Tuesday, 11 December, 2018
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
مقتدا منصور کا کالم

 

وطن عزیز میں انتخابات کا موسم ہے۔ ابھی سینیٹ کے انتخابات سے فارغ ہوئے ہیں کہ عام انتخابات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ یہ کھیل اگست تک چلنے کا امکان ہے۔ بشرطیکہ حالات سازگار اور معمولات اسی طرح چلتے رہے۔ عدالتیں فعال ہیں اور ذرایع ابلاغ بھی توانا۔ جب کہ عوام کنفیوزڈ۔کیونکہ مقدمات کی سماعت میں تیزی تو ضرور آرہی ہے، مگر صرف یک طرفہ۔ حالانکہ کرپشن کا آسیب زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔

متوشش شہری جو نہ اِدھر والوں کے حامی ہیں اور نہ اُدھر والوں کے ثناخواں، شدید ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہیں۔ اگر کہیں کہ احتساب درست سمت میں جاری ہے، تو جمہوریت دشمنی کا الزام لگتا ہے۔ اگر کہیں کہ Judicial Activism ہورہا ہے، تو توہین عدالت کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جائیں تو جائیں کہاں؟ سینیٹ کے انتخابات میں جو کچھ ہوا اور چیئرمین و وائس چیئرمین کی نشستوں کے لیے جو کچھ ہورہا ہے، وہ دیکھتے ہوئے پورا ملک انگشت بدنداں ہے۔

جو بات میاں صاحب کررہے ہیں، اس میں سچائی ضرور ہے، مگر آدھی۔ اس میں شک نہیں کہ ان کے خلاف آنے والا فیصلہ عدل کے معیار پر پورا نہیں اترا، یعنی مقدمہ پاناما کا، نکالا گیا اقامہ پر۔ ان پر جو چھری چلی، وہ آرٹیکل 62 اور 63 کی تھی۔ مگر جناب سابقہ دور حکومت میں جب 18 ویں آئینی ترمیم پر کام ہورہا تھا، تب ان شقوں کو خارج کرنے کی بات کی گئی تھی۔ تو میاں صاحب ہی ان شقوں کی حمایت میں سینہ تان کر کھڑے ہوگئے تھے۔بقول کبیر بھگت کہ: اب رووے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

میاں صاحب کا دوسرا گلہ یہ ہے کہ ہزاروں ووٹوں سے منتخب فرد کو چند جج نکال باہر کرتے ہیں۔ شاید میاں صاحب بھول گئے کہ عدلیہ چند ججوں پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔ ہزاروں ووٹ لینا اور بے اعتدالیوں کی جوابدہی دو الگ معاملے ہیں۔ اگر ان کے کلیے کو تسلیم کرلیا جائے تو ہر کامیاب رکن اسمبلی جو چاہے کرتا پھرے اس سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ بند کردینا چاہیے۔ پڑوس میں ایک وزیراعظم نرسمہا راؤ نام کے ہوا کرتے تھے، ان پر وزارت عظمیٰ کے دوران بدعنوانی کے الزامات لگے۔ عدالت بیٹھی، جس نے انھیں کرپشن کے جرم کا مرتکب قرار دیا۔

یہ بنچ بھی تین یا چار ججوں پر مشتمل تھا، مگر انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ میں لاکھوں ووٹ لے کر آیا، کروڑوں کا وزیراعظم ہوں، مجھ پر تین ججوں کا ٹولہ کیوں مقدمہ چلارہا ہے۔ ان کے خلاف فیصلہ بعد از مرگ آیا۔ پڑوسی ملک ہی کی بات کریں تو وہاں روز اول سے کوشش کی گئی کہ دو ادارے ہر قسم کی تنقید سے محفوظ رہیں، یعنی عدلیہ اور الیکشن کمیشن۔ مگر ہمارے یہاں یہی دو ادارے سب سے زیادہ انگشت نمائی کا شکار ہیں۔کیونکہ دونوں ہی اپنی حیثیت کو غیر جانبدار اور غیر متنازع رکھنے میں مسلسل ناکام ہیں۔

میاں صاحب کو تین مرتبہ موقع ملا۔ دو مرتبہ بھاری اکثریت کے ساتھ۔ مگر انھوں نے یہ مواقع ضایع کر دیے۔ اگر اس وقت آپ آئین میں عوام دوست ترامیم کرتے، نظام عدل کو درست کرتے، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والوں کی تطہیر کرتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ مگر میاں صاحب طاقت کے استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنے دوسرے دور اقتدار میں بھی وہ عدلیہ پر چڑھ دوڑے تھے۔ میاں صاحب ہوں یا ان کے رقیب کپتان صاحب۔ دونوں ہی جمہوریت کا واویلا تو بہت کرتے ہیں، مگر پارلیمان میں جاکر وہاں بحث کا حصہ بننے کے لیے دونوں میں سے کسی کو بھی فرصت نہیں ہے۔

آج عدلیہ کیونکر تنقید کا نشانہ ہے؟ اس پہلو پر نہ قانون کے رکھوالے غور کر رہے ہیں اور نہ متوشش شہری اور نہ ہی سیاسی اکابرین۔ جسٹس منیر مرحوم نے نظریہ ضرورت یعنی Principle of necessity کا جو کلیہ اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد کے احکامات کو جلا بخشنے کے لیے متعارف کرایا تھا، ان کے بعد آنے والے ادوار میں اسی کند چھری سے جمہوریت کا گلا کاٹا گیا۔ یہ عمل ان سے ہوتا ہوا جسٹس افتخار محمد چوہدری تک پہنچا۔ جن کی بحالی کے لیے میدان عمل میں متحرک ہر اول دستہ کے سالار اعلیٰ پیپلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن تھے۔ دوسری صف میں محمد نواز شریف اور کپتان عمران خان تھے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ کٹھ پتلی کے اس کھیل کی ڈوریں تو کوئی اور ہلا رہا تھا۔

چوہدری صاحب ہر چینل پر دعویٰ کیا کرتے کہ ان کی جدوجہد نظام عدل میں اصلاحات لانے کے لیے ہیں۔ وہ جھوم جھوم کر یہ نظم پڑھتے کہ ’’ریاست ہوتی ہے ماں کے جیسی‘‘۔ مگر نہ عدلیہ میں اصلاحات آئیں، نہ عام آدمی کو کوئی ریلیف ملا اور نہ ہی ریاست نے زدپذیر جنتا کو اپنی آغوش میں سمیٹا۔ البتہ جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کی ٹیم بحال ضرور ہوگئی۔ اس کے بعد کیا ہوا، سب نے دیکھا۔

جسٹس چوہدری نے عوام الناس کے مقدمات ایک طرف ڈالتے ہوئے سیاسی مقدمات کو اپنی ترجیحات بنایا اور اپنے ریمارکس کے ذریعہ عوام کے قلب و ذہن کو گرمانے کا نیا کلیہ ایجاد کردیا۔ انھوں نے اس دھڑلے کے ساتھ ازخود نوٹس لیے کہ لفظ نوٹس کو اپنے آپ سے شرم آنے گی۔ ان کے بعد آنے والے اس روایت پر آج تک کاربند ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عدالتوں پر 11 لاکھ مقدمات کا بوجھ ہے۔ جب سیاسی مقدمات سے فرصت ملے گی، تب کہیں ان کا نمبر آسکے گا۔

اگر ملک کی مجموعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو دس (10) کلیدی مسائل سامنے آتے ہیں۔ جن میں بے روزگاری، خواندگی کی کمتر شرح، صحت کے وسیع تر ہوتے معاملات، شدت پسندی و جنون پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان، توانائی کا بحران، سیاسی عدم استحکام، ناکام خارجہ پالیسی، آبادی کا بے ہنگم انداز میں بڑھتا ہوا دباؤ، تجارتی خسارہ اور ہر شعبہ حیات میں بدعنوانی۔ مگر ان تمام مسائل کی جڑ بری حکمرانی ہے، جس میں یہ ملک روز اول ہی سے مبتلا کردیا گیا۔ ستر برسوں کے دوران اس ملک کے عوام نے سیاسی اور غیر سیاسی دونوں طرح کے حکمرانوں کو آزمایا۔ مگر نہ کوئی مہاتیر محمد پیدا ہوا اور ہی جنرل ڈیگال جیسا وژنری۔

جب حکمران اشرافیہ کی آنکھوں پر خودغرضی، موقع پرستی اور خودنمائی کی دبیز چربی چڑھی ہو تو انھیں نہ اطراف سے منڈلاتے خطرات نظر آتے ہیں، نہ ملک کا انتشار کی دلدل میں پھنسا معاشرہ نظر آتا ہے۔ نہ درسگاہوں اور شفاخانوں کی حالت زار پر نظر جاتی ہے اور نہ بدعنوانیاں اور کرپشن کا جن انھیں ستاتا ہے، کیونکہ یہ جن تو خود آسیب کی مانند ان کے سروں پہ مسلط ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ملک میں ایسا کوئی بھی شعبہ نہیں، جو درست انداز اور درست سمت میں کام کررہا ہو۔ حد یہ ہے کہ نئے اداروں کی تعمیروتشکیل تو درکنار، برطانوی دور سے ورثے میں ملنے والے اداروں تک کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ وطن عزیز کا حال دیکھ کر غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ:

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہوتوساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  10863
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ہم 1947میں ہجرت سے بچ گئے مگر ہمارا گائوں تقسیم ہوگیا۔ ہمارے گائوں میں سکھ اور مسلمان آباد تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو زمینوں کا ایسا بٹوارہ ہوا کہ ہماری کچھ زمین بھارت میں چلی گئی اور سردار مولا سنگھ کی کچھ زمین
کوئی سے دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہو رہی یا یوں کہیں کہ باقاعدہ جنگ نہیں ہو رہی لیکن اس سر زمین پر کئی ایسے مقام مل جاتے ہیں جہاں کسی نہ کسی صورت میں جنگ ہو رہی ہے اور دو ملک ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ ہیں۔
آپ سب کو مبارک ہو۔ پاکستان پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹارہا ہے۔ میاں شہباز شریف حراست میں لے لئے گئے۔ آغاز ہفتہ کراچی اسٹاک ایکسچینج بہت نیچے چلی گئی۔ لوگ سمجھے کہ یہ گرفتاری کا ردّ عمل ہے۔ لیکن اسٹاکس کے ایک بڑے بروکر
بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ایک محاورہ ہے اور ہم لوگ گزشتہ 70برس سے مختلف ادوار میں اس محاورے کو فقرے میں استعمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ متذکرہ محاورے کو فقرے میں استعمال کرنے والے امتحانی نقطہ نظر سے ایسا نہیں کرتے۔

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
خیبرپختونخوا حکومت پر براجماں تبدیلی کے دعویداروں نے بے روز گار نوجوانوں پر بم گرانے کی تیاری کر لی۔ خیبر پختون خوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں ملازمین کیلئے مدت ملازمت
میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے بذریعہ موٹروے اسلام آباد پہنچا دیا گیا، وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا تبادلہ کرکے انہیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا صدر تعینات کیا گیا ہے جب کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان کو نیا کور
چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ میں رہوں نہ رہوں سپریم کورٹ کا یہ ادارہ برقرار رہے گا اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔ کوئٹہ میں بلوچستان بار میں اپنے خطاب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کی تعمیرآنے والی نسلوں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں