے اور طے شدہ وقت میں ایک مشترکہ منزل پر پہنچنے کی کوششیں کررہے ہیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے ہمارے خواب اور منصوبے جتنے بڑے ہیں، ہمارے دشمن بھی اُتنے ہی بڑے اور منصوبہ ساز ہیں۔ ان دشمنوں میں پرائے تو شامل ہیں ہی، بدقسمتی سے چند ایک ’’اپنے‘‘ بھی ہیں۔ یہ مگر کوئی غیر حقیقی اور غیر فطری بات نہیں ہے۔ جہاں جہاں مالی مفادات ہوں گے، وہاں وہاں ایسے تصادم اور سازشیں جنم لیتی رہی ہیں اور آیندہ بھی جنم لیتی رہیں گی۔ ہمارا مگر خاص امتحان یہ ہے کہ ہم متحد اور متفق ہو کر ’’سی پیک‘‘ کے دشمنوں کو کیسے مات دے سکتے ہیں؟

معاندینِ پاکستان کی، سی پیک کے ریفرنس میں، پاکستان کے خلاف جھوٹ اور کذب پر مبنی بساط کو ہم مل کر کیسے اُلٹ سکتے ہیں؟ یعنی تُو خنجر آزما، ہم جگر آزمائیں۔یہ مقابلے کی دنیا ہے۔ کمزور پر کوئی ترس نہیں کھاتا۔ یہاں وہی زندہ رہتا ہے جس میں زندہ رہنے کی رمق باقی ہے اور جو اپنے اندر مخالف کے مقابل مزاحمت کی ہمت بھی رکھتا ہے: ’’ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ ؍پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے۔‘‘ لازم ہے کہ ہم اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر بھی یقین رکھیں۔قوی امید ہے کہ ہمارے خفیہ اداروں کے جملہ وابستگان بھی ’’سی پیک‘‘ کے مختلف النوع دشمنوں پر ایسی کڑی نگاہ رکھیں گے کہ قوم کو کسی مقام پر اُن سے شکوہ کرنے کا موقع نہ ملے۔

ہمارے اور’’سی پیک‘‘ کے دشمن بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ساٹھ ارب ڈالر کا یہ ترقیاتی منصوبہ کامیابی سے تمام منازل اور زینے طے کر گیا تو پاکستان ایک طاقتور علاقائی کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے گا؛ چنانچہ معاندینِ پاکستان کی کوششیں ہیں کہ ترقی کی جانب جاتے پاکستان کے راستے مسدود کر دیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے ’’سی پیک‘‘ کے مخالفین میدان میں ہیں اور اپنے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ ان مخالفین کے چہرے اتنے عیاں اور جانے پہچانے ہیں کہ ہمیں ان کے نام بھی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔انھی میں سے ایک نے چھاتی بجاتے ہُوئے اعلان کیا تھاکہ’’ہم پاکستان کو دنیا کی قوموں میں اتنا تنہا کردیں گے کہ یہ سی پیک کی تکمیل کا خواب بھول جائے گا۔‘‘

اتنا تکبّر!!ہمارے ان دشمنوں نے ہماری مشرقی اور مغربی سرحدوں پر محاذ کھولے ہیں۔ ایل اوسی کے اِس پار ہمارے سیکڑوںشہریوں کا خون کیا ہے۔ ہمارے سب سے بڑے صوبے، جہاں گوادرکے مقام پر ’’سی پیک‘‘ کو اختتام پذیر ہونا ہے، میں انارکی اور بدامنی پیدا کرنے کی منصوبہ بندیاں بروئے کار لائی گئی ہیں۔ ہمارے دشمنوں نے اس صوبے کے خلاف برطانیہ اور جنیوا میں اشتہارات اور بینروں کا سہارا لے کر غلط فہمیاں پھیلانے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔

مقصد فقط یہی تھا کہ ’’سی پیک‘‘ کا تیزی سے آگے بڑھتا راستہ رُک جائے۔اِسی سلسلے میں ایک نئی شیطانی مہم بروئے کار ہے۔ پاکستان کے ایک سیاسی ادارے کا نام لے کر کہا جا رہا ہے کہ’’ گوادر کی بندرگاہ سے ہونے والی آمدنی کا 91 فیصد حصہ اگلے چالیس برسوں تک چین کو ملتا رہے گا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی ہمارے میڈیا میں یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ ’’چین نے گوادر میں چینی کرنسی رائج کرنے کے لیے پاکستان سے درخواست کی ہے۔‘‘ اِسے مسترد کر دیا گیا۔

یہ بیہودہ خبر بھی زیر گردش ہے کہ ڈھائی کروڑ چینی شہری بلوچستان میں بسائے جانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ یا جیسا کہ 5 دسمبر2017ء کو ایک انگریزی معاصر نے یہ خبر شایع کی کہ ’’چین نے سی پیک کے تحت بننے والی تین سڑکوں (کُل لمبائی 456کلومیٹر) کے فنڈز (ایک کھرب روپے) عارضی طور پر روک لیے ہیں۔‘‘ آخر ان خبروں کو پھیلانے کا مقصد کیا ہے؟ یہ کون پھیلارہا ہے؟ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ چین کے خلاف اتنی بے بنیاد غلط فہمیاں پھیلا دی جائیں کہ ’’سی پیک‘‘ کے راستے میں پہاڑ کھڑے ہو جائیں۔

بِلاشبہ ’’سی پیک‘‘ کا راستہ دشواریوں اور کانٹوں بھرا ہے۔ قدم قدم پر آزمائش۔ ان کانٹوں کو کامیابی سے چُننے اور دشواریوں کو عبور کرنے میں ہی ہماری قومی کامیابی ہے۔ ’’سی پیک‘‘ کے راستے کی تعمیر میں اب تک ہمارے کئی سویلین اور فوجی جوان شہادتیں پا چکے ہیں۔ کسی کو ان کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہے لیکن ایک محتاط انداز ے کے مطابق، دودرجن سے زائد ہو چکے ہیں۔ چین کو بھی ہماری ان شہادتوں کا بخوبی علم ہے کہ چین کے اپنے کئی شہری اور انجینئرزبھی اِسی راہ میں جانیں نچھاور کر چکے ہیں۔دشمنوں کی توقعات مگر پوری نہیں ہو سکی ہیں کہ پاکستان اور چین اب بھی ہمقدم اور ہمنوا ہیں۔

ضرورت مگر اِس امر کی بھی ہے کہ پاکستان میں پندرہ ہزار سے زائد جو چینی کارکنان مختلف پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں، اُن کے تحفظ کے لیے ’’نیکٹا‘‘ کو بھی بروئے کارآنا چاہیے۔ اِس کے علاوہ ’’سی پیک‘‘ کے تمام منصوبوں اور ان پر مامور چینی انجینئرز کی حفاظت کے لیے مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کے جن خصوصی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کیا جا چکاہے، انھیں بھی سامنے لایا جائے تاکہ دشمنانِ ’’سی پیک‘‘ کو بھی معلوم ہو سکے کہ اُن کی سازشوں کا کامیاب ہونا اتناآسان اور سہل نہیں ہے۔وہ ہزاروں چینی کارکنان جو ’’سی پیک‘‘ کے تحت پاکستان بھر میں کام کررہے ہیں، وہ ثقافتی اور اپنے لائف اسٹائل کی بنیاد پر پاکستانی عوام سے بالکل ہی الگ تھلگ ہیں۔

ان چینیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے؛ چنانچہ پاکستانی عوام اور چینی کارکنان کے درمیان جو مختلف النوع ’’خلیج‘‘ حائل ہے،ہو سکتا ہے کہ پاکستانی اور چینی نوجوان وفود کے بکثرت باہمی تبادلے ہوں۔ ایک دوسرے کی چنیدہ فلموں کو سینماؤں میں دکھایا جائے۔ ہماری اور چینی لائبریریوں میں پاکستان اور چین کے جدید و کلاسیکل ادب پر مشتمل اچھی اچھی کتابیں رکھی جائیں تاکہ دونوں ممالک کے متعلقہ افراد ایک دوسرے کو بخوبی سمجھ سکیں ۔’’پیمرا‘‘ کو بھی آنکھیں کھلی رکھنی چاہیئں تاکہ الیکٹرانک میڈیا پر ’’سی پیک‘‘ کے خلاف کوئی بے بنیاد اور منفی بات نشر نہ ہو سکے۔ ایسا ہو جائے تو’’سی پیک‘‘ کے خلاف دشمنوں کا ہر ممکنہ راستہ روکا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  44900
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
سرزمین فلسطین پر شاطر اور سفاک یہودیوں کا قبضہ عالمی سازش کا ایک حصہ ہے جو صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف جاری ہے۔ اسرائیل کے قیام میں مغربی استعمارکا کردار روایتی اسلام دشمنی کی عکاسی کرتا ہے
6 دسمبر کو بابری مسجد کے انہدام کو25 سال ہو جائیں گے۔ یہ کام کانگریس کی حکومت کے دور میں 1992ء میں کیا گیا تھا جب پی وی نرسمہا راؤ وزیراعظم تھے۔ بی جے پی کی حکومت بجائے اس کے کہ اس تاریخی مسجد کے انہدام کا مداوا کرتی
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے درمیان زیرو بم آتے رہے ہیں تاہم اس دفعہ یہ تعلقات انتہائی نچلی سطح پر اس وقت پہنچ گئے تھے جب امریکی صدر نے افغان پالیسی کا اعلان کیا اور پاکستان کی اہمیت کو یکسر نظرانداز کردیا
نوابزادہ نصراللہ خان کی زندگی میں کسی ستم ظریف نے تبصرہ کیا کہ نوابزادہ کاپورا سیاسی کیرئیر دورِ جمہوریت میں آمریت اور آمرانہ دور میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں گزرا ہے۔

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کبھی امریکا نے سعودی عرب سے اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔ برطانوی خبر
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد ہے لہذا کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان سے بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں حکومت کے آئینی اور قانونی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا اشارہ دے دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی
خیبر پختون خوا میں فائرنگ سے پاک فوج کے 4 جوان شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مغربی سرحد پر دو واقعات میں پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوگئے۔ شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں