Thursday, 19 July, 2018
قندوز کے جگر پاش واقعات کے گہرے اثرات

قندوز کے جگر پاش واقعات کے گہرے اثرات
الطاف حسن قریشی کا کالم

 

قندوز میں ایک مدرسے پر بمباری کے حادثے کو گزرے بارہ دن ہو چکے ہیں، مگر وہ بچے جو قرآن حفظ کر کے دستار بندی کی باوقار تقریب میں شریک تھے، اُن کے جسم ویڈیو میں تار تار ہوتے اور فضا میں اُڑتے دیکھے۔ وہ اندوہناک مناظر میرے پورے وجود میں تحلیل ہو گئے ہیں۔ آنکھوں سے آنسو تھمتے ہی نہیں، کلیجہ آج بھی پھٹ پھٹ جاتا ہے اور احساس دلاتا ہے کہ قیامت آن پہنچی ہے۔ یہ قیامت ہی کے آثار ہیں کہ 150پھول سے بچوں کی ہلاکت پر عالمی ضمیر کے اندر کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوا، انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں ابھی تک مہر بہ لب ہیں اور دنیا کے کسی گوشے سے اس وحشت ناک المیے کے خلاف احتجاج کی دلخراش آواز بلند نہیں ہو رہی۔ سوچتا ہوں کہ یہ اکیسویں صدی جسے انسانی عظمت اور وقار کے تحفظ کی عظیم صدی ہونا چاہیے تھا، وہ تو پتھر کی دنیا میں چلی گئی ہے جہاں سنگ دلی اور جنگل کے قانون کا راج تھا اور انسان کی حیثیت کیڑے مکوڑوں کے برابر ہوتی تھی۔ بھیڑیے انسانوں کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے اور کسی کو آہ و بکا کی اجازت بھی نہیں تھی۔ میرا وہم تھا کہ انسانی تہذیب نے بلندیوں کی طرف صدیوں کا سفر طے کر لیا ہے اور ایک ایسا عالمی سماج وجود میں آتا جا رہا ہے جس میں انسان کی عزت و احترام پر کوئی حرف نہیں آئے گا، کوئی شخص دوسرے شخص کا حق نہیں چھین سکے گا۔

کوئی کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھائے گا اور کسی طاقت ور قبیلے کو دوسرے قبیلے کو تاراج کرنے کی جرأت نہیں ہو گی۔ مگر آہ یہ کیا ہے۔ دن کی روشنی میں ہیلی کاپٹر آئے، ایک مدرسے کے اوپر چکر لگاتے اور اہداف کو نشانہ بناتے رہے۔ اہداف بھی وہ بچے تھے جنہوں نے اللہ کا کلام نہایت شوق اور بڑی ریاضت سے حفظ کیا تھا۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں طلبہ اور علاقے کے عمائدین آئے تھے۔ اُن پر بھیڑیا صفت لوگ حملہ آور ہوئے اور انسانی عظمت کے سنگ ہائے میل پاش پاش کر گئے۔

قندوز افغانستان کے علاوہ پوری دنیا میں اپنی ایک شناخت قائم کر چکا ہے۔ یہ افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر واقع ہے۔ افغان طالبان نے نیٹو افواج کو شکست دے کر ستمبر 2015ء میں اس پر قبضہ کر لیا اور اگلے ہی ہفتے ایک دلگداز واقعہ رونما ہوا۔ امریکی ایئر فورس نے اِس علاقے میں ایک میڈیکل سنٹر پر بم برسائے، چالیس سے زائد ڈاکٹر لقمۂ اجل بن گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کچھ روز کسی قدر شور وغوغا ہوا، مگر امریکی حکام فصاحت کے دریا بہاتے اور افغانیوں کو یقین دلاتے رہے کہ خطا کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ سب کچھ محض دکھاوا تھا، کیونکہ اس خونخوار واقعے کی کوئی تحقیقات ہوئی نہ کسی کو سزا دی گئی۔ دراصل امریکی اس معاملے میں نہایت سنگدل واقع ہوئے ہیں اور انہیں مسلمان ملکوں میں اس نوع کی کارروائیوں میں بڑی لذت محسوس ہوتی ہے۔ یہ 1995ء کے آخری دنوں کی بات ہے کہ اسامہ بن لادن سوڈان میں قیام پذیر تھے اور وہاں کی غربت زدہ آبادی کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے دواؤں کے کارخانے لگا رہے تھے۔ امریکی حکومت نے سوڈان پر دباؤ ڈالا کہ اسامہ بن لادن کو بے دخل کر دیا جائے، لیکن سوڈانی حکومت نے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا۔ انہی دنوں ہم چند صحافی اسامہ بن لادن سے ملنے خرطوم گئے۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ وہ سوڈان کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں اور اُمتِ مسلمہ کو امریکی غلامی سے نجات دلانے کے لیے اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ ہماری واپسی کے چند روز بعد امریکہ نے دوائیاں تیار کرنے والے کارخانے پر بمباری کی اور الزام یہ لگایا کہ یہاں اسلحہ بنایا جا رہا تھا۔ بعد ازاں یہ امریکی الزام غلط ثابت ہوا، مگر اس نے معافی مانگی نہ عظیم نقصان کا کفارہ ادا کیا۔ وہ اپنے آپ کو ’’مختار کل‘ ‘ سمجھ بیٹھا ہے جس کا خمیازہ مختلف صورتوں میں بھگت رہا ہے۔

قندوز میں 2؍اپریل کو جو خون آشام واقعات رونما ہوئے، اُن کے بارے میں افغان حکومت نے امریکی حکومت کی طرح، یہ موقف اختیار کیا کہ فضائی حملہ طالبان پر کیا تھا جو تخریبی سرگرمیوں کی تیاری کر رہے تھے۔ افغان طالبان نے کٹھ پتلی افغان حکومت کے دعوے کی تردید کی اور شہدا کے رشتے داروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ بمباری دشت آرچی کے ایک مدرسے پر اُس وقت کی گئی جب دستار بندی کی تقریب میں ایک ہزار سے زائد طلبہ، اساتذہ اور عمائدین شرکت کر رہے تھے۔ امریکہ نے اس واقعے سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کرتے ہوئے کہا کہ یہ افغانستان کا داخلی معاملہ ہے اور ہمارا اِس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس پورے واقعے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری بڑی حد تک خاموش ہے اور افغان میڈیا اس کی ہلاکت خیزی پر پردہ ڈال رہا ہے۔ یہ تقریب بڑے پیمانے پر مشتہر کی گئی تھی اور کابل کی انتظامیہ اس کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھی۔ اس میں ایک اور تشویش کی بات یہ ہے کہ افغان طالبان دعویٰ کر رہے ہیں کہ بمباری میں انڈین ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بمباری کا واقعہ حادثاتی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سازش کام کر رہی ہے۔ ان پے در پے واقعات کا مقصد مسلم نوجوانوں کی بتدریج نسل کشی ہے۔ قندوز کے ہولناک واقعے سے صرف تین روز پہلے اسرائیل نے وحشیانہ طاقت کے ذریعے احتجاج کرنے والے سولہ فلسطینی شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی کر ڈالے۔ اِسی طرح بھارتی درندوں نے مقبوضہ کشمیر کے شوپیاں اور اسلام آباد اضلاع میں اکیس نوجوان کشمیری شہید اور ایک سو سے زائد زخمی کر دیے۔

افغان طالبان نے عہد کیا ہے کہ وہ بہنے والے خون کا انتقام لیں گے۔ اس کے نتیجے میں افغانستان کے اندر بدامنی کی دلدل مزید گہری ہو جائے گی اور افغان صدر اشرف غنی نے طالبان اور پاکستان کو امن مذاکرات کی جو پیشکش کی ہے، اسے عملی جامہ پہنانا بہت دشوار ہو جائے گا۔ سخت نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کابل گئے اور امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں خاصے کامیاب رہے، لیکن عالمی امن کے استحکام کا اوّلین تقاضا یہی ہے کہ عالمی برادری، امریکہ اور بھارت نے قندوز میں جو شیطانی کھیل کھیلا ہے، اسے ختم کرنے کے لیے عالمی برادری پوری طاقت سے آواز اُٹھائے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ یہ خطہ ایک خوفناک تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان عام انتخابات کے دہانے پر کھڑا ہے اور اس کے لیے پُرامن انتقالِ اقتدار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے داخلی استحکام کی اشد ضرورت ہے ۔ عوام ماضی کے مقابلے میں باشعور اور بیدار ہیں ، اپنے اداروں کا بے حد احترام کرتے اور انہیں اپنے وطن کا پاسبان سمجھتے ہیں اور اُمید رکھتے ہیں کہ وہ نازک وقت میں جمہوریت کا پورا پورا احترام کریں گے اور سویلین بالادستی کو تقویت پہنچائیں گے کہ مہذب معاشروں کا یہی دستور ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  40537
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
میری پہلی محبت صحافت اور عشق اہل قلم تھے۔ عمر کا وہ حصہ جب میرے سارے دوست حسیناﺅں کی آمدورفت کا شیڈول ترتیب دیا کرتے تھے میں کتابوں میں کھویا رہتا تھا۔ کالج میں جوں ہی کوئی فارغ وقت ملتا لائبریری میں گھس جاتا
اگرچہ گزشتہ چار دہائیوں سے پورے افغانستان نے ہی موت اور تباہی دیکھی ، لیکن قندوز میں ہونے والے حملے انتہائی تباہ کن تھے ۔ اس طویل جنگ کے دوران قندوز زیادہ تر فضائی حملوں کا نشانہ بنا ہے ۔ اکتوبر 2015 ء میں امریکی فوج
نوجوان کی آواز فرط جذبات سے رندھ گئی وہ بیس اکیس سال کا پختون تھا اکثر پٹھانوں کی طرح اردو بولتے ہوئے اس کے لہجے سے بھی پشتو جھلک رہی تھی وہ شہر اقتدار میں کھڑا گلہ پھاڑ پھاڑ کر حکمرانوں سے استفسار کررہا تھا
وفاقی دار الحکومت میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کیخلاف قبائلیوں کے احتجاج کو ہفتہ سے زائد عرصہ بیت چکاہے ۔ فروری کا مہینہ ہے اور شہر اقتدار کی شامیں انتہائی یخ بستہ ہیں لیکن موسم کی تلخی سے بے پرواہ ان قبائلیوں کی انکھیں بولتی ہیں، ان کی اردو شاید ٹوٹی پھوٹی ہو ، مذکر کو مؤنث اور مؤنث کو مذکر بنادیتے ہو،

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
بھارت میں شدید گرمی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 134ہوگئی بھارتی میڈیا کے مطابق شدید گرمی کے باعث بھارت کی ریاست تلنگانہ ،آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں مرنے والوں کی تعداد 134 ہوگئی ہے۔

مقبول ترین
سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے نمائندہ جی ایچ کیو نے بتایا پاک فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں، آرمی صرف امن اومان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے، آرمڈ فورسز ہمیشہ سول اداروں کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نواز کی ان کے وکلا سے ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق نوازشریف اورمریم نواز کا آج اڈیالہ جیل میں چھٹا روزہے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو جیل کا مکین ہوئے 11 دن ہوگئے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں انتخابی امیدواروں پر دہشت گردانہ حملوں سے پاکستان خوفزدہ ہونے والا نہیں ملک میں جمہوری انتخابی عمل جاری رہے گا۔
ترکی کی حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی دو سال بعد ختم کردی۔ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک دھڑے نے صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی تھی۔ اس بغاوت میں فوجیوں سمیت تقریب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں