Saturday, 11 July, 2020
بھارت کی ایک سر فروش خاتون صحافی

بھارت کی ایک سر فروش خاتون صحافی
کلدیپ نئیر کا کالم

 

چند روز قبل ایک میموریل تقریب کا اہتمام کیا گیا جو کہ خاصی مایوس کن رہی۔ اس اجلاس میں جو کناڈا کی قتل ہونے والی خاتون صحافی گوری لنکیش کی یاد میں منعقد کی گئی تھی جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اس میں بھاری تعداد میں صحافی حضرات آئیں گے خاص طور پر سینئر صحافی لیکن اس میں 35,30 سے زیادہ لوگ شامل نہیں ہوئے اور ان میں بھی صحافیوں کی تعداد بہت کم تھی۔ سینئر صحافیوں میں ایک عادت ہے کہ وہ اپنے گھروں کے اندر ہی مقید رہتے ہیں اور عام لوگوں سے گھلتے ملتے نہیں۔ مجھے احساس ہے کہ ایڈیٹر حضرات بہت مصروف ہوتے ہیں۔

انھیں اخبار کی منصوبہ بندی اور تدوین میں بہت محنت اور وقت صرف کرنا پڑتا ہے لیکن وہ صحافی جو نچلے درجے میں کام کرتے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ ان کے پاس بھی وقت کی بہت کمی ہے اور وہ اس قسم کی تقریبات میں شرکت نہیں کر سکتے لیکن اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ان تمام صحافیوں کو زمین پر اترنا ہی پڑتا ہے کیونکہ ان کی افادیت بڑی محدود ہوتی ہے۔

ان میں سے زیادہ تر اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ اخبار میں انھیں تھوڑی سی جگہ مل جائے۔ یہ کالم لکھتے ہیں لیکن اس کا چانس زیادہ لوگوں کو نہیں ملتا اور زیادہ تر صحافی کالم نگاری میں کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ قارئین ان کو پڑھنا چاہتے ہیں جنہوں نے اصولوں کی بنیاد پر جدوجہد کی ہے جب کہ  ان کی تعداد بہت کم ہے جن کا حوصلہ پست نہیں ہوتا۔ گوری لنکیش انھی میں شامل تھی۔ وہ معاشرے میں زیادتیوں کے خلاف بڑی بلند بانگ آواز بلند کرتی تھی۔

ایک خاتون صحافی ہونے کے ناتے گوری جن آدرشوں پر یقین رکھتی تھی ان کے لیے ڈٹ کر کھڑی ہونے کا حوصلہ بھی رکھتی تھی۔ اس حوالے سے اسے سوشل ایکٹیوسٹ کہا جاتا تھا۔ وہ ’’کناڈا کے ہفت روزہ گوری لنکیش پتریکا کی ایڈیٹر تھیں۔ ان کی اہمیت کو فروگزاشت نہیں کیا جا سکتا۔ گوری کو دھمکی آمیز پیغامات اکثر و بیشتر مسلسل ملتے رہتے تھے لیکن وہ خوف زدہ ہونے والی نہیں تھی۔ وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھی حتیٰ کہ اس کی جان کے لیے واضح خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ گوری لنکیش ہندوتوا کی سیاست کے خلاف بڑی شدید تنقید کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نامعلوم حملہ آوروں نے اس کے گھر کی ڈیوڑھی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

یہ درست ہے کہ شروع میں پورے ملک میں اس کے قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا حتیٰ کہ پریس کلب آف انڈیا میں بھی اس کے قتل کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ وہ ایک بے خوف اور آزاد خیال صحافی تھیں جو کہ ہمیشہ حق و انصاف کے ساتھ تن کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔ اس کو نہایت وحشیانہ طریقے سے قتل کر کے اس کی آواز بند کر دی گئی۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے ملک میں اس قسم کا حملہ ہوا ہے۔

جمہوری معاشرے میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ بپھرا ہوا ہجوم کسی بھی بے گناہ پر حملہ کر کے اسے مار دیتا ہے۔ علاوہ ازیں ثقافتی‘ اکیڈیمک‘ تاریخی اداروں اور یونیورسٹیوں پر بھی حملے ہوئے بالخصوص نالندہ یونیورسٹی اور نہرو میموریل میوزیم اور لائبریری پر بھی اس قسم کے واقعات سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ الور‘ دادڑی اور ادھم پور کے واقعات سے سب کو سبق لینا چاہیے۔

گوری لنکیش کے قتل کو اگر 2015میں قتل ہونے والے کناڈا کی صحافی خاتون ایم ایم کلبرجی کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے جو کہ اپنے گھر میں قتل کر دی گئی۔ بجرنگ دل کے ایک لیڈر نے یہ وحشیانہ تبصرہ کیا کہ ہندو دھرم کا مذاق اڑانے والے کو کتے کی موت مار دیا گیا۔
یہ خاتون صحافی بھی اپنی ریاست کی سیاست پر کڑی تنقید کرتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ کرناٹک کی ریاست نے ترقی پسند اور سیکولر ریاست کا راستہ ترک کر کے فرقہ واریت کو فروغ دیا ہے۔ جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے کرناٹک  میں ہندوتوا کے نام پر ہونیوالے حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور ریاست بتدریج فرقہ وارانہ فسادات کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ بی جے پی کی حکومت کرپٹ ہے۔ گوری لنکیش آر ایس ایس‘ بی جے پی اور ہندوتوا کے عناصر کے سخت خلاف تھیں اور ان کو قتل کر کے حق و صداقت کی یہ آواز بند کر دی گئی ہے۔
کلبرجی کے قتل کا سراغ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا حالانکہ اس افسوسناک واقعے پر دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ستمبر 1995ء میں حقوق انسانی کے محافظ جسونت سنگھ کھرلا کو قتل کیا گیا جس کے قاتل کا بھی سراغ نہیں مل سکا اور بھارت میں ایسے واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔گوری لنکیش کو بخوبی علم تھا کہ اس کا کھل کر بات کرنے سے اس کے خلاف بہت سی دشمنیاں جنم لے چکی ہیں۔ اس نے بی جے پی کے ایک انتہا پسند کالم نویس کی مخالفت کی جو فرقہ وارانہ سیاست کو ہوا دے رہا تھا۔

اپنے ایک انٹرویو میں گوری لنکیش نے کہا کہ بی جے پی ہندو دھرم کی غلط تشریح کر رہی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہندوؤں میں ذات پات کی تقسیم ناجائز ہے اور خواتین کو کمتر سمجھنا بھی بالکل غلط ہے۔ بی جے پی کے حامیوں کی طرف سے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے بے رحمانہ قتل و غارت کی مخالفت کرتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ میں ایڈوانی کی رام مندر یاترا اور نریندر مودی کی 2002ء میں مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ یہ ایسی باتیں تھیں جن کی بنا پر انتہا پسندوں نے اسے نشانے پر رکھ لیا۔ 2016ء میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے گوری نے اپنی صحافت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بہت سے راز فاش کر دیے ہیں۔

گوری کو پتہ تھا کہ اس کی زندگی کے لیے خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ ہندوتوا بریگیڈ اور مودی کے بھگت اس کے تعاقب میں تھے۔ ان تمام خطروں کے باوجود گوری کے پائے استقلال میں کوئی لرزش پیدا نہ ہوئی۔ اپنے آخری مضمون میں جو اس نے ہفت روزہ گوری لنکیش پتریکا کے لیے لکھا اس میں متعصب اور شرپسند قوتوں کو چیلنج کیا گیا تھا چنانچہ ہندوتوا کی فورسز نے اس کا کام تمام کرنے کا تہیہ کر لیا۔ گوری نے لکھا ’’مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تم لوگ میری جان کے پیچھے پڑے ہوئے ہو اور مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں اپنے دل کی بھڑاس پوری طرح نہیں نکال سکی۔

میرے لیے منگل کا یہ دن بھی منگل کے دوسرے دنوں کی طرح ہی تھا لیکن مجھے اس بات کا احساس نہ ہو سکا کہ یہ میری زندگی کا آخری دن ہو گا اور مجھے میرے قارئین سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا جائے گا۔ جب حملہ آور کی گولی میری چھاتی میں اترتی ہے اور میں خاک و خون میں غلطاں زمین پر پڑی ہوگی تو اس وقت بھی میرے ذہن میں میرے اخبار کے اگلے دن کے ایڈیشن کے بارے میں سوچ گونج رہی ہو گی‘‘۔

یہ درست ہے کہ گوری کو اپنی موت کا پہلے سے ہی پتہ چل گیا تھا لیکن اس نے آخری لمحے تک حوصلہ نہیں ہارا۔ یہ پیشہ ایسا ہے جو حقائق سے اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ گوری صحافیوں کی اس قبیل سے تعلق رکھتی تھی جو سچ بات کہنے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں اور اس نے وہ کر دکھایا جو اس کے دل میں تھا۔ ہمارے پیشے میں ایسی مثالیں بہت خال خال ہیں۔ (ترجمہ: مظہر منہاس)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43300
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
حضرت خَدیجَہ بنت خُوَیلِد، خدیجۃ الکبری و ام المومنین کے نام سے مشہور، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولین زوجہ اور حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی مادر گرامی ہیں۔ آپ نے بعثت سے پہلے حضرت محمدؐ کے ساتھ شادی کی۔ آپ آنحضرت پر ایمان لانے والی پہلی خاتون ہیں۔
چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا کی تبدیلی پر صوبے کے سیاستدانوں سمیت سب مطمئن ہوگئے ہیں! قیام پاکستان کے بعد سے صوبے کے چیف سیکریٹری تعینات ہوتے، مقررہ وقت سے پہلے تبدیل ہوتے اور یا پھر اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہوتے چلے آ رہے ہیں۔
ایک خاتون بہت دکھی تھیں۔۔۔ چھٹے بچے کی پیدائش پر انہوں نے اپنی سہیلی سے روتے ہوئے کہا۔۔ کیا پوچھتی ہو بہن۔۔ میرے شوہر مجھے پیار نہیں کرتے۔۔۔ جواباً سہیلی نے پوچھا پھر یہ چھ بچے کیسے ہوگئے میری بہن۔۔۔

مزید خبریں
سید منور حسن مسلم امہ کا اثاثہ و سرمایہ تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہو سکے گا۔
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔

مقبول ترین
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت مافیاز جبکہ مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں قومی
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کراچی میں کل سے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کےخاتمے کا اعلان کردیا۔ گورنر ہاؤس عمران اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک کیلئے فرنس آئل اور گیس کی سپلائی
قومی ایئر لائنز (پی آئی اے) میں پائلٹس کے جعلی لائسنس اور ڈگریوں کے معاملے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔ یاد رہے کہ 25 جون کو سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے پائلٹس
وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے اکٹھ کا مقصد محض پریشر ڈالنا ہے، انہیں ملک کی نہیں، اپنے مال کی فکر ہے، انہیں ڈر ہے حکومت کامیاب ہو گئی تو یہ سب جیل میں ہونگے، وزیراعظم عمران خان کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں