Sunday, 19 November, 2017
چوہدری نثار درست کہہ رہے ہیں

چوہدری نثار درست کہہ رہے ہیں
جاوید چوہدری کا کالم

 

جولائی کے آخری ہفتے میں فرانسیسی حکومت نے ماروی میمن کو نیشنل آرڈر آف میرٹ ایوارڈ دیا‘ یہ ایوارڈ 1963ء میں صدر چارلس ڈیگال نے شروع کیا تھا اور یہ فرانسیسی حکومت نے 2017ء میں غربت کے خاتمے کے لیے کوششوں پر ماروی میمن کو پیش کیا‘ تقریب فرنچ ایمبیسی میں تھی‘ میں بھی اس فنکشن میں شامل تھا.

ماروی میمن نے وہاں روانی کے ساتھ فرنچ بول کر خاتون سفیر کو بھی حیران کر دیا اور شرکاء کو بھی‘ پتہ چلا ماروی کا بچپن فرانس میں گزرا تھا‘ اس نے فرنچ اس دور میں سیکھی تھی‘ فنکشن کے دوران میری ملاقات حکومت کے ایک سینئر وزیر سے ہوئی‘ یہ عمر اور رتبے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں سے سینئر ہیں‘ ہم دیر تک سرگوشیوں میں گفتگو کرتے رہے۔

ان دنوں مارکیٹ میں دو بڑے ایشو زیر گردش تھے‘ چوہدری نثار کی بغاوت اور میاں نواز شریف کے کیس کا فیصلہ‘ چوہدری نثار دھماکا خیز پریس کانفرنس کا اعلان کر چکے تھے تاہم یہ دھماکا ابھی ہوا نہیں تھا‘ میں نے سینئر وزیر سے پوچھا ’’کیا چوہدری نثار میاں نواز شریف کو چھوڑ دیں گے‘‘ وزیر نے جواب دیا ’’چوہدری نثار نہیں چھوڑیں گے لیکن میاں نواز شریف اب ان کے ساتھ نہیں چل سکیں گے‘‘ میں نے وجہ پوچھی‘ ان کا فرمانا تھا ’’چوہدری نثار میاں صاحب کے لیے ناقابل برداشت ہو چکے ہیں‘‘ میں نے مزید وجہ پوچھی‘ ان کا کہنا تھا ’’چوہدری نثار مریم نواز کو قائد تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘‘ میں نے عرض کیا ’’کیوں؟‘‘ ان کا فرمانا تھا ’’چوہدری نثار کا کہنا ہے ہم اگر سیاسی جماعت ہیں تو پھر ہمیں وراثت کا یہ کھیل ختم کرنا ہو گا۔

سیاسی جماعتیں تاج نہیں ہوتیں کہ بادشاہ جس کو دے دے عوام اسے تسلیم کر لیں چنانچہ میرا خیال ہے چوہدری نثار مریم نواز کو لیڈر تسلیم نہیں کریں گے اور میاں صاحب اپنی صاحبزادی کو لیڈر بنا کر رہیں گے‘‘ میں نے پوچھا ’’پھر نتیجہ کیا نکلے گا‘‘ وہ بولے ’’چوہدری نثار ناراض ہو جائیں گے اور اس بار انھیں کوئی راضی نہیں کرے گا۔

یوں یہ آہستہ آہستہ چکری تک محدود ہو جائیں گے یا پھر جاوید ہاشمی کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی صدارت قبول کر لیں گے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا یہ اکیلے جائیں گے یا پھر پارٹی کے دوسرے ہم خیال بھی ان کے ساتھ رخصت ہو جائیں گے‘‘ وہ بولے ’’یہ شروع میں اکیلے ہوں گے لیکن جوں جوں قیادت مریم نواز کے ہاتھوں میں آتی جائے گی توں توں زیادہ تر انکل چوہدری نثار کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا یہ تمام لوگ پی ٹی آئی میں جائیں گے‘‘ وہ ہنسے‘ میری طرف غور سے دیکھا اور بولے ’’اگر عمران خان بھی فارغ ہو گئے تو یہ لوگ پی ٹی آئی کے نئے قائد کے پیچھے کھڑے ہو جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں ایک نئی پارٹی بنے گی اور وہ پارٹی ملک کی تمام اہم پارٹیوں کے اہم لوگوں کو لے اڑے گی‘‘ میرے کانوں میں سیٹیاں بجنے لگیں۔

میں نے بے تاب ہو کر پوچھا ’’کیا نئی پارٹی کی گنجائش موجود ہے اور کیا یہ پارٹی چار پانچ ماہ میں الیکشن کے قابل ہو جائے گی‘‘ وہ بڑے یقین سے بولے ’’میرا خیال ہے ۔۔۔‘‘ ان کی بات ابھی ادھوری تھی کہ فرنچ سفیر نے تقریب باقاعدہ شروع کرا دی اور ہم تمام شرکاء کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے اور یوں بات مکمل نہ ہو سکی۔

وہ بات ادھوری رہی لیکن حقائق مکمل ہیں اور میاں نواز شریف کو بہرحال کبھی نہ کبھی ان مکمل حقائق پر ضرور غور کرنا ہوگا‘ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور میاں نواز شریف دونوں کو کبھی نہ کبھی کروٹ بدلتی تاریخ پر ایمان لانا ہوگا‘ یہ درست ہے تیسری دنیا کے تمام ملکوں میں مارشل لاء لگتے تھے اور فوج اقتدار میں آتی تھی لیکن یہ سلسلہ 2000ء کے بعد ختم ہو چکا ہے‘ دنیا میں اب کسی اہم ملک میں فوجی حکومت ہے اور نہ ہی آنے والے دنوںمیں اس کا امکان موجود ہے۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا‘ یہ ایسی غلطی نہ کرے کیونکہ یہ غلطی فوج اور ملک دونوں کے لیے آخری ثابت ہو گی‘ یہ ملک بکھر جائے گا‘ یہ بھی درست ہے دنیا میں 2000ء تک خاندانی سیاست آب و تاب کے ساتھ موجود تھی لیکن نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ہی یہ روایت بھی پھٹی پرانی رضائی بن گئی‘ یہ سلسلہ بند ہو گیا‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ دنیا کا نقشہ میز پر رکھیں اور وہ ملک تلاش کریں جن میں آج خاندانی سیاست موجود ہے‘ آپ کو پاکستان کے علاوہ کوئی ملک نہیں ملے گا اور پاکستان بھی اب اس قدیم روایت کا قبرستان بنتا جا رہا ہے۔

ہمارے ہمسائے بھارت میں کانگریس خاندانی سیاسی جماعت تھی‘نہرو فیملی کی چار نسلیں کانگریس کی سربراہ رہیں‘ باپ کے بعد بیٹی‘ بیٹی کے بعد دو بیٹے‘ بیٹوں کے بعد اٹالین بہو اور اب پوتا راہول گاندھی کانگریس کا نائب صدر ہے‘ یہ پارٹی ترکے میں منتقل ہوتے ہوتے خرچ ہو گئی‘ آپ کسی دن کانگریس کی تازہ ترین صورتحال کا مطالعہ کر لیجیے آپ کو یہ پارٹی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ماضی کا قصہ لگے گی ‘آپ پاکستان پیپلز پارٹی کا حشر بھی دیکھ لیجیے‘ یہ پارٹی ذوالفقار علی بھٹو نے بنائی‘ محترمہ بے نظیر بھٹو بڑے بھٹو صاحب کے انتقال کے بعد پارٹی کی سربراہ بنیں‘ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک مشکوک وراثتی خط کے ذریعے اپنی پارٹی اپنے شوہر کو سونپ دی اور شوہر کے دور میں پارٹی کا جلوس نکل گیا۔

آصف علی زرداری اب پانچ سال سے اپنے صاحبزادے کو قیادت کی کرسی میں فٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ میاں نواز شریف بھی اس نیک کام میں حتی الامکان ان کی مدد کر رہے ہیں لیکن بلاول بھٹو زرداری دونوں بزرگوں کی کوشش کے باوجود اس کرسی میں فٹ نہیں آ رہے اور اس سعی لاحاصل میں سندھ بھی پارٹی کے ہاتھوں سے پھسلتا چلا جا رہا ہے‘ آصف علی زرداری نے بلاول کو لیڈر بنانے کی یہ کوشش ترک نہ کی‘ اگر انھوں نے ریٹائرمنٹ نہ لی اور پارٹی کو میرٹ کے سہارے پر نہ چھوڑا تو پیپلز پارٹی پاکستان کی کانگریس بن جائے گی۔

آپ اسی طرح اے این پی اور جمعیت علماء اسلام کا حشر دیکھ لیجیے‘ یہ دونوں پارٹیاں بھی سکڑتی جا رہی ہیں اور آخر میں میاں نواز شریف کی پارٹی بچی ہے‘ ہمیں ماننا ہو گا ملک میں میاں نواز شریف کے علاوہ کوئی تجربہ کار لیڈر موجود نہیں‘ پاکستان 2018-19ء میں اپنے قیام کے بعد خوفناک ترین دور سے گزرے گا‘ ہمیں اس دور میں 1971ء کا سانحہ بھی چھوٹا محسوس ہوگا‘ ملک کو اس دور میں میاں نواز شریف کی اشد ضرورت ہو گی لیکن میاں صاحب کے لیے اس دور سے پہلے سروائیو کرنا ضروری ہے اور مجھے ان کی سروائیول خطرے میں محسوس ہو رہی ہے‘ یہ غلطی پر غلطی کرتے چلے جا رہے ہیں۔

میاں نواز شریف کو یہ مان لینا چاہیے لوگ اب ان کی بات پر یقین نہیں کر رہے‘ یہ اپنا عوامی مقدمہ ہار چکے ہیں‘ یہ اب ملک سے باہر کسی جگہ باہر نہیں نکل سکتے اور یہ صورت حال اگر پاکستان میں بھی شروع ہو گئی تو حالات مزید بگڑ جائیں گے‘ ملک میں سیاسی خانہ جنگی شروع ہو جائے گی‘ میاں نواز شریف لکی تھے لیکن یہ لک اب ان کا ساتھ چھوڑ چکی ہے۔

یہ گزشتہ دو سال سے جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کے نتائج ان کے حق میں نہیں نکلتے‘ ان کی سیدھی بھی الٹی پڑ رہی ہے چنانچہ میرامشورہ ہے میاں نواز شریف کو اب حالات سے سمجھوتہ کر لینا چاہیے‘ یہ پارٹی کو میرٹ کے آسرے پر چھوڑ دیں‘ سیاست کریں لیکن اقتدار کا خیال ترک کر دیں‘ یہ ہر قسم کے عوامی عہدے سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں‘ پارٹی کا ایگزیکٹو بورڈ بنائیں‘ اپنی عمر کے تمام لوگوں کو عملی سیاست سے ریٹائر کریں‘ پارٹی کے نئے ضابطے‘ قوانین اور روایات بنائیں‘ نئے لوگوںکو شامل کریں اور ملک کو آگے بڑھنے دیں۔

میاں صاحب یہ بھی مان لیں یہ اور ان کا خاندان اقتدار کے لیے ناگزیر نہیں ہے‘ یہ اس مغالطے سے بھی نکل جائیں کہ یہ جس کو لیڈر بنانا چاہیں گے وہ لیڈر بن جائے گا‘ یہ مان لیں اگر ایم کیو ایم الطاف حسین کے بغیر چل سکتی ہے تو پاکستان مسلم لیگ ن بھی ان کے بغیر چل پڑے گی اور یہ بھی مان لیں شاہد خاقان عباسی‘ احسن اقبال اور خواجہ آصف ان کے بغیر زیادہ بہتر حکومت چلا رہے ہیں‘ کابینہ کے اجلاس باقاعدہ ہو چکے ہیں‘ شاہد خاقان عباسی فائلیں فوراً نکال دیتے ہیں‘ یہ کوئی آرڈر بھی نہیں روکتے‘ یہ اسمبلی کے اجلاس میں بھی جاتے ہیں اور یہ صبح سے رات گئے تک کام بھی کرتے ہیں‘ خواجہ آصف بھی 18 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔
وزارت خارجہ کے چار سال کے کام اب ہو رہے ہیں اور احسن اقبال بھی ہر وقت دستیاب رہتے ہیں‘ یہ وہ کام بھی کر چکے ہیں جو چوہدری نثار شاید اگلے دس برسوں میں بھی نہ کر پاتے اور فوج اور حکومت کو اگر ایک پیج پر ہونا چاہیے تو وہ وقت آ چکا ہے ملک میں اب سول اور ملٹری کے درمیان حقیقتاً کوئی فاصلہ موجود نہیں‘یہ دونوں ایک پیج پر ہیں‘ میاں صاحب اگر چاہیں تو یہ سلسلہ آگے بڑھ سکتا ہے‘ یہ سائیڈ پر ہو جائیں‘ یہ سیاست کریں اور پارٹی ملک چلائے‘ یہ خاندان کو بھی سیاست سے نکال لیں۔

ملک‘ خاندان اور پارٹی تینوں بچ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں بیروں کی یہ ٹوکری کیچڑ میں گر جائے گی‘ سارے بیر بکھر جائیں گے اور یقین کیجیے یہ ملک کسی نئے سیاسی حادثے کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ میاں صاحب کو اب اس پر رحم کرنا چاہیے‘ انھیں چوہدری نثار کی باتیں مان لینی چاہئیں‘ چوہدری صاحب درست کہہ رہے ہیں‘ پاکستان مسلم لیگ ن اگر واقعی پارٹی ہے تو پھر اسے پارٹی نظر آنا چاہیے‘ یہ جاگیر نہیں ہونی چاہیے‘ دنیا میں جاگیری سیاست ختم ہو چکی ہے‘ ہمیں بھی اب یہ حقیقت مان لینی چاہیے‘ میاں نواز شریف خود مان گئے تو ٹھیک ورنہ حالات انھیں ماننے پر مجبور کر دیں گے اور وہ حالات اب زیادہ دور نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  13552
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ہمیں ایک بار پھر پیچھے جانا پڑے گا‘ 12 اکتوبر 1999ء ہو گیا‘ میاں نواز شریف خاندان سمیت گرفتار ہو گئے‘ یہ اٹک قلعہ پہنچے‘ اسمبلیاں معطل تھیں‘پاکستان مسلم لیگ ن اپنی دو تہائی اکثریت کے ساتھ بوکھلائی پھر رہی تھی
مشہور کہاوت ہے کہ دوسروں کیلئے کھڈا کھودنے والا خود بھی اسی میں جاگرتا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) سوشل میڈیا ٹیم کے بعض ارکان کی گرفتاریوں پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بے چینی دیکھ کر مجھے آج یہ کہاوت بہت یاد آئی ۔ جن دنوں سائبر کرائم بل کو منظور کروانے کیلئے حکومت کی دوڑیں لگی ہوئی تھیں
اپنے منہ پر تھپڑ, جاوید چوہدری, مارک روٹ, مبصر نیوز
سعودی عرب کے فرمان روا شاہ سلمان گزشتہ دنوں ماسکو گئے۔ یہ کسی بھی سعودی حکمران کا پہلا دورۂ روس تھا۔ ان کے وفد میں 1500افراد شامل تھے جن دو ہوٹلوں میں انہوں نے قیام کیا ان دونوں ہوٹلوں کوخالی کروا لیا گیا تھا۔ ہوٹل اسٹاف کی جگہ ذاتی شاہی خادمین نے لے لی تھی۔ ماسکو میں پوراشاہی جلال نظر آیا۔

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔
افغان حکومت نے باچاخان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے کسی دہشت گرد گروپ کو پناہ نہیں دی جب کہ افغانستان کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت بھی نہیں کرتا۔
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
اجلاس کی صدارت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کی۔ اجلاس میں زونل کمیٹی کے اراکین اور محکمہ موسمیات کے نمائندے شریک ہوئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، آج کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں چاند نظر
نواز شریف نے کہا کہ پاناما کیس کی نظرثانی اپیل کے عدالتی فیصلے میں سوال اٹھایا گیا کہ قافلے کیوں لٹتے رہے، ہمیں معلوم ہے اور اس قوم کو بھی معلوم ہے کہ آپ نے کبھی راہزنوں سے کوئی گلہ نہیں کیا، آپ نے تو 70 سال میں کسی راہزن سے سوال تک نہ کیا اور کسی راہزن کو کٹہرے میں بھی نہیں لائے۔
دھرنا مظاہر کے خلاف آپریشن کسی بھی وقت ہوسکتا ہے لیکن یہ آخری آپشن ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ختم نبوت یہ تاثر دینا کہ ختم نبوت کے
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کا نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ برقرار ہے اور گھر گھر تلاشی اور سرچ آپریشن کے نام پر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے اور جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں