Wednesday, 17 October, 2018
زینب اور تخت ِ حکمرانی

زینب اور تخت ِ حکمرانی
مظہر بر لاس کا کالم

 مظہر بر لاس کا کالم

ثمینہ خاور حیات پنجاب اسمبلی کی سابقہ رکن ہیں، وہ حکمرانوں کے خلاف بہت بولتی تھیں پھر ان کی بلند آواز کو خاموش کروانے کے لئے جعلی ڈگری کا ہتھیار استعمال کیا گیا، مقدمہ عدالت میں گیا تو ثمینہ خاور حیات سچی ثابت ہوئیں، ان کے مخالفین جھوٹے ثابت ہوئے مگر حکمرانوں کی خواہش کے مطابق ان کی سیٹ چھن چکی تھی۔ اصولی طور پر تو ثمینہ خاور حیات کو بحال ہونا چاہئے تھا مگر ایسا نہ ہو سکا ، ثمینہ خاور حیات سچی ہونے کے باوجود اسمبلی میں تو نہ آ سکیں مگر انہوں نے حکمرانوں کے خلاف احتجاج کا چراغ بجھنے نہیں دیا، اب بھی جب ظلم ہوتا ہے ، نا انصافی ہوتی ہے تو ثمینہ خاور حیات پورے طمطراق سے بولتی ہیں، انہیں کوئی خوف احتجاج سے نہیں روک پاتا، وہ مردانہ وار ظلم کے خلاف بولتی ہیں کہ ثمینہ خاور حیات کا تعلق قصور سے ہے۔ دو روز سے پورا ملک سانحہ قصور کی وجہ سے احتجاج کر رہا ہے ، پورے ملک کا ماحول سوگوار ہے جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں، وہ اپنی قسمت کو رو رہے ہیں، والدین بچیوں کے بارے میں متفکر ہیں، آنسوئوں سے بھری جھولیاں ہیں، ماحول افسردہ ہے، پولیس غائب ہے حکمران چھپے ہوئے ہیں جیسے چور چھپتے ہیں، بے یقینی کی کیفیت ہے۔ ایسی صورتحال میں 2017 ء کے پنجاب کی صرف ایک ماہ کی تصویر قصور کی ایک بیٹی ثمینہ خاور حیات نے مجھے بھیجی ہے۔ آئیے اس تصویر کو دیکھ لیجئے۔ یہ تصویر دسویں مہینے کی ہے۔ اس وقت تک پنجاب پولیس کی وردی تبدیل کر کے ’’دیہاڑی‘‘ لگائی جا چکی تھی۔ دیہاڑیاں لگانے سے حالات تبدیل نہیں ہوتے اور نہ ہی وردی تبدیل کرنے سے حالات تبدیل ہیں۔ باقی باتیں بعد میں کرتے ہیں پہلے ثمینہ خاور حیات کی طرف سے بھیجا گیا حالات کا جائزہ، واضح رہے کہ یہ صرف ایک ماہ کا جائزہ ہے۔

2017-10-3شیخوپورہ میں غریب محنت کش کی دس سالہ بیٹی اغوا،زیادتی کے بعد قتل
2017-10-4قصور میں ایک اور بچی اجتماعی زیادتی کا شکار، علاقے میں خوف و ہراس
2017-10-7بھاٹی گیٹ لاہور ، 9سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کی چھت سے ملی۔
2017-10-9بہاولنگر ، محنت کش کی نابالغ بیٹی اغوا، ملزم گرفتار نہ ہو سکے، ورثا کا احتجاج۔
2017-10-9شیخوپورہ ، زیادتی کی شکار دوشیزہ انصاف کے لئے دربدر، مقدمہ درج نہ ہو سکا۔
2017-10-9 پھالیہ، چودھریوں کا خاتون پر تشدد، قتل کی دھمکیاں، پولیس کارروائی سے گریزاں۔
2017-10-19جلال پور پیروالا، چیئر مین میونسپل کمیٹی کی یتیم لڑکی سے کئی ماہ تک زیادتی، ویڈیو اور عریاں تصاویر بھی بنائیں۔
2017-10-21چیئر مین چکوال کے بیٹے نےاسٹیج اداکارہ سپنا چودھری کو اغواء کر لیا، اجتماعی زیادتی۔
2017-10-22پھالیہ، پانچ اوباشوں کی طالبہ کو اغوا کر کے کئی روز تک زیادتی۔
2017-10-23فیکٹری مالک کے بیٹوں کا بورے والا میں مزدور پر برہنہ کر کے تشدد، مزدوروں کا احتجاج۔
2017-10-23تھانیدار کے بیٹے کی اغواء کے بعد بچی سے زیادتی کی کوشش، تھانیدار کے بیٹے نے راستے سے اغوا کیا، یہ واقعہ قصور کا ہے۔
2017-10-23جتوئی میں سود خور جاگیردار اراضی پر قابض، نابالغ لڑکی کو برہنہ کر کے تشدد۔
2017-10-25 بہاولنگر ، سترہ سالہ لڑکی کی اغوا کے بعد زیادتی، پنچائت نے ونی قرار دے دیا۔

خواتین و حضرات! یہ ہے پنجاب کی اچھی حکمرانی ، جس کی تعریفیں کرتے پوری ن لیگ نہیں تھکتی، جس کے حق میں کئی صحافی کہانیاں گھڑتے ہیں، کئی ٹی وی پر جھوٹ بولتے ہیں، کئی تو اتنا شور کرتے ہیں کہ باقاعدہ قوالی شروع کر دیتے ہیں۔اگر آپ ان خبروں پر نظر ڈالیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس ملک کی اشرافیہ کہاں کہاں اور کیسے کیسے ظلم کرتی ہے، یہ سیاسی غنڈے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ان سیاسی غنڈوں کی غلام پولیس کس طرح مقدمات درج نہیں کرتی۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب بری حکمرانی ہو۔ اس سلسلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک فرمان بہت اہم ہے ۔ آپ ؓ فرماتے ہیں کہ ’’جس مقتول کا قاتل نا معلوم ہو، اس کا قاتل حاکم وقت ہوتا ہے‘‘اس فرمان کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہو جانا چاہئے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟

زینب پر نہیں لکھنا چاہتا تھا ، زینب پر لکھا نہیں جا رہا تھا ، زینب پر لکھنا مشکل ہے، زینب کے ساتھ جو ہوا، اسے بیان کرنا بس سے باہر ہے، وہ چیختی چلاتی، پورے انسانی معاشرے کا ماتم کرتی ہوئی آسودہ خاک ہے مگر اس نے حکمرانوں کے لئے کئی سوالات چھوڑ دئیے ہیں، یہ سوالات ان تمام لوگوں کے لئے ہیں جو حکمرانوں کے گیت گاتے ہیں، ان کے حق میں لکھتے ہیں، ان کے حق میں کہانیاں بیان کرتے ہیں، ان کے حق میں ٹی وی پر قوالیاں کرتے ہیں ، یاد رکھو، ان سب کا حساب ہو گا ، ہمارے بدقسمتی ہے کہ ہم پر پینتیس چالیس سال سے ایسے لوگ حکمرانی کر رہے ہیں جن کا شرم و حیا سے کوئی واسطہ نہیں، جنہیں ظلم کرتے وقت خوف خدا بھی نہیں آتا، جنہیں ہر وقت دولت کی ہوس رہتی ہے، جو ہر حال میں اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں ۔ ان لوگوں نے اس پیارے دیس کو لوٹا، یہاں سے لوٹ مار کر کے پاکستان کی دولت بیرون ملک لے گئے۔ ان لوگوں نے یہاں کی تعلیم،صحت اور ہر چیز برباد کی ، یہ جالب کا کلام پڑھتے ہیں مگر جالب کی سی زندگی نہیں گزارتے، یہ ظالم لو گ ہیں۔ یہ چور ، لٹیرے، اچکے، ڈاکو اور غنڈے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے رہنما کی بجائے رہزن کہا۔ یہی لوگ عدالتوں پر تنقید کرتے ہیں۔ یہی افواج پر تنقید کرتے ہیں، زینب کی بے بسی پر انسانی حقوق کے چیمپئن کدھر گئے،کدھر گیا موم بتی مافیا، زینب کے والد نے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مدد مانگی ہے۔ حالات سنگین ہیں، مجھے زیادہ پتہ نہیں مگر میں اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ زینب کے بہیمانہ قتل نے ہمارے حکمرانوں کا تخت ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکمرانی کا سنگھاسن ڈول چکا ہے، ذرا سی دیر ہے، ظلم کا راج ختم ہونے والا ہے، چیف جسٹس اور آرمی چیف سے جو درخواست زینب کے والد نے کی ہے بس اس کے ساتھ یہ شعر ہی پڑھ لیں کہ بقول غالب:۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم ، تم کو خبر ہونے تک.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  96570
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
محمد امین انصاری قصور کے گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج فار بوائز میں اسٹور کیپر ہیں‘ یہ لوگ روڈ کوٹ محلے میں رہتے ہیں‘ یہ انصاریوں کا محلہ ہے‘ یہ لوگ ڈیڑھ سو سال سے یہاں مقیم ہیں‘ امین انصاری کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں تھیں‘ زینب فاطمہ سب سے چھوٹی تھی‘ امین انصاری اپنی بیگم
قصور کی ننھی پری نیلی آنکھوں والی معصوم زینب اس نظام کی غلاظت کا وہ نوحہ ہے کہ جو پتھرسے پتھر دل کو بھی چیر دیتا ہے ۔ دوروز تک قصور کی سڑکوں پر نکلے یہ ہزاروں لوگ کہ جن کا غم و غصہ دیوانگی کی حدوں کو چھو رہا تھا
بھارتی بجٹ کو خواہ کتنے ہی محتاط انداز سے کیوں نہ بنایا گیا ہو یہ حقیقت بہرحال آشکار ہوتی ہے کہ اس میں ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ غالباً وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے پیش نظر یوپی کے انتخابات ہیں، لیکن بجٹ میں نئے ٹیکس کی کوئی تجویز نہیں دی گئی
گزشتہ پینتیس برس کے دوران افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور بحالی کے سلسلے میں کتنے منصوبے، وارننگز اور بیانات سامنے آئے۔ شائد کسی کو بھی ٹھیک سے یاد نہیں۔ بلکہ ہر آنے والے برس میں یہ مسئلہ وہ باسی کڑھی ہوتا گیا ہے جس میں کبھی کبھی ایک آدھ ابال آ کے بیٹھ جاتا ہے۔

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے
بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمالی علاقے ٹریب میں سیلاب کے باعث 13 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں محض چند گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو عام طورپر3 ماہ سے زائد

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں