Wednesday, 14 November, 2018
قیمتی ہستیاں: انہیں سلام اور پھول پیش کریں

قیمتی ہستیاں: انہیں سلام اور پھول پیش کریں
محمود شام کا کالم

 

وہ گھنے درخت ہیں۔ جو ایک عمر سے ہم پر سایہ کئے ہوئے ہیں۔ وہ حرف و معانی کے محافظ ہیں۔ وہ روایات کے امیں ہیں۔ وہ قیمتی اثاثے ہیں۔ پڑھے لکھے۔ ادب دوست۔ مہذب پاکستان کی زندہ کڑیاں ہیں۔ وہ تجربے کا سمندر ہیں۔ انہوں نے پاکستان بنتے دیکھا۔ کتنی تحریکیں ان کے سامنے اُبھریں۔ کچھ منطقی انجام کو پہنچیں۔ کچھ درمیان میں پراسرار طریقے سے ختم کردی گئیں ۔ مگر ان کے دلوں میں وہ اب بھی چل رہی ہیں۔ انہوں نے جشن بھی دیکھے۔ المیے بھی۔ وہ سقوط ڈھاکہ کے زخم خوردہ بھی ہیں۔ مگر پاکستان کی سر زمین بے آئین کے لئے متفقہ آئین کی منظوری کے شاہد بھی۔

ان کی صحبت میں کوئی چند گھڑی بھی بیٹھے تو معلومات کے خزانے ’فارورڈ‘ کراکے اٹھتا ہے۔ وہ چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔ ہم ای اسٹوریج میں وسعتوں کی کوششیں کرتے ہیں۔ ان کے سینوں میں انٹرنیٹ سے زیادہ آرکائیو ہیں۔ ہم انہیں ’اسکین‘ کرکے محفوظ نہیں کررہے ۔

کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو

تم ڈھونڈنے نکلو گے مگر پا نہ سکو گے

ماہرین نفسیات سے رجوع کرنا چاہئے کہ ہم مردہ پرست ہیں یا ہماری سوچنے اور انسانوں کو جانچنے کی صلاحیتیں کند ہیں یا ہماری سمجھنے کی رفتار سست ہے۔ وقت گزرجاتا ہے پھر ہم انسانوں کے جواہر کی قدر کرتے ہیں۔ قائد اعظم کی مخالفت کرنے والے بزرگوں کی اولاد اب قائد اعظم کو عالمی لیڈر تسلیم کرتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شدت سے مخالفت کی گئی۔ اب چالیس سال بعد انہیں پھانسی لگوانے والے بھی بہترین وزیرا عظم کہتے ہیں۔ ہم کسی کے تدبر اور قیادت کو جانچنے میں کتنے برس لگادیتے ہیں۔ نقصان کس کا ہوتا ہے ہمارا اپنا۔ ہماری مملکت کا۔ ہم زندہ لوگوں کی قدر کریں۔ ان کی دانش سے فیض حاصل کریں۔ صحیح پالیسیوں میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں تو ہمارے مسائل حل ہوتے رہیں۔

آج میں بہت ہی بوجھل دل کے ساتھ آپ سے مخاطب ہوں۔ میں خود کو بھی قصوروار سمجھتا ہوں۔ یہ ہم وطن جنہوں نے اپنی عمریں ہمیں مہذب اور ذمہ دار بنانے میں گزار دیں۔ ہم ان سے مہینوں بلکہ سالوں بات تک نہیں کرتے۔ ملتے نہیں ہیں۔ انہیں سالگرہ مبارک نہیں کہہ پاتے۔ حالاتِ حاضرہ پر وہ جو سوچ رہے ہیں۔ وہ ان کے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں کتنا اہم ، کتنا پُر مغز ہوگا۔ کتنا معروضی اور درست ہوگا۔ ہم ان سے رجوع ہی نہیں کرتے۔ چینلوں والوں سے کیا گِلہ کریں۔ کیونکہ یہ بزرگ پاکستانی تو چیخنے چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ عمر بھر انہوں نے اپنی آواز دھیمی رکھی ہے۔ اگرچہ ان کے خیالات بہت بلند رہے ہیں وہ پہلے تولو پھر بولو کے قائل رہے ہیں۔ وہ ان محاوروں کو مانتے ہیں ۔ تھوتھا چنا۔ باجے تھنا یا انگریزی میں

Empty vessels make much noise

کسی دن اچانک خبر آجاتی ہے کہ کوئی نہیں رہا۔ تو ہم اس کے ساتھ برسوں پرانی تصویر ڈھونڈتے ہیں اور فیس بُک پر پوسٹ کرکے اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجاتے ہیں۔

نیکی کن اے فلاں و غنیمت شمار عمر

زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نما ند

اے فلاں! نیکی کر۔ جو سانس آرہے ہیں اسے غنیمت جان۔ اس سے پہلے کہ آواز آئے فلاں نہیں رہا۔ میں معذرت خواہ ہوں ۔ کشور ناہید صاحبہ سے۔ گزشتہ صدی میں ان سے ملاقاتیں رہی ہیں۔انہوں نے آٹو گراف دیا تھا۔

مدتوں بعد ملے تھے جن سے

ان نگاہوں میں بلاوا نہ ملا

کشور ناہید کی ادب، صحافت، حقوق نسواں کے لئے لازوال خدمات ہیں۔ کیا ہمیں نہیں چاہئے کہ ہر ہفتے ان کو پھول بھیجیں۔ ان سے ملیں۔ پاکستان کی کہانی سنیں۔

نعمت اللہ ایڈووکیٹ نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لئےوقف کردی۔ انہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا میئر بننے کا موقع ملا۔ تو اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ہمارے محلّے میں انہوں نے میری درخواست پر بچوں کے لئے پارک بنوادیا۔ جہاں آج سینکڑوں خاندان لطف اندوز ہوتے ہیں میں اس صدی میں ان کے ہاں بھی حاضری نہیں دے سکا۔

آئی اے رحمن۔ ایک عہد ہیں۔ مسلسل جدو جہد ہیں۔ حقوق انسانی کے لئے ہر لحظہ سرگرم۔ ان کو پڑھتے تو ہیں۔ مگر ان سے ہاتھ ملائے ایک عرصہ ہوگیا۔

شیرباز مزاری۔ سیاست میں ایک مختلف اور منفرد شخصیت۔ جنہوں نے روایتی تمنداری کو خود ترک کیا۔ بڑے بڑے آمروں کی مزاحمت کی۔ ان سے ملے بھی مدتیں ہوگئیں۔ آپ میں سے کتنے ان کے ہاں حاضر ہوتے ہیں۔

بہت سے نام یاد آرہے ہیں۔ بہت سے ذہن سے اُتر گئے ہیں۔ مگر وہ اپنے اپنے شعبوں میں بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب بھی انہی نیک کاموں میں مصروف ہیں۔ مگر ہمیں نواز شریفوں۔ زرداریوں ۔عمرانوں اور تجزیہ کاروں سے فرصت ملے تو ہم جائیں کہ جسٹس وجیہہ الدین اپنے طویل تجربات و مشاہدات کے ساتھ اس وقت پاکستان کی کیا خدمت کررہے ہیں۔ جسٹس حاذق الخیری اپنے دھیمے لہجے میں پاکستان کا کتنا درد رکھتے ہیں۔ جسٹس ظہیر جمالی چپ چاپ کتنے بڑے کام کررہے ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں وکلا اور ججوں کے استاد پروفیسر حبیب الرحمٰن نے ہمارے دفتر آکر یہ جاننے کی سعادت دی کہ انہوں نے کئی ہزار بڑے صفحات پر مشتمل ایک کتاب اس پیرانہ سالی پر مرتب کی ہے :

THE TECHNICAL ASPECTS OF BANKING TRANSACTIONS: PRACTICE AND LAW

انتہائی عرق ریزی، گہری نظر کہ بینکنگ کے مقدمات آج کل زیر بحث ہیں۔ اربوں روپے واپس لانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ مگر قانونی نکات سے سینئر وکلا واقف ہیں نہ جج حضرات۔ انہیں بھی ہم نے کسی چینل پر نہیں دیکھا حالانکہ ان کا تبصرہ تجزیہ زیادہ وقیع ہوسکتا ہے۔

بلقیس ایدھی کے دربار میں کیا ہمیں حاضری نہیں دینی چاہئے کہ وہ کتنے عظیم پاکستانی کی رفیقۂ حیات ہیں۔ خود بھی خدمات میںمصروف ہیں۔ایس ایم ظفر صاحب نے کتنے دَور دیکھے ہیں۔ ان کی محفل میں ہم حاضری دیں تو کتنے خزانے منتقل ہوسکتے ہیں۔ مگر ہمیں فراغت ہی نہیں ہے۔ ان اہل دانش کے ہاں حاضری بھرنے کی۔ ہم نقد پسند کمرشل نسلیں ہیں۔ جہاں دو ٹکے کا فائدہ ہو۔ وہیں رجوع کرتے ہیں۔صنعت و حرفت میں یوسف ایچ شیرازی کتنی خدمت کرچکے ہیں اور وہ تو ساتھ ساتھ مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔ میں تو ان کے ہاں بھی حاضر نہیں ہوسکا۔پروفیسر خادم علی ہاشمی سائنس کے استاد۔ مگر اُردو کے عاشق ۔ وہ ملتان میں اب بھی علم و حکمت کی سیاحت کررہے ہیں۔ملتان کے کتنے ساتھی ان کے ہاں پھول لے کر جاتے ہیں۔

یورپ میں اب بھی بزرگوں کے احترام اور دیکھ بھال کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ اسے معمولات کا ایک ضروری حصّہ سمجھا جاتا ہے۔ بہت اچھی کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ ہمارے مذہب اور ثقافت میں بھی بزرگوں کی خدمت کی ایک مسلسل روایت موجود ہے۔ مگر ہم اس پر عمل نہیں کررہے ہیں ۔ تحریر کے دامن میں اتنی وسعتیں نہیں ہیں۔ میں کچھ نام گنوائوں گا۔ ان کی مجلس میں جائیں بقول اقبال:

بیابہ مجلس اقبال و یک دو ساغر کش

کچھ گھڑی بیٹھیں۔ آپ جب اٹھیں گے تو طبیعت خوشگوار ہوگی۔ اس پُر آشوب زمانے میں بھی آپ تسکین محسوس کریں گے۔ فرق صاف ظاہر ہوگا کہ آپ صبح سے رات گئے تک جو کچھ سنتے ہیں حقیقت اس سے کتنی مختلف ہے۔ زندگی کتنی خوبصورت ہے۔ دائیں بائیں کے امتیاز کے بغیر مسعود اشعر،

الطاف حسن قریشی، قیوم نظامی، عارفہ سیدہ، پنجگور کے امان اللہ گچکی، شاعر بے بدل منظر ایوبی، نرم دل بیورو کریٹ شاہد عزیز صدیقی، اہل دل اہل قلم کا خیال رکھنے والے بہرام اواری، ہاکی کے عاشق اصلاح الدین، وطن کے لیے گانے والے افراہیم، دل میں اتر جانے والی فریدہ خانم، عظیم اداکار ضیا محی الدین، ندیم، شکیل اور نواں آئیا ایں سوہنیا۔ مصطفیٰ قریشی، زریں سلمان عرب پنّا۔ سب ہمارے احترام کے حقدار ہیں۔ انہیں کوئی مدد یاوظیفہ نہیں چاہئے۔ عزت احترام اور مہرباں نظریں درکار ہیں۔ اس سے ہمیں ہی فائدہ ہوگا۔ کیا کبھی آپ نے فکر محسوس کیا کہ کرکٹر وقار حسن کہاں ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی اُردو کے عظیم محقق کہاں مصروف ہیں۔

آخر میں ڈاکٹر مبشر حسن۔ نئے پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ۔ بے خوف جراتمند۔ کیا ان کے ہاں ہم حاضری دیتے ہیں۔ ان سے پاکستانی معیشت پر کچھ فیض حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر منظور احمد پاکستان کے قیام اور دوام پر بڑی حقیقت پسندانہ نظریات رکھنے والوں سے کبھی آپ کی صحبت رہی۔

تاریخ اسلام اور عالمی تاریخ میں تو روایت رہی ہے کہ حکمران اہل و دانش کے ہاں حاضری دیتے تھے معلوم نہیں وزیر اعظم عمران خان ایسی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہیں یا نہیں۔ ان علاقوں کے گورنروں، وزرائے اعلیٰ اور ارکان اسمبلی کو چاہئے کہ احتراماً ان منتخب روزگار۔ بزرگ ہستیوں سے ہاتھ ملانے کا شرف حاصل کریں۔ خیر یہ تو بڑے لوگ ہیں ان کو چھوڑیں۔ آپ تو وقت نکالیں خود ملنے جائیں۔ اپنے بچوں کو لے کر جائیں۔ یہ وہ زندہ ہستیاں ہیں جو اچھے دنوں کے پڑھے لکھے پاکستان کی جیتی جاگتی کڑیاں ہیں ۔

آپ سے یہ مدد بھی چاہوں گا کہ آپ کے آس پاس ایسے عظیم پاکستانی ہوں تو ان کی خدمات سے مجھے آگاہ کریں۔ ان کو بھی ہم خراج عقیدت پیش کرسکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جنگ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  54637
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
آپ سب کو مبارک ہو۔ پاکستان پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹارہا ہے۔ میاں شہباز شریف حراست میں لے لئے گئے۔ آغاز ہفتہ کراچی اسٹاک ایکسچینج بہت نیچے چلی گئی۔ لوگ سمجھے کہ یہ گرفتاری کا ردّ عمل ہے۔ لیکن اسٹاکس کے ایک بڑے بروکر
بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ایک محاورہ ہے اور ہم لوگ گزشتہ 70برس سے مختلف ادوار میں اس محاورے کو فقرے میں استعمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ متذکرہ محاورے کو فقرے میں استعمال کرنے والے امتحانی نقطہ نظر سے ایسا نہیں کرتے۔
پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے لیے قابلِ قبول اور نارمل ممالک بنانے کا کام پہلی جنریشن کی قیادت ہی کر سکتی تھی۔جناح، لیاقت ،گاندھی، نہرو اور پٹیل ایک دوسرے کی صلاحیتوں، نفسیات،طاقت،کمزوری اور انداز سے نہ صرف واقف تھے بلکہ برت بھی چکے تھے۔
برلن ہوٹل کے استقبالیہ پر کھڑی خوبصورت حسینہ سے ہوٹل کا وزٹنگ کارڈ مانگا تو جواب آیاno english only german بڑی مشکل سے اس کے ایک ساتھی کی مدد سے اسے سمجھایا کہ بی بی! ہوٹل کے کچھ وزٹنگ کارڈ دے دیں ہمیں راستوں کا معلوم نہیں۔

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں