Thursday, 02 April, 2020
پاک ترک تعلقات: نیا منظر نامہ

پاک ترک تعلقات: نیا منظر نامہ
ثاقب اکبر کا کالم درخیال

 

ویسے تو پاکستان کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ہی برادرانہ رہے ہیں، مختلف علاقائی اور ملکی معاہدوں میں دونوں ملک شریک رہے ہیں۔ ان روابط کی جڑیں تاریخ کی گہرائی میںموجود ہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اب پاک ترک تعلقات کے بلندی کی طرف بڑھنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ 

ڈان نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں 14فروری 2020کو ختم ہونے والے ترک صدر اردغان کے پاکستان کے دو روزہ دورے کے بارے میں لکھا ہے:

"انقرہ اور سعودی عرب کے مابین مشرق وسطیٰ میں سیاسی منظر نامے کی وجہ سے کشیدگی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور آرٹیکل 370 کی منسوخی، اسلاموفوبیا، پاکستان کی معاشی صورتحال اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (اے ایف ٹی ایف) جیسے مسائل کے تناظر میں ترک صدر کا دورہ کئی اعتبار سے اہم سمجھا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں پاک ترک کے مابین تجارتی تعلقات سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) کا اجلاس اور اس میں ہونے والے معاہدے خطے میںنئی تبدیلی کے تناظر میں دیکھے جارہے ہیں۔"

بعض مبصرین کی رائے میں کوالالمپور میں 18سے 21دسمبر 2019تک ہونے والے سربراہی اجلاس میں پاکستان کی عدم شرکت کے بعد ایسے لگتا ہے جیسے پاکستان اور دیگر ممالک اس کی تلافی کرنے کے درپے ہیں۔ چنانچہ اس سے پہلے پاکستانی وزیراعظم عمران خان فروری 2020کے شروع میں ملائیشیا گئے جہاں انھوں نے کوالالمپور میں وزیراعظم مہاتیر محمد کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کرنا چاہیں گے اور اس سے پاکستان کے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر نہیں پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں دسمبر 2019میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں کانفرنس میں اس لیے نہیں آ پایا کہ بدقسمتی سے پاکستان کے بہت قریب ہمارے کچھ دوستوں کو یہ محسوس ہوا کہ شاید یہ کانفرنس امت کو تقسیم کردے گی جو واضح طور پر ایک غلط فہمی تھی کیونکہ کانفرنس کے انعقاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد امہ کی تقسیم نہیں تھا۔ 

یاد رہے کہ اس سمٹ میں پاکستان کی غیر موجودگی پر بات کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم نے دیکھا ہے کہ سعودی عرب پاکستان پر دبائو ڈالتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے کردار پر بات کرتے ہوئے صدر طیب اردغان نے یہ بھی کہا کہ یہ ان ممالک کی عادت ہے کہ یہ دوسرے ممالک پر بعض اقدامات کرنے یا نہ کرنے کے لیے دبائو ڈالتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں سعودی سفارتخانے اور پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کسی قسم کے دبائو کی نفی کی گئی تھی تاہم وزیراعظم عمران خان کا مذکورہ بالا بیان حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

  ترک صدر اردغان کے حالیہ دو روزہ دورے کے بہت سے اہم پہلو ہیں جو اس دورے کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کی پارلیمینٹ سے سب سے زیادہ چارمرتبہ خطاب کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ مملکت بن چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ دو بار بطور وزیراعظم اورایک بار بطور صدر پاکستان کی پارلیمان سے خطاب کر چکے ہیں۔

پاکستانی پارلیمان سے صدر اردغان کے خطاب میں بہت سے اہم نکات موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ترکی میں بغاوت کو ناکام بنانے میں پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے جنگ آزادی کے بعد دوسری جنگ نجات میں پاکستان نے ہمارا ساتھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بھی جنگ میں ترکی کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ پاکستان نے ترک سکولوں کا نظام ہمارے حوالے کرکے حقیقی دوست ہونے کا ثبوت دیا۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر ہمارے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کے لیے۔ کشمیر کے بارے میں ان کے اس بیان کو عالمی سطح پر بے نظیر اور بے مثال قرار دیا جارہا ہے۔

ان کا یہ جملہ تو ہمیشہ یاد رہے گا کہ پاکستان اور ترکی کی دوستی مفاد پر نہیں بلکہ عشق و محبت پر مبنی ہے۔

طیب اردغان نے پاک ترک بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے بھی خطاب کیا۔ اس خطاب میں انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے درمیان 80کروڑ ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔ ہماری مشترکہ آبادی تیس کروڑ سے زائد ہے لہٰذا ہمیں تجارت کو اس مقام تک لے جانے کی ضرورت ہے کہ جس کے ہم مستحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے بعد اسے پانچ ارب ڈالر تک توسیع دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع اور عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ ٹی وی، ریڈیو، سیاحت، ثقافت، خوراک، تجارت میں سہولت کاری، پوسٹل سروسز، ریلوے اور عسکری تربیت سمیت دیگر شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر متعلقہ وزارتوں کے وزرا نے دستخط کیے۔

دیگر باتوں کے علاوہ اس دورے کے دوران میں صدر طیب اردغان کی اس بات کو عالمی سطح پر بہت اہمیت دی جارہی ہے کہ وہ پاکستان کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بھرپور حمایت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میںپاکستان پر سیاسی دبائو ڈالا جارہا ہے۔ 

ان تمام باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاک ترک تعلقات کا یہ نیا منظر نامہ ہے، یہ روایتی تعلقات کا اظہار نہیں ہے بلکہ نئے اور بلند ہوتے ہوئے تعلقات کا تناظر ہے اگرچہ ماضی میں اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ تاہم یہ کہے بغیر چارا نہیں کہ ترکی ابھی تک ناٹو کا حصہ ہے اور ناٹو کا حصہ رہتے ہوئے امریکا اور دیگر مغربی قوتوں کے اپنے مفادات کے تقاضے بھی ہیں۔ 

صدر اردغان نے اگرچہ پاکستان میں بھی واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ امریکا کے فلسطین کے بارے میں نام نہاد امن منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ابھی تک اسرائیل کے ساتھ ترکی کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ شام کے محاذ پربھی ترکی کو مسائل کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا رویہ آہستہ آہستہ ان کے ساتھیوں اور ان کی کھل کر تائید نہ کرنے والوں کے مابین حد فاصل کھینچتا چلا جارہا ہے۔ ایسے میں ترکی، پاکستان اور ایسے دیگرممالک کب تک اور کہاں تک بچ بچا کر آگے بڑھتے ہیں، یا بڑھ سکتے ہیں اس کا فیصلہ بہت جلد ہونے والا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  46775
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
معاشرتی، معاشی اور جسمانی بیماریوں سے شکست خوردہ ایک شخص جاتے جاتے ہمارے ذمے بہت سے قرض چھوڑ گیا۔
صحافت پڑھتے پڑھاتے قریباً پندرہ برس گزر گئے اور تجربے سے یہی معلوم ہوا ہے کہ کتابی صحافت اور عملی صحافت قدرے مختلف ہیں۔ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صحافتی تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں جیسا کہ کچھ دوستوں نے سمجھ لیا ہے۔
گریٹر اسرائیل کا شیطانی منصوبہ چارنکاتی ایجنڈے پر استوار ہے جس پر یہودیوں اور قدامت پسند مسیحیوں ‘نیوکانز کا کامل اتفاق ہے جس کی تکمیل کے لئے وہ سردھڑ کی بازی لگانے پر تلے ہیں۔
اپنے منہ پر تھپڑ, جاوید چوہدری, مارک روٹ, مبصر نیوز

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ قطر نے عالمی وباء کورونا وائرس کے سبب ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی وزیراعظم عمران خان کی تجویز کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
ملی یکجہتی کونسل کی تمام رکن جماعتوں کے قائدین، علماء کرام اور دینی راہنمائوں نے کرونا وائرس کے پھیلائو سے پیدا ہونے والی صورت حال پر مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا ہے: کرونا وائرس اس وقت تمام دنیا میں پھیل چکا ہے اور ساری انسانیت اس کی وجہ سے پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہے، اموات، تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہیں اوردنیا میں خوف کی ایک فضا قائم ہے۔
کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔اور دوسری جانب ایچ ای سی نے طلبہ کے وقت کے ضیاع کو بچانے کےلیے آن لائن ایجوکیشن سسٹم کو متارف کروایا ہےمگر طلبہ نے اس آن لائن سسٹم پر سخت رد عمل کا مظاہرہ کیاہے۔
ملک بھر میں کورونا وائرس کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 252 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد2291 ہو گئی جبکہ اس وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہو چکی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں