Tuesday, 18 September, 2018
قیمے والے نان پر پابندی؟

قیمے والے نان پر پابندی؟
حامد میر کا کالم

 

’’قیمے والے نان پر پابندی لگا دینی چاہئے‘‘ 
’’وہ کیوں؟‘‘ 
’’اسلئے کہ قیمے والے نان جمہوریت کیلئے خطرہ بن گئے ہیں۔‘‘ 

’’وہ کیسے جناب؟‘‘ 
’’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کے جلسوں میں غریب عوام ججوں کے خلاف تقریریں سننے نہیں آتے بلکہ قیمے والے نان کھانے آتے ہیں اگر قیمے والے نان بند کر دیئے جائیں تو نواز شریف کے جلسوں میں لوگ آنا کم ہو جائیں گے۔ ‘‘ 
’’اچھا اچھا تو آپ قیمے والے نان پر پابندی کی بات طنزیہ انداز میں کر رہے ہیں تاکہ آپ نواز شریف کو پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا مزاحمتی کردار بنا کر پیش کر سکیں اور جاوید ہاشمی اس پاکستانی چے گویرا کے سامنے بونا بن جائے۔ ‘‘ 
’’یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ آج نواز شریف پاکستان کا سب سے زیادہ پاپولر لیڈر ہے اور پاکستان کے تمام ریاستی اداروں کی طاقت اُس کے سامنے زیرو ہو چکی ہے وہ عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔ ‘‘ 

’’ہاہاہا۔ مجھے آپ کی اور نواز شریف کی خود فریبی پر ترس آتا ہے۔ یاد کریں نومبر 1997ء میں نواز شریف نے لاہور سے چند سو افراد کو بسوں میں بھر کر پنجاب ہائوس اسلام آباد بلایا۔ ان کو دہی کے ساتھ قیمے والے نان کھلائے اور پھر سپریم کورٹ پر حملہ کرا دیا۔ اُس وقت کا چیف جسٹس سجاد علی شاہ سندھ سے تعلق رکھتا تھا شاید اسی لئے کچھ نہ کر سکا لیکن اپنی تذلیل کی ساری داستان ایک کتاب میں لکھ گیا۔

اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ 1997ء میں نواز شریف کی حکومت ججوں کو تقسیم کرنے میں کامیاب رہی لہٰذا عدلیہ کے خلاف جنگ جیت گئی لیکن بیس سال کے بعد نواز شریف عدلیہ کو تقسیم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اس لئے وہ شکست کھا چکے ہیں، شکست کو چھپانے کے لئے انہوں نے ہاہاکار مچا رکھی ہے اور اس ہاہاکار میں میڈیا کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا کوئی نہ کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ مفاد نواز شریف کے ساتھ وابستہ ہے۔ ‘‘ 

’’دیکھئے صاحب آپ نواز شریف پر تنقید ضرور کریں لیکن میڈیا کی آزادی پر حملہ نہ کریں۔ ‘‘ 
’’آپ تو بُرا منا گئے۔ میں اُن میڈیا والوں کا ذکر نہیں کر رہا جن کو نواز شریف نے سرکاری عہدے دیئے میں تو اُن کا ذکر کر رہا ہوں جن کے ساتھ راحیل شریف کی وجہ سے دھوکہ ہو گیا۔ ‘‘ 

’’کیا مطلب؟‘‘
 
’’مطلب یہ کہ جب میڈیا میں تھینک یو راحیل شریف کا نعرہ روز گونجتا تھا تو کچھ میڈیا والوں کو یقین ہو گیا کہ فیلڈ مارشل راحیل شریف پاکستانی فوج کے تاحیات سپہ سالار بن چکے ہیں لہٰذا میڈیا کے بڑے بڑے نام راحیل شریف کے ’’بول‘‘ کو بالا کرنے کے لئے ایک مشہور زمانہ چینل میں جمع ہو گئے لیکن راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ان میڈیا والوں کا بھی تھینک یو ہو گیا۔ ان سب کے کپڑوں پر داغ لگ گیا لہٰذا راحیل شریف سے لاتعلقی ثابت کرنے کے لئے ان سب کو نواز شریف کے حق میں گلا پھاڑنا پڑتا ہے تاکہ عوام کی توجہ ان کے دامن پر لگے داغوں کی طرف نہ جائے کیونکہ سب داغ اچھے نہیں ہوتے۔‘‘ 

’’یہ اچھے داغ کون سے ہوتے ہیں؟‘‘

’’ارے بھائی یہ جو سیالکوٹ میں ایک گمراہ مولوی نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے چہرے پر سیاہی گرائی اس سیاہی کے داغوں سے خواجہ صاحب کو نقصان نہیں بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے اپنے چہرے پر پانی کے چند چھینٹے مارے اور کچھ لمحوں کے بعد اپنے داغ داغ کپڑوں کے ساتھ تقریر کے لئے واپس آ گئے۔ ایسے داغ انسان کی زندگی میں اجالا بن جاتے ہیں۔‘‘ 
’’تو آپ مانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں پر جوتیاں چلا کر اور سیاہی گرا کر انہیں شکست نہیں دی جاسکتی۔ ‘‘ 
’’بالکل یہ ماننا پڑے گا کہ سیاستدان کو جوتے اور سیاہی کے ذریعہ شکست نہیں دی جا سکتی لیکن جو سیاستدان عوام کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے اُس کے چہرے پر تاریخ سیاہی پھینک دیتی ہے۔‘‘ 

’’سمجھ نہیں آئی۔ ذرا کھل کر بات کریں۔ ‘‘

’’کیا کھل کر بات کروں۔ لوگوں کو سب سمجھ آ جاتی ہے۔ اب دیکھئے ناں پچھلے جمعہ کو شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کے ایک اہم وزیر نے اسحاق ڈار کے خلاف انتہائی اہم دستاویزات ایک ریاستی ادارے کے حوالے کر دی ہیں جب یہ دستاویزات عدالت کے سامنے آئیں گی تو عدالت کو سزا سنانا پڑے گی اور پھر یہ سزا ایک داغ بن جائے گی۔ یہ سزا کسی ملٹری ڈکٹیٹر کے دور میں کوئی ملٹری کورٹ نہیں سنائے گی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں حکومت کے ایک سینیٹر کو منی لارنڈرنگ اور حقائق چھپانے کے الزام میں سنائی جائے گی۔ ایسی سزائیں اچھے داغ نہیں بُرے داغ ہوتے ہیں اور اس قسم کے بہت بُرے بُرے داغ مزید سامنے آنے والے ہیں۔ ‘‘ 
’’ڈار صاحب کے علاوہ اور کس کس پر داغ لگنے والے ہیں؟‘‘

’’اللہ تعالیٰ سب کو داغوں سے محفوظ رکھے لیکن پتہ چلا ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے نواز شریف اور اُن کے خاندان کے بارے میں کچھ ایسی دستاویزات پاکستانی اداروں کے سپرد کر دی ہیں جو عدالتوں میں پہنچ گئیں تو عمران خان کا دل باغ باغ ہو جائے گا اور وہ چلّا چلّا کر کہیں گے کہ نواز شریف جمہوریت کی نہیں منی لانڈرنگ کی علامت ہے۔ دیکھتے ہیں پھر عوام نواز شریف کے جلسوں میں قیمے والے نان کھانے آتے ہیں یا نہیں؟‘‘

’’آپ کی باتیں سن کر میرا دل ڈوبنے لگا ہے۔ ‘‘ 

’’دل تو میرا بھی ہچکولے کھا رہا ہے کیونکہ صرف نواز شریف کو سزائیں سنائی گئیں تو لوگ پوچھیں گے کہ کیا پاکستان کا قانون صرف سویلینز کے لئے ہے؟ سپریم کورٹ نے صرف نواز شریف کے خلاف نہیں پرویز مشرف کے خلاف بھی ایک فیصلہ دیا تھا اور اُس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے مشرف کے خلاف آئین سے بغاوت کا مقدمہ دائر ہوا لیکن یہ مقدمہ انجام کو کیوں نہیں پہنچتا؟ وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو جھٹلانا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے وہ مشرف کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کب تک کرائیں گے؟ دیکھ لینا جیسے ہی نواز شریف کو سزا سنائی جائے گی تو پاکستان بھر میں مشرف مشرف ہونے لگے گی اور مشرف کے خلاف مقدمہ پاکستانی عدالتوں کے لئے ایک چیلنج نہیں بلکہ ایک چھیڑ بن جائے گا۔‘‘ 

’’آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔ نواز شریف کے ساتھ ساتھ مشرف کو بھی سزا مل جائے تو قیمے والے نان پر پابندی کی نوبت نہیں آئے گی بلکہ ہماری عدالتیں ہمارا فخر بن جائیں گی۔ ‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  77233
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
مجھے ابھی بھی کوئی امید تھی۔۔ کچھ بہتر ہو سکتا ہے، شاید کچھ اچھا ہو ہی جائے۔۔ لیکن اس ایک شخص نے بہت تنگ کیا ہے، بہت مایوس کر دیا ہے۔۔ اب یہ طے ہے کہ اس بھائی سے کسی اچھے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔۔

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں روسی طیارہ بحيرہ روم کی ساحلی پٹی سے 35 کلوميٹر دور رڈار سے غائب ہو گيا تھا بعد ازاں طیارے کا ملبہ بحیرہ روم کے نزدیک مل گیا، طیارے میں سوار روسی فوج کے 15 اہلکار ہلاک ہوگئے۔
وزیراعظم عمران خان نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی مقرر کردیا۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے زلفی بخاری کی بطور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے پانی کی کمی اور ڈیمزکی تعمیر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جبکہ ڈیمزکی تعمیر اورکام کی نگرانی کے لیےعملدرآمد کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق عملدرآمد کمیٹی
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانس بجٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کو بچانا ہے، بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور خسارہ 27 سو ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں